ڈینگی وائرس ،احتیاط علاج سے بہتر

(Imtiaz Ali Shakir, Lahore)

 1775ء کے عشرے میں ایشیا،افریقہ اور شمالی امریکا میں ایسی بیماری پھیلی جس میں مریض کو یک دم تیز بخار ہو جاتا،شدید سر درد،جوڑوں میں درد،بعض مریضوں کے پیٹ میں درد،خونی الٹیاں اورخونی پیچس کی بھی شکایت ہو گئی،یہ مریض سات سے دس دن تک اسی بیماری میں مبتلا رہے اور آخر کار مر گئے،لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور ان علاقوں سے لوگوں نے ہجرت کرنا شروع کر دی،اس وقت کے ماہرین صحت نے اس بارے میں تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ ایک خاص قسم کا مچھر ہے جس کے کاٹنے سے یہ مرض لاحق ہو جاتا ہے،یعنی کئی صدیاں پہلے انسان یہ تحقیق کرنے میں کامیاب ہوگیاتھاکہ ڈینگی کامرض ایک خاص قسم کے مچھرکے کاٹنے سے پھیلتاہے،افسوس کے صدیاں گزرنے کے بعدبھی انسان ایک مچھرسے بچنے کاکوئی قابل ذکرطریقہ دریافت نہیں کرسکا،ڈینگی مچھرسے پھیلنے والاخطرناک وائرس نیانہیں،وقت گزرنے کے ساتھ اس مرض کے پھیلاؤ میں آنے والی شدت میں اضافہ ہمیں دعوت تحقیق دے رہاہے کہ ہم اپنے رہن،سہن میں ہونے والی تبدیلوں پرغورکریں اوریہ جاننے کی کوشش کریں کہ آخروہ کون سی وجوہات ہیں جن کے باعث ڈینگی مچھرکی افزائش میں اضافہ ہوتاجارہاہے،ڈینگی سے متاثرہونے کے واقعات میں جس تیزی کے ساتھ اضافہ دیکھنے میں آرہاہے یہ خطرے کی گھنٹی ہے،شہری آبادیوں میں ایک سے زیادہ منزلہ عمارتیں تعمیرکی جاتی ہیں جن کے اندرقدرتی روشنی کاگزرکم ہی ہوتاہے،عمارتیں تعمیرکرتے وقت صفائی ستھرائی خاص طورپرنکاسی آب کے نظام پر خاص توجہ نہیں دی جاتی جس کے باعث جگہ جگہ پانی کھڑارہتاہے،کراچی اورراولپنڈی جیسے مختلف علاقوں میں پینے کاپانی محفوظ کرکے رکھاجاتاہے،مختصرکہ پانی ہرگھرکی ضرورت ہے ،22کروڑکی آبادی والے ملک میں سب کچھ حکومت نہیں کرسکتی،اپنے گھر،دفتراوررہنے کے دیگرمقامات کے ساتھ گاڑیوں کی دیکھ بھال ہمیں خودکرنی چاہیے،یقین جانیں ڈینگی مچھرہمارے گھرکے اندرپرورش پاتے ہیں،کھلے علاقوں یعنی دیہاتوں اورقصبوں میں پیداہونے والامچھرڈینگی وائرس پھیلانے والے مچھرسے مختلف ہوتاہے جس کے کاٹنے سے بہت کم لوگ ڈینگی وائرس سے متاثرہوتے ہیں،اب تک ملک بھرمیں ہزاروں افرادڈینگی وائرس سے متاثرہونے کی اطلاعات ہیں جبکہ دس کے قریب مریض جان کی بازی ہارچکے ہیں،عوام الناس سے التماس ہے کہ ڈینگی مچھرسے بچنے کیلئے حکومتی اقدامات کاانتظارکیے بغیراپنے گھروں اوررہنے کے دیگرمقامات کی صفائی کاخاص خیال رکھیں خاص طورپر غسل خانوں،لیٹرینوں،کچرادانوں،کچن میں برتن دھونے والے مقام کے اردگرد،اوپرنیچے سے اچھی طرح صفائی کی جائے توڈینگی مچھرکی افزائش کوروکاجاسکتاہے،یہ بات بڑی حد تک درست ہے کہ ہمارے حکمران بدعنوان،بے حس،لاپراہ ہیں توکیاہم حکمرانوں کوتنقیدکانشانہ بنانے کی غرض سے اپنی جانوں کے ساتھ کھیل جائیں،نہیں بالکل نہیں اپنا،اپنے خاندان،دوستوں اورہمسایوں کاخیال رکھیں،گھرہمارا ہے،صحت ہماری ہے توخیال بھی ہمیں ہی رکھناچاہیے ،ماہرین کے مطابق ڈینگی وائرس پھیلانے والا مچھر گندگی میں نہیں بلکہ گھروں کے اندرصاف پانی کے ٹینک، غسلخانوں اور جہاں بھی پانی کسی بالٹی،ڈرم یا گھڑوں یاگھملوں میں جمع رہے وہاں یہ مچھر پایا جاتا ہے، ڈینگی وائرس پھیلانے والا مچھر سورج طلوع ہونے سے چند گھنٹے قبل اور غروب ہونے کے چند گھنٹے بعد اپنی خوراک کی تلاش میں نکلتا ہے،ان کے مطابق ڈینگی وائرس کے جسم میں داخل ہونے کی علامات میں نزلہ زکام، بخار، سر درد، منہ اور ناک سے خون آنا،پیٹ کے پیچھے کمر میں درد ہونا اور جسم پر سرخ دانے وغیرہ نکلنا شامل ہیں،اسے فوری طور پر کنٹرول نہ کیا جائے تو پھر ’ڈینگو ہیمرج فیور‘ شروع ہوتا ہے جو جان لیوا بھی ہو سکتا ہے،کیونکہ احتیاط علاج سے بہترہے لہٰذاڈینگی مچھرسے بچاؤ کی احتیاطی تدابیراپنائیں،مچھربگاؤلوشن،کریم اوردیگرادویات کااستعمال کریں،پورے جسم پرلباس پہنچیں،اپنے گھر،دفتر،فیکٹری،کارکانے ،بچوں کے سکول وکالج اورگاڑی کی صفائی کے ساتھ مچھرمارسپرے کرائیں،رات کوسوتے وقت مچھردانی استعمال کریں اورماہرین کی دیگرہدایات پرعمل کرکے ڈینگی مچھرسے خودکواوراپنے پیاروں کومحفوظ رکھیں
 

Disclaimer: All information is provided here only for general health education. Please consult your health physician regarding any treatment of health issues.
Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 162 Print Article Print
About the Author: Imtiaz Ali Shakir

Read More Articles by Imtiaz Ali Shakir: 573 Articles with 224845 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: