پاکستان ایک تحفہ،ایک راز،ایک عشق۔

(Talha Wajid, Lahore)

کسی معمولی سی وجہ کے ہوتے ہوے کسی غیر معمولی شے کا وجود میں آنا سمجھ سے بالاتر ہوتا ہے.بلکل ایسے ہی آج سے 72 سال پہلے برصغیر میں ایک اسلامی ریاست کا وجود میں آنا کسی معمولی سی وجہ سے نہیں تھا.بحث ہوتی ہے کے اس میں انگریز کا ہاتھ تھا وہ چاہتا تھا کے یہاں پاکستان بنے اگر یہ مان بھی لیا جائے تو کونسی چیز ہے جو الله کی مرضی کے بغیر ہو سکتی ہے؟ کوئی نہیں! تو الله کی ذات کے لیے انگریز کی مرضی کو قابو کرنا کونسی مشکل چیز ہے تو سبب کوئی بھی ہو یہ ریاست کا وجود اتنا معمولی نہیں تھا یہ الله کی ذات کی عطا کردہ ایک نعمت ہے.

میں ایک پاکستانی ہوں لیکن میری لکھی ہوئی کوئی بات محض پاکستانی ہونے کے جذبات کی بنا پر نہیں. میں نے بہت قریب سے اس ملک کے بننے کی وجہ کو سمجھنے کی کوشش کی اس ملک کے بننے کی تاریخ کو دیکھا،بنانے والی شخصیات کو سمجھنے کی کوشش کی، دو قومی نظریے کو سمجھنے کی کوشش کی مسلمان اور ہندو دو الگ قومیں تھیں اور یہ وجہ کوئی چھوٹی وجہ نہیں تھی.

اس کے ساتھ ساتھ دنیا میں اس وقت مالی طور پر مضبوط اسلامی ریاستیں تو تھیں لیکن کوئی ایسی اسلامی ریاست نہیں تھی جو کے ضرورت پڑنے پر مضبوط عسکری قوت اور جدید آلات رکھنے والے غیر مسلم ممالک کا مقابلہ کر سکے.یہ بات تو واضح ہو چکی تھی کے پاکستان کو بنتے ہی اپنے اپ کو ایک مضبوط عسکری قوت بنانا تھا تا کے اگر بھارت مستقبل میں کوئی ناپاک حرکت کرے تو اس کا جواب دیا جا سکے.یعنی پاکستان کی ریاست کو الله نے مسلم امت کے لیے،برصغیر کے امن کے لیے،اور دنیا کے لیے بھی مسلمانوں کی ضرورت بنا دیا تھا.

اور جب ضرورت بن گئی تو اسے پورا کرنے کے لیے اس وقت کے بہترین لیڈر جو لندن میں موجود تھے ان کا انتخاب کیا یعنی قائداعظم کا اور اس سے پہلے کئی بار قائد مسلم لیگ میں شمولیت سے انکار کر چکے تھے اور پھر اچانک قائد لندن سے واپس اتے ہیں اور مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کر لیتے ہیں یہاں پر ایک واقع بہت اہمیت کا حامل ہے جو کے مجھ تک ڈاکٹر ایلن کیسلر کے ایک ویڈیو کلپ سے پہنچا اس سے پہلے میں اگے بڑھوں میں یہ بتاتا چلوں کے ڈاکٹرایلن کیسلر دراصل ایک امریکن پروفیسر تھے جنھوں نے بعد میں اسلام قبول کیا وہ قائد کے مشہور قول "دنیا کی کوئی طاقت نہیں جو پاکستان کو ختم کر سکے" کی وضاحت میں فرماتے ہیں کے قائد نے ایسا کیوں کہا جب قائد واپس مسلم لیگ میں ا گئے تو ان کے سب سے قریبی دوست مولانا شبیر احمد عثمانی صاحب انہوں نے قائد سے پوچھا کہ:
ہم خوش ہیں کے اپ ا گئے ہیں اتنے سالوں سے ہم اپ سے درخواست کر رہے ہیں کے اپ کی ضرورت ہے لیکن اپ نہیں ا رہے تھے تو ایسا کیا ہوا کیا اقبال نے کوئی شاعری لکھی؟ یا لیاقت علی خان نے اپ سے کچھ کہا؟ یا کسی اور نے کیوں ہم سب اپ کو واپس لانے کی کوشش میں لگے تھے اور اپ نہیں ا رہے تھے اور اب اپ اچانک پہنچ گے ہیں اپ کا شکریہ تو کیا ایسا ہوا؟ اس پر قائد نے فرمایا کے ایسا نہیں ہے جیسا اپ سوچ رہے ہیں میں اپ کو حقیقت بتاؤں گا لیکن اس شرط پر کے جب تک میں زندہ ہوں اپ کسی کو یہ نہیں بتائیں گے تو انھوں نے کہا ٹھیک ہے قائد کہنے لگے ایک رات میں لندن میں تھا سو رہا تھا کے میرا پلنگ زور سے ہلنے لگا میں نے اٹھ کر ادھر ادھر دیکھا کوئی نہ تھا اور پھر سو گیا اتنے میں پھر پلنگ ہلا اور اتنے زور سے تھا کے مجھے لگا زلزلہ ا رہا ہے میں اٹھ کر گھر سے باہر ا گیا باہر کوئی اور نہیں تھا کیوں کے اگر زلزلہ ہوتا تو باقی لوگ بھی باہر ہوتے میں پھر واپس ا کر سو گیا پھر تیسری بار پلنگ ہلا پھرمیں نے جاگ کر دیکھا کے ایک شخصیت سامنے کھڑی ہے میں اٹھ گیا کے کون ہے کہاں سے کیسے ا گیا لندن میں تھا تو انگریزی میں سوال کیا کے Who Are you? HE (PBUH) Replied In English “I am your Prophet (PBUH) میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے میں نے کہا What I can do for you my lord? The Prophet (PBUH) replied in English “You are urgently needed by the Muslims in Sub-Continent I order you to go back and lead the freedom struggle don’t worry I will be with you, you will succeed in your mission InshAllah”
"ڈاکٹرایلن کیسلر کا کہنا تھا اس لیے قائد نے فرمایا تھا کے پاکستان کو دنیا کی کوئی طاقت ختم نہیں کر سکتی کیوں کے نبیﷺ خود ہمیں مدد کر رہے ہیں ھمارے ساتھ ہیں" یہ واقعیات یہ وجوہات صرف یہاں تک محدود نہیں اگر سب لکھنے لگ جاؤں تو الفاظ ختم ہو جائیں گے. واضح کرتا چلوں پھر دیکھنے کو بھی کچھ ایسا ہی ملا پاکستان مسلم دنیا کی پہلی ایٹمی قوت بنا اور جب جب ضرورت پڑی پاکستان کی فوج نے یورپ تک کے مسلم ممالک کا دفع کیا اور ماضی قریب میں پاکستان کی خفیہ ایجنسی کو دنیا کی سب سے بہترین ایجنسی قرار دیا گیا اور فہرست میں اول نمبر پر رکھا گیا.

تو بات کو اختتام تک پہنچاتے ہوے میں یہ کہوں گا اس پاکستان کی بننے میں نبیﷺ کا فیضان شامل تھا اور یہ ملک ھمارے پاس ایک تحفہ ہے ایک امانت ہے یہ ملک ایک عشق ہے،ایک راز ہے کیوں کے اس میں ھمارے نبیﷺ کی نظر کرم شامل ہے اور رہے گی. ہم پر مشکل حالات ہیں لیکن وہ ہماری کوتاہی ہے. واصف علی واصف صاحب کا قول ہے کے "آزادی کی صرف ایک ہی قیمت ہے مسلسل اور مستقل بیداری" اور ہم نے وہ قیمت ادا کرنا چھوڑ دی ہے. الله پاک پاکستان کی اور تمام مسلم ممالک کی حفاظت فرماے خصوصاً کشمیر کے مسلمانوں کی حفاظت فرماے اور اپ سب کو جشن آزادی مبارک (پاکستان اور پاکستان آرمی زندہ آباد).

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 189 Print Article Print
About the Author: Talha Wajid

Read More Articles by Talha Wajid: 24 Articles with 18559 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: