ملازمت پیشہ خواتین کے مسائل

(Zulfiqar Ali Bukhari, Rawalpindi)

ہم آپ کو ملازمت پر رکھ لیں گے؟
بس آپ کو ہمارے چند مطالبات پورے کرنے ہونگے؟
دیکھیں!
سب کو یہ اچھی تنخواہ والی نوکری چاہیے ،آپ باہربیٹھے اُمیدواروں کو دیکھیں تو آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ اچھی نوکری کتنی مشکل سے ملتی ہے؟
آپ توپریشان ہو گئی ہیں ؟
ذیادہ سوچنے کا وقت نہیں ہے ،آپ ابھی جواب دیں۔
چلیں نوکری نہیں کرنی ہے تو مت کریں، دوستی ہی کرلیں،اس میں تو کوئی آپ کا خرچ نہیں ہوگا؟
آپ پریشان نہ ہوں آپ کو ایک معقول رقم بطور ایزی پیسہ بھی دلوائیں گے؟
کیا ہوا ایک ہی بار تو دفتر سے باہر ملنا ہے کچھ ایسا ویسا نہیں ہوگا؟
دیکھو ! بات نہیں مانو گی تو نوکری بھی جا سکتی ہے؟

قارئین کرام!
میں کسی اور دنیا کی باتیں نہیں سنوا رہا ہوں یہ ہمارے پاکستان کی کہانی ہے ، یہ کسی طرح سے باتیں مجھ تک پہنچی ہیں کہ آج ہمارے ہاں جہاں لڑکیوں کی تعلیم دلوانا آسان نہیں ہے وہاں پر خواتین کا نوکری کرنا بھی بے حد مشکل ہو چکا ہے۔بقو ل ایک خاتون کے جب وہ کسی جگہ نوکری کے لئے انٹرویو دینے گئی ہیں تو جو اُن کو محسوس ہوا ہے وہ اُن کی زبانی سن لیں تو سب سمجھ آجائے گا۔

’’کچھ لوگ تو اتنے ترسے ہوئے ہیں کہ اشتہار تو دیتے ہیں کہ آسامی خالی ہے مگرجب بات نہ بنے تو کہتے ہیں کہ دوستی کرلیں‘ اور دوست بن جائیں۔ان مردوں کو اپنی ماں بہن بھول جاتی ہے کہ وہ بھی گھر پر ہیں ،اسی وجہ سے اب ایسے مردوں کے لئے میں سخت ہو گئی ہوں‘۔

قارئین کرام!
آپ نے اخبارات میں کئی بار سنا ہوگا کہ کوئی نوجوان خاتون نوکری کے لئے گئی اور اُس کے ساتھ غلط برتاؤ کیا گیا ہے، اس حوالے سے اب کیا کہا جا سکتا ہے کہ یہ ایک ایسے معاشرے میں ہو رہا ہے جہاں پر سب جانتے ہیں کہ یہ ایک اسلامی معاشرہ ہے جہاں پر خواتین کی عزت و احترام کرنا سب پر فرض ہے مگر پھر بھی اس طرح کے واقعات اس وجہ سے بھی غالباََ ہو رہے ہیں کہ سب مفاد پرست اپنے مفادات کی خاطر غریب اور مجبور خواتین کے ساتھ ایسا سلوک کرتے ہیں کہ وہ جانتے ہیں ،وہ کسی اعلیٰ افسر کے پاس شکایات لے کر نہیں جا سکتی ہیں اور اُن کی شنوائی ہونا ناممکن ہے۔

اگر چہ اس حوالے سے اب تو خاتون محتسب نے ہراسیت پر فیصلے دینے شروع کر دیئے ہیں مگر ضرورت اس امر کی ہے کہ اس حوالے سے ذرائع ابلاغ میں تشہیر کی جائے تاکہ ایسے افراد جو اس طرح خواتین کے ساتھ مسائل پیدا کرکے تنگ کررہے ہیں انکا باآسانی سدبات کیا جا سکے،اگر ہو سکے تو حکومت کو اس حوالے سے قانون سازی کر دینی چاہیے کہ اگر کسی بھی قسم کا خلاف قانون اورناجائز کام کسی بھی نوکری پیشہ خواتین کے ساتھ کیا جاتا ہے تو اس ادارے کوکم سے کم ایک سال کے لئے بند کر دینا چاہیے اور ملوث افراد بمعہ مالکان کو سزا دینی چاہیے ۔

دوسری طرف میں یہاں خواتین سے بھی گذارش کروں گا کہ دفاتر میں اپنے ساتھیوں کی جانب سے کسی بھی لحاظ سے متاثر ہوں تو اپنے ادار ے کے سربراہ یا ہراسیت کے معاملا ت دیکھنے والے آفیسر یا ہراسیت محتسب سے براہ راست رابطہ کریں تاکہ دیگر خواتین محفوظ رہ سکیں۔یہ بات بھی یاد رکھیں کہ محض نوکری کی خاطر اپنی عزت کو داؤ پر نہ لگائیں اﷲ نے آپ کا رزق دینا ہے تو اس کے لئے کوشش کریں کہیں اور بھی نوکری مل جائے گی مگر عزت و قار پھر سے ملنا مشکل ہو گا ۔مزید یہ کہ جب آپ انٹرویو میں مالکان یا دیگر افراد کی نظریں اپنے آپ پر مرکوز دیکھیں تو وہاں کوشش کریں کہ ملازمت نہ کریں یا اُن کی جانب سے کہیں کھانے کی فرمائش یا دیر تک رکنے کی بات ہو تو ہرگز تسلیم نہ کریں اور بہتر ہوگا کہ ایسا لباس بھی استعمال نہ کریں کہ لوگوں کی نظریں آپ تک آئیں اور لوگ آپ کو اپنے جال میں پھنسانے کی کوشش کریں، کسی بھی طور کے مسئلے کو شروع ہونے سے قبل ختم کرنے کی کوشش کریں، خود تنہا دفتر مت رہیں اگر ایسا ہو بھی تو ساتھی خواتین کو ساتھ روکیں مگر تنہا کہیں جانے کی غلطی نہ کریں تاکہ معاملات سنگین نوعیت اختیار نہ کریں۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Zulfiqar Ali Bukhari

Read More Articles by Zulfiqar Ali Bukhari: 322 Articles with 270889 views »
I'm an original, creative Thinker, Teacher, Writer, Motivator and Human Rights Activist.

I’m only a student of knowledge, NOT a scholar. And I do N
.. View More
04 Sep, 2019 Views: 933

Comments

آپ کی رائے