پاکستان کا المیہ

(Irshad Ali, Karachi)

میرے ہمسایہ گھر کے پاس ہی ایک دکان کے تھڑے پر انڈہ اور مرغ چنے بیچتا ہے میں اکثر صبح کا ناشتا اسی کے چنوں سے کرتا ہوں، کل میں دو عدد انڈے اور چنے کا پیالہ ساتھ میں صرف 2 نان کھا کر وہاں سے نکلا تو ایک اور ہمسایہ مل گیا کہنے لگا تم اس بندے کے چنے کھا رہے ہو ارے تمھیں معلوم نہیں آگے مارکیٹ میں جو اپنا بٹ چنے والا ہے لوگ دور سے آتے ہیں تم اس کے چنے کیوں نہیں کھاتے ، میں نے غصے میں آکر اس کے منہ پر دو تھپڑ مارے پھر اس کے بال پکڑ کر اسے زمین پر گھسٹتا رہا اور پھر اٹھا کر دور پھینک دیا گھبرایئے نہیں میں نے ایسا صرف سوچا تھا ، اس کی بات سن کر میں بولا کہ دیکھو مجھے میرے ہمسائے کی مالی حالت کا بخوبی اندازہ ہے جس دن بارش ہوتی ہے اس کی آنکھوں میں چھپے آنسو میرے دل کو چیر دیتے ہیں، میں ہر وقت سوچتا رہتا ہوں کہ پتہ نہیں اس کے بچوں نے آج کھانا کھایا بھی ہے یا نہیں اس لئے میں ہر دوسرے دن اس سے چنے خرید لیتا ہوں اور اپنے محلے کے دوسرے لوگوں کو بھی اس سے ہی چنے خریدنے کی تلقین کرتا ہوں تاکہ اس کا گزر بسر ہو سکے جبکہ جس بندے کی تم بات کر رہے ہو اس کی شہر میں درجنوں برانچیں ہیں وہ لکھ پتی انسان ہے ، اگر ہم ان غریبوں کی مدد کریں جو بھیک مانگنے یا سوال کرنے کی بجائے محنت کرتے ہیں تو کتنی اچھی بات ہوگی،، ہمارے ملک کا المیہ یہ ہے کہ ہم چھوٹے محنت کش کو اگنور کرتے ہیں اور بڑے محنت کش کی طرف جاتے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ چھوٹا محنت کش جلد ہی تنگدستی کے باعث کاروبار چھوڑ دیتا ہے اور گھر میں فاقے شروع ہو جاتے ہیں اگر ہم اس طرح غریب کی مدد کردیں تو ناشتے کا ناشتا ہوگیا اور اللہ بھی خوش ہوگیا..!!
(ارشاد علی)
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Irshad Ali
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
29 Sep, 2019 Views: 136

Comments

آپ کی رائے