پاکستان کا قومی ترانہ اس کا پسِ منظر، معنی ومفہوم اور وضاحت: گیارہویں قسط

(Syeda F GILANI, Australia)
قومی ترانے کے تیسرے اور آخری بند میں سبز ہلالی پرچم کو مخاطب کیا گیا ہے کہ اے! چاند ستارے والے پرچم تو نہ صرف اوجِ ترقی کی علامت ہے بلکہ تُو تو مسلمانوں کے ماضی کا ترجمان، ان کے حال کی شان اور مستقبل کی کی جان ہے۔اس لیے رب ذوالجلال سے دعا ہے کہ اس کا سایہ اس وطنِ عزیز کے اوپر ہمیشہ رہے اور یہ وطن خدائے بزرگ و برتر کے سائے میں ہمیشہ محفوظ رہے۔۔۔پرچم کی تاریخ پر اگر ایک سرسری نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کا رواج ازمنہ قدیم سے چلا آرہا ہے۔۔۔۔سبز مسلم لیگ کے جھنڈے کا رنگ تھا اور ہلال اور ستارہ بھی اسی کا تھا۔ فرق صرف اور صرف اتنا تھا کہ مسلم لیگی جھنڈے کا ہلال اور ستارہ ایک مختلف زوایہ بناتا تھا؛ پس بنیادی طور پر مسلم لیگ ہی کے جھنڈے میں معمولی ترمیم کرکے اس میں سفید رنگ اقلیتوں کی علامت بنا کر شامل کرکے پاکستان کا جھنڈا بنا دیا گیا۔

پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان نے 11 اگست کو کراچی میں ہونے والے اجلاس میں جب پرچم منظوری کے لیے پیش کیا تو اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا:
”صدر محترم یہ دیکھا جاسکتا ہے کہ ہمارا جھنڈا کسی ایک سیاسی جماعت یا فرقے کا جھنڈا نہیں ہے۔ یہ جھنڈا پاکستانی قوم کا اور اس پاکستانی ریاست کا جھنڈا ہے جو 14 اگست کو وجود میں آرہی ہے۔جناب والا! ہر ایک قوم کا جھنڈا محض کپڑے کا ایک ٹکڑا نہیں ہوتا۔ کپڑا بجائے خود کوئی اہمیت نہیں رکھتا بلکہ اہم وہ چیز ہوتی ہے جس کی یہ نمائندگی کرتا ہے اور میں بلا خوف و تردید کہہ سکتا ہوں کہ یہ جھنڈا جسے مجلس کے سامنے پیش کرنے کا مجھے شرف حاصل ہوا ہے ان سب لوگوں کے لیے جو پاکستان کے جھنڈے کے وفادار ہیں استقلال، آزادی اور مساوات کی علامت ہوگا۔ یہ جھنڈا ہر شہری کے جائز حقوق کی حفاظت کرے گا۔ یہ جھنڈا ملک کی سالمیت کی حفاظت و حمایت کرے گا۔ یہ جھنڈا جناب صدر، مجھے اس میں ذرا سا بھی شبہ نہیں، دنیا کی تمام قوموں کی عزت و تعظیم حاصل کرلے گا، کیونکہ مجھے یقین ہے کہ ایک دفعہ پاکستان کی ریاست قائم ہوگئی اور ایک دفعہ ہمیں سات کروڑ انسانوں کی قسمت سنوارنے کا موقع مل گیا تو ہم دنیا بھر کو یہ دکھا دیں گے کہ اگرچہ ہماری ریاست ایک ایسی نئی ریاست میں جو دنیا کی مشاورتی مجالس میں اپنا کردار دیانتداری سے ادا کرے گی اور ایسی نہیں کہ دوسروں کے علاقے فتح کرنے کی خواہاں ہو۔۔۔ میرے ذہن میں پاکستان کا جو تصور ہے اس کی رو سے پاکستان ایک ایسی ریاست ہوگا جس میں کسی مخصوص فرقے یا مخصوص مفاد کے لیے کوئی خاص مراعات، کوئی خاص حقوق نہ ہوں گے۔ یہ ایک ایسی ریاست ہوگی جس میں ہر شہری کو برابر کے حقوق حاصل ہوں گے اور برابر کے مواقع۔ یہ ایسی ریاست ہوگی جس میں لوگوں کو مساوی مراعات حاصل ہوں گی اور جو لوگ مساوی مراعات حاصل کریں انہیں قانون کی ان تمام ذمہ داریوں میں حصہ لینا ہوگا جو ریاست کے شہریوں پر عائد ہوتی ہیں“۔
چنانچہ 14اگست 1947ء کو اسے سرکاری طور پر منظور کر لیا گیا۔
پاکستان کے قومی پرچم کے دو رنگ (سبز اور سفید) دو مختلف چیزوں کی نشان دہی کے لیے بنائے گئے ہیں۔ سبز رنگ مملکتِ خداداد پاکستان کے اسلامی تصور کی علامت ہے جب کہ سفید رنگ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں بسنے والی دیگر اقلیتوں کی علامت ہے۔المختصر یہ کہ یہ دونوں رنگ مل کر وطن عزیز کی معاشی خوشحالی کے علمبردار ہیں جب کہ پرچم پر علامتِ ہلال اور ستارہ ترقی کے ساتھ ساتھ پاکستان کے روشن مستقبل اور علم کی روشنی کا پیغام دیتے ہیں۔اگر گہرائی میں دیکھا جائے تو مخمسی ستارہ اسلام کے پانچ ارکا ن (نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ اور جہاد فی سبیل اللہ) کی نمائندگی کرتا ہے جب کہ ہلال اسلام کا نشان تصور کیا جاتا ہے۔قومی ترانے کے اس بند میں سب سے اہمیت کی حامل چیز قومی پرچم کی وضاحت ہے۔
پرچمِ ستارہ و ہلال رہبرِ ترقی و کمال
ترجمانِ ماضی، شانِ حال جانِ استقبال!
سایہئ خدائے ذولجلال

اور اس کی وجہ یہ ہے کہ کسی بھی قوم اور ملک کا پرچم اس قوم و ملت اور ملک کی عزت و عظمت کا نشان سمجھا جاتا ہے۔یہی نہیں بلکہ یہ مختصر سی ایسی علامت ہے جس پر ہر ملک وقوم فخر وغرور کا حق رکھتی ہے۔اس تناظر اور پسِ منظر میں بحیثیت پاکستانی ہم دنیا کے کسی بھی خطے میں چلاے جائیں سبز ہلالی پرچم کی حفاظت ہماری اولین ذمہ داری ہونی چاہیے۔

اس بند میں ابوالاثر حفیظ جالندھری نے یہ بات سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ ایک مسلم اکثریت کے ساتھ ساتھ پاکستان میں غیر مسلم اقلیتیں بھی بس رہی ہیں۔ مملکتِ خداداد جو اللہ کریم کی ایک بہت بڑی اور خاص عنایت ہے جس کے لیے ہر پاکستانی مسلمان کو اللہ کا شکر گزار ہو نا چاہیے اور یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ اس خطہ ئ زمین پر آباد اقلیتوں کے حقوق اور ان کی آزادی کا تحفظ بھی ہماری ذمہ داری ہے کیونکہ اسلام اقلیتوں کے حقوق کی حاظت پر بہت زور دیتا ہے۔چنانچہ اس تصور کو سامنے رکھتے ہوئے جب یہاں آباد اکثریت اور اقلیت میں ایک مضبوط رشتہ استوار ہو گا تو ملک لا محالہ منازلِ ترقی برقی رفتاری سے طے کرے گا نیز منفی رجحانات کسی صورت پنپ نہ پائیں گے جو کسی بھی ملک کی جڑیں کمزور کرنے کا موجب ہو سکتے ہیں۔(جاری ہے)
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 312 Print Article Print
About the Author: Syeda F GILANI

Read More Articles by Syeda F GILANI: 18 Articles with 4903 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: