عوام کے ٹیکس سے وصول کئے گئے 226 ارب روپے سرمایہ داروں کو کیوں معاف کئے جا رہے ہیں؟

(Shahid Noor, Peshawar)
عوام سے GIDC ٹیکس کی مد وصول کئے گئے 452 ارب روپے جو کہ کھاد اور بجلی کے بلوں وصول کئے گئے اور ان پرائیویٹ کمپنیوں کے مالکان کئی سالوں سے دبائے بیٹھے ہیں اخیر کیوں؟

وزیراعظم عمران خان صاحب آپ نے اپنی شخصیت کا جو بت 22 سال میں عوام کے دلوں میں بنایا تھا وہ اب پاش پاش ہونے لگا ہے کرسی پر بیٹھ کر غریب عوام کو بھول گئے اور سرمایہ داروں کو تحفظ دینے لگ گئے 2012 میں زرداری نے جو ٹیکس عوام پر GIDC کے نام سے لگایا تھا جس کا مقصد پاک ایران گیس پائپ لائن بچھانا اور گیس ٹرمینل لگانا تھا بجلی کی کمپنیوں اور کھاد بنانے والی کمپنیوں نے یہ ٹیکس عوام سے لے کر حکومت کو دینا تھا جس سے 741 ارب روپے غریب عوام کی جیب اکٹھے ہوئے تھے جبکہ سب سے زیادہ بوجھ کسان پر پڑا تھا یوریا کھاد کی ایک بوری پر 400 روپے اس ٹیکس کی مد میں کسان کو دینے پڑے جس میں سے صرف 290 ارب حکومت کے خزانے میں جمع ہوئے باقی 452 ارب روپے ان سرمایہ داروں نے دینے سے انکار کر دیا اور عدالت سے سٹے آرڈر لے لیا اور پیسے دبا کر بیٹھ گئے اسد عمر نے ان سے ڈیل کی کہ وہ کہ 50/50 کر لیتے ہیں آدھا آپ لوگ رکھ لو آدھا واپس کردو وہ بھی قسطوں میں۔ آپ سے جب ایک پریس کانفرنس میں کہا گیا تھا کہ آپ زرداری اور نواز شریف کو معاف کرکے چھوڑ دیں تو آپ نے جواب دیا تھا کہ کیا یہ میرے باپ کا پیسہ ہے جو میں معاف کر دوں۔ تو میں آپ سے پوچھتا ہوں یہ 226 ارب روپے ان پرائیویٹ کمپنیوں کو کس خوشی میں نا صرف 226 ارب بلکہ اس پر جو سود بنتا ہے وہ بھی معاف کیا جا رہا ہے اور وہ بھی ایک صدارتی آرڈیننس کے ذریعے۔ آپ کی حکومت اتنی کمزور ہے کہ چند سرمایہ داروں سے ٹیکس کی مد میں اکٹھا کیا گیا حکومت کا پیسہ بھی وصول نہیں کرسکتی تو وہ نواز شریف اور زرداری جیسے طاقتور چوروں سے بھلا کیا وصول کرے گی۔ آپ کو چاہیئے کہ ان ججز کی تنخواہیں روک دیں جنھوں نے انھیں سٹے آرڈر دیا تھا اگر ریٹائر ہو گئے ہیں تو پنشن روک دیں کیسے انھوں نے سٹے آرڈر دیا ان کو۔ یہ تو دس منٹ کا اوپن اینڈ شٹ کیس ہے عوام سے پیسہ وصول کیا اور حکومت کو نہیں دیا۔

ہم پٹواری یا جیالے نہیں کہ ہمارے لیڈر جو کچھ بھی غلط کریں اور ہم واہ واہ کریں ہم غلط کو غلط اور صحیح کو صحیح کہیں گے ہمارے خون پسینے کی کمائی کس خوشی میں ان سرمایہ داروں کو بخشی جا رہی ہے؟ 226 ارب روپے کوئی معمولی رقم نہیں ہے۔ میں ہر فورم پر اس کے خلاف آواز اٹھاؤں گا۔
خان صاحب آپ کے ارد گرد سرمایہ داروں کا جو ٹولہ اکٹھا ہے وہ آپ کی امیج برباد کر رہا ہے اس سے جان چھڑائیں یا تو فتح مکہ کی طرح سب کو معاف کر دیں یا پھر ریاست مدینہ کی طرح انصاف کریں۔ آپ سے کروڑوں لوگ امید لگائے بیٹھے ہیں لیکن اب یہ امیدیں دم توڑتی نظر آ رہی ہیں آپ کے اس قسم کے فیصلے ہمارے حوصلے توڑنے لگے ہیں خدا کے لئے اپنا امیج بحال کیجیئے کیونکہ آپ ہماری آخری امید ہیں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Shahid Noor

Read More Articles by Shahid Noor: 2 Articles with 711 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
31 Aug, 2019 Views: 285

Comments

آپ کی رائے