بوٹ(اوٹ پٹانگ)

(Prof Niamat Ali Murtazai, )

 نوٹ: اس اوٹ پٹانگ کو پڑھنے کے لئے گفتگو کی سی توجہ کافی ہے وہ بھی جو کسی آدمی سے کر تے وقت ہوتی ہے۔
بوٹوں کا شوق شاید ہر بچے کو ہوتا ہے۔ بوٹ پہن کر، ہر بچہ، دوڑ لگا کر اپنی ٹانگوں میں پہلے سے زیادہ مضبوطی محسوس کر کے خوشی حاصل کرتا ہے۔ غریب گھروں کے بچوں کا بوٹوں کا شوق چھوٹی عمر میں اتنا زیادہ پورا نہیں ہوتا۔ انہیں اکثر ،ایک بار بوٹ ٹوٹ جانے کے بعد ، اگلی عید کے آنے کا انتظار کرنا پڑتا ہے کہ کب عید آئے اور ان کو نئے بوٹوں کا لطف اٹھانے کا موقع ملے۔ بچپن میں، مقامی سطح پر بننے والے بوٹوں کو ،نازک پاؤں چھیلنے کی بھی بہت بری عادت ہوتی ہے ۔ سمجھ ہی نہیں آتا کہ نازک نازک پاؤں چھیل کر ان ظالم بوٹوں کو، جن کو اتنے پیار اور تکرار سے دکان دار کے بند ڈبوں سے آزادی دلاکر تازہ ہواؤں کی کھلی فضاؤں میں سانس لینے کی فرصت اتنی بری رقم خرچ کر کے دلائی جاتی ہے ،وہ انہی بچوں پر ظالمانہ ستم کرتے ہیں اور ان کا ماس کاٹ دیتے ہیں، ان کے پاؤں سے خون نکال لیتے ہیں اور اس طرح اپنے زمینی سفر کا آغاز کرتے ہیں۔ ان کو کون سمجھائے کہ ان کو پہننے والے ان سے کتنا پیار کرتے ہیں ، انہیں کتنا سنبھال سنبھال کر رکھتے ہیں اور ان کو پہن کر کیسے اتراتے ہوئے گلی اور محلے میں ٹہلتے ہیں۔ بوٹوں کو اگر اپنی اتنی عزت افزائی کی خبر ہو جائے تو وہ یقیناً پھولے نہ سمائیں۔ لیکن اچھا ہی ہے کہ ان کو اپنی اس قدر ،عزت افزائی کا علم نہیں ہے ورنہ وہ پھولتے ہوئے غریب بچوں کا بہت نقصان کر جاتے اور جھڑکین پھر انہی ناہنجار بچوں کر سننی پڑتیں۔

تیز رفتاری معاشرے کا چلن بن چکی ہے ۔ ہر وہ نوجوان جسے گاڑی چلانی آتی ہے، گاڑی کو تیز ڈرائیو کرنا اپنا فرض سمجھتا ہے۔ بلکہ آہستہ گاڑی چلانے میں شرمساری محسوس کرتا ہے جب کہ شرم اسے تیز رفتاری پے آنی چاہیئے جو کہ نہیں آتی ۔ پاکستانی عوام کو اس لئے بھی سمجھایا نہیں جا سکتا کہ اس کی اکثریت نوجوان پر مشتمل ہے جو کہ ہوتے ہی نا سمجھ ہیں اور بات سمجھنا اپنی توہیں سمجھتے ہیں اور جب بات سمجھ آتی ہے تو وہ بوڑھے ہو چکے ہوتے ہیں۔ لیکن انہیں نہیں معلوم کہ نوجوانی کا لطف دراصل گاڑی آہستہ آہستہ چلانے میں ہے۔ ہم جتنی زیادہ تیز گاڑی چلاتے ہیں اتنا ہی ہمارے ذہن کا میٹر زیادہ زور سے چلتا ہے اور اس زور میں اس نے جتنے یونٹ عام طور پراستعمال کرنے ہوتے ہیں ،ان سے زیادہ کر جاتا ہے اور نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ عمر گھٹ جاتی ہے۔ ذ ہنی اور جسمانی عمر کا توازن بگڑ جاتا ہے اور پھر عجیب و غریب حرکتوں کا انبار لگ جاتا ہے۔ وہ چھوٹا جو گاڑی چلاتا ہے اپنے آپ کو بڑا سمجھنے لگتا ہے اور جب وہ اپنے آپ کو بڑا سمجھنے لگتا ہے تو پھر کسی اور کی بات سننا ، ماننا یا اس پر دھیا ن دینا اس کی شانِ بے نیازی کے خلاف چلا جاتا ہے۔ وہ اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ وہ دوسروں کو سمجھائے اور جیسے وہ چاہتا ہے دوسرے ویسا ہی کریں کیوں کہ وہ دانائی اور فہم وفراست میں اس سے کہیں پیچھے ہیں۔

انسان اور موسم باہمی طور پر معکوس تناسب میں ہیں۔ موسم سردی کا ہو تو انسان گرمی پسند ہو جاتا ہے اور جب موسم گرمی کا ہو تو وہ سردی پسند ہو جاتا ہے۔ بڑے بڑے فطرت پرست اور فطرت شناس بھی ایسا ہی کرتے دیکھے گئے ہیں۔ موسم کے چلے جانے کے بعد اس سے پیار اور محبت کی باتیں شروع ہو جاتی ہیں اور جب موسم اپنی جوانی کے ساتھ جلوہ گر ہوتا ہے تو اس کے چلے جانے کی دعائیں مانگی جاتی ہیں اور اس کے بدل جانے کا شدت سے انتظار کیا جاتا ہے۔ خاص طور پر گرمی بچاری تو کسی کا دل جیتنے میں کامیاب ہی نہیں ہوتی۔ ہمارے علاقے میں گرمی ،ایک بے شکل سی بوڑھی عورت جیسی ہے، جس کی طرف کوئی دیکھتا نہیں ،اور نہ کوئی اسے اپنے پاس بیٹھنے کی اجازت دیتا ہے۔ لیکن وہ بھی ایسی ضدی ہے کہ ہر کسی سے گلے مل کے ہی رہتی ہے چاہے وہ اس کے جذبات کی شدت برداشت نہ کر سکے۔ یہ اپنی محبت کا احساس کوٹ کوٹ کر بلکہ نچوڑ نچوڑ کر لوگوں کے دلوں میں بھرتی ہے تاکہ کوئی بندہ ایسا نہ رہے جو یہ کہے کہ گرمی آئی تھی لیکن اس سے نہیں ملی۔ ہر انسان گرمی کی محبت کی وجہ سے سر سے پاؤں تک پسینے سے شرابور ہوتا ہے اور گرمی کی دہائی دے رہا ہوتاہے۔ بچوں، بوڑھوں اور خاص طور پر عورتوں پر تو گرمی ایک شدت پسند عاشق کی طرح مہربان ہوتی ہے۔ ان بچاری خواتین کو دن کے تین پہر آگ سے ماتھا بھی لگانا ہوتا ہے اور گرمی بھی ان پر چاروں طرف سے حملہ آور ہو رہی ہوتی ہے۔ کوئی کھانا ٹھنڈی آگ سے پکتا ہی نہیں اور نہ ہی کہیں ٹھنڈی آگ ہوتی ہے۔ گرمیوں کی آگ ٹھنڈی ہونی چاہیئے تھی لیکن فطرت میں آگ ہر جا اور ہر موسم میں گرم ہی گرم ہے بلکہ بہت زیادہ گرم ، اتنی گرم کی اسے برداشت نہیں کیا جاسکتا اور اس سے کام بھی لینے ہوتے ہیں۔ سردیوں کی آگ مزیدار ہوتی ہے خاص طور پر شدید سردی کی آگ تو جیسے دل میں سمائی ہوئی حسین سینری کی طرح ہوتی ہے جسے دیکھتے رہنے کو دل کرتا ہے اور بھرتا نہیں۔

یہ اچھی بات ہے کہ ہماری سوسائٹی میں شادیوں کے لئے سردیوں کا موسم منتخب ہو چکا ہے اور گرمیوں کو اس لحاظ سے محرومی کا سامنا ہے لیکن گرمی کو کس نے کہا تھا کہ اتنی گرم ہو جا کہ’ میک اپ‘ کی محنت ہی پسینے میں بہہ جائے۔ اگر گرمی کو کسی کے میک اپ کی فکر نہیں تو کسی کو اس موسم میں شادی کرنے کی چاہت کیوں دامن گیر ہو۔ میک اپ کو اس دور میں جو پزیرائی ملی ہے وہ اس کے نصیب میں صدیوں تک نہیں آ سکی اور وہ بہت محدود دائرے تک ہی رہ کر اپنے چاؤ پورے کر لیتا رہا ہے، لیکن اب اس میک اپ کی بھی ایسے ہی سنی گئی ہے جیسے شادی ہالوں کی سامراجیت ہر طرف قائم ہو چکی ہے۔ ہمارے خیالِ ناقص کے مطابق شادی ہالوں کا رواج کوئی ایک صدی تک رہے گا ، اس کے بعد لوگ اپنا انداز ِ بیاہ بدل لیں گے اور شادی ہالوں کے کلچر کو پرانا پرانا کہہ کر نظر انداز کر دیں گے اس وقت کی جو پانچویں چھٹی جنریشل چل رہی ہو گی وہ ان شادی ہالوں کو اپنے پرانے بوڑھے باپ داداؤں کی نشانیں سمجھ کر آثارِ قدیمہ کی فہرست میں شامل کروا دے گی یا ایسا کرنے کا سوچ رہی ہو گی۔ پھر مختصر اور محدود کھانوں کا فیشن چل رہا ہو گا جیسے ماضی میں باراتیں کئی کئی دن قیام کیا کرتی تھیں، وہ سارا زمانہ پرانا، نکارہ، اور بوسیدہ ہو کر نظر انداز ہو گیا ۔ قیام اس موجودہ انداز کو بھی نہیں رہے گا ۔ یہ انداز ِ شادی خانہ آبادی بھی نئی جنریشن کے ساتھ تبدیل ہو گا کیوں کہ تبدیلی فطرت کا مزاج اور عادت ہے۔

یہ مخمصہ حل ہونے کا نام ہی نہیں لیتا کہ کوئی بڑ ی بات کرنے کے لئے آدمی کو پہلے خود بھی بڑا ہو نا پڑتا ہے یا کہ عام آدمی بھی بڑی بات کر سکتا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ بڑی بات آدمی کو بڑا بناتی ہے یا بڑا آدمی کی ہر بات بڑی ہوتی ہے یا ہو جاتی ہے۔ دیکھنے میں تو یہی آ یا ہے اور آ بھی رہا ہے اور آتا بھی رہے گا کہ بڑے آدمی کی چھوٹی سی بات کو بھی میڈیا والے بڑی بات بنا دیتے ہیں اور چھوٹے آدمیوں کی بڑی بڑی باتیں بھی معاشرے کے آگے گم نامی کی گرد میں گم ہو جاتی ہیں ۔ اب ہمیں یہ پریشانی ہے کہ اگر بڑے آ دمی نہ بن سکے تو ہماری کہی گئیں اتنی شاندار باتوں کا کیا بنے گا؟ کہیں وہ گم نامی کی غم میں گھل گھل کے، وقت کے سمندر میں زائل ہی نہ ہو جائیں اور ہم عالمِ ارواح میں پڑے مضطرب رہیں کہ جانے دنیا میں ہماری شہرت کی باری کب آئے گی۔ بنیادی انسانی حقوق کی اس دنیا میں ہر شخص کو یو این او کے چارٹر کے مطابق مشہور ہونے کا برابر کا حق حاصل ہے۔ کسی مشہور شخص کو کون سا سرخاب کا پر لگا ہوتا ہے کہ شہرت بھاگ بھاگ کے اس کے دروازے پے جا کے دستک دیتی ہے۔ ویسے سرخاب کے پر کو اتنی فوقیت اور برتری دینا بھی انسانیت کی ہلکی پھلکی نا قابلِ محسوس بے عزتی کرنے کے مترادف ہے کیوں کہ انسان ہر مخلوق چاہے وہ سرخاب ہی کیوں نہ ہو سے افضل ہے۔ اور عام لوگوں کی بات آم کی ٹوکری میں پھینک جاتی ہے حالاں کہ انہوں نے بھی مشہور ہونے کے لئے ویسے ہی اور اتنے ہی پاپڑ بیلے ہوتے ہیں جتنے کہ مشہور ہو جانے والوں نے۔

پاپڑ بیلنے کا محاورہ کافی پرانا ہے لیکن ابھی تک مزیدار ہی چلا آ رہا ہے کیوں کہ پاپڑ خود بھی آج تک مزیدار بلکہ مسالے داراور ہاضمہ دار بھی ہے۔ لیکن یہ بات ماضی کی نسبت غلط ہو چکی ہے کہ پاپڑ بیلنا بہت مشکل ہے۔ کیوں کہ جدید سائنسی ایجادوں نے انسان کی ہر معاملے اور مشکل میں امدادی کاروائیوں سے اپنے مفید ہونے کا یقین دلایا ہے۔پاپڑ آج کل بڑی آسانی سے بیلے جا سکتے ہیں لیکن یہ بات حتمی طور پر کوئی پاپڑ بیلنے والا یا اس کام کو قریب سے دیکھنے والا ہی بتا سکتا ہے۔ میری مراد فیزیکلی پاپڑ بیلنے ہے ۔ لیکن جو لوگ محاورہ کے لحاظ سے پاپڑ بیلتے ہیں ان کا دکھ ابھی کم نہیں ہو سکا اور ان کو ماضی کی طرح ہی پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں ہاں آپ کا خیال زیادہ بہتر ہے کہ بلکہ ماضی کی نسبت انہیں زیادہ پاپڑ بیلنا پڑتے ہیں۔

کبھی گھروں میں چوہے رہا کرتے تھے اور بچے بچپن ہی سے چوہوں کی حرکات وسکنات سے واقف ہو جایا کرتے تھے۔ گھروں میں اکثر اناج کے بورے بھی رکھے جاتے تھے جو سارا سال پڑے رہتے اور اگلی فصل کے آنے پر بدلے جاتے تھے۔ چوہوں کا گھروں میں بڑے مزے سے گزارہ ہوتا تھا لیکن جب سے نیا زمانہ رائج ہوا ہے شہروں میں شاید ہی کوئی گھر ایسا ہو جو گھر میں اناج رکھنے کا اہتمام کرتا ہو، ورنہ سارے کے سارے لوگ دکان یا چکی سے آٹا لے آتے ہیں اور گندم کے ’پین‘ اور ’چھٹ بنانے‘ کی صعوبت سے بچے رہتے ہیں۔ اب خواتین بھی دیسی انداز کی نہیں رہیں، ان میں مغربیت تعلیم کے رستے سرایت کر گئی ہے اور وہ بھی مغربیت کی نفاست سے ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹنا چاہتیں۔ اس سارے معاملے کا سب سے بڑا نقصان چوہوں کو ہوا ہے۔ ان کو شہروں سے دیہاتوں کی طرف واپس رختِ سفر باندھنا پڑا ہے۔ شہروں میں ان کے رہنے کی کوئی جگہ نہیں رہی۔ دوسرا چوہے مار گولیوں نے تو چوہوں کے ساتھ وہ دشمنی کمائی ہے کہ جیسے چوہوں ان کے باپ کا اناج کھاتے ہوں۔ ان گولیوں نے چوہوں کو چن چن کردہشت گردوں کی طرح مار مکایا ہے۔ شہروں سے چوہوں کی نسل کُشی ہوجانے کے پیشِ نظر جنگلی حیات کے محافظوں کو چوہوں کو اناج سے انکا، فطرت کا طے کردہ حصہ، دلانے کے عملی اقدامات کرنے چاہیئیں ،چاہے انہیں یو این او سے کوئی وفد ہی ادھر بلانا پڑے۔

 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 194 Print Article Print
About the Author: Niamat Ali

Read More Articles by Niamat Ali: 158 Articles with 138116 views »
LIKE POETRY, AND GOOD PIECES OF WRITINGS.. View More

Reviews & Comments

Language: