مجرمانہ خاموشی کیوں؟ مقبوضہ جموں وکشمیر

(Sami Ullah Malik, )

آج کا انسان ایک عجیب وغریب نوعیت کی مخلوق میں تبدیل ہو رہا ہے۔ جس مخلوق کا مجموعی وطیرہ نفرت،ضد،حسد،ظلم ،فریب اور لوٹ مار جیسی خمیرسے پروان چھڑ رہاہے۔ان رذیل اوصاف کی موجودگی کے سبب اس کی انسانیت اس کے وجود کے اندر دفن ہو رہی ہے۔مدفون انسانیت کے سڑانڈ نے پوری دنیا کو ایک ناقابل رہائش کرہ میں تبدیل کر دیا ہے۔اس کی رمق ِانسانیت اب صرف جمادات ،نباتات ، جانوروں اور حیوانوں کی قدر دانی و نگہبانی کے لیے کی جارہی منصوبہ بندی کے دوران اس کے مجرم چہرے پر نظر آتی ہے۔جانوروں اور پودوں حتی کہ جراثیم کی حفاظت و نگرانی کے لیے پوری دنیا کے ممالک مل جل کر معاہدات اور مشاورات کی بڑی بڑی تقریبات کا انعقاد کرتے ہیں۔ اس ضمن میں کڑی سے کڑی شرائط کا اپنے ارکان کو پابند بنایا جاتا ہےاور خلاف ورزی کے نتیجے میں ایک مجموعی رد عمل کا سنجیدہ بلکہ بعض اوقات جارحانہ اظہاربھی کیا جاتا ہے۔ مزید اس معاملے میں خاص محفوظ مقامات کی تخصیص و تعمیر کی جاتی ہے۔

لیکن روحانی طور پر یہ مردہ انسان اپنے ہی ہم نوع انسان کی بیخ کنی پر تلا ہوا ہے۔انسانیت کے شجر کو جڑ سے اکھاڑ ے پر تلا ہوا ہے۔ اپنی خود سری اور خود غرضی کے لباس میں ملبوس یہ انسان ایک خونخوار درندے کی درندگی میں کافی دور نکل چکا ہے۔ یہ درندہ صفت انسان معصوموں کے خون میں اپنے ہاتھ رنگ کر پوری دنیا کو حتی کہ اپنے ضمیر کو بھی اپنے خطرناک ہونے کا الارم دے رہا ہے۔ انسان اپنی شرافت،عظمت اور فطرت کا خود قاتل ہے۔ایک طرف وہ لوگ جو مجرمین اعظم کہلانے کے مستحق ہیں انسانیت کا قتل بالفعل کر رہے ہیں اور دوسری طرف وہ لوگ مجرمین عظمیٰ کہلانے کے مستحق ہیں ،جو قتل وغارت ،ظلم و بربریت پر اندھے ،بہرےاور گونگے بن چکے ہیں۔ جومظلوموں کی مدد کرنے کے لئے لنگڑے اور لولے بن چکے ہیں اور ظالموں کی مدد کے لیے ان کے ہمدرد،خیرخواہ ،پشت پناہ اور نگہبان بنتے ہیں۔ جن کا ضمیر مردہ اور فطرت مسخ ہو چکی ہے۔دنیا میں پچاس سے زائد مسلمان حکومتیں کوئی چھوٹا سا عملی اقدام تو دور کی بات لیکن زبانی احتجاج کے لیے اپنی زبان کو جنبش دینے سے معذور ہیں۔ شائد قدرت نے ان کی توفیق ہی سلب کرلی ہے۔

اس مسلمان لفظ سے بھلا دنیا کی اکثریت کو نفرت کیوں ہے؟جس نفرت کی بنیاد پر کسی شخصِ مسلمان کو تو نشانہ بنایا ہی جارہا ہے لیکن ستم بالائے ستم یہ ہے کہ نہ مسلمان کا نام ،نہ مسلمان کا تاریخی کارنامہ،نہ مسلمان کی ثقافت ،نہ مسلمان کی کوئی ماضی کی نشانی کو چھوڑا جا رہا ہے۔اس نفرت کی بنیاد کیا ہے کیوں پوری دنیا میں مسلمانوں کو ہی مجرم گردانا جارہا ہے؟کیوں مسلمانوں کو ہی ہر بلا اور آفت کا ذمہ وار ٹھرایا جا رہا ہے؟ان سوالات کا جواب گر چہ بہ آسانی دیا جاسکتا ہے لیکن بڑی آسانی سے انھیں سمجھا نہیں جا سکتا ہے۔ ان کو سمجھنے کے لیےنفرت،حسد،تعصب ،ضد اور ہٹ دھرمی کی دیواروں سے آزاد ہونا پڑے گا۔جس چیز سے آج کا انسان نفرت کر رہا وہی چیزحقیقتاً کل آخرت میں اس کی رفیق و معاون ہوگی۔

آج کے انسان کا اسلام کے ساتھ بیر اور نفرت رکھنا اس کی کم عقلی اور حماقت کا عریاں ثبوت ہے کیونکہ اس نے اسلام کا مطالعہ کیا ہی نہیں ۔ بغیر جانچ اور تحقیق کےاپنے دل میں نفرت کا زہر لیے پھرنا اخلاقیات کے ہر اصول کی رو سے غلط ہے۔آج کی آوارہ دنیا کے لیے مظلوموں پر زیادتی ایک لمحہ فیصل کی حیثیت رکھتا ہے آیا کہ یہ دنیا کیا پھر بھی کوئی انسانیت کا درد رکھتی ہے یا حیوانیت کی رغبت۔ دنیا والوں کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ خدا نے انسان کوظلم کے لئے نہیں بھیجا ہے بلکہ خدمت خلق اور احترام آدمیت کے لیے بھیجا ہے۔جب انسانوں کا ایک طبقہ ظالم بن بیٹھے اور باقی ماندہ اکثریت ظالم کی عاشق بنے تب تو انسانوں کا اللہ کی کسی خوفناک مار کے قریب ہونا یقینی ہے۔دنیا کی تاریخ اس قسم کے واقعات کی شاہد ہے۔ ِقرآن مجید کے سورۃ البروج میں اصحاب الاخدود کے واقعہ کو بیان کرنے کے بعد یہ فرمایا گیا کہ اصحاب لا خدود کی ان مومنین سے دشمنی صرف ان کے ایمان لا نے کی وجہ سے تھی ِ
وَمَا نَقَمُوۡا مِنۡهُمۡ اِلَّاۤ اَنۡ يُّؤۡمِنُوۡا بِاللّٰهِ الۡعَزِيۡزِ الۡحَمِيۡداور ان اہل ایمان سے ان کی دشمنی اس کے سوا کسی وجہ سے نہ تھی کہ وہ اس خدا پر ایمان لے آئے تھے جو زبردست اور اپنی ذات میں آپ محمود ہے ،
آج مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم اور پوری دنیا کی مجرمانہ خاموشی صرف اس وجہ سے ہے کہ وہ مسلمان ہیں۔ اگر اس کے برعکس ایک انگریزی کتا بھی کہیں بے گناہ گاڑی کے تلے روندا جاتا ہے تو اس کے نتیجے میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ہل چل مچ جاتی ہے۔یورپین ممالک کے ایوانوں میں صدائے احتجاج بلند ہوتی ہے۔ لیکن ہائے افسوس کسی بھی یورپین ملک کی پارلیمنٹ میں کوئی بھی صدایے احتجاج بلند نہ ہوئی۔مسلمانوں سے دنیا کو اتنا بیر کیوں ہے؟ اسے لیے کہ وہ ایک صاف شفاف اور انسانی فطرت کے اقتضاء کےعین مطابق اترنے والے دین کے پیروکار ہیں۔

ہم کسی بھی مسلم دشمن تنظیم یا ملک کو کسی بھی مسلمان ملک کی دھمکی نہ دیتےہیں لیکن صرف ایک رب العالمین کی شدید پکڑ سے خبردار کرتے ہیں، جو شاید اب بہت عنقریب ان تمام خاموش مجرموں کو پکڑنے والی ہے ۔جو مسلمانوں کی نسل کشی اور کشت و خون پر خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔
آخر کیوں مسلمانوں کے ساتھ دنیا کے حکمرانوں کی اس قدر نفرت اور بے اعتنائی ایک انتحا کو پہنچ چکی ہے ؟یہ سوال دراصل پوری دنیا کی عوام کے لیے لمحہ فکریہ سے کم نہیں۔لیکن عام انسان بھی شاید اب ابلیس کے فریبی جال میں پھنس کر احساس نام کی شے سے عاری ہو چکا ہے۔اسلام اور مسلمان کی وہ تصویر دنیا کی عوام کے سامنے شیاطین الجن وانس نے پیش کی ہے کہ مسلمانوں کا ذکر سنتےہوئے ہی ذہن میں ایک منفی تصور گھومنے لگتاہے۔دنیا کا پورا ذرائع ابلاغ اس کام میں محو عمل ہے۔

غیروں کی رقیبانہ خاموشی کی مختلف اعتبارات سے توجیہ پیش کی جا سکتی ہے لیکن مسلمان حکمرانوں کی مجرمانہ خاموشی کی کون سی توجیہ پیش کی جا سکتی ہے یہی نہ کہ وہ کہیں ‌ وَضُرِبَتۡ عَلَيۡهِمُ الذِّلَّةُ وَالۡمَسۡکَنَةُ وَبَآءُوۡ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰهِ‌کے مصداق ہو چکے ہیں جو بقول امین احسن اصلاحی" وہ اپنے دشمنوں کے لیے نہایت ہی نرم چارہ بن کر رہ گئے، حالات و خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے ان کے اندر کوئی عزم و حوصلہ باقی نہ رہا"۔اس کے علاوہ اور کوئی توجیہ شاید محال ہے

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sami Ullah Malik

Read More Articles by Sami Ullah Malik: 466 Articles with 149625 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
07 Aug, 2019 Views: 207

Comments

آپ کی رائے