تعلیم بالغاں پارٹ 2

(Kiran Khan, Bahawalpur)

شدید شرمندگی نے گھیر لیا کہ یہ اخلاق سوز گالیاں میرا باپ بھی سن چکا ھے ۔۔میں نے فورا ان دونوں خواتین کو ایک این پنسل دے کر رولا مکایا۔۔۔اور پڑھاںی دوبارہ شروع کراںی ۔۔لکھاںی میں تھوڑا پریشان کر رہی تھیں لکھنا نھی آرھا تھا۔۔لیکن ایک بات قابل تعریف تھی سب سیکھنا چاھتی تھیں۔۔۔پینو میرے لیے پریشانیاں کھڑی کر رھی تھی۔۔کیونکہ آے روز کسی نا کسی کے ساتھ اس کی منہ ماری ھوتی۔۔میرا رعب چند ایک کے سوا کسی پر بھی نا پڑا تھا نا میری شکل خرانٹ کہ کوی مجھ سے ڈرے سو آے روز میری کلاس مچھلی بازار کا منظر پیش کر رھی ھوتی اور میں پارلیمنٹ میں سپیکر کا مقام ادا کر رھی ھوتی " دیکھیں چپ ھوجایں دیکھیں آنٹی گالیاں دینا اچھی بات نہی " مگر اگلی اپنی مرضی پر چپ ھوتیں۔

اسی طرح کوی ھفتہ دو ھفتہ اسی کشمکش میں گزر گیا ۔۔۔ایک دن میں پڑھانے کے بعد طھارت وصفای پر روشنی ڈال رھی تھی تاکہ یہ عورتیں کچھ اچھے حلیے میں آیں۔۔۔ایک نسرین نامی عورت جو کہ مجھے تھوڑی بےقرار لگ رھی ھوی تھی اٹھ کر کھڑی ھوگئ ۔۔۔باجی مجھے چھٹی دے دو۔۔۔میں نے پوچھا ابھی تو آی ھو کیا کام ھے۔۔بولی کام نہی بتا سکتی۔۔۔میں پریشان ھوگئ کیا پریشانی مجھے بتاو دیکھو میں ٹیچر ھوں ھوسکتآ ھے تمھاری مدد کرسکوں۔۔تو بولی پھر آپ باھر گیٹ پر چلو سب کے سامنے نہی بتا سکتی ۔میں اسکے ساتھ گیٹ پر آگئ ھاں اب بتاو کھل کر۔۔۔۔اس نے تھوڑے غصے +جلدی سے کہا میں قاسمے دی داڑھی پٹنی ھے"

میں حیران واٹ ۔۔۔۔ کون قاسم کس کی داڑھی پٹنی مطلب نوچنی ھے۔۔۔ بو لی میرا شوھر باجی۔۔۔ میں نے چکرا کر دیوار کو پکڑ لیا اور پھر پوچھا کتنی غلط حرکت ھے یہ کیا تم جانتی ھو؟؟ شوہریعنی مجازی خدا کی داڑھی نوچنا لا حول ولا قوت ۔۔وہ پھر بولی صرف داڑھی باجی قاسمے دا میں خون وی پی ویسا آج گال ثابت تھی گئ تاں ۔۔۔۔کل میرے لیے قاسما جھمکے لایا باجی سیم ویسے جھمکے آج پینو نے پہنے ہیں ۔۔۔۔۔اس ۔۔۔۔۔۔۔کا یارانہ ھے ضرور ۔۔۔میں معاملے کی تہہ میں پہنچ گئ اور کہا حد ھوگئ کیا یہی واحد جوڑی تھی جو تمھارے لیے آی ۔۔اور ڈیزاین بھی ھو سکتے ہیں ۔۔بات کاٹ کر جلدی سے بولی" بیبی تساں نای جانتی اے چنن پیر کے میلے کی ہیں اور چنن پیر سے میرا شوہر لایا یا کوی اور میں پتہ چلا لونگی ."
تن فن کرتی چلی گئ ۔۔اور میں اس بندے کے حال پر رحم کھاتی ھوی وااپس آگئ۔۔جسکو یقینا پتہ نا تھا کہ بیوی اور گرل فرینڈ ایک ھی سکول میں ہیں

واپس آ کہ نا چاہتے ھوے پینو کے جھمکوں پر۔نظر پڑی۔۔۔جس کا حساب قاسمے کو دینا تھا۔۔میں نے تھوڑا بہت پڑھایا تب کال آگئ کہ کل آفیسر آ رھا ھے ایک۔۔یہ چیک کرنے کہ پڑھای کیسی جا رھی ہے۔۔۔میں نے ھنگامی طور پر سب سٹوڈنٹس کو سمجھایا۔۔۔کے کس طرح بات کرنی ھے کیسا بی ھیو وغیرہ۔۔۔سب نے تسلی کرای ۔۔۔وہ لوگ تو چھٹی کے بعد چلے گِیے البتہ میں ٹینس کیونکہ ان کی زبان وبیان سے میں واقف ھو چکی تھی۔۔۔سمجھایا بار بار کہ زیادہ تر چپ رہنا جو پوچھا جاے وہی بتانا۔۔۔دوسرا دن آگیا سب سے پہلے نسرین آی۔۔۔مجھے شکل دیکھ کر شک پڑ گیا اس کا خدشہ درست ثابت ھوا تھا۔۔۔میں نے کچھ بھی پوچھنا مناسب نا سمجھا اور جلدی جلدی سکھانے لگی کہ کوی سوال سر پوچھے تو کیسے جواب دینا ھے ۔۔۔سب سٹوڈنٹس کو جمع کرنے کے بعد سب کو ریہرسل کرانا چاہی ۔۔میں نے کہا اب میں سوال پوچھونگی آپ لوگ سر سمجھ کر مجھے جواب دینا سب نے اثبات میں سر ھلایا۔۔پہلی لاین والی کمو سے میں نے سوال کیا آپ بتایں پڑھای لکھای سے کیا فایدہ حاصل ھوا اس نے میرا رٹوایا . ھوا فایدہ بتایا ۔۔۔پھر شاباش کے بعد دوسری کو کھڑا کیا آپ کو کیا فایدہ ملا اس نے بھی صیحی جواب دیا ۔۔پینو کو دیکھا فٹ سے کھڑی ھوگئ۔۔اس سے پوچھا پڑھای کا فایدہ بتاو۔۔۔۔اس سے پہلے کہ وہ لہک لہک کر جواب دیتی نسرین کو تپی بیٹھی تھی پھٹ پڑی" اے پڑھا لکھا کوٹھا کھولیسی"

میرے تو سر پر لگی پاو ں پر بجھی ۔۔۔پینو نے اپنا مورچہ سمبھالہ اور نسرین نے اپنا دونوں ایک دوسرے کے خاندانی شجرہ نسب پر روشنی ڈالنے لگیں میں نے اور باقی عورتوں نے باقاعدہ درمیان میں پڑ کر انکا دنگا رکوانا چاھا ۔۔اسی دوران میرا چھوٹا کزن سر کے آنے کی اطلاع دے گیا۔۔سب کو فورا بٹھایا ھات جوڑے اور منت کی میری عزت رکھ لینا۔۔۔نسرین اور پینو ایک دوسرے کو کھا جاانے والی نظروں سے دیکھ کر بیٹھ گئ۔۔۔سر تشریف لاے۔۔سب سٹوڈنٹس نے ادب سے سلام کیا۔سر نے بہت خوشی سے جواب دیا ۔۔۔میرے ساتھ چئر پر بیٹھ کر ان کی تعلیم ڈسکس کی پھر میری سٹوڈنٹس کا ا متحان اور میری آزمایش شروع ھو گئ۔۔۔سر نے سامنے . کمو سے شروعات کی۔۔ھاں جی کیسا پڑھاتی ھیں ٹیچر ۔۔کموں تھوڑا گڑبڑای پھر جواب دیا ۔۔جی بہوں چنگا ۔۔۔دوسری تیسری سب سے نرم لہجے میں پوچھ رھے اور جواب خدا کا شکر صیح دے رہی تھیں سب۔۔مجھے تسلی ھونے لگی۔۔۔ااب کی بارآنٹی سے سوال کیا سر نے ۔ماسی آپ کے والدین بے آپ کو کیوں نا پڑھایا تھا کیا وجہ۔۔آنٹی کے چہرے پر سر کی پینٹ شرٹ کو دیکھ کر واضح ناپسندیدگی نوٹ کرلی میں نے ۔۔اب میں متوحش ھوکہ دیکھنے لگی . کیونکہ ناپسندیدگی کا اظھار کرنے میں وہ دیر نا لگاتی تھیں۔۔۔آنٹی نے آگے سے جواب میں جو کھا میرا دل چاھا منظر سے غایب ھو جاوں "ساڈے پیو ماں اس لیے نئ پڑھایا کہ ڈھیر پڑھ لکھ تے بندہ باندر بڑ ویندے"
سر نے کہا جی۔۔وہ کیسے۔۔وہ نا سمجھتے میں پھر بھی سمجھ گئ۔۔سر نے دوسرا سوال کیا ماسی سبق یاد ھوجاتا ھے ٹھیک سے؟ ماسی نے کمال بے نیازی سے جواب میں کہا ۔۔" مس اکھیا سی ڈھیر بات نی کرنی۔۔۔۔۔جاری ہے
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Kiran Khan

Read More Articles by Kiran Khan: 16 Articles with 10236 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
03 Sep, 2019 Views: 333

Comments

آپ کی رائے