گریجویشن کی شرط

(Prof Shoukat Ullah, Banu)

یاد رہے کہ پرویز مشرف نے بارہ اکتوبر 1999 ء کو اقتدار پر قبضہ کیا۔ انہوں نے 2002 ء کے عام انتخابات سے قبل صوبائی اور قومی اسمبلی کے اُمیدواروں کے لئے گریجویشن یا مساوی قابلیت کی شرط رکھی۔ جس کے لئے آر پی اے 1976 ء اور جنرل انتخابات 2002 ء کے قوانین میں ترمیم کیں ۔ اُس وقت اس پر کافی عرصہ یہ بحث ہوتی رہی کہ یہ شرط ہونی چاہیے یا نہیں۔ بعض کے نزدیک یہ ایک اچھا اقدام تھا کیوں کہ گریجویٹ اسمبلی معرض وجود میں آئے گی جو قانون سازی بہتر انداز میں کر سکے گی اور بعض کا کہنا تھا کہ قیام پاکستان کے بعد سے جو طریقہ چلا آرہاہے ، وہی ٹھیک ہے۔جنرل انتخابات 2008 ء کے انعقاد میں بھی گریجویشن کی شرط قائم رہی۔تاہم جس کو 2009 ء میں پارلیمنٹ نے ختم کردیا۔ اس قانون کو ختم کرنے سے قبل پرویز مشرف اٹھارہ اگست 2008 ء کو اپنے صدارتی عہدے سے استعفیٰ دے چکے تھے۔ ہاں ، اتنا ضرور ہوا کہ جو سیاست دان گریجویٹ نہیں تھے انہوں نے داخلے لیے اور کچھ نے اپنے سیاسی اثر و رسوخ سے ڈگریاں لیں یا بنوائیں۔ اس سے یہ ہوا کہ ایک نیا پینڈورہ باکس کھول گیا۔ ناکام اُمیدواروں نے کامیاب قرار دیئے جانے والے اُمیدواروں کی ڈگریوں کو عدالتوں میں چیلنج کرنا شروع کردیا۔ تاریخوں پر تاریخیں لگتی اور بدلتی رہیں، نتیجتاً کئی اُمیدوار نااہل ہوئے۔ پس پرویز مشرف کے اس اقدام سے اسمبلیوں کے ماحول اور قانون سازی کے عمل پر اچھے اور بُرے جو اثرات مرتب ہوئے ، اُن کو ایک طرف رکھ کر ہمیں یہ بات ضرور تسلیم کرنا ہوگی کہ اس ترمیم سے عدالتوں کا قیمتی وقت ضائع ہوا۔ آج مجھے گریجویشن کی شرط کسی اور حوالے سے یاد آئی ۔ چند روز قبل اخبارات میں پڑھا کہ خیبر پختون خوا میں ضم شدہ قبائلی علاقوں میں اساتذہ کی بھرتی کے لئے گریجویشن کی شرط کو ختم کرکے میٹرک کردی گئی ہے۔ یاد رہے حکومت نے سابقہ فاٹا میں اساتذہ کی کمی پورا کرنے کے لئے پانچ ہزار نئے اساتذہ بھرتی کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ گریجویشن کی شرط ختم کرنے کے لئے یہ مؤقف اپنایا گیا ہے کہ ان اضلاع میں تعلیم کی شرح کم ہے لہٰذا انہوں نے اساتذہ کی بھرتی کے لئے گریجویشن کی شرط ختم کرکے میٹرک کردی ہے۔ گزشتہ کالم ’’ انصاف چاہیے !!‘‘ میں ‘ میں نے جس خاتون اُمیدوار کا مسئلہ بیان کیا تھا، اُس کا تعلق شمالی وزیرستان سے تھا اور وہ تین ماسٹر ڈگریوں اور انفارمیشن ٹیکنالوجی میں ڈپلومہ کی حامل تھی۔ جب میں نے اس کے مسئلے کے حوالے سے حقائق معلوم کیے تو فائنل میرٹ لسٹ میں تین ایسی خواتین کا انتخاب ہوا تھا جو ایم فل یا ایم ایس قابلیت کی حامل تھیں۔ اس سے بآسانی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ خیبر پختون خوا میں ضم شدہ قبائلی علاقوں میں مطلوبہ تعلیمی قابلیت کے مرد و خواتین افراد موجود ہیں لہٰذا اساتذہ کی بھرتی کے لئے میٹرک کی شرط رکھنا تعلیمی شعبے کے ساتھ سراسر مذاق ہوگا۔ جس وقت میں یہ کالم لکھ رہا ہوں ، میری نظروں سے مشیر تعلیم خیبر پختون خوا ضیاء اﷲ بنگش کا وضاحتی بیان گزر رہا ہے کہ قبائلی علاقوں میں پرائمری اساتذہ کی بھرتی کے لئے شرط گریجویشن ہی ہے۔ اگر کسی جگہ بی اے پاس اُمیدوار نہ ملے تو ایف اے پاس کو ترجیح دی جائے گی اور انہیں جونیئر پی ایس ٹی کے طور پر بھرتی کیا جائے گا۔ اور اگر کسی جگہ ایف اے پاس اُمیدوار نہ ملے تو میٹرک پاس کو لیا جائے گا، یہ بھی جونیئر پی ایس ٹی ہوں گے البتہ ان کا گریڈ سات ہوگا۔ مشیر تعلیم نے مزید کہا کہ حکومت قبائلی علاقوں میں روزگار کے ساتھ ساتھ اساتذہ کی کمی کو بھی پورا کر رہی ہے۔ اس ساری صورت حال میں بات آتے آتے وہیں میٹرک پر اٹک جاتی ہے۔ میری ذاتی رائے یہ ہے کہ تعلیم کے معاملے میں کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے ۔ علامہ محمد اقبال ؒ نے تعلیم کو ملت و قوم کے امراض کی دوا قرار دیتے ہوئے فرمایا ہے۔
اس دور میں تعلیم ہے امراض ملت کی دوا
ہے خون فاسد کے لئے تعلیم مثل ِ نیشتر

اَب یہ قبائلی علاقے سابقہ فاٹا کہلاتے ہیں اور ان کو خیبرپختون خوا کے ضلعوں میں ضم کر دیا گیا ہے۔ بہترین حل، اگر مطلوبہ تعلیمی قابلیت کے حامل افراد انہی علاقوں سے مل جاتے ہیں تو ان کو بھرتیوں میں ترجیح دی جائے اور اگر مطلوبہ تعلیم کے حامل افراد نہ ملیں تو اُن کو جن اضلاع میں ضم کیا گیا ہے وہاں سے بھرتی کیے جائیں۔ اساتذہ کی بھرتی میں تعلیمی قابلیت کو کم کرنا ، دراصل ان پسماندہ علاقوں کو مزید پسماندگی میں دھکیلنے کے مترادف ہوگا۔ ایک رپورٹ کے مطابق فاٹا میں اساتذہ کی تعداد 20709 اور 18621 سال 2009-10 اور 2017-18 میں بالترتیب تھی، جب کہ کل باقاعدہ اسامیاں کی تعداد 22030 ہے۔اساتذہ اور طلباء کا تناسب 1:59 ہے جو کہ متعین تناسب سے کہیں زیادہ بنتا ہے۔ قبائلی علاقہ جات میں 79 فیصد بچیاں پرائمری سکول چھوڑ جاتی ہیں، کچی پکی سے جماعت پنجم تک پانچ میں سے ایک بچی آگے تعلیم جاری رکھتی ہے۔ یہ صورت حال مڈل اور سیکنڈری سطح پر بھی غیر تسلی بخش اور مایوس کُن ہے۔ رپورٹ میں ڈراپ آؤٹ کی شرح پچاس فیصد بتائی گئی ہے جب کہ شمالی وزیرستان میں یہ شرح تریسٹھ فیصد ہے جن میں 73 فیصد لڑکیاں شامل ہیں جو کہ باقی ضم شدہ قبائلی اضلاع میں سب سے زیادہ ہے۔خواندگی کے متعلق رپورٹ میں لکھا ہے کہ ان علاقوں میں خواندگی کی شرح 33.3 فیصد ہے جن میں 49.7 فیصد مرد اور 12.7 فیصد عورتیں شامل ہیں۔ اس ساری مایوس کُن صورت حال کی بنیادی وجہ غیر تربیت یافتہ اساتذہ بتائی گئی ہے۔ خیبر پختون خوا حکومت نے اساتذہ کی بھرتیوں کے لئے جنرل ایجوکیشن کی پالیسی اپنائی ہے اور جب کہ چناؤ کے بعد تربیت فراہم کی جاتی ہے۔ گزشتہ خیبر پختون خوا میں بھرتیاں اسی عمل کے تحت کی گئی ہیں ، واقفان حال کہتے ہیں کہ تربیتی مواد اچھا تھا لیکن باقی نظام میں خامیاں ہی خامیاں تھیں جس کی وجہ سے تربیتی پروگرام مؤثر نہیں تھا۔ پس حکومت کو چاہیے کہ وہ جنرل ایجوکیشن اور ٹیچر ایجوکیشن کے امتزاج سے بھرتیوں کے لئے پالیسی بنائیں جس سے نہ صرف معاشرے کو اچھے استاد ملیں گے بلکہ ٹیچر ایجوکیشن کے پروگراموں کو بھی تقویت ملے گی۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof Shoukat Ullah

Read More Articles by Prof Shoukat Ullah: 202 Articles with 125411 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
17 Aug, 2019 Views: 268

Comments

آپ کی رائے