اکادمی ادبیات پاکستان کے تحت کشمیر ریلی میں کراچی کے اہل قلم کی شرکت

(Prof. Dr Rais Ahmed Samdani, Karachi)

اکادمی ادبیات پاکستان، کراچی نے کشمیر کے مسلمانوں سے اظہار ِ یکجہتی کے لیے ’کشمیر بنے گا پاکستان ‘ ریلی کا اہتمام بروز جمعہ30اگست 2019ء کی صبح اپنے دفتر میں کیا جس میں کراچی کے اہل قلم ، شاعر، ادیب اور دانشوروں کو شرکت کی دعوت دی گئی ۔ کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کا اعلان پاکستان کے وزیر اعظم جناب عمران خان نے کیا تھا ۔ پاکستان کے ہر طبقہ فکر نے لبیک کہا اور کشمیریوں سے اپنے جذباتی تعلق کا اظہار کرتے ہوئے وقت مقرہ پر اپنے اپنے گھروں ، دفاتر، کاروباری مراکز سے نکل آئے ۔ دن بارہ بچے سائیرن بجائے گئے، سڑکوں پر ٹریفک رک گیا، ریل ، ہوائی جہاز ، الغرض ہر چیز کچھ لمحوں کے لیے ساکت ہوگئی، دنیانے دیکھا کہ پاکستان کے عوام کشمیر کے عوام کے ساتھ کس قدر جذباتی تعلق رکھتے ہیں ۔ بھارت کے وزیر اعطم جنہوں نے مقبوضہ کشمیر سے اپنی آنکھیں بند کی ہوئی ہیں ، انہیں اس سے غرض نہیں کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام کن مشکلات میں ہیں ، ان پر بھارتی فوج کس قدر ظلم کے پہاڑ توڑ رہی ہے ۔ مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کو 27دن ہوچکے لیکن بھارتی حکومت خاص طور پر نریندر مودی کی حس جیسے ختم ہوچکی ہے ۔ پاکستان جو اپنی سی تمام تر کوششیں کررہا ہے دنیا کو جگانے کے لیے، دنیا کو بھارت کا اصل چہرہ دکھانے کی تمام تر کوششیں کی جارہی ہیں جمعہ 30اگست کو گلی گلی، محلے محلے، احتجاج کرنا اس کوشش کا حصہ تھا ۔

تعلیمی اداروں اسکولوں ، کالجوں اور جامعات میں طلباء و طالبات نے اپنے اپنے اداروں میں احتجاج کیا، کشمیر بنے گا پاکستان کے فلگ شگاف نعرے لگائے، تقاریر کی گئیں ،اپنے اپنے دفاتر سے لوگ باہر نکل آئے انہوں نے کشمیر کے حق میں بینر اٹھارکھے تھے ۔ ا س سلسلہ کا مرکزی احتجاج اسلام آباد کے ڈی چوک میں ہوا جس میں عمران خان نے از خود شرکت کی اور اپنے عوام کو کشمیر پر کی جانے والی جدوجہد سے آگاہ کیا اور اپنے آئندہ کے لاءحہ عمل کی تفصیل بھی بیان کی ۔ قائد اعظم کے مزار پربھی کشمیر یوں سے اظہار یکجہتی کا مظاہرہ کیا گیا ۔ اگر یہ کہا جائے کہ جمعہ کے دن پورا پاکستان ، ہر پاکستانی کشمیریوں کے لیے ایک زبان تھا ، وہ زبان تھی کہ کشمیریوں کو ان کا حق دو، کشمیر بنے گا پاکستان تو غلط نہ ہوگا ۔

اہل قلم جن میں شاعر ، ادیب اور دانشور شامل تھے کشمیر یوں کے ساتھ یکجہتی اور کشمیر بنے گا پاکستان ریلی میں کیسے پیچھے رہ سکتے تھے ۔ کراچی میں اکادمی ادبیات پاکستان کراچی کے ریزیڈنٹ ڈائیریکٹر قادر بخش سومرو صاحب نے اپنے آفس میں کراچی کے اہل قلم کو خصوصی دعوت دی وہ اکادمی ادبیات پاکستان کراچی کے دفتر میں منعقدہ احتجاجی ریلی میں شریک ہوں ۔ اہل کراچی کے قلم کاروں نے لبیک کہا اور وقت مقررہ پر بڑی تعداد میں اکادمی پہنچے، کشمیر یوں سے اظہار یکجہتی کرنے، کشمیر یوں پر بھارت کے ظلم و ستم کو تشت از بام کرنے ، کشمیریوں کی آزادی کی جدوجہد کی طویل داستان ، کشمیر بنے گا پاکستان کے بارے میں جن اہل قلم نے اظہار خیال کیا ان میں جناب پروفیسر سحرانصاری صاحب ،ڈاکٹر رئیس احمد صمدانی، افسانہ نگار و شاعرہ ناہید اعظمی، افضل ہزاروی، شجاع زماں ، نصیر سومرو، ڈاکٹر رحیم ہمراز ، فرخ جعفری، رفیق مغل، عرفان علی عابدی، قادر بخش سومرو شامل تھے ۔

احتجاجی ریلی کے اختتام پر اکادمی ادبیات پاکستان کے ریزیڈنٹ ڈائیریکٹر جناب قادر بخش سومرو نے احتجاجی ریلی میں شرکت کرنے والوں کے کشمیریوں کے ساتھ جذبہ کو سراہا ۔ انہوں نے کہا کہ اہل قلم دیگر کے مقابلے میں زیادہ حساس ہوتے ہیں ، وہ جو کچھ سوچتے اور احساس کرتے ہیں ، وہ اپنے دل میں نہیں رکھتے بلکہ اسے اپنے قلم کی نوک سے قرطاس پر منتقل بھی کرتے ہیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ میں ایک اہم اور کلیدی کردار افواج کا ہوتا ہے ، بہادر افواج کے بغیر جنگ نہیں جیتی جاسکتی، پاکستانی افواج مکمل طور پر بہادر، قومی جذبے سے شرسار، اور کشمیریوں کو مشکل سے آزادی دلانے میں ہر دم تیار ہیں ۔ جنگ میں عام لوگوں کے جذبے کو ابھارنا، ان میں جوش ، جذبہ اور ولولہ قومی نغمات کی صورت میں پیدا کرنے میں شاعر ادیب اور دانشور اہم کردار ادا کرتے ہیں ۔ ہم نے دیکھا ہے کہ سابقہ جنگوں میں ہمارے شاعروں نے جس قدر خوبصورت قومی نغمات قلم بند کیے اور انہیں ہمارے گانے والوں نے جس جذبے اور خوبصورتی سے گایا، موسیقاروں نے ان نغمات کی موسیقی میں جان ڈال دی ۔ انشاء اللہ اب بھی اگر بھارت نے پاکستان کوایک بار پھر آزمایا اور پاکستان پر کسی بھی جانب سے جنگ مسلط کی تو افواج پاکستان تو اپنا کام کریں گی، اہل قلم بھی اس میں اپنی حکومت اور اپنی فوج کے ساتھ سینہ بہ سینہ شامل ہوں گے ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof. Dr Rais Ahmed Samdani

Read More Articles by Prof. Dr Rais Ahmed Samdani: 752 Articles with 639223 views »
Ph D from Hamdard University on Hakim Muhammad Said . First PhD on Hakim Muhammad Said. topic of thesis was “Role of Hakim Mohammad Said Shaheed in t.. View More
31 Aug, 2019 Views: 335

Comments

آپ کی رائے