انسانی زندگی کی حقیقت کیا ہے؟

(Muhammad Rafique Etesame, Ahmedpureast)

زندگی کے بارے میں لوگ مختلف رائے رکھتے ہیں جس قسم کے حالات میں کوئی شخص مبتلا ہے وہ اپنی زندگی کے بارہ میں وہی رائے رکھتا ہے۔ مثلاً اگر کوئی شخص غریب ہے اور دو وقت کی روٹی سے بھی تنگ ہے اور فاقہ کشی کی نوبت ہے تو وہ زندگی کو اپنے لئے ایک بہت بڑا بوجھ اور عذاب سمجھتا ہے، اسکے برعکس اگر کسی کے حالات اچھے ہیں، دولت کی ریل پیل ہے اور عیش و عشرت کا عالم ہے تو وہ زندگی کو اپنے لئے ایک حسین خواب اور پھو لوں کی سیج سمجھتا ہے۔

اور اگر کوئی متوسط طبقے کا شخص جو کہ صحت مند ہے اور گھر کے اخراجات احسن طریقے سے چلا رہا ہے تو زندگی اسکے لئے ایک نعمت کی حیثیت رکھتی ہے، اسکے برعکس اگر کوئی شخص کسی مہلک بیماری میں مبتلا ہے اور اس سے چھٹکارے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی تو اگرچہ اسکے پاس دنیاوی مال و اسباب وافر مقدار میں ہی کیوں نہ ہوں اسکے لئے زندگی گذارنا ایک تکلیف دہ امر ہے۔
بقول غالب......
زندگی ہے کو کوئی طوفان ہے
ہم تو اس جینے کے ہاتھوں مرچلے

بہر حال انسانی زندگی کے بارہ میں یہ چند مثالیں بیان کی گئی ہیں کہ لوگ اپنی ز ندگی کے بارہ میں کس قسم کی رائے رکھتے ہیں؟

سوال یہ ہے زندگی کی اصل حقیقت کیا ہے اور انسان کو کس مقصد کے تحت عدم سے وجود میں لایا گیا؟
اسلامی تعلیمات کے مطابق انسان کا مقصد پیدائش اللہ تبارک و تعالیٰ کی عبادت ہے یعنی انسان کو اس لئے پیدا کیا گیا کہ وہ اپنے خالق و مالک حقیقی کو پہچانے اور اسکی عبادت کرے۔

چونکہ دنیا میں مختلف مذاہب پائے جاتے ہیں اور انکے مطابق عبادت کے طور طریقے بھی مختلف ہیں مگر اسلامی نقطہ نظر کے مطابق عبادت کا جو طریقہ ہے وہ ا ن سب طریقوں سے مختلف ہے اور اس کے مطابق انسان کے چوبیس گھنٹے اللہ تبارک و تعالیٰ کی عبادت میں صرف ہو سکتے ہیں۔

وہ اس طرح کہ اگر ایک مسلمان اپنی زندگی کو آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلّم کے اسوہ حسنہ کے مطابق بسر کرے تو اسکی زندگی کا ہر ہر لمحہ عبادت میں شمار ہو سکتا ہے، دوسرے الفاظ میں یوں کہا جاسکتا ہے کہ جس طرح نبی پاک صلی اللہ علیہ و سلّم نے زندگی بسر کی بعینہ اسی زندگی بسر کر نے کو عبادت کہا جاتا ہے اس میں نماز روزہ حج زکوٰۃ،کاروبار، باہمی معاملات اور لین دین وغیرہ سب چیز آجاتی ہے۔
زندگی کے دونوں پہلو ہیں غمی بھی خوشی بھی، یاس بھی امید بھی،کامیابی ناکامی،خوش حالی اور بد حالی وغیرہم۔

او رازروئے قرآن اللہ تبارک و تعالیٰ انسان کی آزمائش کرتے ہیں اچھے یا برے حالات میں مبتلا کرکے، اور اس میں سب لوگ آجاتے ہیں اعلیٰ درجے کے انسان بھی اور معمولی حیثیت کے لوگ بھی۔

اور قابل ذکر بات یہ ہے کہ جب پیغمبروں علیہم الصلو ۃ والسّلام پر بھی آزمائشیں آتی ہیں جوکہ خیر الخلائق اور افضل البشر ہیں تو پھر عام انسان کس کھاتے میں ہے؟

لہٰذا اسے سوچنا چاہئیے کہ جب اللہ تعالیٰ کی بر گزیدہ ہستیاں بھی آزمائش میں مبتلا کی جاتی ہیں تو پھر میری کیا حیثیّت ہے؟

اوریہی زندگی کا حقیقی معنی ہے اور یہی زندگی کی معراج ہے اوریہی سوچ اور اسی طریقہ سے زندگی بسر کرنے سے ہی انسان کامیابی اور کامرانی سے ہمکنار ہو سکتا ہے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Rafique Etesame

Read More Articles by Muhammad Rafique Etesame: 159 Articles with 133084 views »

بندہ دینی اور اصلاحی موضوعات پر لکھتا ہے مقصد یہ ہے کہ امر بالمعروف اورنہی عن المنکر کے فریضہ کی ادایئگی کیلئے ایسے اسلامی مضامین کو عام کیا جائے جو
.. View More
15 Aug, 2019 Views: 495

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ