تربیت کہاں سے لائیں ؟

(Prof Shoukat Ullah, Banu)

جون ، جولائی ، اگست گرمیوں کے مہینے ہیں ، انہی مہینوں میں میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے سالانہ نتائج کا اعلان ہوتا ہے۔ جب تعلیمی پورڈوں کے نتائج آنا شروع ہوجاتے ہیں تو اخبارات میں ایک ہی بات پڑھنے کو ملتی ہے، کہیں لکھا ہوتا ہے کہ طالبات بازی لے گئیں تو کہیں طلبہ آگے دکھائی دیتے ہیں۔ بس نمبروں کی بنیاد پر دوڑ کے کھلاڑی آگے پیچھے ہوتے رہتے ہیں۔ طلباء کو اتنے نمبر وں سے نوازا جا رہا ہے کہ جن کے لئے چھکڑوں کی ضرورت پڑتی ہے۔ وجہ ، ہمارے معاشرے میں قابلیت کو ماپنے کے لئے یہی پیمانہ استعمال ہوتا ہے۔ طلباء کو نمبروں میں تولا جاتا ہے، نجی تعلیمی ادارے تو ان کی عکس بندی پینافلیکس پر کرکے مرکزی چوراہوں ، ہجوم والے مقامات اور شہر کے داخلی و خارجی راستوں پر آویزاں کرتے ہیں۔ جو چیخ چیخ والدین کو پکارتے ہیں کہ اگر آپ اپنے بچے کے زیادہ نمبر چاہتے ہیں تو ہمارے تعلیمی ادارے کا رُخ کریں اور اگلے سال یہاں آپ کے بچے کی تصویر لگی ہوگی۔ کون ہوگا وہ بے وقوف جو اپنے بچوں کے زیادہ سے زیادہ نمبر دیکھنا نہیں چاہتا ہوگا ، کون ہوگا وہ بے وقوف جو اپنے بچوں کو نمبروں کے ترازو میں ان کی قابلیت نہیں تولنا چاہے گا۔ پس قابلیت کے لئے نمبروں کا زیادہ حصول ایک ایسا پیمانہ بن چکا ہے جیسا کہ ہمارے معاشرے میں عزت کو ماپنے کے لئے دولت کو پیمانہ بنا دیا گیا۔ اپنے اردگرد نظر دوڑا کر دیکھیں ، اس فانی دنیا میں لوگ دولت مند وں کی عزت و قدر کرتے ہیں کیوں کہ اُن کے پاس دولت کے انبار ہوتے ہیں، وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ اُن کی دولت سے ایک پائی بھی نہیں ملنے والی ہے ، پھر بھی عزت انہی دولت مندوں کی جاتی ہے۔ بات ہو رہی تھی ، تعلیمی نظام میں نمبروں کی،ایسا وقت عنقریب ہے جب طلباء کے حاصل کردہ نمبر، کل نمبروں کے آس پاس منڈلاتے پھر رہے ہوں گی اور وہ دن بھی دور نہیں ہے کہ جب حاصل کردہ نمبر ، کل نمبروں کے ہندسوں کو پار کرلیں گے۔ان تمام نمبروں کا پول اس وقت کھول جاتا ہے جب انجینئرنگ اور میڈیکل کالجوں میں داخلوں کے لیے ہونے والے انٹری ٹیسٹ کے نتائج اعلان ہو تا ہے۔ تو ڈھیروں نمبرات والی انسانی عمارتیں زمین بوس ہوجاتی ہیں، حالاں کہ یہ طلباء کوچنگ اکیڈمیوں سے بھی پڑھ کر آتے ہیں۔ یہ ایک ایسا سوالیہ نشان ہے جو ہر سال تعلیمی بورڈوں کی کارکردگی پر لگتا ہے لیکن ہمارے سمیت کوئی اس نظام کی درستگی کے لئے تیار نہیں ہے۔ طالب علموں کے نمبروں سے جنم لینے والی زیادہ خطرناک کہانی ’’تربیت کا فقدان‘‘ ہے جو ہماری نظروں سے اوجھل ہے۔ دراصل ہم نے تعلیم و تربیت سے لفظ تربیت کو حذف کر دیا ہے۔ درحقیقت تعلیم و تربیت لازم و ملزوم ہیں جیسا کہ سمندر اور لہریں۔ بقول شاعر۔
سمندر کی لہروں کو دیکھا ہے کیا
لہر کوئی سمندر سے جُدا ہے کیا
ہے لہر و سمندر گر ایک چیز تو
اک لہر کو کبھی سمندر کہا ہے کیا

جب آپ کسی سکول میں بچے کو ریپر پھینکتے دیکھیں اور اس کو بولیں۔ بیٹا ! ریپر اٹھالیں۔ بچہ جواب میں بولے کہ یہ میرا کام نہیں ہے ، یہ تو صفائی والے کا کام ہے تو اس میں بچے کا کوئی قصور نہیں ہوتا ہے بلکہ قصور اس تعلیمی ادارے کا ہوتا ہے جہاں وہ پڑھ رہا ہوتا ہے، جہاں اس کو صرف نمبر حاصل کرنے کے گُر سیکھائے جاتے ہیں۔ ہمارے سکول اور کالجوں کی طرح ہمارے گھر بچوں کی تربیت چاہتے ہوئے بھی ناکام ہیں۔ گھر پہ ہم بچے کو زور دار تھپڑ مار کر کہتے ہیں کہ کتنی بار کہا ہے کہ دوسروں کو مارا نہ کرو، چلا چلا کر کہتے ہیں کہ چیخا نہ کرو اور جھوٹ سے منع کرنے کے لئے کہتے ہیں کہ جو جھوٹ بولتا ہے اُس کی زبان کالی ہو جاتی ہے۔ جب ہمارے گھروں میں تربیت کا فقدان ہوگا تو بچوں کی تربیت کیسے ممکن ہے۔ کہتے ہیں کہ بچے پالنا کوئی بڑا کام نہیں ہے کیوں کہ یہ کام صدیوں سے جانور اور پرندے بہتر انداز میں کرتے چلے آرہے ہیں۔اصل اور بڑا کام بچوں کی تربیت ہے جس کے لئے وقت اور توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ بدقسمتی سے یہ دونوں ہمارے پاس اپنے بچوں کے لئے نہیں ہیں۔ بات وہیں لٹک جاتی ہے کہ آخر تربیت کہاں سے لائیں؟ بازاروں میں دستیاب نہیں ہے ، سکول وکالجوں میں نمبروں کے چکر نے اس کی اہمیت و ضرورت کو سلیمانی ٹوپی پہنا دی ہے اور گھروں میں ناتربیت افراد سے یہ ممکن ہی نہیں ہے۔ پس ہم نے تربیت کو اپنے معاشرے میں دستیاب کرنا پڑے گا، یہ کوئی مشکل کام نہیں ہے ، ہم نے اپنے تربیتی انداز کو تبدیل کرنا ہوگا، پھر بچوں میں خود بخود مثبت تبدیلی پیدا ہوجائے گی۔ مثال کے طور پر ، جب بچہ ماں سے کہے کہ باہر کوڑے والا آیا ہے تو ماں کو چاہیے کہ وہ بچے کو سمجھائے کہ کوڑے والے ہم خود ہیں، وہ تو صفائی کرنے والا ہے۔ اتنی چھوٹی سی بات سے بچے کے اندر ایک بڑی سوچ پروان چڑھے گی جس کی بنیاد تربیت پر استوار ہو گی۔ سکول و کالجوں میں کریکٹر سرٹیفیکیٹ پر ’’اچھا‘‘ کے روایتی کلچر کو ختم کرنا ہوگا۔ اس کی جگہ مارک شیٹ میں نمبر شامل کرنے ہوں گے۔ اگرچہ یہ ایک مشکل کام ہوگا لیکن یہ تبدیلی ضروری ہے۔ بے شک اس کی ابتداء میٹرک اور انٹر میڈیٹ کی بورڈ کی سندوں میں بُرا ، اچھا ، بہت اچھا وغیرہ لکھنے سے کیوں نہ ہو ۔ صرف اس اقدام سے طالب علموں کے رویوں میں واضح تبدیلی آسکتی ہے ، بعد میں اس کو گریڈنگ کا حصہ بنایا جاسکتا ہے۔ پس ہمارے پاس ابھی بھی وقت ہے کہ ’’ تربیت کہاں سے لائیں ؟ ‘‘ سوال کا جواب ڈھونڈ لیں۔اور اگر ہمارا تعلیمی نظام اسی روایتی ڈگر پر چلتا رہا تو ہمیں تربیت کو خداحافظ کہہ دینا چاہیے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof Shoukat Ullah

Read More Articles by Prof Shoukat Ullah: 202 Articles with 128885 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
04 Aug, 2019 Views: 399

Comments

آپ کی رائے