کشمیرکی بیٹی کسی محمد بن قاسم کے انتظار میں ہے....!!!

(Muhammad Usama Nadeem, )

مقبوضہ کشمیر میں کرفیو اور پابندیوں میں ایک مہینہ گزر چکا ہے ایک مہینے کے لاک ڈاؤن کی وجہ سے کشمیری گھروں میں قید ہیں اور نظام زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا ہے احتجاج کے خوف سے قابض فوج نے گشت بڑھا دیا ہے اور گھروں سے نکلنے پر نوجوانوں اور بچوں کو گرفتار کیا جا رہا ہے حریت قیادت اور سیاسی رہنما سمیت اب تک دس ہزار سے زائد کشمیری گرفتار کیے جا چکے ہیں سرینگر میں سول سیکرٹریٹ کی عمارت سے مقبوضہ کشمیر کا پرچم بھی اتار دیا گیا ہے یہ پرچم 1952 سے باقاعدگی سے لہرایا جاتا تھا سیکرٹریٹ کی عمارت کی چھت پر ہفتے کے روز تک مقبوضہ کشمیر اور بھارتی جھنڈے دیکھے جاسکتے تھے روزانہ مغرب کے وقت ان پرچموں کو اتار دیا جاتا اور صبح صادق ہی پر لہرا دیا جاتا تھا مگر اتوار25اگست کی صبح سے کشمیر کا پرچم لہرایا نہیں گیا اور صرف بھارتی پرچم لہرا رہا ہے.

ال پارٹیز حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی نے مقبوضہ اور جموں کشمیر کے ہر شخص سے اپیل کی ہے کہ وہ بھارتی مظالم کا بہادری سے مقابلہ کریں انہوں نے کہا ہے اس کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں کہ ہم ان کے خلاف بہادری سے لڑتے رہے .

بھارت کو جان لینا چاہئے کہ اگر وہ اپنی پوری مسلح فوج بھی کشمیر میں لے آئے تو تب بھی وہاں کی عوام اپنی خوداریت اورحق آزادی سے دستبردار نہیں ہوگی .

مودی سے پہلے کہ حکمران ہمیشہ یہی کہتے رہے کہ کشمیر کا فیصلہ کشمیریوں کی رائے کے مطابق ہی کیا جا سکتا ہے ہے اور اسی لیے انہوں نے اتنے سال تک فیصلہ نہیں کیا کہ وہ جانتے تھے کہ کشمیر میں بسنے والے اکثریت مسلمانوں کی ہے جوہندوستان کے مظالم سے آزادی حاصل کر کے پاکستان کے مسلمانوں کے ساتھ ملنا چاہتی ہے.

لیکن آج سے ایک مہینے پہلے مودی نے کشمیر کی عدالت , اپنے ملک کی عدالتوں اور اپنے ملک کی سپریم کورٹ کے فیصلے کو پس پشت ڈال کر یہ شرم ناک اقدام کر ڈالا ہے.

مودی سرکار نے واقعی ہٹلر کی یاد تازہ کردی ہے اور اس وقت مودی سرکار عالمی امن کے لیے بہت بڑا خطرہ ہے جو موجودہ دنیا کو تیسری عالمی جنگ کی طرف دھکیل رہا ہے .
اسی طرح کا مظالم کا سلسلہ کسی اور مذہب کے لوگوں کے ساتھ شروع ہوتا تو پوری دنیا چیخ پڑتی اور ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو جاتی لیکن جہاں بات مسلمانوں پر آتی ہے تو عالمی امن کے ادارے صرف تماشائی بنے کھڑے رہنے کو ترجیح دیتے ہیں .

ایک بار پھر مسلمانوں پر مظالم کی تاریخ دہرائی جا رہی ہے اس سے پہلے بھی شام, سیریا , فلسطین اور برما پر مظالم کے پہاڑ توڑے گئے مگر عالمی امن کی تمام تنظیمیں بت بنیں کھڑی رہی .

پوری دنیا یہ بات جانتی ہے کہ پاکستانی فوج کس قدر با کمال ہے کہ کسی وقت بھی اگر چاہے تو تمام قواعد و ضوابط توڑ کر کشمیر تو کیا ہندوستان کو پاکستان بنانے کی طاقت رکھتی ہے لیکن ہم صرف امن کے راہی ہیں اور امن کے لیے کوشاں ہیں ہے اور امن کے لیے کوشاں رہیں گے .

مظالم کا سلسلہ تو اس سے پہلے بھی کشمیر کے لاغر مسلمانوں پر جاری تھا بلکہ کشمیر تو کیا بھارت کے شہر احمد آباد کے مسلمانوں پر بھی ظلم ہوتا رہا لیکن ریکارڈ میں نہیں آیا لیکن کشمیر کے معاملے میں تو اب پوری دنیا ہی مودی سرکار کی دہشت گردی کی کاروائیوں سے آشنا ہو چکی ہے-

ایک مہینے سے مسلسل لوک ڈاؤن میں میں گزر جانا کوئی عام بات نہیں کشمیر کی جنت وادی پر بھارت نے لاکھوں سپاہی تعینات کر رکھے ہیں ہزاروں مورچہ بنے ہوئے ہیں اب تک ہزاروں افراد گرفتار کیے جا چکے ہیں. کرفیو لگتے ہی بھارت کی طرف سے تعینات غنڈوں نے سینکڑوں بچوں کو گرفتار کیا تھا مائیں اپنے لخت جگر سے ملنے کو بیچین ہیں یہ بھی نہیں جانتی کہ انکے لال زندہ ہیں یا جام شہادت نوش کرچکے ہیں چھرے والی گنوں سے سے کتنے ہزاروں لوگ زخمی ہو چکے ہیں اور اسی زخمی حالت میں گھر پر پڑے ہیں گھروں میں مرہم نہیں جؤ زخموں پر رکھا جاسکے گھروں میں موجود راشن ختم ہو چکا ہے .

کشمیر کی بیٹی کسی محمد بن قاسم کے انتظار میں بیٹھی ہے کشمیری مائیں بہنیں بیٹیاں سہمی بیٹھی ہیں کہ کیا پتہ کس وقت کس بھیڑئے کی نظر ان پر پڑ جائے بیٹیوں بہنوں کی عصمت دری بھی کی جاری ہے سر سے چادر چن چن کر اتاری جا رہی ہیں کشمیری مائیں پریشان ہیں کشمیری باپ آج یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ اس نے بیٹی کو جنم ہی نہ دیا ہوتا تھا تو آج اسے اپنی بیٹی کی عصمت دری کا خوف نہ ہوتا .

کشمیری مائیں بہنیں بیٹیاں کسی محمد بن قاسم, سلطان محمود غزنوی , ٹیپو سلطان, سلطان صلاح الدین ایوبی کے انتظار میں بیٹھی ہے کہ وہ آئے اور اس ظلم کے پہاڑ کو ریزہ ریزہ کر ڈالے.

کیونکہ دنیا میں کسی اور عالمی امن کے ادارے یا کسی با اختیار ملک کی طرف سے کشمیری عوام کو آزادی دلوانے میں کسی پیش رفت کی توقع اب باقی نہیں رہی دنیا کا سب سے بڑا اختیار حکومت کا صدر ٹرمپ یہ کہہ کر پیچھے ہٹ چکا ہے کہ اگر پاکستان اور بھارت سے مسئلہ کشمیر حل نہ ہوسکا تو میں آگے آؤنگا.

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Usama Nadeem

Read More Articles by Muhammad Usama Nadeem: 10 Articles with 11807 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
02 Sep, 2019 Views: 2172

Comments

آپ کی رائے