مسلمان مرد كا بغیر کسی شرعی علت کے نا محرم عورت کو چھونا

(Manhaj As Salaf, Peshawar)

کیا ایک مسلمان مرد بغیر کسی شرعی علت کے نا محرم عورت کو چھو سکتا ہے؟ یا اس سے ہاتھ ملا سکتا ہے؟ شریعت اسلام اس بارے میں کیا کہتی ہے ؟

سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

" لأن يُطعن في رأس أحدكم بمخيط من حديد خير له من أن يمسّ امرأة لا تحلّ له . "

ترجمہ: تم میں سے کسی کا سر لوہے کے کیل سے پھاڑ دیا جائے، یہ اس کے لیے کسی غیر محرم کو چھونے سے بہت بہتر ہے

(رواه الطبراني: 486 وصححه الألباني في صحيح الجامع: 5045)

مُحَمَّدَ بْنَ الْمُنْكَدِرِ، قَالَ سَمِعْتُ أُمَيْمَةَ بِنْتَ رُقَيْقَةَ، تَقُولُ جِئْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فِي نِسْوَةٍ نُبَايِعُهُ فَقَالَ لَنَا ‏ "‏ فِيمَا اسْتَطَعْتُنَّ وَأَطَقْتُنَّ إِنِّي لاَ أُصَافِحُ النِّسَاءَ ‏"‏ ‏.‏

امیمہ بنت رقیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں کچھ عورتوں کے ہمراہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیعت کرنے آئی، تو آپ نے ہم سے فرمایا: ”(امام کی بات سنو اور مانو) جہاں تک تمہارے اندر طاقت و قوت ہو، میں عورتوں سے ہاتھ نہیں ملاتا“

تخریج الحدیث: «سنن الترمذی/السیر 37 (1097)، سنن النسائی/البیعة 18 (4186)، (تحفة الأشراف: 15781)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/البیعة 1 (2) مسند احمد (5/323، 6/357) (صحیح)» ‏‏‏‏

اس سے معلوم ہوا کہ بغیر شریعی علت کے ایسا عمل جائز نہیں ہے.
اللہ ہمیں راہ حق کی طرف ھدایت دے اور عام لوگوں اور خواص کو بغیر کسی شرعی علت کے نامحرم عورت سے ہاتھ ملانے اور اس قسم کی دیگر اعمال سے اپنی پناہ میں رکھے، اللھم آمین

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Manhaj As Salaf

Read More Articles by Manhaj As Salaf: 287 Articles with 222587 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
22 Aug, 2019 Views: 969

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ