عالمی ادب اکادمی روات کے زیر اہتمام عظیم الشان محفل مشاعرہ کا انعقاد

(Muhammad Ashfaq, Rawalpindi)

 شاعری کے حوالے سے چونکہ میرا یہ پہلا مضمون ہے جس وجہ سے غلطیوں کوتاہیوں کی گنجایش بھی موجود ہے شاعری کے بارے میں میری جو بھی ناقص رائے ہے اس کو اچھے طریقے سے لکھنے کی پوری کوشش کروں گا شاعری کسی عام شخص کے بس کی بات نہیں ہے شاعر کی سوچ اس کا زہن عام زہنوں سے بہت مختلف ہوتے ہیں شاعر کو عا م دنیا سے نکل کر ایک الگ دنیا بسانا پڑتی ہے جب ہماری صبح و شام ہوتی ہے تو ایک شاعران تمام باتوں کی پرواہ کیئے بغیر ان کو اپنا ایک الگ ہی نام دے رہا ہوتا ہے شاعری حالات و واقعات کی ترجمانی ہوتی ہے اردو اور پنجابی شاعری ایک بہت ہی معروف اور انتہائی مقبول صنف ہے اردو شاعری صرف کاغذ پر ہی نہیں لکھی جاتی ہے بلکہ اس کو بہت بڑے پیمانے پر پڑھایا گایا سنا اور سنایا جاتا ہے اور اس کیلیئے بڑی بڑی محفل مشاعرہ منعقد کی جاتی ہیں جن میں عام افراد بڑی دلچسپی لیتے ہیں مشاعروں نے اردو شاعری اور خاص طور پر غزل کے فروغ میں بہت بڑا کردار ادا کیا ہے شاعر اپنے شعروں کے زریعے معاشرے میں پائی جانے والی نا انصافیوں خامیوں اور اس طرح کی دیگر برائیوں کی نشاندہی کرتے ہیں اور ایک اچھے معاشرے کی تشکیل کیلیئے شعور آگہی دیتے ہیں شعر کا لفظی مطلب ہی شعور ہے شاعر اپنے کلام کے زریعے معاشرے کو بہت کچھ سکھاتے ہیں شاعری کی اہمیت کے پیش نظر دنیا بھر میں 21مارچ کو شاعری کا عالمی دن منایا جاتا ہے محفل مشاعرہ بڑی دلچسپی کا باعث بن رہی ہیں عالمی ادب اکادمی روات کے زیر اہتمام ایک روزہ محفل مشاعرہ کا انعقاد عمل میں لایا گیا ہے جس میں ملک بھر سے مایا ناز شعراء اکرام نے شرکت کی ہے اس مھفل مشاعرہ کے مہمان خصوصی ڈاکٹر عمحمد رحیم اعوان سیکریٹری پاکستان لاء اینڈ جسٹس تھے مشاعری کی صدارت معروف شاعر ملک عرفان فانی نے کی ہے جبکہ اس پروقار محفل کی میزبانی کے فرائض ڈاکٹر منیر تابش نے ادا کیئے ہیں اس محفل کے انعقاد کا مقصد نوجوان شعراء میں موجود صلاحیتوں کو ابھارنا تھا نیز شاعروں اور شاعری کی پزیرائی کرنا تھا اور ان کو اس بات کا یقین دلانا تھا کہ وہ اپنے کلام کے زریعے معاشرے میں بہت اہم کردار ادا کر سکتے ہیں ڈاکٹر منیر تابش نے روات سے اس علمی کام کا آغاز کر کے اپنے علاقہ کو یہ پیغام دیا ہے کہ وہ ایک ایسے کام کی ابتدا کر چکے ہیں جو علمی ادبی معاشرتی اصلاح کیلیئے بہت کاریگر ثابت ہو گا محفل کا آغاز تلاوت کلام پاک اور حضور نبی پاک پر عقیدت کے پھول نچھاور کرنے والے کلمات سے ہوا ہے جس کے فرائض جناب حافظ بشارت محمود چشتی نے ادا کیئے ہیں اس کے بعد محفل میں موجود شعراء اکرام نے اپنے اپنے کلام سے حاضرین کے دلوں کو منور کیا جن شعراء اکرام نے اپنے کلام پیش کیئے ہیں ان میں افضل گوہر راؤ،پروفیسر یوسف خالد،منیر رانی شفق،سعید عاشق،انور ضیاء،کرنل نعیم اشہد،رانا سرفراز،رحمت الﷲ عامر،صفی الدین صفی،اعجاز جسین بھٹی،عثمان نواز،مبشر واصل،فیصل ملک،کرنل خالد امر،ساجد شام، محترمہ تمنا صاحبہ،وقاص احمد،محترمہ زارا بتول سیکریٹری عالمی ادب اکادمی راولپنڈی،سید جاوید بخاری،ازور لونگ،عاصم ندیم عاصی،ڈاکٹر منیر تابش،پروفیسر ڈاکٹر شیر علی،شیراز مغل،بشیر کمال شامل ہیں تمام شعراء اکرام نے اپنے اپنے بہترین کلام پیش کیئے ہیں اس محفل میں علاقہ بھر سے شاعری کی شوقین عوام کی ایک بہت بڑی تعداد نے شرکت کی ہے محفل میں بچے ، بوڑھے جوان ،خواتین اور ہر عمر کے افراد موجود تھے جنہوں نے اپنی دادوں سے شعراء اکرام سے اپنی عقیدت کا اظہار کیا ہے محفل کی کوریج پنڈی پوسٹ کی ٹیم نے کی ہے محفل کے آخر میں میزبان کی طرف سے مہمانوں کیلیئے طعام کا بہترین بندوبست بھی کیا گیا تھا
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Ashfaq

Read More Articles by Muhammad Ashfaq: 143 Articles with 45331 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
06 Sep, 2019 Views: 266

Comments

آپ کی رائے