سیاسی ،مذہبی اورعسکری قیادت کا حسیں اجتماع

(Umer Farooq, )

ایک چھت تلے حکومت واپوزیشن ،سیاسی ومذہبی جماعتیں اورسول وعسکری قیادت جمع تھی نہ کوئی بندہ رہااورنہ بندہ نواز،تمام قائدین ایک ہی صف میں بیٹھے تھے ،سعودی عرب جوامت مسلمہ کامرکزہے اورحرمین شریفین اس اتحادکامظہرومحورہیں اسی طرح اسلام آبادمیں قائم سعودی سفارتخانہ بھی پاکستان کی قیادت کو،،جوڑنے ،،کامرکزہے جوحکومت اوراپوزیشن باہرایک دوسرے سے ہاتھ ملاناگوارہ نہیں کرتی جس کے رہنماء ٹی وی ٹاک شوزمیں ایک دوسرے کے گریبان پکڑلیتے ہیں وہ آج مل بیٹھے تھے ،منگل اوربدھ کی درمیانی رات سعودی سفارتخانے کی طرف سے اپنے 89واں یوم آزادی کے حوالے سے مقامی ہوٹل میں پروقار تقریب کااہتمام کیاگیا تھا ،تقریب میں ڈی جی آئی ایس پی آرمیجرجنرل آصف غفورسمیت پاک فوج کے اعلی افسران توجہ کامرکزبنے رہے ،

تقریب میں سب سے آخرمیں حکومت کے خلاف ،،حقیقی اپوزیشن ،،کاکرداراداکرنے والے جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانافضل الرحمن تشریف لائے توچیئرمین سینٹ صادق سنجرانی ،گورنرخیبرپختونخواہ شاہ فرمان ،وزیراعظم کی معاون خصوصی اطلاعات ونشریات ڈاکٹرفردوس عاشق اعوان،ڈپٹی سپیکرقاسم سوری اپنی سیٹ سے اٹھ کرمولاناکے پاس گئے ان سے ملے اورحال واحوال دریافت کیا ۔یہ حکومت کی طرف سے مولاناکوپیغام تھا کہ مولاناہماری حکومت چلنے دیں ہم آپ کے ساتھ ہاتھ بلکہ گلا ملانے کوبھی تیارہیں ۔وہاں موجود غیرملکی سفراء بھی مولاناکوتجسس سے دیکھتے رہے ۔

تقریب میں وفاقی وزیرریلوے شیخ رشیدبھی موجود تھے مگروہ مولانافضل الرحمن سے آنکھ نہیں ملاسکے میں نے مولاناکے معاون خصوصی مفتی ابرارسے پوچھاکہ کیاشیخ رشیدبھی مولاناسے ملے ہیں توانہوں نے ہنستے ہوئے جواب دیاکہ شیخ رشیدمیں ہمت ہے کہ مولاناسے مل سکے ؟دراصل ان کااشارہ شیخ رشیدکے ان بیانات کی طرف تھا جووہ دیتے رہے ہیں یادے رہے ہیں ،سٹیج پرمولانافضل الرحمن کے ساتھ مسلم لیگ ن کے چیئرمین راجہ ظفرالحق ،احسن اقبال اے این پی کے حاجی غلام بلور،سینیٹرساجدمیر تشریف فرماتھے جوآپس میں مشاورت کرتے رہے ،

سعودی عرب کاقومی دن پاکستان میں بھی بڑے اہتمام سے منایاجاتاہے ،مختلف جماعتوں کی طرف سے تقاریب منعقدہوتی ہیں اخبارات میں خصوصی ایڈیشن شائع ہوتے ہیں اورپھرسعودی سفارتخانہ اس دن کی مناسبت سے ایک بڑاپروگرام منعقدکرتاہے جودراصل ایک عوامی اجتماع ہوتاہے ،اسلام آبادمیں دیگرممالک کے سفارتخانے بھی اپنے قومی دن کے حوالے سے تقاریب کاانعقادکرتے ہیں مگرجس اہتمام کے ساتھ سعودی عرب کادن بنایاجاتاہے اس کی مثال نہیں ملتی اس تقریب میں شرکت اوردعوت نامے کے حصول کے لیے کئی لوگوں کومیں نے سفارش کرواتے دیکھا ہے یہ اس محبت کااظہارہے جودونوں ممالک کے درمیان پائی جاتی ہے ۔

اہل پاکستان مملکت سعودی عرب کواپنادوسراگھرسمجھتے ہیں ،سعودی عرب نے بھی ہمیشہ پاکستانیوں اورریاست پاکستان کو عزت اور احترام دیا ہے ،پاک سعودی دوستی ایسا لازوال رشتہ ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ مزید مستحکم ہوتا جا رہا ہے سعودی عرب کے سفیرنواف سعیدالمالکی دونوں ممالک کی دوستی کوبھائی چارہ سے تعبیرکرتے ہیں، پاکستان سے باہر سعودی عرب واحد ایسا ملک ہے جہاں سب سے زیادہ پاکستانی مقیم ہیں اسکی بڑی وجہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی مقدس سرزمین ہے یہی وجہ ہے کہ ہمارے دل اس زمین کے ساتھ دھڑکتے ہیں سعودی عرب میں مقیم پاکستانی یہ کہتے ہیں کہ پاکستان ہماری پہچان ہے اور سعودی عرب ہماری جان ہے۔

سعودی سفیرنواف سعیدالمالکی نے تمام مہمانوں کامرکزی دروازے پرخوداستقبال کیا ہرایک سے پرتپاک اندازمیں گلے ملے ،جبکہ ہال میں سعودی عرب کے روایتی تلوارقص کابھی اہتمام کیاگیاتھا بچے اس رقص کوبڑے شوق وذوق سے دیکھتے ہیں مگرمیں نے اپنے دوست علامہ زاہدمحمود قاسمی سمیت کئی علماء کوتلوارہاتھ میں لیے عربیوں کے ساتھ جھومتے دیکھا ۔اس موقع پرسالگرہ کاکیک بھی کاٹاگیادونوں ممالک کے ترانے بجائے گئے اورڈاکومنٹری بھی دکھائی گئی ۔

یہ تقریب دراصل سعودی عرب کے وژن 2030کی عکاس تھی ،یہی وجہ ہے کہ اس تقریب کے دعوت نامے پروژن2030کاخوبصورت لوگوبھی لگایاگیاتھا ،سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے وژن 2030 کے نام سے ملک میں سماجی اور اقتصادی تبدیلیوں کا ایک پروگرام متعارف کرایا۔ اس منصوبے پرعمل پیراہوکر 2030 تک سعودی معیشت کا تیل پر انحصار کم کردیا جائے گا۔اس کا اعلان محمد بن سلمان نے اپریل 2016 میں کونسل آف اکنامک اینڈ ڈویلپمنٹ افیئرز کے صدر کی حیثیت سے کیا تھا۔تقریب سے نواف بن سعید المالکی نے اسی وژن پرتبادلہ خیال کرتے ہوئے کہاکہ سعودی عرب خادم حرمین شریفین کی قیادت میں ترقی کر رہا ہے وژن 2030 کے مطابق سعودی عرب مستقبل میں مزید ترقی حاصل کرے گا۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تاریخی تعلقات ہیں۔ موجودہ دور میں دونوں ممالک کے تعلقات کو بہت فروغ حاصل ہوا ہے۔ مستقبل میں پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات مزید بڑھیں گے۔

محمدبن سلمان نے چندسالوں میں حیرت انگیز عروج حاصل کیاہے ، ،شاید ہی کوئی سعودی شہزادہ عالمی سطح پر اتنی تیزی سے ابھرا ہو جس طرح محمد بن سلمان کا عروج ہوا ہے۔ اور شاہ فیصل کے بعد شاید ہی سعودی خاندان کے کسی فرد کے متعلق دنیا میں اتنا تجسس پایا جاتا ہو جتنا ولی عہد محمد بن سلمان کے متعلق پایا جاتا ہے۔ ولی عہد محمد بن سلمان نے ملک میں عورتوں کے حقوق کے حوالے سے کئی اہم اقدامات اٹھائے ہیں جو کہ قدامت پسندمعاشرے میں کسی دھماکے سے کم نہیں ہے۔انھوں نے عورتوں کو گاڑی چلانے کی اجازت دی، بغیر مرد کفیل کے کاروبار شروع کرنے کا موقع دیا، ان کے ہی دور میں ایک خاتون سعودی عرب کی سٹاک ایکسچینج کی سربراہ بنی۔ سعوی عرب میں پہلے اینٹرٹینمنٹ سٹی کا منصوبہ بھی بنایا گیا ہے۔محمدبن سلمان اقتصادی اور سماجی مسائل کے متعلق بہت لبرل ہیں اوریہی وجہ ہے کہ وہ سعودی عرب کوجدیدخطوط پراستوارکرناچاہتے ہیں اوریہ وژن ان کاعکاس ہے مگردوسری طرف سعودی عرب کومعاشی طورپرکمزورکرنے کی سازشیں بھی بدستورجاری ہیں ،چنددن قبل سعودی تیل تنصیبات پر ہونے والے حملوں سے آرامکو کمپنی کی نصف پیداوار معطل اور عالمی سطح پر تیل کی رسد متاثر ہوئی تھی۔ساتھ ہی ٹرمپ نے اپنی افواج اور میزائل دفاعی سازو سامان سعودی عرب بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔
چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی نے مہمان خصوصی کی حیثیت سے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ عالم اسلام کو درپیش مسائل کا حل آپس کے اتحاد ویگانگت میں ہے اور ہمیں اس کے لیے مل کر کام کرنا ہوگا۔پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مضبوط سے مضبوط تر ہو رہے ہیں اور آج کا یہ دن ہمیں دوستی اور تعاون کے رشتوں کی تجدید کا ایک موقع فراہم کرتا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنے تاریخی رشتوں اور تعلقات کو مشترکہ ترقی کیلئے تجارتی، دفاعی اور دیگر اہم شعبوں میں وسعت دیں۔

تقریب میں سعودی سفارتخانے کے میڈیاسیکشن کے انچارج علی خالدالدوسری بھی اپنی پوری ٹیم کے ساتھ متحرک نظرآئے انہیں ذمے داریاں سنبھالے ہوئے چنددن ہی ہوئے ہیں اس لیے کئی صحافی دوست ان کے ساتھ تبادلہ خیال کرتے رہے تقریب کے اختتام پرسٹیج پربیٹھی شخصیات اورہال میں موجود مہمان گھل مل گئے مہمانوں میں مختلف شخصیات کے ساتھ سلفیاں بنانے کاذبردست مقابلہ ہواتقریب میں اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹرقبلہ ایاز،وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے سیکرٹری جنرل قاری حنیف جالندھری ،انصارلامہ پاکستان کے سربراہ مولانافضل الرحمن خلیل ،اہل سنت و الجماعت کے سربراہ مولانامحمداحمدلدھیانوی ،پاکستان علما کونسل کے چیئرمین علامہ طاہرمحمود اشرفی ،جمعیت علما پاکستان کے سیکرٹری جنرل علامہ شاہ اویس نورانی ،جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ،عبدالرشیدترابی ،پیرخالدسلطان،صاحبزادہ سعیدالرشیدعباسی ،مسرورنوازجھنگوی ،ممبرصوبائی اسمبلی مولانامعاویہ اعظم ،مولاناضیا اﷲ شاہ بخاری ودیگرنے بطورخاص شرکت کی ۔یوں پاک سعودی دوستی کے نئے عزم کے ساتھ یہ تقریب اختتام پذیرہوئی ۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Umer Farooq

Read More Articles by Umer Farooq: 105 Articles with 28266 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
27 Sep, 2019 Views: 210

Comments

آپ کی رائے