حرمت والا مہینہ ۔ محرم الحرام

(Prof. Dr Rais Ahmed Samdani, Karachi)

اسلامی سال کی ابتدا محرم الحرام کے مہینہ سے ہوتی ہے ۔ جب کہ اسلامی سال کا آخری مہینہ ذوالحجہ ہے ، گویا اسلامی مہینے کا آغاز بھی قربانی سے اور انتہا بھی قربانی کے مہینے یعنی ذوالحجہ پر ہوتی ہے ۔ ذوالحجہ کو قربانی کا مہینہ بھی کہا جاتاہے ۔ اللہ پاک نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ان کے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو قربان کرنے کا حکم دیا جس پر باپ بیٹے نے اللہ کے حکم پر لبیک کہا، اللہ تعالیٰ نے قربانی قبول فرمائی ، ایک مینڈھا بھیجا گیا ، اللہ تبارک و تعالیٰ نے قربانی کو ہمیشہ کے لیے امر کردیا ۔ اسلامی سال کا پہلا مہینہ محر الحرام ہے اسے اللہ نے ذوالحجہ کی مانند حرمت والا مہینہ قراردیا ۔ بعد میں محرم الحرام بھی امام حسین رضی اللہ عنہ کی قربانی سے رہتی دنیا تک یاد گار اور حرمت والا مہینہ رہے گا ۔ محرم کے لغوی معنی وہ چیز جو ممنوع ہو ۔ طلوع اسلام سے قبل بھی یہ مہینہ مقدس اور متبرک مہینوں میں شمار ہوتا تھا جن میں جنگ و جدل بند کردی جاتی تھی لڑنا حرام سمجھا جاتا تھا ۔ اس لیے لغوی معنوں کے اعتبار سے اس مہینہ کا نام ہی محرم ہوگیا ۔

اللہ تبارک و تعالیٰ نے محرم الحرام کو حرمت والا مہینہ کہا ہے ۔ سورۃ المائدہ کی آیت 2 میں اللہ نے فرمایا ’’اے ایمان والو! اللہ کی نشانیوں کی بے حرمتی نہ کرو اور نہ حرمت (ادب) والے مہینے کی( یعنی ذوالقعدہ، ذوالحجہ ، محرم اور رجب میں کسی ماہ کی)اور نہ حرم کعبہ کو بھیجے ہوئے قربانی کے جانوروں کی اور نہ مکہ لائے جانے والے ان جانوروں کی جن کے گلے میں علامتی پٹے ہوں اور نہ حرمت والے گھر (یعنی خانہ کعبہ) کا قصد کرکے آنے والوں (کے جان و مال اور عزت و آبرو) کی (بے حرمتی کروکیوں کہ یہ وہ لوگ ہیں ) جو اپنے رب کا فضل اور رضا تلاش کر رہے ہیں ‘‘ ۔ اسی طرح سورۃ البقرہ کی آیت 217 میں کہا گیا ’’ لوگ آپ ﷺ سے حرمت والے مہینے میں جنگ کا حکم دریافت کرتے ہیں ، فرمادیجئے اس میں جنگ بڑا گناہ ہے ‘‘ ۔ اور سورۃ توبہ کی آیت 36 میں فرمایا اللہ تبارک و تعالیٰ نے ’’بے شک اللہ کے نزدیک مہینوں کی گنتی اللہ کی کتاب (یعنی نوشتہَ قدرت) میں بارہ مہینے (لکھی) ہے جس دن سے اس نے آسمانوں اور زمین (کے نظام کو پیدا فرمایا ان میں سے چار مہینے (رجب، ذوالقعدہ، ذوالحجہ اور محرم ) حرمت والے ہیں ‘‘ ۔

حرمت والے مہینے محرم الحرام کے بارے میں قرآن کے بعد دیکھتے ہیں کہ اَحادیث مبارکہ میں کیا کچھ کہا گیا حرمت والے مہینے کے بارے میں ۔ حضرت محمد ﷺ نے نے محرم الحرام کے مہینے کو بہت ہی با برکت والا مہینہ اور شب عاشور کے بہت فضائل بیان کیے جن میں سے ایک یہ کہ فرمایا آپ ﷺ نے کہ محرم کا چاند دیکھ کر چار مرتبہ سورۃ اخلاص پڑھ کر اپنے اوپر دم کر نا بہت افضل ہے ۔ مسلم شریف کی حدیث ہے ۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اس کے راوی ہے ۔ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مدینہ تشریف لائے تو آپ نے یہودیوں کو یوم عاشور کا روزہ رکھتے پایا ۔ تو آپ ﷺ نے ان سے پوچھا ۔ یہ کون سا خاص دن ہے جس کا تم روزہ رکھتے ہو;238; انہوں نے کہا ۔ یہ بہت عظیم دن ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس دن حضرت موسیٰ علیہ السلام اور اَن کی قوم کو نجات عطا کی جب کہ فرعون اور اَس کی قوم کو غرق کیا تھا ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام شکرانے کے طور پر اَس دن کا روزہ رکھا کرتے تھا، لیٰذا ہم بھی اس دن روزہ رکھتے ہیں ۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ۔ تمہاری نسبت ہم موسیٰ کے زیادہ حق دار اور قریبی ہیں ۔ پس اُس دن رسول اللہ ﷺ نے خود بھی روزہ رکھا اور( صحابہ کرام اجمعین کو بھی ) اُس دن کا روزہ رکھنے کا حکم دیا ۔ بخاری شریف میں بھی یہ حدیث نقل ہوئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا ! ہم حضرت موسیٰ علیہ السلام کی اقتداَ میں روزے رکھیں گے ۔ چنانچہ آپ ﷺ نے صحابہ کرام کو دسویں محرم کا روزہ رکھنے کی تاکید فرمائی ۔

اس حدیث مبارکہ کے حوالے سے ایک اور حدیث جسے امام مسلم اور ابو داود نے روایت کیا ہے ۔ اس کے راوی بھی حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ ہیں ۔ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے عاشورہ کا روزہ رکھا اور اس دن دوزہ رکھنے کا حکم دیا تو صحابہ کرام نے عرض کیا ۔ یا رسول اللہ ﷺ اس دن کی تو یہود اور نصاریٰ تعظیم کرتے ہیں ۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب اگلا سال آئے گا تو ہم انشاء اللہ نویں تاریخ کا بھی روزہ رکھیں گے ۔ اگلا سال آنے نہ پایا تھا کہ آپ ﷺ وصال فرماگئے ۔ ایک روایت میں حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ آنحضرت محمد ﷺ ان چار اعمال کو کبھی ترک نہیں فرماتے تھے ۔ دسویں محرم کا روزہ ، عشرہ ذوالحجہ کے روزے، ہر مہینے کے تین روزے اور نماز فجر سے قبل دو رکعات ۔ ایک روایت میں ہے کہ نو محرم کا بھی روزہ رکھو اور دسویں محرم کا بھی تاکہ یہودیوں سے مختلف ہوجاوَ ۔ دسویں محرم کے روزے کو عاشورہ کا روزہ بھی کہتے ہیں ۔ اس روزہ کا ثواب اتنا ہے کہ ایک شخص کے تمام گناہ معاف ہو جاتے ہیں ۔

محرم کے مہینے میں حضرت موسیٰ علیہ السلام اور اَن کی قوم کو نجات عطا ہوئی اور فرعون اور اَس کی قوم کونیست و نابود کردیاگیا ۔ اس واقعہ کے علاوہ عام الفیل کا مشہور واقعہ جس میں ابراہہ نے اپنے لشکر اور ہاتھیوں کے ساتھ مکہ کو ڈھانے کا قصد کیا لیکن نے اللہ نے ابراہہ اور اس کے لشکر کو ہاتھیوں سمیت چھوٹے چھوٹے پرندوں جنہیں ابابیل کا نام دیا گیا کے ذریعہ تباہ و برباد کردیا ۔ یہ واقعہ بھی محرم الحرام میں ہی پیش آیاتھا ۔ حضرت محمد ﷺ کی حدیث مبارکہ کے مطابق محرم کے مہینے کی دس تاریخ کو اسلام سے پہلے کے مذاہب میں بھی مقدس و حرمت والا مہینہ مانا جاتا تھا ۔ بعض انبیاء سے وابستہ بعض تاریخی واقعات اس مہینے کی دس تاریخ کوہی پیش آئے ۔ حضرت آدام علیہ السلام اور حضرت اما حوا رضی اللہ عنہا کا ملاپ، حضرت نوح علیہ السلام کا طوفان سے بچ جانا لیکن ان کی قوم کا طوفان میں غرق ہوجانا ، حضرت یونس علیہ السلام کا مچھلی کے پیٹ میں چلا جانا اور اس سے نجات پاجاناوغیرہ جیسے واقعات کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ محرم الحرام کے مہینے اور خاص طور پر دسویں تاریخ کو پیش آئے ۔ بنی اسرائیل اس مہینے کو اس وجہ سے معتبر اور عقیدت دیتے ہیں کہ اس دن بنی اسرائیل کو فرعون سے نجات ملی تھی ۔ اس زمانے میں یہ مہینہ دیگر واقعات اور حادثات کے باعث معتبر اور عقیدت والا سمجھا جاتا تھا ۔

حضرت محمد ﷺ کے وصال کے بعد خلفائے راشدین کا دور شروع ہوتا ہے ۔ اس دور میں خلیفہ دوم حضرت عمر رضی اللہ عنہا کو یکم محرم الحرام کو شہید کردیا جاتا ہے ۔ آپ غیر معمولی صلاحیتوں کے مالک بہترین منظم اور مدبر تھے ، قوت فیصلہ آہنی تھی ، آپ کی خلافت قمری سال سے دس برس چھ ماہ اور چار دن بنتی ہے ۔ مغیرہ بن شعبہ کے غلام ابو لولوء نے جب کہ آپ نماز فجر پڑھا رہے تھے صف سے نکل کر آپ پر خنجر کے چھ وار کیے ناف کے نیچے کا ایک زخم بہت شدید تھا جس کے باعث آپ نے یکم محرم الحرام بروز ہفتہ اس دنیا سے رحلت فرمائی اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی اجازت سے نبی پاک حضرت محمد ﷺ کے پہلو میں دفن ہوئے ۔ خلفاء راشدین کی خلافت ختم ہونے کے بعد یعنی حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت کے بعد واقعہ کربلا محرم الحرام میں پیش آیاجس میں نبی حضرت محمد ﷺ کے پیارے نواسے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت ہوجاتی ہے ۔ یہ مہینہ اور تاریخ دس محرم الحرام ہی ہے ۔ کربلا کے مقام پر واقعہ کربلا پیش آیا جس میں امام حسین رضی اللہ عنہہ یزید کی فوجوں کے ساتھ جنگ کرتے ہوئے شہادت کے مرتبے پر فائز ہوئے ۔ واقعہ کربلا 61ھ ;241;680ء میں پیش آیا ۔ واقعہ کربلا حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کے حوالے تاریخ اسلام میں اہم واقعات میں سے ہے ۔ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے قربانی دے کر اپنے نانا کے دین کو بچالیا ۔ اس اعتبار سے محرم قربانی کا درس دیتا ہے ۔ حق کو باطل کے سامنے سینہ سپر ہوجانے کا سبق دیتا ہے ۔ افتخار عارف کا شعر ۔
حسین تم نہیں رہے تمہارا گھر نہیں رہا
مگر تمہارے بعد ظالموں کا ڈر نہیں رہا

کربلا کے نام کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ ’کرب‘ اور’ بلا‘ سے بنا ہے ، کرب کے لغوی معنی ایسا غم جس سے دم رکے، دکھ ، تکلیف، مصیبت ، بے تابی، بے چینی، بے قراری، بے کلی ، رنج و الم ، غم و اندوہ کے ہیں ۔ جب کہ بلا سے مراد غضب کا، بے حد ، چشت وچلاک، حد سے زیازدہ، رنج، عذاب ، قیامت ، ناگہانی، کڑا، سخت وغیرہ کے ہیں ۔ واقعہ کربلا میں یہ تمام چیزیں دکھائی دیتی ہیں ۔ محرم الحرام میں روزہ رکھنے کا بہت ثواب ہے ۔ آخر میں اس دعا پر اپنی بات ختم کرتا ہوں کہ اے اللہ! امن ، سلامتی، اسلام ، رحمٰن کی رضا مندی اور شیطان سے بچاوَ کے ساتھ اس سال و مہینے کو ہم پہ داخل فرما ۔ (آمین) ۔ (یکم محرم الحرام 1401ھ;241;یکم ستمبر2019ء)

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof. Dr Rais Ahmed Samdani

Read More Articles by Prof. Dr Rais Ahmed Samdani: 752 Articles with 639500 views »
Ph D from Hamdard University on Hakim Muhammad Said . First PhD on Hakim Muhammad Said. topic of thesis was “Role of Hakim Mohammad Said Shaheed in t.. View More
01 Sep, 2019 Views: 646

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ