سُستی اور کاہلی کا خاتمہ۔۔۔۔۔مگر کیسے؟؟

(Tanveer Ahmed, )

 سُستی اور کاہلی کی وجہ سے ہم بہت سے اہم کام نہیں کر پاتے۔ اکثر لوگ کاموں کو دوسرے ،تیسرے یا پھر آخری تاریخ تک ٹالتے رہتے ہیں اور جب آخری تاریخ آتی ہے توپھر وقت کی قلت کا بہانہ بنا تے ہیں۔اگر کسی جگہ پہنچنے کا وقت دو بجے ہے تو لوگ گھر سے ہی دو بجے نکلتے ہیں اور پھر رش کی وجہ سے تاخیر کا بہانہ بنا تے ہیں۔تیز رفتاری کی وجہ سے جان لیوا ایکسیڈنٹ ہوتے ہیں جس میں بے گناہ لوگ مارے جاتے ہیں۔سب سے ذیادہ سستی اور کاہلی مذہبی معاملات میں کی جاتی ہے جن میں سے نماز کا فریضہ سر فہر ست ہے۔ اکثر لوگوں کو میں نے مسجد کے باہر شوارمے کھاتے دیکھا ہے جب مسجد کے اندر نماز ہورہی ہوتی ہے۔ جو لوگ سستی اور کاہلی کا شکا ر ہوتے ہیں ان کو نیند بہت ذیادہ آتی ہے۔ دوسرے لوگوں کے طعنوں اور تنقید سے بچنے کے بہانے یہ ہر وقت سوچتے رہتے ہیں۔ ایک صاحب نے تو یہ دلیل دے کر مجھے لاجواب ہی کر دیا کہ جناب آپ سست اور کاہل لوگ کو اتنا مت کوسا کریں۔ اس دنیا میں جتنی بھی ایجادات ہمارے آرام اور سکون کے لیئے ہوئی ہیں ان میں سے بیشتر کا سہرا سست اور کاہل لوگوں کے سر ہی ہے۔ ایک اور صاحب میرے پاس آئے کہ مجھے ملازمت نہیں ملتی ۔ میرے پاس ڈگر ی بھی ہے اور علم بھی ہے۔ میں نے ان سے کہا کہ آپ کل دس بجے آجائیں ہم آپ کا انٹرویو لیں گے اور آ پ کے ذمے ایک کلاس کو پڑھانا بھی ہوگا تاکہ ہمیں پتہ چلے کہ آپ کاطریقہ تدریس کیا ہے اور آ پ بچوں کوکیسے کنٹرول کریں گے۔ کل وقت پر آنے کا کہ کر یہ صاحب چلے گئے۔ اگلے دن دس بجے ان کا کوئی اتہ پتہ نہ تھا۔ تنگ آکر میں نے ان کو گیارہ بجے فون کیا تو وہ بھی نہ اٹھایا۔ بارہ بجے کے قریب وہ صاحب خراماں خراماں میرے دفتر میں داخل ہوئے تو ان کو دیکھ کر مجھے غصہ تو بہت آیا لیکن میں نے اس کو کنٹرول کرتے ہوئے وجہ پوچھی تو صاحب نے بتا یا کہ ان کی آنکھ نہیں کھلی۔اس کے بعد ان سے انٹرویو کرنے کو تو کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا تھا۔ میں ان کو لے کر کلاس میں چلا گیا کہ ان کے علم کو بھی چیک کر لیتے ہیں۔ اپنی مرضی سے ایک ٹاپک سیلیکٹ کر کے ان صاحب نے پڑھانا شروع کیا تو گویا مشرق و مغرب کے قلابے ہی ملا دیئے۔ سوال گندم جواب چنے کے مصداق بات بہت دور تک چلی گئی جس کو میں نے سمیٹتے ہوئے ان کو بھی ساتھ ہی سمیٹا اور ادارے سے باہر نکال دیا۔اس طرح کے لوگ اگر نوکر ی نہ ملنے کا شکوہ کریں تو سو جوتے کھانے کے لائق ہیں۔

آخر اس سستی اور کاہلی کا علاج کیا ہے اور اس کو کیسے ختم کیا جاسکتا ہے؟۔یہ سوال مجھ سے بہت سے طالب علم میرے سیمینارز میں پوچھتے ہیں۔سستی اور کاہلی کوئی بیماری نہیں ہے جس کا ڈاکٹر سے علاج کروایا جائے۔ یہ صرف آپ کی سوچ کی وجہ سے آپ پر حاوی ہوجاتی ہے۔ وہ لوگ جو بغیر کسی مقصد کے زندگی گزار رہے ہوتے ہیں ان پر یہ سب سے ذیادہ حاوی ہوتی ہے۔ اس کے دوسرے بڑے شکار وہ لوگ ہوتے ہیں جن کی کوئی عزت نفس نہیں ہوتی۔ یہ ایسے لوگ ہوتے ہیں جن کو عرف عام میں ڈھیٹ کا لقب دیا جاتا ہے۔ چاہے دنیا ادھر سے ادھر ہوجائے اور دوسرے لوگ اس کی عزت کی دھجیاں بکھیر دیں پھر بھی ان لوگوں پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔اس مسلئے کے تیسرے بڑے شکار امیر ذادے ہوتے ہیں جن کی زندگی میں راوی چین ہی چین لکھتا ہے۔ ان کو کسی قسم کی کوئی پریشانی نہیں ہوتی۔ ان کی زندگی شاہزادے اور شاہزادیوں کی مانند ہوتی ہے۔ ان میں کچھ لوگ تو واقعیتاًامیر گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں لیکن ان میں اکثریت کا تعلق متوسط گھرانو ں سے ہوتا ہے۔ اسے جعلی امیر ذادوں کو خراب کرنے میں ان کی ماؤں کا بدرجہ اتم ہاتھ ہوتا ہے۔ ان کی خواہشات کو پورا کرنے کے چکر میں باپ قرضے تلے دبتا جاتا ہے اور یہ جعلی امیر ذادے رضائی کے بوجھ تلے دبتے رہتے ہیں۔سستی اور کاہلی کے چوتھے بڑے شکار نالائق طالب علم ہوتے ہیں۔ ان میں اکثر تو کتابیں ہی پیپروں کے قریب خریدتے ہیں اور پھر گیس پیپر دینے والوں کے اردگرد چکر کاٹتے رہتے ہیں ۔ اگر گھر والوں کو دکھانے کے لیئے کتا بیں پہلے بھی لے لیں تو بھی ان کے پڑھنے کے لیئے انتہا ئی تردد کریں گے۔ اگر ٹیچر کام نہ کرنے کی وجہ پوچھے گا تو سب سے پہلے تو کسی نہ کسی کو مار دیں گے۔جن میں سے دادا اور دادی سر فہر ست ہوتے ہیں۔ اگر پولیس والے ان اعداد شمارکو گننا شروع کریں تو دنیا کی کل آبادی سے دس گنا ذیادہ لوگ مر چکے ہونگے۔ اگر کسی کو مارنے سے رعایت برتیں گے تو پھر کسی نہ کسی کو بیمار ضرور کر دیں گے وگرنہ شادی خانہ آبادی کا بہانہ بھی بہت کام آتا ہے۔

سستی اور کاہلی کے پانچویں شکار نالائق ملازم ہوتے ہیں جن کو کوئی ایک کام کہہ دیں تو سب سے پہلے تو ہر ممکن کوشش کریں گے کہ یہ کام کسی اور کے حوالے کر دیا جائے یا چند دن لیٹ کر لیا جائے۔ اگر اس کو کرنے پر راضی ہوبھی جائیں گے تو طوعاًو کراہاً کام شروع تو کر دیں گے لیکن اس کے ختم ہونے کے کوئی آثارنظر نہیں آئیں گے۔ بظاہر آپ کو ایسے لوگ بہت مصروف نظر آئیں گے لیکن ــ’’جو کچھ نہیں کرتے وہ کمال کرتے ہیں ‘‘کے مصداق ان کے تما م حیل و حجت کسی کام نہیں آئے گی۔کسی بھی ادارے کو ڈبونے کے لیئے ایسا ایک فرد ہی کافی ہے جو باقی سب کو بھی کام چوری کے گُر سکھا کر جائے گا۔
اب تھوڑی سی بات اس کے علاج کے بارے میں بھی کر لیتے ہیں۔ بیماری کے اعتبار سے تو اس کا شمار بھی لاعلاج امراض میں ہوتا ہے۔ لیکن اس سے بچنے کا صرف ایک ہی طریقہ ہے اور وہ ہے عزت نفس۔ صرف اور صرف عزت نفس ہی انسان کو سستی اور کاہلی کو دور کر سکتی ہے۔عزت نفس رکھنے والا شخص کبھی کسی دوسرے کو اپنی ناکامی کا سبب نہیں ٹھہر ائے گا۔ وہ کبھی بھی تنگی وقت کی شکایت نہیں کرے گا۔ خو د سے محنت کر کے کھانے والے شخص سے سستی اور کاہلی کوسوں دور بھاگتی ہے۔ کس بھی کام کو کرنے کا سب سے بہترین وقت وہی جب اس کا خیال آپ کے ذہن میں آجائے یا آ پ کے ذمے لگا دیا جائے۔ محنتی لوگوں کی ڈکشنری میں کل نہیں ہوتا ہے۔ وہ اپنی محنت سے کل کو آج میں منتقل کر دیتے ہیں اور کامیابی بھی ایسے ہی لوگو ں کامنہ چومتی ہے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Tanveer Ahmed

Read More Articles by Tanveer Ahmed: 69 Articles with 40986 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
09 Aug, 2019 Views: 499

Comments

آپ کی رائے