بنت حوا کے مسائل اور ان کا شرعی حل (قسط- 15)

(Maqbool Ahmed, Saudi Arab)

جوابات ازشیخ مقبول احمد سلفی
اسلامک دعوۃ سنٹر طائف

سوال (1): معاشرے میں مشہور ہے کہ خوشبو کا تحفہ سب سے بہترین ہوتا ہے اور خوشبو کا تحفہ لوٹانا نہیں چاہئے کیا حدیث میں ایسی کوئی بات ہے؟
جواب : نبی ﷺ کو خوشبو بیحد عزیز تھی ، اس وجہ سے خوشبو کا کثرت استعمال آپ ﷺ کی حیات طیبہ میں ملتا ہے ۔ آپ نے تحفہ کے طور پر پیش کی گئی خوشبو کو لوٹانے سے منع فرمایا ہے۔ یہ ممانعت اس وجہ سے ہے کہ خوشبو کم قیمت والی چیز ہے، کوئی اسے حقیر سمجھ کر لوٹا نہ دے حالانکہ اس کی مہک عمدہ ہے ۔ عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :ثلاثٌ لا تُرَدُّ : الوسائدُ ، والدُّهنُ واللَّبنُ(صحيح الترمذي:2790)
ترجمہ: ین چیزیں (ہدیہ وتحفہ میں آئیں) تو وہ واپس نہیں کی جاتی ہیں: تکئے ، دُہن(خوشبو) ، اوردودھ ۔
سیدنا ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:مَن عُرِضَ علَيهِ طيبٌ فلا يرُدَّهُ، فإنَّهُ طيِّبُ الرِّيحِ، خفيفُ المَحملِ(صحيح أبي داود:4172)
ترجمہ:جسے خوشبو پیش کی جائے تو وہ اسے واپس نہ کرے ،بلاشبہ اس کی مہک عمدہ ہوتی ہے اور اس میں کوئی بوجھ بھی نہیں ہوتا ۔
خوشبو آپ ﷺ کو عزیز ہونے کے سبب یہ کہہ سکتے ہیں کہ تحفہ میں دی جانے والی عمدہ چیز ہے اور جس کسی کو بھی یہ تحفہ دیا جائے اسے ناپسند یا واپس نہیں کرنا چاہئے کیونکہ اس کی خصوصیت کے ساتھ ممانعت آگئی ہے ۔
سوال (2): میری والدہ بیماری کی وجہ سے روزے نہیں رکھ سکتیں آگے بھی صحتیاب ہونے کی کوئی امید نہیں ہے اور والدہ روزوں کا فدیہ دے دیتی ہیں۔ بعض علماء کا کہنا ہے کہ صحتیاب ہونے کی کوئی امید نہیں ہے تو فدیہ بھی نہ دیں اس بارے میں کیا حکم ہے؟
جواب : وہ بیمار جن کی شفا یابی کی امید نہ ہو اور ایسے ہی بوڑے مردوعورت جو روزہ رکھنے کی طاقت نہ رکھتے ہو ان دونوں کو روزہ چھوڑنا جائز ہے اور ہرروزے کے بدلے روزانہ ایک مسکین کو نصف صاع(تقریبا ڈیڑھ کلو) گیہوں، چاول یا کھائی جانے والی دوسری اشیاء دیدے ۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے :وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ(البقرة:184)یعنی جو بیمار نہایت مشقت سے روزہ رکھ سکیں وہ فدیہ میں ایک مسکین کو کھانادیں۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ دائمی مریض اور عمر رسیدہ مرد وعورت کو روزہ چھوڑنے کے بدلے فدیہ دینا ہوگا ، یہی درست بات ہے اور جو لوگ فدیہ کا انکار کرتے ہیں ان کی بات درست نہیں ہے ۔
سوال (3): تراویح میں آیت سجدہ آگئی اور امام جب سجدہ میں گئے تو ہم رکوع سمجھ کر رکوع میں چلے گئے ، پھر جب سجدہ کا پتا چلا تو ہم سجدہ میں چلے گئے، کیا اس کے لیے سجدہ سہو کرنا ہے؟
جواب : ایسی صورت میں نماز کے آخر میں سجدہ سہو کرلے ، نبی ﷺ کا فرمان ہے :لِكُلِّ سَهْوٍ سَجدتانِ بعدَ ما يسلِّمُ(صحيح أبي داود:1038)
ترجمہ: ہر سہو کے لیے سلام کے بعد دو سجدے ہیں ۔
سوال (4): ابوداود کی حدیث میں اپنے محبوب ( بیٹے ، بیٹی یا بیوی وغیرہ ) کو سونے کا حلقہ پہنانے کو جہنم کی آگ کے حلقہ سے تعبیر کیا گیا ہے کیا اس حدیث کی روشنی میں عورتوں کے لئے سونے کا حلقہ ممنوع ہے ؟
جواب : ہاں یہ بات ابوداود میں موجود ہے ، حدیث دیکھیں ،سیدنا ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
من أحبَّ أن يحلِقَ حبيبَه حلقةً من نارٍ فليُحلِقْه حلقةً من ذهبٍ ، ومن أحبَّ أن يُطوِّقَ حبيبَه طوقًا من نارٍ فليُطوِّقْه طوقًا من ذهبٍ ، ومن أحبَّ أن يُسوِّرَ حبيبَه سِوارًا من نارٍ فليُسوِّرْه سِوارًا من ذهبٍ ، ولكن عليكم بالفضَّةِ فالعبوا بها(صحيح أبي داود:4236)
ترجمہ:جو شخص اپنے محبوب ( بیٹے ، بیٹی یا بیوی وغیرہ ) کو آگ کا حلقہ پہنانا پسند کرتا ہو تو وہ اسے سونے کا حلقہ پہنا دے اور جسے پسند ہو کہ وہ اپنے محبوب کے گلے میں آگ کا طوق ڈالے تو وہ اسے سونے کی ہنسلی پہنا دے اور جسے پسند ہو کہ وہ اپنے محبوب کو آگ کا کنگن پہنائے تو وہ اسے سونے کا کنگن پہنا دے ۔ لیکن تم لوگ چاندی ، اختیار کرو اور اس سے دل بہلاؤ ۔
یہ حدیث صحیح ہے اور اس حدیث کی روشنی میں معلوم ہوتا ہے کہ مرد کے ساتھ عورت کے لئے بھی سونے کا حلقہ، سونے کی ہنسلی اور سونے کا کنگن منع ہے مگر یہ حکم منسوخ ہے ، ابوموسیٰ اشعری ؓ کی روایت کی روشنی میں جس میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایاہے:
حُرِّمَ لباسُ الحريرِ والذَّهبِ على ذُكورِ أمَّتي وأُحلَّ لإناثِهم(صحيح الترمذي:1720)
ترجمہ: ریشم کا لباس اورسونا میری امت کے مردوں پر حرام ہے اور ان کی عورتو ں کے لیے حلال کیا گیا ہے۔
خلاصہ یہ ہوا کہ سونا مردوں پر حرام ہے مگر عورتوں پر حرام نہیں ہے ۔
سوال (5): زمین خریدتے وقت ہماری بیچنے کی نیت نہیں ہے، ہم نے اپنے پیسے محفوظ کرنے کے کے لیے زمین خریدی کہ بعد میں خود استعمال کریں گے یا بچوں کو دے دیں گے یا کوئی ضرورت پیش آئی تو اس کو بیچ کر ضرورت پوری کر لیں گے تو کیا اس زمین پر زکوة ہے؟
جواب : جب زمین خریدتے وقت بیچنے کی نیت کی جائے تو یہ سامان تجارت کے حکم میں ہے اس پر زکوۃ دینی ہوگی ، یہی حکم اس صورت میں بھی ہے جب پیسے محفوظ کرنے کے لئے زمین خریدی جائے کیونکہ اب زمین کی حیثیت پیسے کی ہوگئی ہے اور پھر آپ نے کسی نہ کسی شکل میں بیچنے کی بھی نیت کی ہے۔ لہذا آپ مستقبل میں خود استعمال کریں یا بچوں کو دیں یا کسی ضرورت کے تحت بیچ دیں اس پہ زکوۃ دینی ہوگی۔
سوال (6): کیامسجد عائشہ سے عمرہ کا احرام کا باندھ سکتے ہیں ؟
جواب : پہلے یہ جان لی جائے کہ مسجد عائشہ کیا ہے ؟ مسجد عائشہ کوئی میقات نہیں ہے بلکہ حدود حرم کا باہری حصہ ہے ، یہاں سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عمرے کا احرام باندھی تھیں۔جو لوگ میقات سے باہر رہتے ہیں وہ جب عمرہ کریں گے تو لازما کسی نہ کسی میقات سے احرام باندھیں گے البتہ وہ لوگ جو مکہ میں یعنی حدود حرم میں رہتے ہیں انہیں عمرے کا احرام باندھنے کے لئے میقات پر جانے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ وہ حدود حرم سے باہر جاکر کسی بھی جگہ سے احرام باندھ سکتے ہیں اور چونکہ مسجد عائشہ حدود حرم سے باہر ہے لہذا مکہ کا رہائشی عمرہ کے لئے مسجدعائشہ جاکر احرام باندھ سکتے ہیں ۔ جہاں تک مسئلہ ہے ہندوپاک یا دیگر ممالک سے آنے والوں کا کہ وہ مسجد عائشہ سے احرام باندھ سکتے ہیں کہ نہیں ؟ تو معلوم ہونا چاہئے کہ ان کا پہلا عمرہ لازما میقات سے احرام باندھ کر ہوگا جبکہ ایک سفر میں دوسرے عمرہ کی دلیل نہیں ،حتی کہ دوران حج بھی ایک ہی عمرہ ہے۔ عمرہ کرنے والوں اور حج کرنے والوں کو ایک سفر میں ایک ہی عمرہ پر اکتفا کرنا چاہئے ۔
سوال (7): استخارہ کی دعا تشھد میں پڑھنا چاہيے یا سلام پھیرنے کے بعد؟
جواب : استخارہ کی دعا تشہد میں نہیں پڑھنی ہے بلکہ سلام پھیرنے کے بعد پڑھنی ہے ، سیدنا جابر بن عبداللہ سلمی ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا: رسول اللہﷺ اپنے صحابہ کرام‬ ؓ ک‬وتمام (جائز) کاموںمیںاستخارہکرنےکیتعلیمدیتےتھےجسطرحآپانہیںقرآنکیکوئیسورتسکھاتےتھے،آپفرماتے: إذَا هَمَّ أحَدُكُمْ بالأمْرِ فَلْيَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ مِن غيرِ الفَرِيضَةِ، ثُمَّ لِيَقُلْ: اللَّهُمَّ إنِّي أسْتَخِيرُكَ،،الخ (صحيح البخاري:7390)
ترجمہ:جب تم میں سے کوئی کسی کام کا ارادہ کرے تو اسے چاہیے کہ فرض کے علاوہ دو رکعت نفل پڑھ لے،پھر یوں کہے :اللَّهُمَّ إنِّي أسْتَخِيرُكَ،،،،
استخارہ والی یہ حدیث دلیل ہے کہ دعائے استخارہ نماز کے بعد پڑھنی ہے ۔
سوال (8): اگر کوئی وضو کرتے وقت بسم الله پڑھنا بھول جائے تو جب یاد آئے اسی وقت پڑھ لے یا دوبارہ وضو کرے؟
جواب : وضو میں بسم اللہ پڑھنا مشروع ومسنون ہے ،واجب نہیں ہے لہذا اگر کوئی وضو کرتے وقت بسم اللہ بھول جائے تو کوئی حرج نہیں ہے اور اسے اپنا وضو دہرانے کی ضرورت نہیں ہے ۔ ہاں جان بوجھ کر وضو سے پہلے بسم اللہ پڑھنا ترک نہیں کرنا چاہئے بلکہ اس کا ہمیشہ اہتمام کرنا چاہئے ۔
سوال (9): میرے ساس وسسر کے عقائد ٹھیک نہیں ہیں، کیا میں اپنے شوہر کو ان کے ساتھ حج و عمره پر جانے سے انکار کردوں کہ وہاں بدمزگی نہ ہو؟
جواب : آپ کے شوہر ،آپ کے ساس وسسر کے ساتھ حج وعمرہ کے سفر پر جاسکتے ہیں ، آپ کو اس سے نہیں روکنا چاہئے ، اس سے فائدہ یہ ہوگا کہ آپ کے شوہر کو حج وعمرہ کا مسنون طریقہ بتانے کا موقع ملے گا بلکہ مکہ ومدینہ میں حق واضح کرنا بہت آسان ہے کیونکہ یہاں کتاب وسنت پر عمل کیا جاتا ہے ، اگر کوئی حق کا متلاشی ہو تو مکہ ومدینہ کا سفر کرکے خود ہی حق تک پہنچ سکتا ہے اور اگر ساتھ میں کوئی رہبر بھی ہوتو سونے پہ سہاگہ ہوجائے گا ۔ دعوت حق کےلئے اعلی کردار، نرمی ، صبراور حکمت کی ضرورت ہے آپ ان باتوں کی تلقین شوہر کو کریں ۔
سوال (10): لے پالک بچے کو پستان سے لگانے سے کیا وہ محرم بن جاتے ہیں؟
جواب : صرف پستان کو منہ لگانے سے لے پالک محرم نہیں بن جائے گا، رضاعت {دودھ پالانا} جس سے حرمت ثابت ہوتی ہے اس کی دو شرطیں ہیں ، پہلی شرط یہ ہے کہ رضاعت دوسال کے درمیان ہو اور رضاعت کی تعداد پانچ ہویعنی بچہ پانچ بار اپنی خوراک پوری کرے تب رضاعت ثابت ہوگی ورنہ نہیں ۔
سوال (11): اگر کوئی ہم سے معافی مانگے اور ہم چاہ کر بھی اسے معاف نہ کر پائیں اور نہ ہی اسے بتائیں ۔ تو سامنے والا غلط فہمی میں رہتا ہے کہ ہم نے معافی مانگ لی ہے، کیا اس پر ہمیں گناہ تو نہیں؟
جواب : اگر ہم سے کوئی اپنی غلطی کی معافی مانگے تو ہمیں صاف لفظوں میں اس کے سامنے یا کسی کی معرفت ہی سہی معاف کرنے کی خبر بھیج دینی چاہئے ۔اسلام میں معاف کرنے والے کادرجہ بڑا ہے ، ہمیں یہ کبھی نہیں بھولنی چاہئے کہ اللہ کے حق میں ہم نے بھی ہزاروں غلطیاں کی ہیں بلکہ حقوق العباد کے معاملے میں بھی کتنی ساری غلطیاں ہوں گی ۔جب ہم خود یہ چاہتے ہیں کہ ہمیں معاف کردیا جائے تو دوسروں کو بھی ہمیں معاف کردینا چاہئے ۔اگر غلطی کرنے والے نے اپنی غلطی کے بقدر معافی مانگ لی ہے تو معاف نہ کرنا زیادتی ہے اور اگر غلطی کو ہتھیار بناکر ذلیل کرنا مقصد ہے تو پھر آپ اللہ کے یہاں گنہگار ہوں گے ۔
سوال (12): کیا زکاة کی رقم زکاة کے مستحق افراد کو عمرہ پر جانے کیلئے دی جا سکتی ہے؟
جواب : بہتر یہ ہے کہ مسکین افراد کو صدقہ وخیرات یا عطیات سے عمرہ یا حج کرایا جائے تاکہ زکوۃ کو ان کے اصل مصارف میں خرچ کرکے اللہ کے حکم کی ہوبہو پاسداری ہوسکے تاہم اہل علم نے فقیرومحتاج کو مال زکوۃ سے فریضہ حج اداکروانا جائز قرار دیا ہے ۔
سوال (13): عورت کی میت کو غسل دینے اور دفنانے کا طریقه بتا دیں اور کیا حالت حیض میں غسل دے سکتے ہیں؟
جواب : میت کو غسل دینے کا طریقہ یہ ہے کہ گرم پانی اور اس میں بیری کا پتہ استعمال کرنے کے لئے پہلےسے انتظام کرلیا جائے پھر میت کے جسم کا کپڑا اتارلیا جائے اور ستر ڈھانپ دئے جائیں، یاد رہے ایک عورت کامکمل بدن ستر ہے مگر عورت کا عورت کے لئےناف سے گھٹنے تک ستر ہے۔ عورت کو عورت ہی غسل دے گی سوائے اس کے شوہر کے ۔
٭غسل دیتے وقت سب سے پہلے میتہ کے ہاتھ وپیر کے ناخن کاٹ دئے جائیں اگر بڑے ہوں ، اسے بعد میں میتہ کے کفن میں ہی رکھ دیا جائے ۔
٭پھرغسل دینے والی اب نرمی سے میتہ کا پیٹ دبائے تاکہ فضلات باہر نکل جائیں اور ہاتھ پہ دستانہ لگاکر اگلے اور پچھلے شرم گاہ کی تیار شدہ بیری والے پانی سے صفائی کرے ۔
٭اس کے بعد نماز کی طرح وضو کرائے ، دونوں ہتھیلیاں کلائی تک تین بار، منہ اور ناک صاف کرے ۔تین بار چہرہ، تین بار دونوں ہاتھ کہنیوں سمیت، سر اور کان کا مسح پھر دونوں پیر ٹخنوں سمیت دھوئے۔
٭ وضو کراکر بیری والا پانی پہلے سرپر بہائے پھر دائیں اوربائیں پہلو پر بہائے ۔اس کے بعد پورے بدن پر پانی بہائے۔کم ازکم تین بار جسم پر بہائے تاکہ مکمل طہارت حاصل ہویہ افضل ہے تاہم ایک مرتبہ سر سے پیر تک پورےجسم کادھونا بھی کفایت کرجائے گا۔ ضرورت کے تحت تین سے زائد بار بھی پانی بہاسکتے ہیں ۔ آخری بارغسل دیتے ہوئے کافور بھی ملالے تاکہ بدن خوشبودار ہوجائے اور نجاست کی مہک ختم ہوجائے۔
٭ اور آخر میں بالوں کی تین چوٹیاں بنا دے گی۔
حیض والی عورت میتہ کو غسل دے سکتی ہے، ممانعت کی کوئی دلیل نہیں ہے ، حیض میں نمازوروزہ ، طواف اور مسجد میں ٹھہرنا منع ہے باقی سارے کام کرسکتی ہے ۔
سوال (14): گھر میں آگ لگ گئی اور دھوئیں سے گھٹن کی وجہ سے روزہ توڑنا پڑا، کیا اس روزہ کی قضا دینی ہے اور اس کا کفارہ بھی ہے؟
جواب : ضرورت اور مجبوری کے تحت فرض روزہ توڑنا پڑجائے تو محض اس کی قضا دینی ہے ، اس کا کوئی کفارہ نہیں ہے ۔
سوال (15): وتر کی نماز میں دعائے قنوت پڑھنا بھول جائیں تو کیا کریں؟
جواب : دعائے قنوت پڑھنی واجب نہیں ہے مستحب ہے۔کوئی اگر وتر کی نماز میں دعائے قنوت بھول جائے تو کوئی حرج نہیں ہے، نہ ہی سجدہ سہو کرنا لازم ہے تاہم سجدہ سہو کرنا چاہیں تو کرسکتے ہیں، نبی ﷺ کا فرمان ہے :لِكُلِّ سَهْوٍ سَجدتانِ بعدَ ما يسلِّمُ(صحيح أبي داود:1038)
ترجمہ: ہر سہو کے لیے سلام کے بعد دو سجدے ہیں ۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Maqbool Ahmed

Read More Articles by Maqbool Ahmed: 303 Articles with 171013 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
30 Aug, 2019 Views: 346

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ