بعد از رسول ہاشمی کوئی نبی نہیں

(Rahmat Ullah Shaikh, )

اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی رہنمائی کے لیے اس دنیا میں کم و بیش سوا لاکھ انبیاء کرام مبعوث فرمائے۔ نبوت و رسالت کا یہ سلسلہ حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہوا اور حضرت محمد ‍ﷺ پر آکر ختم ہوا۔ آپﷺ آخری نبی ہیں اور قیامت تک آپ ﷺکے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا، اس عقیدے کو عقیدۂ ختم نبوت کہا جاتا ہے۔ آپﷺ قیامت تک آنے والے تمام انسانوں کے لیے رسول ہیں۔ جیسا کہ آپﷺ کا ارشاد ہے کہ میں ان لوگوں کے لیے رسول ہوں جن کو اپنی زندگی میں پاؤں اور ان کے لیے بھی جو میرے بعد پیدا ہوں گے۔ قرآن کریم کی تقریبًا ایک سو آیات اورذخیرۂ احادیث میں سے تقریبًا دو سو دس احادیث مبارکہ عقیدۂ ختمِ نبوت پر دال ہیں۔ اس کے ساتھساتھ اس عقیدے پر ہر دور کے علماء کرام کا اجماع رہا ہے کہ آپﷺ نہ صرف اپنے دور کے بلکہ قیامت تک آنے والے تمام انسانوں کے لیے نبی ہیں اور آپﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ جس طرح اللہ تعالیٰ تمام انسانوں کے رب ہیں، اسی طرح آپﷺ قیامت تک آنے والے تمام انسانوں کے لیے نبی ہیں۔ اس عقیدے کے بغیر آخرت میں نجات ممکن نہیں۔

عقیدۂ ختم نبوت عمارتِ اسلام کی اساس ہے۔ اگر دین سے اس عقیدے کو نکالا جائے تو دین میں کچھ باقی نہیں بچے گا۔یہی وجہ ہے کہ جب مسلیمہ کذاب نے نبوت کا دعویٰ کیا تو تمام صحابہ کرام نے اس کے خلافعلمِ جہادبلند کرنے پر اتفاق کیا۔ صحابہ کرام کا پہلا اجماع بھی عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ پر ہوا تھا۔ اس جنگ میں تقریبًا 1200 صحابہ کرام نے جامِ شہادت نوش فرمایا جن میں 700 حفاظ اور فقیہ صحابہ شامل تھے۔ اس ایک جنگ میں شہید ہونے والے صحابہ کرام کی تعداد دورِ نبوی کےتمام غزوات اور سرایا میں شہید ہونے والے صحابہ کرام سے زیادہ ہے۔ اس بات سے عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت واضح ہوجاتی ہے۔
حضرت ثوبان ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میری امت میں تیس جھوٹے پیدا ہوں گے۔ ہر ایک یہی کہے گا کہ میں نبی ہوں حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں۔ میرے بعد کوئی کسی قسم کا نبی نہیں۔ یہ حدیث نہ صرف آپﷺ کی ختم نبوت پر دال ہے بلکہ اس حدیث میں جھوٹے مدعیانِ نبوت کے متعلق پیشنگوئی بھی موجود ہے۔ مسلیمہ کذاب کی طرح کئی جھوٹوں نے نبوت کا دعویٰ کیا جن میں مرزا غلام احمد قادیانی بھی شامل ہے۔ مرزا کے پیروکار آج بھی دنیا میں موجود ہیں جن کو قادیانی جماعت کے نام سے پہچانا جاتا ہے۔ قادیانیوں نے قرآن کریم کی متعدد آیات کی تحریف کرکے مرزا کو نبی ثابت کرنے کی کوشش کی ہے لیکن آج تک ان کو کامیابی حاصل نہیں ہوسکی۔ علمائے حق نے ہر دور میں قادیانی جماعت کے خلاف آواز بلند کی۔ قیامِ پاکستان کے بعد بھی متعدد بار تحفظ ختم نبوت کے لیے آواز اٹھائی گئی۔ سینکڑوں خوشنصیبوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ قید و قفس کی صعوبتیں برداشت کیں۔ بالآخر شہیدوں کا خون رنگ لایا، علماء کی مسلسل جدوجہد کارآمد ثابت ہوئی اور 7ستمبر 1974 کو آئینی طور پر قادیانیوں کو کافر قرار دیا گیا۔

عقیدۂ ختم نبوت ضروریاتِ دین میں سے ہے۔ لہٰذا اس عقیدے پر کسی بھی قسم کا صلح نہ صرف اسلام بلکہ پاکستانی قانون کے بھی خلاف ہے۔ قادیانی آج بھی مختلف حربے استعمال کرتے ہوئے، مختلف ذرائع کو بروئے کار لاتے ہوئے خود کو مظلوم ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور عقیدہ ختم نبوت پر عوام و خواص کے ذہنوں میں شکوک و شبہات پیدا کرتے ہیں۔ لہٰذا موجودہ حالات میں ہر مسلمان کے لیے عقیدۂ ختم نبوت کے متعلق آگاہی حاصل کرنا ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ تمام اہلِ علم پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ہر ایک مسلمان تک ختم نبوت کا پیغام پہنچائیں اور ان کے سامنے اس عقیدے کی اہمیت و ضرورت کو واضح کریں۔ کیونکہ اس کے بغیر آخرت میں نجات ممکن نہیں۔
لکھتا ہوں خونِ دل سے یہ الفاظ احمریں
بعد از رسولِ ہاشمی کوئی نبی نہیں
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rahmat Ullah Shaikh

Read More Articles by Rahmat Ullah Shaikh: 30 Articles with 17958 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
30 Aug, 2019 Views: 521

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ