انجام کیلئے تیار ہو جا!

(Sami Ullah Malik, )

کیاکہنے،کیابات تھی…..منہ سے پھول جھڑ تے تھے۔خوشبوکی برسات تھی اورمحبتوں کی بارش۔میں بہت نہایا…لطف،کرم اور عنائت۔ہاں انسان تھے، کبھی کبھار لہجہ بدل جا تاتھا،چہرہ سرخ ہوجاتااوربات کرتے کرتے آوازرندھ جاتی،آنکھیں برسنے لگتیں….بہت دیرتک سب روتے اورپھرسکینت اترتی، اورسکون چھا جاتا۔ ایسے تھے وہ،محبت کاپیکر،جسے چھولیامحبت بن گیا۔چہارسومسکراہٹ،امیدکاجھونکا،نسیم صبح۔ہرحال میں دیکھا….ہنستے ہوئے بھی،روتے ہوئے بھی،گاتے ہوئے بھی،بے خودناچتے ہوئے بھی۔اذان کی آوازآتے ہی ان کی آوازگونجتی “چلوجی بلاواآ گیا،تیری آوازمکے مدینے،ہاں ہاں آرہاہوں، تیرے محفل سے گیاہی کب تھاکہ بلارہاہے!صدقے جاؤں قربان جاؤں،چلوجی بلاواآیا۔”

بارش کاموسم ہمیشہ میرے لئے…چلئے چھوڑئیے۔کالی گھٹاچھاجاتی اورآسمان کی آنکھیں برسنے لگتیں،تب میں پکارتا”بہت بھرگیاہے ناں وہ….اب خالی ہوگااور ہمیں بھرے گا۔اب ہم کہاں جا ئیں گے برسنے کیلئے،خالی ہونے کیلئے!”پہلے بہت ہنستے اورپھرمیراہاتھ پکڑکرکہتے چل!میں پوچھتا،کہاں؟وہ کہتے”رب کی شان دیکھیں گے،پودے دیکھیں گے،درخت دیکھیں گے “ہم کھیتوں کی راہ لیتے۔راستے بھرمیں گنگناتے جاتے”پیلوپکیاں نے،پکیاں نیں وے،آچنوں رل یار”

“یہ توبتائیے برسات رک جاتی ہے لیکن یہ درخت اتنی دیرتک کیوں برستے رہتے ہیں؟””کیاہوگیاہے تجھے””یہ تومیرے سوال کاجواب نہیں ہے”توکہتے”وہ دیکھ سارے درخت دھل کرکیسے نکھرگئے ہیں”جی ہاں،ایک دن میں نے پوچھاتھا”درخت تو نکھرگئے ہیں مگرہم کب نکھریں گے؟”بہت دیرروئے لیکن جواب بالکل نہ دیااورمجھے بھی اصرارکی ہمت نہ ہوئی۔
وہ توبارش کی طرح آیا،برس کرچل دیا
اس نے کب دیکھاکہ کتنی دیرتک رویاشجر

میں کہیں اورنکل رہاہوں،مجھے آپ سے کوئی اوربات کرنی تھی اورنجانے میں کیاکیاکہہ رہاہوں۔بس میرے پاس باتیں ہی باتیں ہیں اورآپ کودیکھ کربیشمار سوالات جمع ہوجاتے ہیں۔ تھوڑے سے وقت میں بہت سے سوالات کاجواب لینے کی آرزو میں ڈھنگ کاتسلسل بھی قائم نہیں رہتا۔بے ربط گفتگوسے بھی خوف آتاہے کہ وقت کاضیاع ان کوبالکل پسندنہیں۔ایک دن کہنے لگے”اللہ جی جیسا دوست،محبت کر نے والا،شفقت کرنے والاتوکوئی ہے ہی نہیں”!
“اچھاجی وہ کیسے”میں نے پوچھاتھاان سے،اورپھردریابہنے لگا!

“دیکھ وہ پکارتاہے آؤناں میرے گھر،توکہاں جارہاہے؟میں تجھے بلارہاہوں پیارسے،آناں میرے گھر۔کوئی اس طرح پیارسے بلائے اورمیں نہ جاؤں اس کے گھر ، تووہ کتنارنجیدہ ہوتاہے! اور جب بلابلاکرتھک جائے توکہتاہے:چل تیری مرضی،مت آ۔ تھک جاتاہے،مایوس ہوجاتاہے،گھرنہیں بلاتا،رابطہ ختم ……لیکن اللہ میا ں نہیں چھوڑتا بلا نا۔دن میں پانچ بارآوازدیتا ہے۔ آؤناں،آؤناں میرے گھر…..اورجب بندہ نہیں جاتا اس کے پاس،تووہ کہتاہے…..چل تونہیں آرہا،تجھے فرصت نہیں ، تجھے بہت کام ہیں،توچل مجھے بلالے اپنے گھر…..اورپھربھی ہم نہیں سنتے،تب وہ کہتاہے:تومجھے چھوڑبیٹھاہے،بھول بیٹھاہے،توہے ہی ایسالیکن میں نے تجھے پیداکیاہے،میں توتجھے کبھی نہیں چھوڑسکتا….تووہ پھراس کے ساتھ ساتھ رہتاہے،خاموش۔ ہم نجا نے کہاں کہاں منہ مارتے پھرتے ہیں، نجا نے کس کس جگہ اپناسرجھکاتے ہیں،خوشامدکرتے ہیں،سفارش کرتے ہیں،جائزو ناجائزکرتے ہیں،حق تلفی کرتے ہیں،خیانت کرتے ہیں، منافقت کرتے ہیں،جھوٹ بولتے ہیں، کہتے کچھ ہیں کرتے کچھ ہیں۔ مکاری اورریا کاری کرتے ہیں،دھوکادیتے ہیں،اعتبارتوڑتے ہیں،معصومیت سے کھیلتے ہیں،لوگوں کوزندہ درگورکردیتے ہیں، ان کی مجبوریوں سے ناجائزفائدہ اٹھا تے ہیں،محبت کے نام پرہوس میں مبتلا ہیں،دوسروں کے مال پرنظررکھتے ہیں،اسے ہتھیانے کے ڈھونگ رچاتے ہیں۔دن رات جھوٹی قسمیں کھا کر دوسروں کامال غصب کرتے ہیں،اپنی مجالس میں اجتماعی طورپرغیبت اورچغلی مشغلہ کے طورپراختیارکئے ہوئے ہیں،لوگوں کے دلوں کو جوڑنے کی بجائے توڑنے میں فخرمحسوس کرتے ہیں۔

نجا نے کیاکیاکرتے ہم،اوراتنابھی نہیں جانتے کہ وہ جسے ہم بھلابیٹھے ہیں،ہمارے ساتھ ساتھ ہے،سب کچھ دیکھ رہاہے،سب کچھ سن رہاہے اورہمارے دلوں کے بھید وں سے بھی باخبرہے۔ ہماری ہرمنافقت سے آگاہ ہے،لیکن ہم بازہی نہیں آتے چاہے کچھ کرلو…کہیں نہیں چھپ سکتے اس سے،چھپ ہی نہیں سکتے….. ہم بہت بے شرم ہیں۔جناب خواجہ اجمیرنے کیاخوب کہا:
“رب سے ا تنی حیاتوکرجتنی تواپنے پڑوسی سے کرتاہے”۔لیکن نہیں،ہمیں توکچھ سمجھ ہی نہیں آتی،تب آتی ہے جب مہلت عمل ختم ہوجاتی ہے،بلا نے والا اپناقاصدبھیج دیتاہے کہ چل ختم ہوئی کہانی….بس بس، بہت جمع کرلیاسامان،اب اسے چھوڑنا ہے،ساتھ توکوئی بھی لے کرنہیں گیا۔بہت ہلکان ہوگیاتھا ناں،اسے جمع کرتے کرتے!توچل اب یہی ہے انجام۔دو گز کفن کا ٹکڑالے اورچل۔بہت پسندکرتاتھااپنے لئے کپڑے ،خوشبوکوچھوڑ کافورمیں بس،اورچل۔مجھے کب سمجھ آئے گی، مجھے کب سمجھ آئے گی۔بہت دیرہوگئی ناں!

ہاں میں نے انہیں ہرحال میں دیکھاہے ہنستے ہوئے بھی اورروتے ہوئے بھی،گاتے ہوئے بھی اورناچتے ہوئے بھی،ان سب نے میرے لئے راستے آسان کئے،ہر فلسفہ پا نی کردیا،وہ سب میرے اندرمیرے ساتھ رہتے ہیں،میرے یاربیلی،جن سے میں آج بھی ہربات پوچھ لیتااور مسکراتے ہوئے جواب پاتاہوں۔

جاناہے،چلے جاناہے،کسی کوبقاءنہیں ….ہاں ایک ہی گرہے،اس کے بن جاؤ،وہ تمہیں امرکردے گا۔اسی کوسجدو کروہ ہزار سجدوں سے نجات دلادے گا،اسی کا خوف دل میں رکھو،اغیارکے تمام خوف سے تمہیں آزادکردے گا۔اس کے سا منے جھکنا سیکھوجوساری دنیاکوتمہارے لئے مسخرکردے گا۔بے گناہ اوربے قصور افرادکو رہا ئی دلاؤوہ تمہیں حزن وملال سے رہاکردے گا۔ جن کے گھروں کواغیارکیلئے بربادکیاہے ان گھروں کوآبادکرووہ تمہیں دنیااورآخرت میں آباد کرے گا۔ جن کوفاسفورس کے بموں سے خاکسترکردیاہے اس گناہ عظیم کی برملا معافی مانگو اور اتنی دیرتک اس عمل کوجاری رکھوجب تک ان کے اقربا معاف نہ کردیں ۔لوگوں کوبھوک،مہنگائی،ناانصافی،بدامنی ،منافع خوری اورغربت کے سیلاب سے بچانے کی تدبیرکرو،وہ تمہیں ہر قسم کی افتادکے سیلاب سے محفوظ کردے گا۔ جلدی کرو کہ مہلت کاوقت ختم ہورہاہے۔اگراب بھی خالق کائنات کی طرف رجوع نہیں کیا….توپھرعبرتناک اورشرمناک انجام کیلئے تیار ہو جاؤ!
گلیوں میں میری لاش کوکھینچے پھروکہ میں
جا ندادہ ہوائے راہگزر تھا میں

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 247 Print Article Print
About the Author: Sami Ullah Malik

Read More Articles by Sami Ullah Malik: 248 Articles with 54732 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: