پاکستان کا قومی ترانہ اس کا پسِ منظر، معنی ومفہوم اور وضاحت: بارہویں قسط

(Syeda F GILANI, Melbourne)

پرچم ہی کے تذکرے میں اگر ہم کلیم عثمانی (احتشام الہی)کو یاد نہ کریں تو یہ زیادتی ہے۔ وہ پرچم جسے حفیظ قوم کی علامت قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ”پرچمِ ستارہ و ہلال اور رہبرِ ترقی و کمال“ تو وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ یہ پرچم ہمارے لیے ایک رہبر کی حیثیت رکھتا ہے اور اسی کے سائے تلے رہ کر ہم ترقی اور اوجِ کمال تک پہنچ سکتے ہیں۔ حفیظؔ کی اسی بات کو کلیم عثمانی نے اپنی نظم”اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں“ میں کچھ اس طرح سے بیان کیا کہ وہ زبان زد خاص و عام ہو گئی۔
اس پرچم کے سائے تلے، ہم ایک ہیں
اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں، ہم ایک ہیں
سانجھی اپنی خوشیاں اور غم ایک ہیں، ہم ایک ہیں
ایک چمن کے پھول ہیں سارے، ایک گگن کے تارے
ایک گگن کے تارے
ایک سمندر میں گرتے ہیں سب دریاؤں کے دھارے
سب دریاؤں کے دھارے
جدا جدا ہیں لہریں، سرگم ایک ہیں، ہم ایک ہیں
سانجھی اپنی خوشیاں اور غم ایک ہیں، ہم ایک ہیں
ایک ہی کشتی کے ہیں مسافر اک منزل کے راہی
اک منزل کے راہی
اپنی آن پہ مٹنے والے ہم جانباز سپاہی
ہم جانباز سپاہی
بند مٹھی کی صورت قوم ہم ایک ہیں، ہم ایک ہیں
سانجھی اپنی خوشیاں اور غم ایک ہیں، ہم ایک ہیں
اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں، ہم ایک ہیں
پاک وطن کی عزت ہم کو اپنی جان سے پیاری
اپنی جان سے پیاری
اپنی شان ہے اس کے دم سے، یہ ہے آن ہماری
یہ ہے آن ہماری
اپنے وطن میں پھول اور شبنم ایک ہیں، ہم ایک ہیں
سانجھی اپنی خوشیاں اور غم ایک ہیں، ہم ایک ہیں
اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں، ہم ایک ہیں
قومی ترانے کے آخری بند میں ”ترجمانِ ماضی“ کی ترکیب خاص طور پر بتا رہی ہے کہ شاعر کا براہِ راست اشارہ مسلم قوم کے عظیم الشان اور درخشاں ماضی سے ہے جب مسلمانوں نے اپنی بہترین حکمتِ عملی سے اسلامی ریاست کو وسیع ومستحکم کیا اور زمانے میں عروج حاصل کیا لیکن جب اپنی اسلامی روایات سے منہ پھیرا اور اغیار کی روش کی اختیار کی تو ان کا شیرازہ بکھر گیا۔ دریں حالات پاکستان بھی ٓج کل کچھ ایسے ہی حالات سے نبرد آزما ہے دیکھیے حالات وطنِ عزیز کو کس سمت لے جاتے ہیں لیکن یہ حقیقت ہے کہ جب حفیظ ؔ نے پاکستان کا قومی ترانہ لکھا تو ان کے سامنے مسلمانوں کی ماضی کی عظیم الشان کامیابیاں اور شاندار دورِ حکومت تھا جو وہ پاکستان میں بھی دیکھنے کے خواہاں تھے۔یہی وجہ ہے کہ جب انہوں نے”شانِ حال“ کی ترکیب استعمال کی تو ان کے سامنے نئی مملکتِ خداداد کی شان و شوکت تھی کہ بے سروسامان ہونے کے باوجود دنوں میں نئے آزاد ملک کا نظم ونسق چلنے لگا کیونکہ اقتدار قابل اور قوم کے اتحاداور ان کی خدمت پر یقین رکھنے والوں کے ہاتھ میں تھا۔
شاعر کا کہنا ہے کہ اے وطن! تیرا پرچم تیری عظمت کا نشان ہے اور ہمارے حال کی شان اور مستقبل کی آن ہے اس لیے تیری حفاظت اور سربلندی کے لیے ہم تن من دھن کی بازی لگانے کے لیے تیار ہیں اور کسی بھی صورت تیری عزت وحرمت پر آنچ نہ آنے دیں گے۔تیری بقا اور حفاظت ہماری اولین ذمہ داری ہے۔تجھے کبھی سر نگوں نہیں ہونے دیں گے۔یہ پرچم کی شان ہی تو ہے کہ جب کوئی مجاہد مادر ارضی کی حفاظت کرتے کرتے اپنی جان جانِ آفرین کے سپرد کر دیتا ہے تو پرچم اس کے جسم کا کفن بن جاتا ہے اور وہ دونوں ایک دوسرے کی شان بن جاتے ہیں اور حکم ربی کے مطابق شہید تو زندہ رہتا ہے اس لیے پرچم کی شان اور آن بان بھی اس شہید کی بدولت قائم ودائم رہتی ہے۔
(جاری ہے)
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Syeda F GILANI

Read More Articles by Syeda F GILANI: 35 Articles with 21363 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
27 Sep, 2019 Views: 705

Comments

آپ کی رائے