پاکستان اور اسرائیل

(Abid Masood, )

پاکستان اور اسرائیل جغرافیائی اعتبار سے خاصے دور ہیں۔ لیکن ایک مماثلت ہے دونوں ملکوں میں کہ نظرئیے کی بنیاد پر دونوں ایک ہی وقت میں قائم ہوئے۔ پاکستان 1947 ؁ء میں برصغیر کی تقسیم کی نتیجے میں جنوب مشرقی ایشاء کے مسلمانوں کا وطن بنا تو ا اسرائیل1948؁ء میں فلسطین میں برطانوی مینڈیٹ کی خاتمے پرقائم ہوا۔

پاکستان اسلام کے نام پر بننے والا دنیا کا واحد ملک ہے۔ برصغیر کی مسلمانوں نے اس خطے پر بڑی شان و شوکت کے ساتھ ایک ہزار سال تک حکومت کی جس کے دوران یہاں معاشی ، تجارتی، سماجی لحاظ سے اس قدر ترقی ہوئی کہ برصغیر کا شمار دنیا کے سب سے خوشحال ملک کی طور پر ہوتا تھا ۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کے اقتدار حاصل کرنے کے بعد مسلمانوں کو سازشاََپسماندہ کیا گیاکہ حکمرانی کی روایات اور صلاحتیوں کے باعث یہ واحد قوم تھی۔ جو انگریز سرکار کو یہاں سے بے دخل کر سکتی تھی ۔ علاوں ازیں متعصب ہندو اکثریت نے مسلمانوں سے بدلہ لینے کی ٹھائی اور انگریز کی حلیف بن گئی ۔ 1937؁ء میں برصغیر میں عام انتخابات ہوئے اورآٹھ صوبوں میں کانگریسی وزارتیں بنیں، جن کا رویہ مسلمانوں کے خلاف اتنا معتصبانہ و معاوندانہ تھا۔ کہ مسلمان علیحدہ وطن کی جنگ لڑنے پر مجبور ہو گئے۔ لاکھوں جانوں کی قربانی اور لاکھوں افراد کے ہجرت کے بعد برصغیر کے مسلمانوں کو ایک وطن ملا۔ مگر یہ صرف مسلمانوں کا وطن نہیں ہے بلکہ اس کی مٹی پر یہاں رہنے والی اقلیتوں کا بھی برابر حق ہے۔ جبکہ اسرائیل دنیا بھر کے یہودیوں کو ایک وطن دینے کا منصوبہ تھاجو یہودی سرمایہ کاروں نے برطانوی سیاستدانوں کو مالی امداد کی عوض اپنا مہرہ بنا کر حاصل کیا اس شیطانی کھیل کا المیہ یہ ہے کہ دنیا بھرمیں جنم لینے یا مذہب میں داخل ہونے والے یہودیوں کو یہاں رہنے کا حق ہے جب کے فلسطین کے اصل باسی جو ہزاروں سال سے نسل در نسل یہاں رہ رہے ہیں ان کو یہاں رہنے کا حق نہیں کیونکہ 1400سال پہلے ان کی آباواجداد نے اسلام قبول کر لیا تھا۔نظریے کے اسی فرق کی باعث پاکستان نے اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا ۔اور اسرائیل نے ہزاروں میل کی دوری کہ باوجود پاکستان کو اپنے لیئے خطرہ سمجھا کیونکہ ایک طاقتور عسکر ی قوت رکھنے والا اسلامی ملک، فلسطینی عوام کی مدد کر سکتا ہے۔

عرب اسرائیلی جنگوں میں پاکستان نے عرب ممالک کی اخلاقی و سفارتی امداد کی اور 1970؁ء کی دہائی میں محدود پیمانے پر عسکری مدد بھی جس سے اسرائیل کے پاکستان مخالف جذبات میں اور اضافہ ہوا۔

۱۱ ستمبر 2001؁ء کے دہشت گرد حملوں میں جب امریکہ نشانہ بنا تو عالمی سطح پراسلام کے خلاف ایک مہم چلائی گئی۔ جس کا فائدہ اٹھا کر بھارت نے امریکہ کی قربت حاصل کی۔

2014؁ء میں بھارتی جنتا پارٹی نے ہندوستان میں اقتدار حاصل کیا اس سے پہلے بھارت، ہمیشہ فلسطین جدوجہد آزادی کے حمایت اور اسرائیل کے غاصبانہ قبضے کے مذمت کرتاتھا مگر انتہا پسند بی جے پی نے اس روش کو تبدیل کیااور اسرائیل سے انتہائی دوستانہ تعلقات قائم کئیے۔

آج اسرائیلی اسلحے کی برامدات کا 49 فیصد یعنی نصف حصہ بھارت کو جانا ہے۔ جس میں جدید ترین، ہوباز کے بغیر اڑنے والے جہاز، گولہ بارود، ریڈار شامل ہیں۔ اس کے علاوہ صنعتی اور زرعی شعبے میں بھی قریبی تعاون جاری ہے۔ نریندر مودی اور بنیامین نیتانیہو کی قریبی دوستی کی بنیاد مشترکہ انتہا پسندانہ اسلام مخالف جذبات اور مقاصد ہیں۔کشمیر کی جدوجہد آزادی کو کچلنے کے لیے اسرائیل نے بھارت کو بھر پور امداد و رہنمائی مہیا کی ہے۔ اور بھارت اسرائیل کی نقش و قدم پر چل کر ہی کشمیریوں کی نسل کشی اور ان کو کشمیر میں ہی اقلیت بنانے میں مصروف ہے۔

پاکستان میں ایک طبقہ چاہتا ہے کہ پاکستان اسرائیل کو تسلیم کرے اور اس کی حق میں مختلف دلائل دیے جاتے ہیں مثلاََـ
ا۔ پاکستان کا اسرائیل کو تسلیم نہ کرنا، عربوں کی وجہ سے ہے۔ اب جبکہ مصر، اردن، لبنان نے
اسرائیل کو تسلیم کر رکھا ہے تو کیا جواز ہے کہ ہم پھر بھی اس کو تسلیم نہ کریں۔
ب۔ فلسطین کی جدوجہد آزادی کی حمایت، اسرائیل کو تسلیم کرنے کی بعد بھی جاری رکھی جا سکتی ہے
جیسا کہ ترکی کر رہا ہے۔
پ۔ اسرائیل کو تسلیم کرکے بڑھتے ہوئے بھارت اسرائیل تعلقات کو روکا جا سکتا ہے کہ اسرائیل،
بھارت کو جدید ترین اسلحے کی فراہمی روک دے۔
ت۔ اسرائیل کو تسلیم کرنے سے امریکہ میں موجود بااثر یہودی حلقوں کا پاکستان کی طرف نرم
رویہ ہو جائے گا۔اس طرح وہاں یہ اپنے قومی مفادات کا تحفظ کیا جا سکتا ہے۔
ٹ۔ پاکستانی سیاحوں کو اسرائیل کے قبضے میں موجود مقدس مقامات دیکھنے کا موقعہ ملے گا اور وہاں
پرخریداری سے فلسطینی تاجروں ، دکانداروں وغیرہ کو فائدہ پہنچے گا۔
جب کہ اکثریت اسرائیل کو تسلیم کر نے کے خلاف ہے اور یہ جوابی دلائل دیتی ہے۔
ا۔ پاکستان کااسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کا فیصلہ اس بنیاد پر تھا کہ طاقت کی ذریعے ناجائز قبضے کو قانونی حیثیت نہیں دی جاسکتی․
ب۔ ابھی تک جھگڑے کے اصل فریقوں فلسطین اور اسرائیل میں کوئی تصفیعہ نہیں ہوا۔ غزہ اور مغربی
کنارے کو اوسلو معائدے کی مطابق حقوق نہیں دئیے گئے ہیں بلکہ مغربی کنارے کے کئی علاقوں کو
دوبارہ اسرائیل میں شامل کیا جا رہا ہے۔
ت۔ تسلیم کیے جانے کی بعد بھی اسرائیل بھارت کو اسلحہ بھیجے گا۔ آج کل کے عالمی حالات میں یہ سوچنا
خام خیالی ہے کہ اسرائیل جس نے بھارت کواربوں ڈالر کا اسلحہ بیچاہے وہ پاکستان کے لیے اتنا
معاشی فائدہ چھوڑ دے گا۔
ٹ۔ اگر فلسطین میں طاقت کے زریعے ناجائز قبضے کو قانونی حیثیت دے دی جائے تو پھر جدوجہد
آزادی کشمیر کا کیا مستقبل ہو گا اور کیا بین الاقوامی رائے عامہ کشمیرکے مسئلے ہماری تائید کریگی ث۔ امریکہ کے بھارت کے ساتھ اپنے معاشی تعلقات ہیں اور وہ بھارت کو چین کی خلاف استعمال
کرتا ہے۔ اس لیے امریکہ کا رویہ پاکستان اور بھارت کے ساتھ دونوں ممالک کی معیشت اور
امریکی مفادات کے مطابق ہو گا۔

پاکستان اور اسرائیل کے سفارتی تعلقات ہونے چاہیے کہ نہیں، اس پھر قومی سطح پر بحث ہونی چاہیے اور کوئی بھی فیصلہ قومی اسمبلی میں اکثریت رائے سے ہونا چاہیے جن فیصلوں کو عوامی تائید نہیں ہوتی وہ ملک وقوم کی ہم آہنگی اور یگانگت کو نقصان پہنچاتے ہیں اور ہماری تاریخ ایسے فیصلوں سے بھری پڑی ہے جب کسی طالع آزما نے صرف اپنی سوچ بوجھ سے تاریخی اہمیت کا فیصلہ کیا اور جس کے نتائج بعد میں قوم کو ہزاروں لاشوں اٹھانے کی صورت میں بھگتنے پڑے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Abid Masood
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
06 Sep, 2019 Views: 157

Comments

آپ کی رائے