لکھ ڈپٹی

(Iftikhar Chohdury, )

ڈپٹی میری زندگی سے جڑ کے رہ گیا ہے کالج یونین کا مقبول ترین لیڈر تھا مگر یارکی مجبوری تھی ادھر بھی نائب صدر ہی بنا انجینئرز کمیونٹی کا اعزاز بھی ملا تو ڈپٹی سیکرٹری تھا اور پی ٹی آئی کا سات بار ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات بننے کا اعزاز بھی پاس ہے میرے۔میں نے وطن کی الجھی زلفوں کو سنوارنے کی بڑی باتیں کیں بات کرنے کا ہنر لفظوں کو جوڑنے کی طاقت اﷲ نے دے رکھی ہے میں نے عمران خان کے لئے بہت کچھ لکھا جب جمہوری جدوجہد تھی ریفرینڈم تھا تو میں مشرف کی جیل میں تھا نواز شریف کا ساتھی تھا جب نواز شریف واجپائی کے آنے پر قاضی حسین احمد کو مار رہا تھا عبدالرشید ترابی کو زنجیروں میں باندھ کر سردیوں کی رات میں کسی جیل میں دھکیل رہا تھا اس وقت بھی سراپہ ء احتجاج تھا پی این اے کی تحریک میں ہل چلے گا بھی کرتا رہا پتہ نہیں کس جماعت کا ہوں لیکن اتنا ضرور ہے میں سچ کے ساتھ کھڑا تھا کھڑا ہوں کھڑا رہوں گا۔عمران خان نے جب شارع دستور پر پی ٹی آئی کا پرچم تھمایا تو کہا اسے سنبھالنا کہا بازو کٹ جائیں گے ایک کے بعد ایک اسے نہیں چھوڑوں گا۔احسن دنیا چھوڑ گئے ہم کھڑے رہے آج وزیر اعظم نے چیڑھ کا پودا لگایا کوئی تین سال پہلے سردیوں میں ہم ڈنہ فیروز پور گئے میرا پاؤں ایک چیڑ کے پودے پر آیا خان نے کہا افتخار تم نے پودہ ضائع کر دیا کہا خان صاحب چیڑھ اور افتخار کبھی دبتے نہیں انشاء اﷲ یہ بھی کھڑا ہو گا اور میں بھی۔
ڈپٹی نے بہت کچھ لکھا اپنی لڑائیوں کے قصے جد وجہد کی کہانیاں لیڈروں سے جڑی یادیں مگر یہ کشمیر کو کبھی نہیں بھولا اس نے بڑے بڑے مجاہدوں کے جوتے سیدھے کئے ہیں عبدالمجید ڈار سوپور کا شہید سید صلاح الدی حافظ سعید عبدالرحمن مکی میں کس کس مجاہد کا نام لوں جس سے علیک سلیک نہیں رہی۔ہمارے دوستوں کے اثاثے بھی منجمد ہوئے میرے بھی ان کے زمانے کے خداؤں نے کئے ہمارے اسحق ڈاروں نے مگر استقامت رہی۔کچھ نہیں چھوڑا دلیری بہادری جراء ت بہادری۔سچ پوچھیں مجھے وہ دن بھی یاد ہے کہ جب مدینہ منورہ میں ایک دوست جہانگیر خالد کے ہاں عبدالمجید ڈار ٹھہرے مجھے کہا گیا کہ مجاہد کشمیر ہیں انہیں بازار لے جائیں وہاں دیکھا کہ اس نے جنازوں کی چادریں خریدیں اور کہا افتخار صاحب جب شہید کا جنازہ اٹھتا ہے تو اس پر مدینے کی چادر ایک سماں باندھتی ہے
90کی دہائی تھی ایسا لگ رہا تھا کہ کسی وقت کشمیر کی زنجیریں ٹوٹ جائیں گی اور وہ آزاد ہو گا۔لیکن جب کبھی مسلمان آزادی کے قریب پہنچتے ہیں کچھ ایسا ہو جاتا ہے کہ وہ پیچھے چلے جاتے ہیں پتہ نہیں اس قوم کو کتنے میر جعفر ماریں گے کبھی کسی نے لسٹیں فراہم کر دیں کبھی کوئیامن کی آشا کا پیغام لے آیا کسی کو آلو گوشت اچھا لگا کسی نے کہہ دیا کہ ہم بھی اسی رب کو پوجتے ہیں جس کو آپ پوجتے ہیں۔ایک لکیر کی بات کی جاتی ہے۔کبھی کسی نے یہ نہیں سوچا کہ پانی کے اس پار کے رشتے دار اس پار والوں سے خیر کیری پوچھتے کیسے لگتے ہیں۔انہیں ان سے ملنا ہے لیکن وہ امن کی آشا کے راستے پر نہیں جدوجہد کی سنگلاخ سڑک پر ننگے پاؤں نکلے ہیں۔جہاں گولی ہے بندوق ہے وردی ہے اور وہ وردی نہیں جو ادھر کی ہے وہاں دہشت گردی ہے اور انڈین آرمی کی وردی ہے۔لکھ ڈپٹی ان ماؤں کی کہانی جو عباؤں میں ملبوس لے کے رہیں گے آزادی کی بات کر رہے ہیں چھوڑ قصے کہانیاں ان چوروں اور ڈاکووں کے جنہوں نے اس ملک کو مال کو شیر مادر سمجھ کر پیا اور جو چمڑی دینے کے لئے تیار ہیں مگر دمڑی نہیں دے رہے۔ان کی باتیں کیا کرنا جنہیں یہ احساس ہی نہیں کہ ملک بنا تھا کیوں؟ رحمت علی نے کیوں سوچا اقبال نے کیوں خواب دیکھا اور ایک نحیف و نزار کی فولادی قوت ایمانی کے زیر نگرانی پاکستان بنا۔یہ اگست کا مہینہ ہے آزادی کا مہینہ اسی مہینے حج بھی ہے پاکستان بنا رمضان میں اور اس کے مقبوضہ حصے میں اک آگ لگی ہے ذوالحج میں۔ڈپٹی صاحب یہ کیسا ملاپ ہے۔کبھی اس طرف بھی دیکھئے کوئی کہتا ہے کہ خلائی مخلوق نے ہمیں شکست دی۔کبھی سپاہی کو لالچی قرار دیتے ہیں ان سورموں سے کوئی پوچھے کہ تم نے پنجاب کے منہ پر کالک کیوں ملی؟پہلی بار ہو رہا ہے کہ اپنی شکست اور اپنی چور بازاری کی ذمہ داری فوج پر ڈالتے ہوں اشتیاق عباسی ایک اخبار کے ایڈیٹر ہیں وہ پرانا سبق وہی پرانی کتھا بیان فرما رہے تھے کہ لوگ بھوک سے مر رہے ہیں مہنگائی کا طوفان ہے کاروبار کوئی نہیں ٹیکس پے ٹیکس لگ رہا ہے۔بھائی جان اﷲ سے ڈرو اور خوف خدا کرو مجھے یہ بتائیں کہ یہ ایئر پورٹ یہ موٹر ویز ٹی وی اسٹیشنز آپ کی قیمتی چیزیں کس نے گروی رکھیں۔کس نے نو ارب ڈالر کی پہلی قسط دینی ہے میں کہیں اور نہ نکل جاؤں لیکن یہ ضرور بتاتا ہوں کی پاکستان کی تاریخ کا بھیانک دور یہ ہے کہ اپنی شکست کا رنڈی رونا فوج پر ڈالا جا رہا ہے۔عوامی لیگ کے مجیب نے اس طرح کبھی بات نہیں کی کی تو آپریشن کے بعد کی لیکن افسوس ہے کہ فوجی جوانوں کے سحر میں حدود پھلانگتی آواز اب اسی فوج کو گالی دے رہی ہے۔لکھ او ڈپٹی لکھ وہ قصے جو تم نے سرور پیلیس میں دیکھے وہ کہانیاں جو کیپٹن صفدر تمہیں بتاتا رہا۔ڈپٹی لکھے گا تو اسے شرم آئے گی کہ کانوں میں کھس پھسر کی جانے والی باتیں بتانا مناسب نہیں۔کسی دن اشتیاق عباسی آپ کو دفتر میں بتاؤں گا۔کہ کیا دن تھے اور کیا راتیں اور کیا باتیں۔
اٹھے کوئی اور اعتزاز احسن اور دے دے لسٹیں تا کہ وہ مجاہد چن چن کے مارے جائیں اور پھر کہہ دینا ہم نے تمہیں بچا لیا۔کیا گفتگو تھی جو ارشد خان مرحوم کیا کرتا تھا جدہ کی مسلم لیگ کے جلسوں میں ۔بے نظیر اور راجیو کی باتیں ڈپٹی نومبر میں چوسٹھ کا ہو رہا ہے وہ چاہتا ہے کہ قوم کو بتا کر مرے کہ اس ملک کو میثاق جمہوریت کے بد بودار کمبل کے نیچے دبا دیا گیا ۔پہلی وار تواڈی دوجی ساڈی کا نعرہ وہی تھا ادھر تم ادھر ہم۔لیکن کوئی کنکریاں والا اطہر عباس نہ تھا جو یہ سرخی نکالاتا۔ہم جدہ جیل میں تھے اور یہ میثاق ہو رہا تھا ریفرینڈم تھا ہم بند تھے سب بھاگ گئے تھے سمیت احسن رشید فون کیا تو کہا میں لندن ہوں فلائٹ بھری گئی اور یاران وطن بھی مسخبی ہو گئے۔
نہ منہکھلواؤ ڈپٹی کا۔کشمیریوں نے اپنے خون سے یہ تاریخ لکھی ہے ہم ہوتے تو یہ تحریک ہم خود دبا دیتے۔ایک بار سردار قیوم نے کہا تھا کہ جس قوم کو خون دینے میں مزہ لگے اسے کوئی غلام نہیں بنا سکتا۔یہ الگ بات ہے کہ مجاہد اول سے بندوق گر گئی تھی جس سے ٹھاہ کی آواز آئی اٹھ کے پوچھا کس نے چلائی ہے۔
کشمیری اپنے خون سے تاریخ لکھ رہے ہیں۔ہم باہر گراؤنڈ میں بیٹھے تماشائی ہیں واہ واہ کر رہے ہیں۔افسوس کہ ہم کچھ کر بھی نہیں سکتے۔اﷲ بھلا کرے عمران خان کا جس نے یہ مسئلہ اٹھایا ورنہ یاد رکھئے شملہ معاہدہ اور معاہدہ لاہور یہ کشمیریوں کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے مترادف تھا۔لوگ کہتے ہیں نوے ہزار قیدی واپس لائے میں ثابت کرتا ہوں پاکستان کو دولخت کرنے میں مجیب بھٹو یحی کی ٹرائیکا تھی۔ڈپٹی مجیب الرحمن شامی سے پوچھتا ہے شامی صاحب سچ کہو روء ف طاہر سے سوال کرتا ہے بھائی جی دسو خالد منہاس بولو! اور ضیاء شاہد سے کہتا ہے سچ کہیں، کہاں ہیں زمزمے بہہ رہے ہیں والے الطاف حسین قریشی سر بتائیں ناں بھٹوکیا تھا مجیب کیا تھا یحی کیا تھا؟
کشمیریوں کی پیٹھ میں چھرا گونپنے والو بولو تو سہی مر کیوں گئے ہو؟؟؟
ڈپٹی بڑا سچا ہے ایک بار کشمیری وفد میر واعظ عمر فاروق کی قیادت میں عمران خان سے ملنے آیا برادر نؤعیم الحق کا بھلا ہو انہوں نے مجھے بٹھا دیا وہاں ایک رکن کہنے لگا پی ٹی آئی تو چھوٹی جماعت ہے ہم تو ایسے ہی آپ سے بات کرنے آ گئے ہیں میں نے کہا لون صاحب !پتہ ہمیں بھی ہے کہ آپ وہاں کی ق لیگ ہیں لیڈر تو علی گیلانی ہی ہے۔
وہ وقت چلا گیا شائد 2009 تھا ۔
گیلانی صاحب نے کہا ہے کہ یہ زندگی کے لئے آ خری آواز ہے
اﷲ کا شکر ہے فوج موجود ہے ورنہ ماضی کے سیاست دان اس ملک کو بیچ کر پتیسہ کھا لیتے۔عمران خان فوج ہے اور فوج عمران خان۔
ڈپٹی نے ان بے حسوں سے بھی بات کرنی ہے جو وردی کو نشانہ بنا رہے ہیں ووٹ لوگوں نے نہیں دئے الزام فوج پر ڈگا کھوتے توں تے غصہ کمیار تے۔
کس نے کہا تھا کہ ماڈل ٹاؤن میں چودہ مارو اور کس نے ٹویٹیں
واپس کرائی تھیں کون سرل المیڈا کو ملتان لے گیا تھا کس نے ڈان لیکس کرائی تھیں؟
ان سب رولوں رپوں میں سید کشمیر کی آواز پر پوری قوم لبیک کہہ رہی ہے۔جذبہ ء جہاد پر کھڑی فوج اﷲ کے کرم سے آپ کی پشتیبان ہے۔طاغوت کبھی کمزور نہیں رہا لیکن اﷲ والے ہیں ناں۔لکھ دیا ہے ڈپٹی نے۔میں ادھر ادھر سوچ رہا تھا میرا ضمیر بولا لکھ او ڈپٹی کتھا لکھ کہانی لکھی داستاں لکھ لکھ کے اﷲ کے بندے بائیس کروڑ تو ساتھ ہیں ناں جنرل انوار عشقی نے جس فوج کی تعریف کی جس کو سراہا میرے سعودی جرنیل دوستوں نے۔لفظ لکھوں تو زمانہ میرے درشن مانگے لکھ ڈپٹی
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 130 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Engr Iftikhar Ahmed Chaudhry

Read More Articles by Engr Iftikhar Ahmed Chaudhry: 383 Articles with 129549 views »
I am almost 60 years of old but enrgetic Pakistani who wish to see Pakistan on top Naya Pakistan is my dream for that i am struggling for years with I.. View More

Comments

آپ کی رائے
Language: