وزیراعظم کی مشیر اطلاعات کے غیر سنجیدہ بیانات زلزلہ متاثرین کی دل آزاری

(Abdul Qayum, )

گذشتہ دنوں 24 ستمبر کو ملک کے کئی شہروں اور آزادکشمیر کے علاقوں میں زلزلہ آیا تھا جس کے نتیجے میں درجنوں شہر ی ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوگئے زلزلہ کا کا مرکز جہلم کے قریب تھا زلزلہ آنے پر لوگ کلمہ شریف پڑھتے ،توبہ استغفار کرتے ہوئے گھروں سے باہر نکل آئے عین اسی وقت وزیراعظم کی مشیراطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان پریس کانفرنس کررہی تھیں اس موقع پر انھوں نے زلزلہ کے بارے میں عجیب و غریب غیرسنجیدہ ریمارکس دئیے کہ زلزلہ تبدیلی کی نشانی ہے جب کبھی تبدیلی آتی ہے تو نیچے بیتابی بڑھتی ہے یہ تبدیلی کی نشانی ہے کہ زمین نے بھی کروٹ لی ہے جس سے زلزلہ زدگان کی دل آزاری ہوئی۔ملک بھر کے سیاسی، عوا می اور سماجی حلقوں نے زلزلہ متاثرین کی دکھ کی گھڑی میں ڈاکٹر فردوس عاشق کے اس غیرسنجیدہ بیان پر سخت ردعمل کا اظہار کیا اور بھرپور مذمت کی ہے جبکہ موصوفہ کو بھی اپنے غیرسنجیدہ بیان کی وضاحت کرنا پڑی کہتے ہیں کہ انسان کو بولنے سے پہلے سوچنا چاہیے ڈاکٹر فردوس عاشق ایک اہم زمہ داری پر فائز ہیں انھیں تو بولنے سے پہلے ایک دفعہ نہیں سو بار سوچنے کی ضرورت ہے تاکہ بعد میں وضاحتوں کی ضرورت پیش نہ آئے چند دن پہلے بھی انھوں نے ایک بیان میں کسی کا نام لیے بغیر کہا کہ دو دو ٹکے کے لوگ ٹی وی ٹاک شو میں کہتے ہیں کہ حکومت فیل ہوگئی ہے جس کا صحافتی حلقوں میں بہت برا منایا گیا ان ٹاک شوز میں بڑے بڑے پڑھے لکھے لوگ اور نامور صحافی تجزیہ کار حصہ لیتے ہیں جو اپنی ماہرانہ آراء کا اظہار کرتے ہیں ایسے میں کسی کا نام لیے بغیر سب کی توہین کرنا کسی بھی طور مناسب نہیں دیکھا جارہا ہے کہ ڈاکٹر فردوس عاشق مشیراطلاعات کے طور پر اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے غیرذمہ داری اور غیرسنجیدگی کا مظاہرہ کررہی ہے جس کی وجہ سے وزیراعظم عمران خان اور حکومت کے لیے مشکلات پیدا ہونگی شائد ڈاکٹر صاحبہ کو معلوم نہیں کہ جمہوریت میں سب کو بولنے اور اظہار رائے کا حق حاصل ہوتا ہے اس وقت پی ٹی آئی سندھ کے سوامرکز اورصوبوں میں برسر اقتدار ہے تو ماضی میں تین دہائیوں تک برسراقتدار رہنے والی ملک کی دو بڑی سیاسی پارٹیاں پاکستان مسلم لیگ ن،پیپلزپارٹی اور کئی دیگر جماعتیں اپوزیشن میں حکومت کیخلاف برسرپیکارہیں جبکہ پی ٹی آئی کو پارلیمنٹ میں معمولی اکثریت حاصل ہے ملک ایک نازک صورتحال سے گزر رہا ہے ایسے حالات میں حکومتی عناصر کو بڑی احتیاط سے کام لینے کی ضرورت ہے لیکن مشیراطلاعات کے بیانات سے محسوس ہوتا ہے کہ شائد انھیں حالات کا بخوبی علم نہیں یا انھیں حکومت کے نفع نقصان کی کوئی پرواہ نہیں اور وہ عہدے کو صرف اپنی ذاتی نمود و نمائش اور سیاست کے لیے استعمال کرنا چاہتی ہیں کیونکہ وہ کچھ عرصہ سے غیرسنجیدگی کا مظاہرہ کرتی نظر آرہی ہیں ایک آدھ ماہ پہلے ایک تقریب کے دوران مشیراطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے وزیراعظم کے دائس کے قریب جانے کی کوشش کی جس پر وزیراعظم نے ناراضگی کا اظہار کیا تو ایک سیکیورٹی اہلکار ڈاکٹر فردوس عاشق کو سٹیج کے دوسری طرف لے گیا ابھی تک یہ علم نہیں ہو سکا کہ ڈاکٹر فردوس عاشق وزیراعظم کے ڈائس کے قریب کیوں جانا چاہتی تھیں مذکورہ واقعہ کے ایک دو دن پہلے مشیراطلاعات نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی ہونے کی ٹوئیٹ کی تھی جس کے بارے وزارت خزانہ کی طرف سے تردید پر مشیراطلاعات نے اپنی ٹوئیٹ واپس لے لی تھی اسی طرح محترمہ نے وزیراعظم کی پالیسی اور ویژن کے برعکس نیب کے حوالے تنقید کی تھی کہ اس ادارے کیوجہ سے کاروباری لوگوں میں خوف و ہراس پایا جاتا ہے حالانکہ وزیراعظم کی طرف سے بارہا نیب کی کارکردگی کو سراہا گیا نیب پر ڈاکٹر فردوس کی تنقید کرنے کی ایک وجہ یہ ہے کہ ان کے خلاف بھی بینظیر ٹرانسپورٹ پروگرام میں کرپشن کا کیس نیب کے پاس ہے نیب کا کام کرپشن کی روک تھام ہے کرپشن جہاں ہوگی اس کے خلاف نیب کو کاروائی کا اختیار ہے کاروباری اداروں کی سرگرمیوں سے اس کا کوئی لینا دینا نہیں لیکن نہ جانے کس پس منظر میں لیکن مشیراطلاعات کی غلط تشریح سے نیب کی کارگردگی پر حرف آیا وزیراعظم کے مشیر اطلاعات کا منصب ایک اہم ذمہ داری ہے اس میں بڑی احتیاط اور انتہائی ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوتا ہے اس میں کسی کوتاہی اور غلط کی گنجائش نہیں ہوتی کیونکہ اس کے نتیجے میں اگرمشیراطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق کی کارگردگی متاثر ہوتی ہے تو حکومت کے لیے مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا تعلق سیالکوٹ سے ہے انھوں نے جنرل برویز مشرف کے مارشل لاء دور میں سیاست شروع کی اور پہلی بار مخصوص نشست پر تحصیل کونسل کی ممبر بنی تھیں اور صرف ایک بار عام انتخابات میں پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر ممبر قومی اسمبلی منتحب ہوئیں جب پیپلز پارٹی کو محترمہ بینظیر بھٹو شہید کی ہمدردی کا ووٹ ملا تھا بعد ازاں ڈاکٹر فردوس عاشق کو دو بار عام الیکشن میں شکست کا سامنا کرنا پڑا لیکن ان کی خوش قسمتی ہے کہ 2018ء کا الیکشن ہار جانے کے باوجود پی ٹی آئی حکومت نے انھیں وزیراعظم کا مشیر اطلاعات مقرر کردیا وزارت اطلاعات و نشریات محترمہ کی پسندیدہ وزارت ہے کہ اس میں نمود ونمائش اور ذاتی شہرت کے زیادہ مواقع ہوتے ہیں جبکہ ان کا منصب اور ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی ذاتی شخصیت کو مضبوط بنانے کی بجائے حکومت کی کارگردگی بڑھانے کی کوشش کریں اس حوالے سے ان کی کارگردگی زیادہ قابل تعریف نظر نہیں آتی ۔مشیراطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق کا غیر سنجیدہ رویہ آئے روز غیرذمہ دارانہ بیانات ان کی کارگردگی پر اثرانداز ہور ہے ہیں جو کہ وزیراعظم کے ویژن اور پالیسی کے خلاف ہے یقینی طور پر جیسا کہ وزیراعظم عمران خان بار بار کہتے رہتے ہیں کہ وزراء کو اپنے عہدوں پر برقرار رہنے کے لیے کارگردگی دکھانا ہوگی اس چیز کو مدنظر رکھتے ہوئے مشیر اطلاعات کو بھی اپنی کارگردگی دکھانے پر توجہ دینی چاہیے کیونکہ یقینی طور پر وزیراعظم عمران خان اپنے دیگر وزراء کیساتھ اپنی مشیر اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق کی کارگردگی سے بھی آگاہ رہتے ہونگے اور وہ ان کی کارکردگی کی بنیاد پر آئندہ بھی کابینہ میں رد و بدل بھی کرسکتے ہیں جیسا کہ یہ خبریں گردش کررہی ہیں کہ اکتوبر کے مہینے میں وزیراعظم عمران خان کابینہ کے اندر تبدیلیاں لائیں گے وزیراعظم کارکردگی کی بنیاد پر کابینہ میں اکھاڑ بچھاڑ کریں گے تاکہ حکومت کی کارگردگی بہتر ہو سکے اگر وزارتوں میں ردوبدل ہوتا ہے تو دیگر تبدیلیوں کیساتھ ڈاکٹر فردوس عاشق سے مشیراطلاعات کا عہدہ واپس لیے جانے کا زیادہ امکان ہے-

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Abdul Qayum

Read More Articles by Abdul Qayum: 25 Articles with 9574 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
27 Sep, 2019 Views: 505

Comments

آپ کی رائے