پاکستان میں خواتین کو درپیش مسائل

(Sadia Huma, )

پاکستان وہ ملک ہے جس پر ابھی تک ہندو رسم و رواج کی چھاپ ہے شادی بیاہ کی رسومات دیکھ لیں یا کسی کے ہاں کوئی غمی پر جگہ فضول رسمیں ناگزیر جو ان کو نہی مانتا اسے معاشرے کی چبھتی نظروں کا سامنا کرنا پڑا کیاسی طرح ہمارے معاشرے میں بیٹی کی پیدائش پر بھی غم کیا جاتا کے سپیشلی اس حالت میں جب بیٹی دوسری یا تیسری ہو کوئی مبارک تک نہی دیتا خوشی منانا تو دورکی بات جبکہ ہمارے دین میں بیٹی کو رحمت کہا گیا مگر پر کسی کو صرف بیٹا ہی چاہیے ایسے معاشرے میں جہاں عورت جی پیدائش جی باعث فکر کو وہاں مسائل تو یوں گئے پہلے نمبر پہ جو مسلہ درپیش ہے وہ ناخواندگی ہے۔عورتوں کی اکثریت ناخواندہ ہے اور اس کی وجہ یہی ہے کہ بیٹی کی تعلیم پر خرچ کو ضیاع سمجھا جاتا ہے اور ان جی تعلیم پر کوء توجہ نہی دی جاتی اور اسی وجہ سے خواتین میں جہالت پاء جاتی ہے وہ اپنے حقوق سے لاعلم ہیں اور اس وقت ضرورت اس امر جی ہے کہ پاکستان کی خواتین سے جہالت کو ختم کیا جاے دوسرا اہم مسلہ غربت ہے ۔لڑکی جی پیدائش کو غربت جی وجہ سے بھی باعث آزار سمجھا جاتا ہے کیونکہ لڑکیوں کو جاہل رکھا جاتا کے اور وہ معاش میں مدد نہی کر سکتیں اور مرد کی کماء سے گزارہ نہی ہوتا اور نتیجے میں خواتین کو کسمپرسی میں گزر کرنی پڑتی ہے اور ان کو بنیادی سہولیات بھی حاصل نہیں ہوتیں۔

رسومات
ہمارے ملک میں کاروکاری ونی اور قرآن پاک سے شادی جرگے کا فیصلہ جیسی رسومات بھی پائی جاتی ہیں جن کی بھینٹ خواتین چڑھای جاتی ہیں ان فضول رسموں سے بچانے کے لے فوری اقدامات کی ضرورت ہے تا کہ خواتین اس ظلم سے بچ سکیں مرد کی برتری ہمارا معاشرہ میل ڈومینیٹڈ معاشرہ ہے اور تمام اختبارات کا مالک ادے سمجھا جاتا ہے اور عورت کو کوئی حق اور حثیت نہی دی جاتی بلکہ اسے کمتر سمجھا جاتا ہے جبکہ دین نے عورت کو مساوی حقوق دیے ہیں آج عورت کے اندر شعور بیدار کرنے کی ضرورت ہے تا کہبوہ معاشرے کا فعال رکن بن کر اپنا مقام حاصل کر سکے۔

صحت کے مسائل
عورتوں کی صحت پر بھی کوئی توجہ نہیں دیتا چلتی کا نام گاڑی مردوں کو اس سے کوء غرض نہی مسلسل بچوں کی پیدائش صحت تباہ کر دیتی ہے یہاں تک کے بہت سی عورتوں کا دوران زچگی انتقال ہو جاتا ہے اور اس بات کو فراموش کر دیا جاتا ہے کہ اگر عورت صحت مند ہو گی توبہی صحت مبد نسل کو پروان چڑھا سکے گی۔

بے جوڑ شادیاں
ہمارے ہاں ایک مسلہ بے جوڑ شادی بھی ہے وٹہ سٹہ اور بڑی عمر کے مرد سے شادی عورت کی مرضی کے بغیر کر دی جاتی ہے پنجاب میں تو صورتحال بہتر کے مگر دوسرے صوبوں میں صورتحال خراب ہے اور بھیڑ بکریوں جی طرح ان کی زندگیوں کا فیصلہ کر دیا جاتا ہے اور ان سے پوچھنا عزت وناموس کے خلاف سمجھا جاتا ہے جبکہ اسلام عورت جی مرضی کے بغیر شادی کو منع کرتا ہے ۔

غیرت کے نام پر قتل
ایک خطرناک مسئلہ جو ہمارے ملک کی عورتوں کو درپیش ہے اور آئے دن معصوم خواتین اس جی بھینٹ چڑھتی ہیں پسند کی شادی کرنے پر باپ بھای قتل کر دیتے ہیں اور کہیں قتل بدل کو غیرت کا نام دے دیا جاتا ہے اس کو روکنا ناگزیر ہے حکومت کو چاہیے غیرت کے نام پر قتل روکے اور اس سلسلے میں موثر قانون سازی کی جائے۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sadia Huma

Read More Articles by Sadia Huma: 12 Articles with 4335 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
09 Aug, 2019 Views: 277

Comments

آپ کی رائے