یوم آزادی اور اس کے تقاضے !

(Malik Muhammad Azam, )

 اگست کا مہینہ خوشیوں اور مسرتوں کا پیام لے کر آتا ہے ۔ہر طرف چاند ستارے والے سبز پرچم لہراتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔۱۴ اگست ۱۹۴۷ء کا سورج بر صغیر کے مسلمانوں کے لیے آزادی کی نوید لے کر طلوع ہوا تھا۔مسلمانوں کو نہ صرف یہ کہ انگریزوں بلکہ ہندؤں کی متوقع غلامی سے بھی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے نجات ملی تھی۔آ زادی کا یہ حصول کوئی آسان کام نہیں تھا جیسا کہ شاید آ ج سمجھا جانے لگا ہے۔نواب سراج الدولہ سے لے کر سلطان ٹیپوشہید اور آخری مغل تاجدار بہاد ر شاہ ظفر تک کی داستان خونچکاں ہماری تاریخ حریت و آزادی کی لازوال داستان ہے ۔۷ ۵ ۸ ۱ء کی جنگ آزادی کے المناک واقعات بھی اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں ۔سات سمندر پار سے تجارت کی غرض سے آنے والی انگریز قوم کی مسلسل سازشوں ٗریشہ دوانیوں اور مقامی لوگوں کی غداریوں کے نتیجے میں بر صغیر میں مسلمانوں کی حکومتیں یکے بعد دیگرے ختم ہوتی چلی گئیں۔اگر چہ مسلمان حکمرانوں اور مختلف قبائل کے سرداروں نے سر دھڑ کی بازی لگا کر اور جان و مال کی عظیم قربانیاں دے کر انگریزوں کو یہاں تسلط جمانے سے روکنے کے لیے ہر ممکن کوششیں کیں تھیں۔

قائد اعظم محمد علی جناح نے کیا خوبصورت بات کی تھی۔:پاکستان اسی دن یہاں قائم ہو گیا تھا ٗ جس دن بر صغیر میں پہلا شخص مسلمان ہوا تھا:۔حقیقت یہ ہے کہ برصغیر کے مسلمانوں نے کبھی بھی انگریز کی حکمرانی کو دل سے تسلیم نہیں کیا تھا ۔ انگریزوں اور ان کے نظام سے نفرت اور بغاوت کے واقعات وقفے وقفے کے ساتھ با بار سامنے آتے رہے تھے۔ برطا نوی اقتدار کے خاتمے کے لیے بر صغیر کے مسلمانوں نے جو عظیم قربانیاں دی ہیں اورجو بے مثال جدوجہد کی ہے۔ یہ ان کے اسلام اور دو قومی نظریے پر غیر متزلزل ایمان و یقین کا واضح ثبوت ہے ۔انہی قربانیوں اور مسلسل جدوجہد کے نتیجے میں با لآخر پاکستان کا قیام عمل میں آیا تھا۔چوہدری رحمت علی مرحوم نے ہمارے پیارے ملک کا نام بھی کتنا خوبصورت ٗبا معنی اور دلکش رکھا تھا ۔ پاکستان کا مطلب ہے ، پاک لوگوں کے رہنے کی جگہ ۔افسوس کہ ہم نے اپنے اتنے خوبصورت نام والے ملک کو بھی اپنے گندے اعمال کی وجہ سے ناپاک کر دیا ہے ۔

جب ہم تحریک پاکستان کی تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں تو اس تاریخی جدوجہد میں یہ بات سب سے زیادہ نمایاں طور پرہمیں نظر آتی ہے کہ مسلمان اپنے جداگانہ اسلامی تشخص پر مصر تھے ۔یہی نظریہ پاکستان اور علحدہ وطن کے قیام کی دلیل تھی ۔ہر قسم کے جابرانہ وغلامانہ نظام سے بغاوت کرکے خالص اسلامی خطوط پر مبنی نظام حیات کی تشکیل ان کا مدعا اور مقصود تھا۔جس کا اظہار و اعلان قائد اعظم محمد علی جناح نے بار بار اپنی تقاریر اور خطابات میں کیا تھا۔یہی وجہ ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ تحریک پاکستان کے دوران بر صغیر کے کونے کونے میں : لے کے رہیں گے ٗپاکستان ۔بن کے رہے گا ٗ پاکستان ۔ مسلم ہے تو مسلم لیگ میں آ ؛۔اورپاکستان کا مطلب کیا ؟ ۔لا الہ الا اﷲ : ۔۔۔۔خیبر سے لے کرراسکماری تک ہر جگہ یہی نعرے گونجتے تھے۔ یہ نعرے بر صغیر کے مسلمانوں کے دلی جذبات کے حقیقی ترجمان تھے۔عرصہ دراز سے غلامی کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے مسلمانوں کو آزادی ملنے کی امید پیدا ہو چلی تھی۔وہ اس بات کو اچھی طرح سمجھتے تھے کہ اگر یہ موقع ہاتھ سے نکل گیا تو پھر انگریزوں کے چلے جانے کے بعد وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہندو بنیا کیغلامی میں چلے جائیں گئے۔ وہ ہر طرح کے سامراج سے چھٹکارا چاہتے تھے۔اس مقصد کے حصول کیلئے بڑی سے بڑی قربانی دی جا سکتی تھی مگر اس مقصد سے پیچھے ہٹنا انہیں گوارا نہ تھا۔

آج پاکستان کو بنے ۷۲برس ہوچکے ہیں ۔قوموں اور ملکوں کی تاریخ میں یہ کوئی اتنا لمبا عرصہ نہیں ہے مگر پھر بھی جب ہم گزشتہ سالوں کی تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں تو حیران رہ جاتے ہیں ۔کسی بھی شعبے کو لیجئے ۔تعلیم،ثقافت، عدالت،معیشت،معاشرت،سیاست غرضیکہ ہر شعبہ زندگی میں ہم غیر اقوام کی غلامی اور تقلید میں مبتلا ہیں ۔کہنے کو تو ہر لکھنے والا جب کوئی تحریر شروع کرتا ہے یا کوئی مقرر، خطیب اور واعظ اپنی بات کہتا ہے تو اسلام کی بات ضرور کرتا ہے ۔ اسلام کے مکمل ضابطہ حیات ہونے کا اعلان کرتا ہے اور یہ بھی فرماتا ہے کہ اسلام زندگی کے تمام شعبوں کو محیط ہے مگر بحیثت مجموعی قوم کی اکثریت زندگی کے تمام شعبوں میں دوسروں کی نقالی کرنے میں لگی ہوئی ہے اور ہمارے حکمران اس سلسلے میں سب سے پیش پیش رہتے ہیں ۔آخر کیا وجہ ہے ہم اپنے مسلم تشخص کو نہ اُبھار سکے ؟۔عدالتوں میں انگریزی قوانین کی بجائے قرآن و سنت کی تعلیمات پر مبنی اور خلفائے راشدین نیز مسلمان قاضیوں کے فیصلوں پر مشتمل قوانین کو جاری نہ کر سکے ۔لین دین اور تجارت میں بنیا سامراج اور یورپی اقوام کے طور طریقوں کو اپنائے بیٹھے ہیں ۔سودی کاروبار اور جوئے کی مختلف جدید اقسام دھڑلے سے جاری ہیں ۔تعلیم گاہوں میں وہی لارڈ میکالے کے وضع کر دہ نصاب اب تک چل رہے ہیں ۔مخلوط تعلیم کا سلسلہ بھی ہنوز جاری ہے۔شرم کا مقام ہے کہ ہمارے حکمران امریکا اور یورپ کی خوشنودی اور ڈکٹیشن پرنصاب کی کتابوں سے جہادی آیات اور اسلامی مشاہیر کے تذکرے نکال کر یورپ کی پسندیدہ شخصیات اور موضوعات کو نصاب کا حصہ بنانے پر کو ئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے ۔ رشوت کے بغیر کوئی کام نہیں ہوتا ۔اقرباء پروری اور سفارش کی وجہ سے اہل اور با صلا حیت افراد کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے ۔نظام حکومت اور سیاست کا حال بھی ،بس کچھ نہ پوچھیے۔جمہوریت کے نام کی مالا جپنے والے تو بہت سے مل جائیں گے مگر جمہوریت کو پھلنے پھولنے کے مواقع فراہم کرنے والے شائد ہی کوئی مل سکیں ۔ہماری بد قسمتی کی انتہا دیکھئے کہ عوام کو بنیادی انسانی حقوق سے بھی محروم رکھا جاتا ہے ۔شہری آزادیوں پر قدغن لگائی جاتی ہے ۔تحریر اور تقریر کی آزادی بار بار چھین لی جاتی رہی ہے۔پریس پر بھی طرح طرح کی پابندیاں عائد کی جاتی ہیں ۔پاکستان کی سب سے بڑی بد قسمتی یہ رہی ہے کہ یہاں بار بار فوج مداخلت کر کے مارشل لاء لگاتی رہی اور ہر بار دستور کو اُٹھا کر باہر پھینک دیا گیا۔سیاسی عمل پر پابندی لگا دی جاتی رہی ۔ماضی میں سول اور ملٹری حکومتوں نے ذرائع ابلاغ پر مکمل کنٹرول رکھا اور سرکاری میڈیا عوام کو سب اچھا کی رپورٹ دیتا رہا ۔ڈکٹیٹر ایوب خان کو سب اچھا کی رپورٹ دینے کے لئے روزانہ ایک ڈمی اخبار صبح پیش کیا جاتا تھا۔ جس کا نتیجہ یہ نکلتا رہا کہ عوام کا اپنے قومی ذرائع ابلاغ پر اعتماد نہیں رہتا اور وہ تازہ ترین حالات و واقعات جاننے کیلئے غیر ملکی میڈیا پر انحصار کرتے تھے۔تاہم اب میڈیا کے مید ا ن میں ایک انقلاب آچکا ہے ۔نجی ٹی وی چینلز نے سرکاری ذرائع ابلاغ کی اجارہ داری کو ختم کر کے رکھ دیا ہے ۔ہمارا میڈیا ابھی تجرباتی دور سے گزر رہا ہے۔ اس میں بھی کچھ قباحتیں ہیں ۔تاہم اُمید ہے کہ آگے چل کر میڈیا میں مزید بہتری آ جائے گی ۔افسوس کہ پی ٹی آئی کی موجودہ حکومت بھی ماضی کے حکمرانوں سے سبق سیکھنے کی بجائے انہی کے نقش قدم پر چل رہی ہے۔

وطن عزیز پاکستان کو اس وقت بہت سارے اندرونی اور بیرونی خطرات درپیش ہیں۔دہشت گردی اور بدامنی سب سے بڑے چیلنجز ہیں ۔عام آدمی مہنگائی ٗ بیروزگاری اور انرجی بحران کی وجہ سے سخت پریشانی کا شکار ہے۔حکمران ماضی کے ہوں یا موجودہ ٗسب بڑے بڑے دعوے اور وعدے تو کرتے ہیں مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ کارکردگی کے لحاظ سے ان کا گراف انیس اور بیس کے درمیان ہی رہتا ہے۔یہ کہنے میں کوئی باق نہیں کہ ملکی اور بین الاقوامی حالات و واقعات کے تناظر میں اس وقت قومی سطؑح پرجتنی اتحاد و یکجہتی اور ہم آہنگی کی ضرورت ہے شاید اس سے پہلے کبھی نہ تھی۔مسائل اور مشکلات ہیں کہ کسی آندھی اور طوفان کی طرح اُمڈے چلے آتے ہیں۔ان حالات کا تقاضا ہے کہ اسلام ٗ تحریک پاکستان اور نظریہ پاکستان کا تذکرہ صرف ۱۴ اگست یا یوم آزادی تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ ا س کا سلسلہ سارا سال جاری رہے۔وقت کا تقاضا ہے کہ تحریک پاکستان اور قیام پاکستان کے حقیقی مقاصد اور محرکات ہر وقت ہمارے دلوں اور ذہنوں میں تازہ رہیں۔۱۴ اگست تجدید عہد کا دن ہے ۔اسلام اور پاکستان مخالف عناصر ہماری ان نظریاتی بنیادوں کو کمزور اور کھوکھلاکرنے کی اپنی سی مذموم کوششیں کسی نہ کسی بہانے کرتے رہتے ہیں۔اے اہل وطن ! آئیے مل جل کر وطن عزیز میں وہ معاشرہ قائم کرنے کے لیے جدوجہد کریں کہ جو اسلام کا مطلوب ہے ۔جس کا خواب شاعر مشرق علامہ محمد اقبال رحمتہ اﷲ علیہ نے دیکھا اور قائد اعظم محمد علی جناح رحمتہ اﷲ علیہ نے جس کے لئے جدوجہد کی ۔جس معاشرے کے قیام کی نوید ہمیں تحریک پاکستان میں سنائی گئی تھی۔پاکستان کو حقیقی معنوں میں پاکستان بنانے کے جو تقاضے ہیں ۔ جب تک اُن کو پورا نہیں کیا جائے ۔ ہم اسی طرح مسائل اور مشکلات کا شکار ہوتے رہیں گے ۔اے اہل وطن اُٹھیے ! اور پاکستان کو صحیح معنوں میں ؛پاکستان ؛ بنانے کے لیے دن رات محنت کریں۔تحریک پاکستان کے لیے جدوجہد کرنے والے رہنماؤں اور کارکنوں کی روحوں کو ابدی راحت اور سکون پہنچانے کے لیے ٗ اپنی آنے والی نسلوں کی دنیا اور آخرت سنوارنے کے لیے پاکستان کو اسلام کا گہوارہ بنانے کے لیے دن رات کام کریں۔یہی یوم آزادی کا ہم سب کے لیے پیغام ہے۔

امسال کچھ آوازیں اُٹھ رہی ہیں کہ ۱۴ اگست کو گھروں اور دیگر سرکاری و نیم سرکاری عمارتوں پر پاکستانی پرچم لہرانے کی بجائے درخت لگائے جائیں۔ بھائیو ! پاکستان کے پرچم کو گھروں اور گاڑیوں پر لہرانے اور جھنڈیوں کی صورت میں آویزاں کرنے کا ایک تاریخی پس منظر ہے۔اس عمل سے تحریک پاکستان کے مناظر بزرگوں کی آنکھوں کے سامنے آ جاتے ہیں ۔ نوجوان نسل کو تحریک پاکستان سے روشناس کرایا جاتا ہے۔ یہ ہم سب کے لئے تجدید عہد کا دن ہوتا ہے۔قیام پاکستان کے لئے دی گئی قربانیوں کے تذکرے ہوتے ہیں ۔ برصغیر کے نقشے میں مسلمانوں کے لئے ایک علحدہ ملک کی ضرورت اور اہمیت پر روشنی ڈالی جاتی ہے۔ پاکستان کے قیام کو روکنے کے سلسلے میں انگریزوں اور ہندؤں کے گٹھ جوڑ اور سازشوں کو بے نقاب کیا جاتا ہے۔اس سے حب وطن کے جذبوں کو مہمیز ملتی ہے۔ درخت بھی لگانے چاہیں۔ ضرور لگائیں ۔پاکستان کے روشن مستقبل کے حوالے سے درختوں کی ضرورت و اہمیت سے کسے انکار ہو سکتا ہے۔ سر سبز و شاداب پاکستان ہم سب کا ایک خواب ہے۔اس ضمن میں ضرور بالضرور کام کیا جائے۔ مگر یاد رکھیں کہ ۱۴ اگست کے جذبوں کو سرد یا کم کرکے نہیں۔ آئیے ہم سب مل کر ۱۴ اگست بھی منائیں اور شجر کاری میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیں ۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Malik Muhammad Azam

Read More Articles by Malik Muhammad Azam: 48 Articles with 26387 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
02 Aug, 2019 Views: 476

Comments

آپ کی رائے