فل ڈے سکولنگ(Full Day Schooling)

(Tanvir Ahmed, )

 عام طور پر سکول کے اوقات کار صبح سات یا آٹھ بجے سے دوپہر ایک یا دو بجے تک ہوتے ہیں۔ پورے دن میں سے چھ گھنٹے سکول میں گزارنے کے بعد بچہ آذاد ہوتا ہے۔سکول والے بھی ان چھ گھنٹوں میں سے دو یا تین گھنٹے پڑھاتے ہیں۔ کچھ وقت ٹیچرز کے آنے جانے پر ،کچھ وقت اسمبلی ہونے پر،پھر بریک،کلاس ٹیسٹ،حاضری ، کاپیوں کی چیکنگ ،بچوں کے پانی پینے ، واش روم جانے میں لگ جاتا ہے۔کچھ مہنگے ترین سکول ہفتہ اور اتوار کو چھٹی کرتے ہیں۔جب ہر ماہ کے بعد PTMکا وقت آتا ہے تو ٹیچرز کم وقت ہونے کا بہانہ بنا کر تما م ترذمہ داری سٹوڈنٹ اور اس کے والدین پر ڈال کر بری الذمہ ہوجاتے ہیں۔ مصروف والدین کے پاس اپنے بچوں کے لیئے کوئی وقت نہیں ہوتا۔ نتیجے کے طور پر کسی ٹیوشن سنٹر کا رخ کیا جاتا ہے یا کسی ٹیوٹر کو گھر پر بلایا جاتا ہے۔ہوم ٹیوٹرز یا گھروں میں پڑھانے والی استانیاں،گلی محلوں میں بنے ہوئے ٹیوشن سنٹرز میں عام طور ایسے لوگ ٹیوشن پڑھارہے ہوتے ہیں جو یا تو خود تعلیم حاصل کر رہے ہیں یا ابھی ابھی اپنی تعلیم سے فارغ ہوئے ہیں یا پھر رزلٹ کا انتظار کر رہے ہوتے ہیں اور فارغ وقت میں بچوں کو ٹیوشن پڑھانا شروع کر دیتے ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ ایک مشکل اور سامنے آتی ہے جو بچوں کو لانے اور لے جانے کی ہوتی ہے۔ اگر تو گھر میں کسی کے پاس ٹائم ہو تو وہ بچوں کو لانے اور لے جانے کی ذمہ داری اٹھا لیتا ہے لیکن اکثر رکشے یا وین والوں کی مدد لی جاتی ہے۔ اس سب میں بچوں کے پاس نہ تو نماز پڑھنے کا وقت ہوتا ہے اور نہ ہی وہ کسی قسم کی کوئی جسمانی ورزش کر سکتے ہیں۔ٹیسٹوں اور گریڈز کے چکرمیں اکثر طلباء اور طالبات کو میں نے وینوں اور رکشوں میں بیٹھ کر پڑھتے دیکھافل ڈے سکولنگ کے بارے میں بہت سے لوگ نہیں جانتے ۔ یہ سسٹم ذیادہ تر ملتان،مظفر گڑھ ، لیہ وغیر ہ والی طرف ذیادہ ہے۔ اس طرح کے اداروں کو عموماً مثالی سکولز کا نام دیا جاتاہے۔ کیڈٹ کالجز میں بھی انہی اداروں جیسی روٹین پر عمل درامد کیا جاتاہے۔یہ سکولز ان علاقوں میں اپنے رزلٹ کی بنیاد پر جانے جاتے ہیں اور لوگ باقاعدہ سفارش کروا کر ان اداروں میں داخلہ حاصل کرتے ہیں۔ فل ڈے سکولنگ کے بارے میں مزید بات کرنے سے پہلے ہمیں اس کی روٹین جاننا بہت ضروری ہے۔

فل ڈے سکولنگ میں بچہ ایک ہی جگہ پر تیرہ گھنٹے گزارتا ہے۔اس میں اس کی سکول کی سٹڈی بھی ہوتی ہے۔ بریک ،لنچ اور ظہر کی نماز کے بعد کچھ دیر دوپہر کے وقت آرام بھی کروایا جاتا ہے۔ اس کے بعد بچے عصر کی نماز تک پڑھائی کرتے ہیں جس میں ٹیچر ان کے اوپر موجود ہوتا ہے اور ان کو مشکل سوالات سمجھاتا ہے ۔عصر سے مغر ب تک سپورٹس ہوتی ہیں۔اس میں ایک ماہر انسٹرکڑ بچوں کو جمناسٹک،کراٹے ،بیڈ منٹن، والی بال ، فٹ بال اور اس طرح کی دوسر ی سپورٹس کرواتا ہے۔ مغرب کی نما ز پڑھنے کے بعد بچے پھر سٹڈی کرتے ہیں اور عثاء کی نماز پڑھ کر یا گرمیوں میں عشاء کی نماز سے پہلے ہی اپنے گھروں کو روانہ ہوجاتے ہیں۔

اس نظام تعلیم میں والدین کی پریشانی کافی حد تک کم ہو جاتی ہے۔اکیڈمی کے لیئے الگ سے رکشے اور وین لگوانے کی ضرورت بھی نہیں پڑتی۔بچے کی مذہبی تعلیم و تربیت بھی ہوجاتی ہے۔وہ باقاعدگی سے نماز پڑھنے کا عادی ہوجاتاہے۔ناظرہ قرآن مجید بھی پڑھایا جاتے ہے۔ٹیوشن پر ہونے والے اضافی اخراجات کی بھی بچت ہوتی ہے۔ بچہ سکول میں رہنے کی وجہ سے موبائل ، ٹیلی ویژن،کیبل اور انٹرنیٹ کی خرافات سے بھی بچ جاتے ہیں۔بچوں کی گیمز بھی اس سسٹم کا اہم حصہ ہیں۔اس میں بچوں کو تعلیم کے ساتھ ساتھ ہی روزانہ کراٹے اور جمناسٹک بھی سکھائی جاتی ہے۔ جس کے لیئے روزمرہ کی مصروف زندگی میں والدین او ر بچوں دونوں کے ٹائم نکالنا ناممکن ہوچکا ہے۔

یہ نظام تعلیم خاص طور پر کا م کرنے والی خواتین کے لیئے نعمت سے کم نہیں ہے۔ خاص طور پر وہ خواتین جو Single Motherہونے کی وجہ سے بہت سے مسائل کا شکا ر ہیں۔ان کو اپنے بچوں کو بھی ٹائم دینا ہوتا ہے اور اپنی ملازمت کو بھی ۔اور بچوں کی وجہ سے ان کی ملازمت بھی متا ثر ہوتی ہے۔ایسی مائیں ہر وقت بچوں کی وجہ سے پریشان رہتی ہیں ۔ اگر سکول میں کوئی چھٹی آگی تو بچوں کو اکیلے گھر میں چھوڑنے کی پریشانی،رکشے کا بندوبست کر نا اور پھر آجکل کے دور میں آپ رکشہ ڈرائیوروں اور وین ڈرائیورز کے اوپر بالکل بھی اعتبارنہیں کر سکتے ۔سکول کی فیسں، رکشہ اور وین کا کرایہ ، ٹیوشن فیس ،بچوں کی سپورٹس فیس اور اس طرح کے بہت سے اخراجات کو کم کرنے کے لیئے Full Day Schoolingسب سے بہترین نظام ہے۔ جن شہروں میں مثالی سکولز موجود ہیں ان میں بورڈز اور یونیورسٹیوں میں انہی سکولز اور کالجز کے بچے پوزیشن لیتے ہیں۔

اسی طرح کا فل ڈے سکولنگ کے لیئے مثالی ریذیڈنشل سکول اوکاڑہ میں بھی کھولا گیاہے ۔ جس میں بچوں کو تیرہ گھنٹے سکول میں رکھا جاتا ہے اور واپسی پر بھی بچے فریش ہوتے ہیں۔اکثر والدین یہ سوال کرتے ہیں کہ بچے اتنا ذیادہ ٹائم سکول میں کیسے گزار لیں گے تو جب بچے اس نظام کے عادی ہوجاتے ہیں تو پھر وہ گھر جا کر بور ہوتے ہیں اور ہمیں اکثر بچوں کی فون کالز آتی ہیں کہ ہم نے دوبارہ کب سکول آنا ہے۔ اس سسٹم میں ایک ہی جگہ بچے کے لیئے تما م سہولیا ت دستیاب ہوتی ہے۔ کامیاب وہی بچہ ہو تاہے جو اپنا کام باقاعدہ ایک ٹائم ٹیبل کے مطابق کرتاہے اور مثالی ریذیڈنشل سکول اوکاڑہ میں بچے کو صرف اور صرف ٹائم ٹیبل اور روٹین کے مطابق کام کرنے کا عادی بنا دیا جاتا ہے ۔غیر ضروری سرگرمیوں کے نہ ہونے کی وجہ سے بچے اپنا بہت سا وقت بچا تے ہیں اور ایک کامیاب اور قابل شہر ی بن کر معاشرے کے فعال رکن بن جاتے ہیں۔

 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 158 Print Article Print
About the Author: Tanvir Ahmed

Read More Articles by Tanvir Ahmed: 50 Articles with 18582 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: