کشمیر کے عارضی دارالحکومت میں ۔۔

(Umer Farooq, )

ایک زمانہ یہ بھی تھا کہ سرینگر سے راولپنڈی تک کا سفر پورے ایک دن کا ہوتا تھا۔ مسافر صبح سرینگر سے نکلتے تھے اور مختلف شہروں اور قصبوں پٹن، بارہ مولہ ، اوڑی ، چکوٹھی ، چناری ، مظفرآباد ، مری سے ہوتے ہوئے شام کو راولپنڈی پہنچ جاتے تھے۔اس سڑک کو آج بھی سرینگر۔ راولپنڈی روڈ کہا جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ یہ تاریخی سڑک جوں ہی راولپنڈی سے ملکہ کوہسار مری کی فضاؤں (1900فٹ بلند) سے گزرتی ہوئی کوہالہ کے مقام پر یہ کشمیر میں داخل ہوتی ہے توسامنے بورڈ پرلکھا ہواہے کوہالہ سے سری نگر212 کلو میٹر دور ہے،دیکھا جائے تویہ فاصلہ کوئی زیادہ فاصلہ نہیں مگرہمارے ناعاقبت اندیشن حکمرانوں کی پالیسیوں نے یہ فاصلہ صدیوں پرمحیط کردیاہے ۔ہرگزرتے وقت کے ساتھ ساتھ یہ فاصلہ مزیدلمباہوتاجارہاہے ۔سری نگروالے توآج بھی راولپنڈی آنے کوبے تاب ہیں مگرراولپنڈی والے نہ جانے کیوں سری نگرکوبھول گئے ہیں ۔

یہ سڑک کشمیر پر ہندو ڈوگرہ حکمرانی کے دور میں اٹھارویں صدی کے آخر میں تعمیر کی گئی تھی۔ سرینگر اور راولپنڈی کے درمیان 1947 میں آمد و رفت بند ہوگئی تھی اورآج تک بندہے ۔ اس سے قبل کشمیر کو برصغیر کے ساتھ ملانے والی یہ واحد سڑک تھی جو پورا سال آمد ورفت کے لیے کھلی رہتی تھی۔ میں اسی سڑک پرسفرکرتے ہوئے بدھ اورجمعرات کی درمیانی شب مظفرآبادپہنچاتوآزادکشمیرکادارالحکومت محواستراحت تھا البتہ جمعیت علماء اسلام جموں وکشمیرکے کارکن متحرک اوربیدارتھے وہ اگلے دن ہونے والی ،،آزادی کشمیرکانفرنس ،،کی تیاریوں میں مگن تھے یونیورسٹی گراؤنڈدن کامنظرپیش کررہاتھا ۔
ؒاسی گراؤنڈمیں13ستمبرکو وزیراعظم پاکستان عمران خان نے خطاب کرتے ہوئے کہاتھا کہ جب تک میں نہ کہوں توایل اوسی کی طرف نہ جانا اگرچہ یہ عوامی جلسہ نہیں تھا سرکاری ملازمین اورتعلیمی اداروں کے طلباء وطالبات کوایک حکم نامے کے تحت خطاب سننے کے لیے لایاگیاتھا حالانکہ آج کل آزادکشمیرمیں جذبات کایہ عالم ہے کہ نہتے نوجوان بھارتی فوج چڑھ دوڑنے کے لیے بے تاب ہیں مختلف مقامات پرنوجوانوں نے کسی قیادت کے بغیرایل اوسی کوکراس کرکے پاکستان وکشمیرکاجھنڈالہرایاآپ آج کشمیرکے نام پرمظاہرے کااعلان کریں ہزاروں کشمیری باہرنکل آئیں گے مگرایسے حالات میں ہمارے وزیراعظم کوکشمیرپرجلسہ کرنے کے لیے سرکاری ملازمین ،سرکاری مشینری اورفنکاروں واداکاروں کاسہارہ لیناپڑا ؟
آزادکشمیرکے عوام چاہیے وہ کسی بھی جماعت سے تعلق رکھتے ہوں وہ مسئلہ کشمیرکی موجودہ صورتحال کے حوالے سے وفاقی حکومت کے اقدامات سے مطمئن نہیں ہیں وزیراعظم عمران خان کے متضاد بیانات اوریوٹرن سے کشمیری بھی پریشان ہیں مگرعالمی طاقتیں اورممالک ہمارے وزیراعظم سے نہایت خوش ہیں یہی وجہ ہے کہ امریکی محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ کشمیر میں تشدد سے متعلق وزیر اعظم عمران خان کا واضح اور اہم بیان قابل تعریف ہے۔امریکی معاون وزیر خارجہ برائے جنوبی ایشیا بیورو ایلس ویلز نے ایک بیان میں کہا کہ عمران خان کا یہ بیان اہم ہے کہ پاکستان سے شدت پسند کشمیر میں انتشار پھیلا سکتے ہیں، یہ شدت پسند کشمیریوں اور پاکستان دونوں کے دشمن ہیں۔واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کہ کوئی بھی مقبوضہ کشمیر جاکر کارروائیاں نہ کرے، ایسا کرنے والا پاکستان اور کشمیر دونوں کا دشمن کہلائے گا۔

جمعرات کوآزادی کشمیرکانفرنس میں عمران خان کے اس بیان کی شدیدالفاظ میں مذمت کی گئی وزیراعظم آزادکشمیرراجہ فاروق حیدرنے بھی کانفرنس سے تقریرکرتے ہوئے کہاکہ اقوام متحدہ کے قوانین کے مطابق کشمیریوں کوحق حاصل ہے کہ وہ غاصب کے خلاف آزادی کی جدوجہدکسی بھی طریقے سے شروع کریں،سینیٹرمولاناعبدالفغورحیدری نے کہاکہ مقبوضہ کشمیرمیں ظلم وبربریت کابازارگرم ہے حکمرانوں سے پوچھناچاہتاہوں کہ یہ جوہری صلاحیت کیاکوئی تعویزہے کہ جس کوتم نے چھپارکھاہے ؟اس اسلحے کی نمائش کیوں کرتے ہو،کبھی کبھارجنگ بھی ناگزیرہوتی ہے ، زیادہ ترمقررین کابھی یہ کہناتھا کہ آزادکشمیرکایہ خطہ ہمارے آباؤاجدادنے جہاد سے حاصل کیاتھا اورآج بھی قوم اپنے مظلوم مسلمانوں کی آزادی کے لیے جان ومال کی قربانی دینے کوتیارہے ،جے یوآئی کشمیرکے مفتی عبدالخالق نے کہاکہ ہمارے بزرگوں نے مظفرآبادکوبیس کیمپ کاعارضی دارالحکومت اس لیے بنایاتھا کہ ہم مقبوضہ کشمیرآزادکرواکرسری نگردارالحکومت بنائیں گے ۔

جمعرات کویونیورسٹی گراؤنڈمیں ہزاروں کااجتماع تھا تپتی د ھوپ میں بھی لوگ قائدین کے خطابات سن رہے تھے جے یوآئی کے کارکنوں کی استقامت ،اخلاص اورجذبے کودیکھ کرخداکی رحمت بھی جوش میں آئی اورظہرکے بعد بادلوں نے اس کے سروں پرسایہ کرلیا جمعیت علماء اسلام جموں وکشمیرکے سیکرٹری جنرل مولاناامتیازعباسی ،مولانامحمدمعروف ،مفتی محمودالحسن مسعودی ،مولاناعبدالحی ،مولانانذیرفاروقی ،مولاناندیم آزاد،مفتی غلام رسول اوران کی پوری ٹیم کی محنت کانتیجہ تھا کہ نہایت کامیاب کانفرنس منعقدہوئی ،آزادی کشمیرکانفرنس کے شرکاء پرجوش تھے وہ کشمیرکی آزادی کے لیے اعلان جہادکے منتظرہیں اوراپنے اکابرکی تاریخ دہرانے کے لیے بے تاب ہیں ۔

میرے ہم سبق ودوست مفتی شفیق میرکہہ رہے تھے کہ آج جے یوآئی نے ایک بڑی کانفرنس کرکے وفاقی حکومت کی کشمیرپالیسی پرعدم اعتمادکیاہے مسئلہ کشمیرپرپسپائی کایہ سلسلہ اسی طرح جاری رہاتووفاق میں بیٹھے حکمرانوں کے لیے آزادکشمیرکادوورہ کرنابھی مشکل ہوجائے گامیرے صحافی دوست عبدالواجدخا ن کاکہناتھا کہ کشمیری ایک مرحلے سے گزررہے ہیں البتہ کشمیری بیس کیمپ کے حکمران راجہ فاروق حیدر سے نہ صرف مطمئن ہیں بلکہ وہ سمجھتے ہیں کہ راجہ فاروق حیدرنے جس دن ایل اوسی توڑنے کی کال دی توآزادکشمیرکے چالیس لاکھ سے زائدمردوخواتین یہ خونی لکیررونڈڈالیں گے ،صرف یہی نہیں بلکہ پاکستان سے بھی لاکھوں عوام اس کال پرلبیک کہیں گے جمعیت علماء اسلام سندھ کے سیکرٹری جنرل علامہ راشدسومرونے کہاکہ ہمارے قائد حکم دیں ہم کشمیرکی آزادی کے لیے سروں پرکفن باندھ کرنکلیں گے ، ،جے یوآئی کشمیرکے امیرمولاناسعیدیوسف نے کہاکہ جوقوم آزادی کے لیے قربانی دیاکرتی ہے وہ کبھی غلام نہیں رہے سکتی افغان طالبان کی طرح کشمیری ڈٹ گئے توامریکہ کی طرح مودی بھی بھاگنے کاراستہ تلاش کرے گا ۔

جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانافضل الرحمن نے حسب معمول عمران خان اوران کی حکومت کوآڑے ہاتھوں لیا مولانانے انہیں ایک مرتبہ پھر کشمیرفروش حکمران کالقب دیا اوریہ لفظ عوام میں مقبول ہورہاہے مولانانے مزیدکہاکہ جعلی حکومتیں کبھی بھی قوم کی نمائندگی نہیں کرسکتیں جوکچھ انہوں نے کرناتھا و ہ کرچکے کشمیرکوبیچ چکے ہیں ایسے حکمرانوں کوکشمیریوں کے سامنے کھڑے ہونے کی جرات نہیں کرنی چاہیے ،کشمیریوں کے بعدیہ فلسطین کابھی سوداکرلیں گے،اسرائیل کوتسلیم کرنے کی باتیں اسی پالیسی کاحصہ ہیں ،نااہل حکمران کشمیرکے لیے جہادکوپاکستان دشمنی اورکشمیردشمنی سے قراردے رہاہے ہم انکوبتاناچاہتے ہیں کہ کشمیریوں کی جدوجہدآزادی زندہ ہے وہ اپنے آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں اورجے یوآئی ان کے شانہ بشانہ ہے ،کشمیری عوام کوالحاق پاکستان کی منزل کاباورکروایاگیا لیکن ہمارے حکمرانوں کی پالیسیوں کے نتیجے میں کشمیری عملی طورپرالحاق کی منزل کی طرف ایک قدم بھی نہیں بڑھ سکاہے، میں ان حالات سے گزراہوں ان کے عزائم کوجانتاہوں ان کی غیرسنجیدگی کوجانتاہوں جس کی بنیادپرآج میں آپ سے کہناچاہتاہوں کہ ہمیں الحاق پاکستان کی منزل کے لیے ازسرنو ایک نئے عزم کااظہارکرناہوگا ایک نیا عہدکرناہوگا کہ کشمیرکی آزادی کی منزل حاصل کرکے رہیں گے ۔

کانفرنس کے اختتام پرمولاناابرارکے ساتھ جب میں اسلام آبادکے لیے واپس ہواتھا تومظفرآبادمیں ہلکی ہلکی پھوارشروع ہوچکی تھی میرے ذہن میں بارباریہ خیال آرہاتھا کہ اگرہمارے حکمرانوں نے اپنی پالیسیوں سے کشمیریوں کومطمئن نہ کیا توایک خوفناک دھماکہ ہوسکتاہے ۔وزیراعظم عمران خان نے جنرل اسمبلی میں اگرکشمیریوں کی حقیقی ترجمانی نہ کی توجمعیت علماء اسلام کاآزادی مارچ ان کی حکومت میں آخری کیل ثابت ہوگا ۔مولانافضل الرحمن اس مارچ کے لیے ڈرائیونگ سیٹ پربیٹھے ہوئے ہیں اورباقی جماعتوں کوبھی اپنے ساتھ سوارکرنے کے لیے کوششیں کررہے ہیں حکومت مولاناکی کردارکشی یاانہیں گرفتارکرنے کی بجائے کشمیرسمیت دیگرمسائل حل کرنے پرزوردے توبچ سکتی ہے ورنہ لاک ڈاؤن ان کے اقتدارکی دیوارملیاملیٹ کردے گا ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Umer Farooq

Read More Articles by Umer Farooq: 104 Articles with 26061 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
22 Sep, 2019 Views: 218

Comments

آپ کی رائے