مودی جی ہمت ہے تو سامنے آ

(Umar Khan Jozovi, )

ہم تو پلے بڑے ہی کشمیرکے نام سے ۔جب سے ہوش سنبھالا۔یہ پڑھا،سنااوردیکھاکہ کشمیرہماری شہ رگ ہے۔بھلاشہ رگ کے بغیربھی کوئی زندہ رہ سکتاہے۔۔؟شہ رگ ہی توزندگی ہے۔ماناکہ حالات بدل گئے۔الفاظ کے معنی ومفہوم تبدیل ہوگئے یاپھرتبدیل کردیئے گئے۔یہ بھی حقیقت کہ دنیاکے منصف وحکمران چندٹکوں کی خاطراپنے فیصلوں،مؤقف اورمقام سے بھی پیچھے ہٹے لیکن ہم ۔۔؟نہ ہم بدلے نہ ہی ہماری جنت بدلی ۔ہم توشروع دن سے جہاں تھے سترسال بعدبھی مظلوم کشمیریوں کے مبارک ہاتھ تھمانے کے لئے آج بھی اسی موڑپرکھڑے ہیں ۔دنیاکی سوچ،فکراورنظریے کے بدلنے کے باوجودہم آج بھی یہ سمجھتے ہیں کہ اﷲ نہ کرے اﷲ نہ کرے ہماری یہ شہ رگ اگرکٹ گئی توپھراس کے بغیرہم بھی زندہ نہیں رہیں گے۔کشمیرہماری جنت تھی اورہے۔کوئی جنت آج تک کسی کافرکوملی ہے نہ کبھی ملے گی۔مودی جیسے کالے کافرکی جانب سے اس جنت کوپانے کی امیداورجستجوپاگل پن کے سواکچھ نہیں۔مسلمانوں سے بغض وعنادکے لاعلاج مرض میں مبتلااوراقتدارکے نشے میں مدہوش مودی یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنی پاگل پن اوربیوقوفی کی وجہ سے کہیں کشمیرفتح کرلیں گے لیکن یہ ان کی بھول ہے۔ کشمیرکوفتح کرنے کے لئے اس سے پہلے بھی مودی کے بڑے بڑے باپ آئے مگروہ بھی کشمیرفتح کرنے کاخواب دل میں لئے اس دنیاسے ہی گئے ۔بھارت نے مقبوضہ کشمیرکی خصوصی حیثیت کے حوالے سے آئین کاآرٹیکل370ختم کرکے جنت نظیروادی میں جوآگ بھڑکائی ہے اس کے شعلے اب نہ صرف دوردورتک پھیلیں گے بلکہ اس آگ میں بھارت خوداس طرح جلے گاکہ جل کرراکھ ہی ہوگا۔مودی سرکارنے تو مقبوضہ کشمیرکی خصوصی حیثیت اپنے گناہ،جرائم اورکالے کرتوت چھپانے کے لئے ختم کی لیکن مودی کایہ بہیمانہ ،سفاکانہ اوراورمکارنااقدام انشاء اﷲ اب کشمیرکی آزادی کانقطہ آغازثابت ہوگا۔مودی جتنی مرضی اب فوج مقبوضہ کشمیرمیں بھیج کرکرفیوپرکرفیولگائیں ۔کشمیرکواب آزادی سے کوئی نہیں روک سکے گا۔ہم نے مودی جیسے بڑے بڑے کالے کافروں کواسلامی دنیافتح کرنے کے لئے اپنے لاؤلشکرسمیت نکلتے دیکھالیکن پھران بڑے بڑے سورماؤں اورفرعونوں کادنیاکے اندر ہی جوحال اورحشرہواوہ بیان کرنے سے بھی باہرہے۔مودی کاایک بھائی افغانسان فتح کرنے بھی آیاتھا۔مقبوضہ کشمیرکوباپ داداکی جاگیرسمجھنے سے پہلے مودی اگراس بھائی کاحشرسامنے رکھتاتوانہیں ضرورافاقہ ہوتامگرافسوس دل کے کالوں میں عقل کہاں۔۔؟مودی میں عقل کاایک ذرہ بھی اگرہوتاتوکیاوہ جمعہ جمعہ اٹھ دن پہلے شلوارپاکستان میں چھوڑکرالٹے پاؤں جانے والے ابھی نندن کوبھولتے۔۔؟غیرت وحمیت سے کورے مودی کے دل ودماغ پرمسلمانوں کاایک خوف سواریاطاری ہے اسی وجہ سے وہ مسلمانوں کی نسل کشی پرتلے ہوئے ہیں ۔مودی نے بھارت کے اندربھی کئی بے گناہ مسلمانوں کے خون سے اپنے ناپاک ہاتھ رنگین کئے۔مسلمانوں کی نسل کشی کرتے ہوئے مودی یہ بھول رہے ہیں کہ مسلمانوں کے جس گھرسے ایک شہیدکاجنازہ اٹھتاہے اس گھرسے پھراسلام کے دس دس مجاہداور سپاہی نکلتے ہیں ۔ مودی کی اصلیت توہم پرپہلے ہی کھل گئی تھی لیکن اب کی بارمظلوم کشمیریوں کے بنیادی حقوق پرڈاکہ مارکرمودی نے پوری دنیاکے سامنے اپنے آپ کوننگاکردیاہے۔مقبوضہ کشمیرمیں بے گناہ کشمیریوں پرڈھائے جانے والے بھارتی مظالم ،جارحیت اوربربریت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ۔اپنے ناپاک عزائم کی تکمیل کے لئے مودی سرکارکی جانب سے مقبوضہ کشمیرمیں طاقت کابے دریغ استعمال کرکے مظلوم وبے گناہ کشمیریوں کونہ صرف دن کی روشنی اوررات کے اجالے میں کلسٹربمبوں سے اڑایاجارہاہے بلکہ معصوم بچوں ،خواتین،بزرگوں اورنوجوانوں کوروزانہ خون میں نہلایابھی جارہاہے۔بھارت کے ہاتھوں کشمیرمیں اس وقت جوظلم ہورہاہے اسے دیکھ کرانسان برما،فلسطین،شام اورافغانستان کوبھی بھول جاتاہے۔پاکستانی مسلمانوں سے ان کی جنت چھیننے کے لئے اب مودی کشمیرمیں آبادمسلمانوں کی نسل کشی سے بھی دریغ نہیں کررہا۔ کشمیرمیں روزانہ لاشوں پرلاشیں گررہی ہیں ۔جنازوں پرجنازے اٹھ رہے ہیں ۔ہرطرف چیخ وپکار۔۔آہ وبکااورخون ہی خون ہے۔ہماری ماؤں ،بہنوں اوربیٹیوں کے دل سے بہنے والاخون اورآنکھوں سے گرنے والے آنسوتھمنے کانام ہی نہیں لے رہے۔مودی نے جوکرناتھاوہ کرلیا۔جوہوناتھاوہ ہوگیا۔کشمیرکی مائیں ،بہنیں،بیٹیاں اوربھائی اب امیدبھری نگاہوں سے صرف اورصرف ہماری طرف دیکھ رہے ہیں ۔دشمن نے چھرااٹھالیاہے۔وہ ہماری اس شہ رگ کوہمیشہ ہمیشہ کے لئے کاٹنے اورہم سے جداکرنے کے درپے ہے۔اب یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اس شہ رگ کے کٹنے سے پہلے دشمن کے ناپاک اورمردارہاتھ ان کی جڑوں سے کاٹ کرکسی کتے کے آگے ڈال دیں ۔بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیرکی خصوصی حیثیت کے حوالے سے آئین کے آرٹیکل370کاخاتمہ یہ ہمارے لئے آخری وارننگ اورواضح پیغام ہے کہ اپنی شہ رگ کی قرض اتارلوورنہ اس سے محروم کردیئے جاؤگے۔کشمیرکے مسئلے پرمذمت اورندامت کاکھیل ہم نے بہت کھیلا۔بات اب مذمت اورندامت سے بہت دورنکل چکی ہے۔لاتوں کے بھوت اگرباتوں سے نہ مانے توپھرموٹی موٹی لاتوں سے ان کی تواضع کی جاتی ہے۔مودی جی توباتوں سے ماننے اورشرافت کی زبان سمجھنے والے ویسے بھی نہیں ۔اس منحوس پرجب تک لاتوں کی اچھی بھلی بارش نہیں ہوتی ان کے ہوش توٹھکانے نہیں آتے۔امن امن کے گیت ہم نے بہت گائے۔مودی کی محبت میں قصیدے بھی ہم نے بہت پڑھے۔بھارت سے دوستی کے نعرے بھی ہم نے بہت لگائے۔ماضی اورحال گواہ ہے کہ مودی کی اتماکوآگ وخون سے بچانے کے لئے ہم سے جوہوسکتاتھاوہ ہم نے کیالیکن اب ۔۔؟اب ہم نے نہ امن کے گیت گانے ہیں۔نہ مودی کے قصیدے پڑھنے ہیں اورنہ ہی بھارت سے دوستی کے نعرے لگانے ہیں ۔ہماری جنت آگ میں جل رہی ہواورہم امن امن کے بھاشن اوردوستی دوستی کے نعرے لگاتے پھریں ایسانہیں ہوسکتا۔اب اسی زبان میں بات ہوگی جس زبان اورلہجے میں ہمارے ساتھ بات کی جائے گی ۔ مقبوضہ کشمیرکی خصوصی حیثیت ختم کرکے مودی اوراس کے حواری اس خوش فہمی میں نہ رہیں کہ کشمیرانہوں نے فتح کرلیا۔کشمیرکوفتح کرنامودی جیسے عقل سے کورے بچوں کے بس کی بات نہیں۔جب تک پاکستان کاایک بچہ بھی زندہ ہے مودی کیا۔۔؟ مودی کاکوئی باپ بھی کشمیرفتح نہیں کرسکتا۔کشمیرہماری شہ رگ تھی ،ہے اورہمیشہ رہے گی ۔ہماری اس جنت کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے والے ہماری جان پرسے گزرتوسکتے ہیں مگراس جنت کوکبھی حاصل نہیں کرسکتے۔آزادی کی اس جنگ میں کشمیری نہ پہلے اکیلے تھے اورنہ وہ آج اکیلے ہیں۔پاکستان کے 22کروڑعوام پاک فوج کی قیادت میں آج بھی کشمیریوں کے ساتھ ہے۔کشمیریوں کاخون ہمارے اوپرقرض ہے اوروقت آنے پرہم انشاء اﷲ یہ قرض چکاکررہیں گے۔موجودہ حالات کے تناظرمیں حکومت کو کشمیرکے حوالے سے اپنی پرانی اورنرم پالیسی ترک کرکے مودی کے منہ پرکوئی زناٹے دارتھپررسیدکرناچاہئے تاکہ ان کواپنی اوقات کااندازہ ہوجائے۔کشمیریہ کوئی عام اورچھوٹاسامسئلہ نہیں ۔ہماری برسوں کی ریاضت،جدوجہد،محنت اورقربانیاں اس سے وابستہ ہے۔اس لئے اپوزیشن جماعتیں اوراپوزیشن لیڈربھی سیاسی اختلافات کی بوریاں سائیڈپررکھ کراس مسئلے پرمتحدہوکر حکومت کاساتھ دیں۔کشمیرہماری شہ رگ توہے ہی لیکن ساتھ یہ ہماری عزت اورجنت بھی ہے۔کوئی مسلمان اپنی عزت اورجنت کسی کونہیں دیتاپھربھلاہم اپنی عزت اورجنت دنیاکے کالے کافروں کوکیسے دیں گے۔۔؟اسی لئے ہم کہتے ہیں کہ کشمیرہماراتھا۔۔ہماراہے اورانشاء اﷲ ہماراہی رہے گا۔مودی میں ہمت ہے توہمیں ذرہ آزماکردیکھ لیں ۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 326 Print Article Print
About the Author: Umar Khan Jozovi

Read More Articles by Umar Khan Jozovi: 21 Articles with 4482 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: