جھوٹے کہیں کے !!!

(Dr Zahoor Ahmed Danish, Karachi)

ہم کسی چیز کی مذمت یا اس کی تعریف کرتے ہیں۔تو ہمیں اس کے براہونے اور اس کے اچھا ہونے کے متعلق معلوم بھی تو ہوناچاہیے !!
ہم سنتے اور پڑھتے ہیں ۔جھوٹی گواہی ،جھوٹی شہادت وغیرہ جیسے الفاظ ۔
آئیے ہم جھوٹی گواہی کی حقیقت کو جانتے ہیں ۔جھوٹی گواہی ہوتی کیاہے اور اس پر عالمگیر دین دین اسلام نے ہماری کیا رہنمائی فرمائی ہے ۔
ؒذراتوجہ کیجئے !!!نہایت ہی اہم بات !!!جو سمجھنا بہت ضروری ہے !!اور عمل کرنا بھی بہت ضروری ہے !!!
جھوٹی گواہی یہ ہے کہ کوئی اس بات کی گواہی دے جس کا اس کے پاس ثبوت نہ ہو۔‘
اس قابل مذمت فعل کے متعلق حضرت سیِّدُنا شیخ عز الدین عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْمُبِیْن فرماتے ہیں : ’’اگر ناحق گواہی میں گواہ جھوٹا ہو تو وہ 3 گناہوں کا مرتکب ہو گا: (۱)… نافرمانی کا گناہ (۲)… ظالم کی مدد کرنے کا گناہ اور (۳)… مظلوم کو رسوا کرنے کا گناہ اور اگر گواہ سچا ہو تو صرف نافرمانی کے گناہ میں مبتلا ہو گااورظالم کے ذمہ کو بری کرنے اور مظلوم کواس کا حق پہنچانے کی وجہ سے دیگر گناہوں کا مرتکب نہ ہوگا۔‘‘(جہنم میں لے جانے والے اعمال)
آئیے !!ہم آپ کو جھوٹی شہادت کے متعلق ایک سبق آموز واقعہ سناتے ہیں ۔تو پھرپڑھیے نہایت توجہ سے !!!
واقعہ کچھ اس طرح ہے کہ !!!
حضرتِ سیِّدُنا محمد بن فَرْجی علیہ رحمۃُ اللہ ِ الولی فرماتے ہیں : میں حضرتِ سیِّدُنا ذُوالنُّوْن مِصْرِی علیہ رحمۃُ اللہِ القوی کے ساتھ ایک کشتی میں سوار تھا کہ ایک اور کشتی ہمارے پاس سے گزری ۔ کسی نے حضرتِ سیِّدُنا ذُوالنُّوْن مِصْرِی علیہ رحمۃُ اللہِ القوی کو بتایا:یہ کشتی والے بادشاہ کے پاس جارہے ہیں اور وہاں جاکر آپ رحمۃُ اللہ تعالٰی علیہ کے خلاف کفْر(یعنی مَعَاذَ اللہ عَزَّوَجَلَّ!آپ رحمۃُ اللہ تعالٰی علیہ کے کافر ہونے) کی گواہی دیں گے ۔ یہ سن کر آپ رحمۃُ اللہ تعالٰی علیہ نے اس کشتی کے غرق ہوجانے کی دعا کی ۔ آپ رحمۃُ اللہ تعالٰی علیہ کے دعا کرتے ہی ان کی کشتی اُلٹ گئی اور سب کے سب ڈوب گئے ۔ حضرتِ سیِّدُنا محمد بن فَرْجی علیہ رحمۃُ اللہِ الولی فرماتے ہیں : میں نے عرض کی : حضور! ملاح (کشتی چلانے والے )کا کیا قصور تھا ؟ فرمایا: اس نے ان لوگوں کو کیوں سوار کیا حالانکہ وہ ان کے مقصدِ سفر کو جانتا تھا۔پھر فرمایا:ان لوگوں کا اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں غرْق ہو کر حاضر ہونا جھوٹا گواہ بن کر حاضر ہونے سے بہترہے ۔اس کے بعد آپ رحمۃُ اللہ تعالٰی علیہ کی کیفیت تبدیل ہوئی اور آپ کانپتے ہوئے فرمانے لگے : اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عزت و شان کی قسم ! میں آئندہ کسی کے لئے بد دعا نہیں کروں گا۔

دیکھا آپ نے جھوٹی گواہی کا انجام ؟
جی ایسا ہی ہے ۔
حدیث مبارکہ بھی پڑھ لیجئے!!سمجھ لیجئے !کہ جھوٹی گواہی کے معاملے میں اب کیا کرناہے !!
شہنشاہِ نَبوت صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے: ’’قیامت کی ہولناکی کے سبب پرندے چونچیں ماریں گے اور دُموں کو حرکت دیں گے اور جھوٹی گواہی دینے والا کوئی بات نہ کرے گا اوراس کے قدم ابھی زمین سے جدا بھی نہ ہوں گے کہ اسے جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔‘‘
(سنن ابن ماجہ، ابواب الشہادات، باب شھادۃ الزور، الحدیث:۲۳۷۳،ص۲۶۱۹۔)
مکی مدنی مصطفی صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے:’’جس نے کسی مسلمان کے خلاف ایسی گواہی دی جس کا وہ اہل نہیں تھا تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے۔‘‘
(المسند للامام احمد بن حنبل، مسند ابی ہریرۃ، الحدیث:ٰ۱۰۶۲۲،ج۳،ص۵۸۵)
میں اللہ تعالی کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ جو کچھ بھی کہوں گا سچ کہوں گا، اگر میں جھوٹ بولوں یا کوئی بات چھپاؤں، تو اللہ تعالیٰ مجھ سے ناراض ہوں۔یہ وہ حلف ہے جو عینی شاہدین و گواہ پیش ہونے والے افراد پڑھنے کے بعد اپنی شہادت قلمبند کرواتے ہیں۔ اسی حلفیہ عینی شہادت کی بنیاد پر لوگوں کی زندگی یا موت، جیت یا ہار، جزا یا سزا، قید یا بریت الغرض انصاف یا ظلم کا فیصلہ ہوتا ہے۔
لیکن ہمارے روایتی نظام میں جھوٹی گواہی بہت تیزی سے عام ہوگئی ۔اس قابل مذمت کام پر ندامت تو دور کی بات اس پر اصرار عام ہوتاچلاجارہاہے ۔
یادرہے !!دنیا کے چند سکوں کی خاطر ،دنیا کے چند مفادات کی خاطر جھوٹی گواہی دینا کس طور پر نفع بخش ہوسکتی ہے ۔کیسے مصداق ٹھہر سکتے ہیں جھوٹی گواہی دینے والے اللہ عزوجل کی بنائی ہوئی اس جنت کے ۔جس کے بارے میں!!جنتی لوگوں کو ایسے باغات عطا کئے جائیں گے جن کے نیچے ندیاں بہہ رہی ہوں گی ، جیسا کہ سورۃ الکہف میں ہے :
اِنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اِنَّا لَا نُضِیۡعُ اَجْرَ مَنْ اَحْسَنَ عَمَلًا ﴿ۚ۳۰﴾اُولٰٓئِکَ لَہُمْ جَنّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِیۡ مِنۡ تَحْتِہِمُ الْاَنْہٰرُ()
ترجمہ کنزالایمان : بے شک جو ایمان لائے اور نیک کام کیے ہم ان کے نیگ (اجر)ضائع نہیں کرتے جن کے کام اچھے ہوں ان کے لئے بسنے کے باغ ہیں ان کے نیچے ندیاں بہیں۔ (پ ۱۵ ، الکہف : ۰ ۳ ، ۳۱ )
ہیں نا ہم بھی طلبگار !!ہماری بھی خواہش ہے نا کہ ہمیں بھی کل بروز قیامت انعام کے طور پر جنت کا حقدار ٹھہرایاجائے !!
تو یادرکھیے !جنّت میں جانے کے لیے جنتیوں والے کام کرنے ہوں گے ۔مت دیں جھوٹی گواہی ۔۔دنیاوی عارضی و فانی نفع کی خاطر مت برباد کریں اپنی آخرت ۔۔۔خدارا ایسا نہ کریں !!ایسا نہ کریں ۔!!!!ہر گز ایسا نہ کریں !!!
کہیں ایسا نہ ہو!!!!کہ ہماری ان حرکتوں کی وجہ سے لوگ ہمیں کہیں!!او !!جھوٹے کہیں کے !!!!ابے اور جھوٹے !!!!
؏نوٹ:ہماراعزم آپ کی خدمت اور علم کی صحت مند اور درست معلومات آپ تک پہنچاناہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ہمارا پینل ٹیچر ٹریننگز ،موٹیویشنل ٹریننگز کے لیے ہمہ وقت تیارہے ۔۔۔پینل کی خدمت کے لیے بروز اتور۔۔۔شام ۵بجے سے رات ۱۱ بجے تک اس نمبر:03462914283پر رابطہ کرسکتے ہیں ۔۔۔۔۔

 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 193 Print Article Print
About the Author: DR ZAHOOR AHMED DANISH

Read More Articles by DR ZAHOOR AHMED DANISH: 235 Articles with 222600 views »
i am scholar.serve the humainbeing... View More

Reviews & Comments

Language:    

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ