ہم خزاؤں میں پنپنے کا ہنر رکھتے ہیں‎

(Dr Zahoor Ahmed Danish, Karachi)

میں نے زندگی میں بہت نشیب و فراز دیکھے ہیں ۔بہت قریب سے مشکلات کو دیکھا اور بہت ہی قریب سے سہولیات و اآساءش کو بھی دیکھا۔میں نے مشاہد ہ کیا ہے کہ مصائب سے گھبرا کر شکوہ وشکایت میں مبتلاء ہوجانے کو فی زمانہ بہت معمولی تصور کیا جاتا ہے۔صد حیف! علمِ دین سے دورہمارے مسلمانوں کی اکثریت اس مذموم عادت میں مبتلاء ہے ۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :
ترجمہ کنز الایمان :اور اگر ناشکری کرو تو میرا عذاب سخت ہے۔''(پ۱۳، ابراہیم:۷)
حضور اقدس صلی اللہ عليہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے جہنم میں زیادہ تعداد عورتوں کی دیکھی تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس کی کیا وجہ ہے؟تو حضور اکرم صلی اللہ عليہ وسلم نے فرمایا:ان کے ناشکری کرنے کی وجہ سے: تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کی :یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا عورتیں خدا کی ناشکری کیا کرتی ہیں؟ آپ صلي الله علي وسلم نے ارشاد فرمایا کہ عورتیں احسان کی ناشکری کرتی ہیں اور اپنے شوہروں کی ناشکری کرتی ہیں۔ ان عورتوں کی یہ عادت ہے کہ تم زندگی بھر ان کے ساتھ احسان کرتے رہو لیکن اگر کبھی کچھ بھی کمی دیکھیں گی تو یہی کہہ دیں گی کہ میں نے کبھی بھی تمہاری طرف سے کوئی بھلائی دیکھی ہی نہیں۔(بخاری ،کتاب النکاح،باب کفران العشیر..الخ،رقم۵۱۹۹،ج۳،ص۴۶۳)
محترم قارءین:ہم اپنی روز مرہ زندگی میں دیکھتے ہیں کہ ہم میں سے اگر کوئی بیمار ہوجاتاہے تو ہم ناشکری کرناشروع کردیتے ہیں ۔بلکہ بعض کم علم تو شکوہ شکایت بھی کردیتے ہیں جو کہ کسی طورپربھی درست نہیں ۔مریض کوچاہے کہ موت کوکثرت سے یاد کرے،توبہ کرتے ہوئے موت کی تیاری کرے،ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا کرے، خوب گڑگڑا کر دعا کرے،عاجزی وتنگدستی کا اظہارکرے، خالق ومالک عَزَّوَجَلَّ سے مددمانگنے کے ساتھ ساتھ علاج بھی کرائے، قوت وطاقت ملنے پراللہ عَزَّوَجَلَّ کا شکرادا کرے، شکوہ وشکایت نہ کرے، تیمارداری کرنے والوں کی عزت واحترام کرے ،مگر ان سے مصافحہ نہ کرے۔
ماضی کا کوئی تلخ واقعہ، یا شخص یا کوئی کمزوری یا شرمندگی جیسے گرد وغبار والے خیالات سے بسا اوقات لوگوں کا ذہن بھر جاتا ہے ۔با نسبت ان چیزوں کو بدلنے کے لیے لڑنے کے بجائے ان چیزوں کو قبول کرنے والا انسان خوش اور پرامن ہو جاتا ہے۔دیکھا گیا ہے کہ جو چیزیں آپ کے دائرہ اختیار میں نہیں ہے ان میں اولین لوگوں کے روئیے اور گزرا ہوا وقت ہے۔اس کے بعد جسمانی خدوخال اور ساخت ہیں ، جنہیں بہتر تو کیا جا سکتا ہے مگر تبدیل نہیں۔ تاہم چیزوں کو قبول کرنا بھی اختیاری عمل ہے اور ہر مشکل سے نمٹنے کے دو طریقے ہیں،ایک تو یہ کہ جو ہو رہا ہے اسے مان لیا جائے اور مثبت راہ اختیار کر کے ذہنی سکون اور آمادگی حاصل کی جائے ، اور دوسرا اس کے خلاف سراپا مہم بن کر پریشانی کو بڑھایا جائے ، کیونکہ یہ صورتحال فطرت کے مخالف ہے۔ہم ایسی دنیا میں رہتے ہیں جو آئے دن بدل رہی ہے ، ایسے میں انسان کسی ایک پریشان کن خیال یا چیز کے ساتھ جامد نہ ہو ۔بلکہ “تسلیم” کرنا ہی ایسی صفت ہے ، جو اپنی چھاؤں تلے انسان کو تحفظ فراہم کرنے کے ساتھ متحرک بھی رکھتی ہے۔ محض خود پر معمولی سا غور و فکر کر کے آپ اپنی زندگی کو کامیاب بنا سکتے ہیں
قارءین :سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :جس پر اس کے مال یا اس کی جان کے معاملے میں کوئی مصیبت نازل ہو اور وہ اسے چھپائے اور لوگوں کے سامنے اس کا شکوہ نہ کرے تو اللہ عزوجل کے ذمۂ کرم پر ہے کہ وہ اس کی مغفرت فرما دے۔ (المعجم الاوسط،الحدیث: ۷۳۷،ج۱،ص۲۱۴)
انسانی مزاج کا خاصا ہے کہ وہ ہمیشہ چاہتا ہے کہ اس کے معاملات درست ہی رہیں، حالانکہ وقت کی اونچ نیچ انسان کو سیکھنے اور بہتر جینے کا قابل بناتی ہے۔ایک راستہ بند ہونے سے ہی باقی راستے سامنے آتے ہیں۔جب انسان کو کوئی تکلیف یا کسی فرد سے کوئی دکھ پہنچتا ہے تو ہمارا عمومی طرز عمل ہے کہ کوسنا شروع کر دیتے ہیں یا اللہ سبحان وتعالیٰ سے گلے شکوے پر آجاتے ہیں،اس طرح انسان اس عادت میں مبتلا ہوتا ہی چلا جاتا ہے۔زندگی میں آنے والے ہر ایسے وقت کواپنے لیے چیلنج بنائیں کہ مبتلائے آزمائش میں “آزمائش” کا سامنا کرنا ہے۔ یاد رکھیں یہی وہ مومن کی صفت ہے کہ جس کا ذکر اس حدیث مبارکہ میں ملتا ہے۔
سیدنا صہیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:”مومن کا بھی عجب حال ہے ، اس کے ہر معاملے میں بھلائی ہی بھلائی ہے اور یہ بات سوائے مومن کے کسی کوحاصل نہیں ،اگر اس کو خوشی حاصل ہوئی اور اس نے شکر ادا کیا تو اس میں بھی ثواب ہے ،اور جو اس کو نقصان پہنچا اس پر صبر کیا ، تو اس میں بھی ثواب ہے”۔(مختصر صحیح مسلم ،حدیث2092)
آئیے قرآن مجید فرقان حمید سے اس معاملے میں مددطلب کرتے ہیں ۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:ترجمہ ٔ کنزالایمان:’’اگر احسان مانو گے تو میں تمہیں اور دوں گا اور ناشکری کرو تو میرا عذاب سخت ہے ‘‘
دراصل غم اور خوشی ہی وہ کیفیات ہیں ، جسے مومن “قبول” کر رہا ہوتا ہے۔خود کو ہر مشکل کے لیے تیار رکھیں کیونکہ نقصان بھی برداشت کیا جا سکتا ہے، جب آپ انا پر جمے رہتے ہیں تو مزاحمتی طاقت بھی کم ہو جاتی ہے ۔چاہے کیسا بھی نقصان ، ناکامی اور غیر متوقع حالات سے دوچار ہو نا پڑے ، جو چیز آپ کے بس میں نہیں ہے اسے قبول کرنے سے حقیقی خوش اور سکون ملتا ہے۔
ہمارا ایک المیہ یہ ہے کہ ہم اپنی ذات کے سمندر میں غوطہ لگانے کی سعی بھی نہیں کرتے اور لوگوں کو یا ماضی کو یا کسی تلخ واقعہ کو الزام دیتے رہتے ہیں بغیر یہ سوچے سمجھے کہ ہماری توقعات بھی کتنی زیادہ تھیں۔مایوسی سے بچنے کا سب سے عمدہ نسخہ یہ ہے کہ لوگوں سے توقعات نہ رکھیں ، اپنی توقعات اللہ تعالیٰ سے وابسطہ کرلیں۔آپ ﷺ کا فرمان مبارک ہے، “تم میں سے کسی کو موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ وہ اللہ تعالیٰ سے نیک گمان (حسن ظن)رکھتا ہو”۔(سنن ابن ماجہ ، حدیث 4167، )
محترم قارءین :ہم چھوٹی چھوٹی بیماریوں میں ایسے ایسے ناشکری کے الفاظ استعمال کرنا شروع کردیتے ہیں کہ الامان والحفیظ ۔جس میں ہمارے لیے کسی طور پر نفع نہیں ہوتابلکہ وہ سراسر ہلاکت ہے ۔اگر آپ کسی مرض کسی بیماری میں مبتلانہ ہوں ،فرمان مصطفی سن لیجئے اور اپنا دل بڑاکیجئے !!!
شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار، باذنِ پروردگار عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:مؤمن کا مرض اس کی خطاؤں کا کفارہ ہوتا ہے۔(المستدرک ،کتاب الجنائز،باب قصۃ اعرابی لم تاخذہ ۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث: ۱۳۲۲،ج۱،ص۶۶۷)
ایک اور مقام پر میرے آقاﷺ کے لبہائے مبارک جنبپش پاتے ہیں تو الفاظ کچھ اس طرح ترتیب پاتے ہیں :
حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:جب ایک مؤمن بیمار ہوتا ہے تو اللہ عزوجل اسے گناہوں سے اس طرح پاک فرما دیتا ہے جس طرح بھٹی لوہے کازنگ دور کر دیتی ہے۔
(المعجم لاوسط،الحدیث:۴۱۲۳،ج۳،ص۱۴۲)
پیارے قارءین :دیکھا آپ نے میرارب بندے کو اگر کسی پریشانی میں مبتلاکرتاہے تو اس میں ہزارحکتمیں ہوتی ہیں۔ ناشکری کی علامات پرغور کریں توہمیں چند مجموعی علامات ملتی ہیں ۔ایک انسان ناشکرا کہلاتا ہے اگر وہ یہ اعمال کرتا ہو۔۔ جب مشکل آئے تو اللہ سے سوال کرنے لگے۔۔ اپنی زندگی کا موازنہ دوسروں سے کرے۔۔ نعمتوں کو اپنا حق سمجھے۔۔ نعمتوں کی قدر نہ کرنا۔انسانوں کے کئے گئے احسانوں کی قدر نہ کرنا۔۔ والدین، اولاد، خاوند، بیوی وغیرہ کی ناشکری کرنا۔اللہ تعالیٰ ناشکری والوں کو سخت ناپسند کرتا ہے۔۔ اللہ تعالیٰ اپنی عطا کردہ نعمتیں واپس لے لے گا۔ اپنی نعمتوں میں کمی واقع کر سکتا ہے۔ اس دنیا اور آخرت میں سخت سزا ملے گی۔
چونکہ خدا نے دُنیا کو اپنی حکمت ومصلحت سے دارالاسباب قرار دیا ہے اور اپنے بندوں تک ہر نعمت پہنچانے کا کوئی نہ کوئی واسطہ، سبب یا ذریعہ مقرر فرمایا ہے جس کی بدولت وہ نعمت بندوں تک پہنچتی ہے اس لیے عقل اور شرع کی رو سے واسطوں کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیئے بلکہ ان کا بھی احسان ماننا چاہیئے البتہ یہ نہیں کہ اس واسطے ہی کو مستقل طور پر اور حقیقت میں اپنا منعم (نعمت بخشنے والا) سمجھے بلکہ اس کا احترام ضرور کرے کیونکہ وہ نعمت کا ذریعہ ہے اور اپنی زبان اور اپنی حالت و کیفیت سے خدا کا شکر ادا کرے کہ فلاں شخص نے مجھے تیری فلاں نعمت پہنچائی ہے ۔
اللہ رب العزت نے انسان کو اس قدر نعمتیں عطا فرمائی ہیں کہ ساری کائنات مل کر اس کو شمار کرنا چاہے تو شمار نہیں کر سکتی۔یہ بات اللہ رب العزت نے قرآن کریم میں خود فرمائی ہے:Īوَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَتَ اللَّهِ لَا تُحْصُوهَا(ابراہیم:34)
ترجمہ :اگر اللہ کی نعمتوں کو تم شمار کرنا چاہو تو شمار نہیں کر سکتے۔
قارءین !!حاصل کلام یہ کہ جو کچھ آپ کے پاس ہے وہی آپ کا اثاثہ ہے، ممکن ہے کہ جن چیزوں پر آپ کو افسوس ہے یا آپ ان پر اپنی توانائی ضائع کر رہے ہیں ، وہ ان سے بہتر ہر گز نہ ہوں جو آپ کے پاس موجود ہے۔یہی سے شکر پیدا ہوتا ہے۔اور کاملیت کسی کو نہیں ملتی یہ صفت خداوندی ہے۔
اگر کبھی زندگی میں کوئی مشکل پیش آجائے ،کوئی مالی نقصان ہوجائے ،کبھی کوئی بیماری لاحق ہوجائے یا پھر اور کسی طور پر حالات مشکل پیش آجائے تو خداراناشکری نہ کیجئے !!ہر وقت اپنے ربّ کی شکر گزاری کرتے رہیں ۔کبھی کوئی شکوۃ شکایت نہ کریں ۔۔۔پلیز پلیز ایسانہ کریں ۔۔ہرگز ہرگز شکوہ و شکایت اور ناشکری کے الفاظ نہ کریں ۔۔۔۔۔۔ہر گز ہر گز ایسا نہ کریں ۔۔۔۔
قارءین :حوصلہ تو ایسا ہونا چاہیے :
میں آندھیوں کے تسلسل کو روک لوں پہلے
مزاج گردش دوراں کو بھی ہنسا دوں گا
اور مزاج ایسا ہوکہ :
یوں بھی صحرا کو گلستاں میں بدلنے کیلئے
ہم خزائوں میں پنپنے کا ہنر رکھتے ہیں
نوٹ:قارءین :ہماراعز م ہے کہ اآپ تک سچ اور وہ بھی درست انداز میں پہنچاءیں ۔ان دنوں ہم فطرت اور قدرت کے مظاہر کے حوالے سے ایک کمپین میں مصروف ہیں ۔ہم چاہتے ہیں ۔ہم فطرت و قدرت کے مظاہر کو جانیں بھی اور ان کو بہتر انداز میں اپنی زندگی میں راءج بحی کریں ۔۔۔چنانچہ اس کی ایک کڑی @hos1011ہے ۔اآپ فیس بک پر ہمارا یہ پیج ضرور وزٹ کریں ۔۔رب نے چاہا تو اآپ کو نہ صرف مفید اور دلچسپ معلومات ملے گی ۔بلکہ دعا بھی ضرور دیں گے ۔۔۔ہم سے رابطہ کے لیے اآپ رابطہ نمبر: 03462914283
وٹس ایپ :03112268353یا پھر اآپ ہمیں ای میل کرسکتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اللہ نگہبان
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 73 Print Article Print
About the Author: DR ZAHOOR AHMED DANISH

Read More Articles by DR ZAHOOR AHMED DANISH: 235 Articles with 222589 views »
i am scholar.serve the humainbeing... View More

Reviews & Comments

Language: