جنون

(Zulfiqar Ali Bukhari, Islamabad)

ارے تحریم بیٹا!
میرے چشمے کو تو دیکھو کہاں رکھ دیا ہے، مجھے اپنی دوائی تلاش کرنی ہے؟ پتا نہیں کہاں رکھ دی تھی۔
تحریم کی امی نے تحریم کو پکارا۔
تحریم بڑے انہماک سے ٹی وی پر ائر فورس کے حوالے سے دستاویزی پروگرام دیکھ رہی تھی۔اُس نے نا چاہتے ہوئے بھی اُٹھ کر امی چشمہ اُٹھا کر دیا اور پھر سے ٹی وی کی جانب توجہ مرکوز کرلی۔
تحریم بہنوں میں سب سے چھوٹی تھی ، لاڈلی بھی تھی اسی وجہ سے کچھ لاپروائی کی جانب مائل ہو گئی تھی۔ سب اس کے معصوم چہرے اور پیاری سی خوب صورت آنکھوں کی وجہ سے اُس سے بہت محبت رکھتے تھے ،تو اسی وجہ سے اکثر اُسے دیر تک ٹیلی ویژن دیکھنے اور دیر تک موبائل فون استعمال رکھنے پر بھی کوئی کچھ نہیں بولتا تھا۔اسی وجہ سے وہ اب خوب اپنے من پسند ائرفورس کے پروگرامز کو دیکھنے لگی تھی ۔
مگر وقت کے گذرنے کے ساتھ ساتھ وہ اب سمجھدار ہو گئی تھی جس کی وجہ سے اُس نے اسکول میں پوزیشن بھی حاصل کر لی تھی کہ وہ پڑھائی میں بھی بہت ہوشیار تھی۔ تحریم نے جب سے سنا تھا کہ ائر فورس کے لئے آنکھوں کا صحت مند ہونا کتنا اہم ہے تو اُس نے موبائل فون سے اور ٹی و ی زیادہ دیکھنے سے گریز کرنا شروع کر دیا تھا۔
چونکہ شروع سے وہ بہت ذہانت رکھتی تھی تو اس نے بہت کچھ وقت سے پہلے جاننے کا آغاز شروع کر دیا تھا۔ایک بار جب تحریم اپنے والد کے ساتھ گاڑی پر جا رہی تھی تو ایک جگہ سرخ رنگ کے ٹریفک سگنل پر ایک ایمبولنس کو اشارہ توڑتے ہوتے آگے نکلتے دیکھاتو پوچھا:
ابوجی ! یہ گاڑی پر جلتی بجھتی بتی کیوں لگی ہوئی ہے؟
بیٹا!جب کوئی مریض اتنا بیمار ہو جائے کہ وہ خود چل کر ہسپتال آنے کی طاقت نہ رکھتا ہو، یا کسی حادثے کا شکار کوئی ہو جائے تو پھر اس میں اُس کو لے کر آتے ہیں۔ الطاف صاحب نے جواب دیا ۔
تحریم نے پھر سے معصومیت کے ساتھ پوچھا !
بابا !آپ تب ہی اس گاڑی کو ہمیشہ اپنی گاڑی روک کر جگہ دیتے ہیں تاکہ بیمار شخص جلدی سی ہسپتال پہنچ سکے۔
جی بیٹا ! ہم سب کو ہی ایسا کرنا چاہیے تاکہ کسی کی زندگی بچائی جا سکے۔ الطاف صاحب نے پھر سے تحریم کے سوال کا جواب دیا ۔
الطاف صاحب کو جب سے تحریم کے ائر فورس سے جنون کا علم ہوا تھا وہ اُسے با اعتماد کرنے لگے تھے ،انہوں نے ہمیشہ تحریم کی حوصلہ افزائی کی تھی کہ وہ سب کر سکتی ہے۔انہوں نے تحریم کو اچھے اور بُرے کی تمیز سمجھائی تھی کہ کس طرح سے کس سے بات کرنی تھی۔الطاف صاحب کا اپنا بھی شوق تھا کہ وہ ملک کی خدمت کر سکیں مگر وہ چند صحت کے مسائل کی وجہ سے افواج میں شامل نہ ہو سکے مگر جب سے تحریم نے ائر فورس میں جانے کی با ت کی تھی انہوں نے تحریم کی بھرپور حوصلہ افزائی کی تھی اور ہر طرح سے اُس کے خواب اور جنون کو پورا کرنے کی کوشش کرلی تھی۔
تحریم ابھی پانچ سال ہی کی تھی جب اُس نے پہلی بار ائرفورس کے جہازوں کے کرتب دیکھنے شروع کئے تھے۔پہلی بار دیکھنے سے جو تحریم کو ائر فورس سے عشق ہوا تھا وہ دن بدن زیادہ ہو رہا تھا ، ایک دن اُس نے اپنی امی سے راشد منہاس شہید کے حوالے سے جب سنا کہ انہوں نے وطن کی ناموس کی خاطر اپنی جان قربان کر دی تھی تو اُسے وطن سے جنون کی حد تک محبت ہو گئی۔
تحریم نے اپنے کمرے میں جب وہ آٹھویں جماعت میں آئی تو اسے ائر فورس کے حوالے سے تصاویر سے سجا دیا تھا اور اُس کمر ے میں بیٹھ کر وہ پڑھائی بھی خوب کرنے لگی تھی کہ ائر فورس پائلٹ بننے کا جنون ہو گیا تھا۔
چھے ستمبر کا دن اُس کی زندگی کا ایک اہم دن تھا جب اُس نے پہلی بار ایم ایم عالم کے کارنامے کو سنا اور حیرت زدہ رہ گئی تھی کہ کس طرح سے ایک منٹ سے کم وقت میں دشمنوں کے جہازوں کو تباہ کر کے نا قابل تلافی نقصان پہنچا دیا تھا۔
تحریم کے لئے مریم مختار کی زندگی بھی ایک حسین خواب کی تکمیل کی جانب بھر پور ترغیب تھی وہ لڑکی تھی اور اسی وجہ سے اُس کو حوصلہ ملا تھا کہ وہ بھی اب ایم ایم عالم کی مانند اُن کا ریکارڈ توڑ سکتی ہے۔
ائر فورس میں تحریم پڑھائی کے بعد اپنی قابلیت پر آچکی تھی اور اُس ایک خاص کاروائی کے لئے نادرن ایریاز میں ایک کاروائی کے لئے بھیجا گیا اُس نے وہاں پر دشمنوں کے ٹھکانوں پر کامیاب حملے کر دیئے تھے تاکہ وہ ملک دشمن کاروائی سے باز رہیں۔ابھی وہاں سے واپسی ہی ہوئی تھی کہ پڑوسی ملک کے ساتھ جنگ شروع ہو گئی تھی تحریم نے کم ترین وقت میں دشمنوں کے کئی جہاز تباہ کر دیئے تھے۔اس نے اپنے جنون کو استعمال کرلیا تھا جس نے وطن کی سرزمین کو محفوظ کر دیا تھا۔
مگر غاذی بننے کی تحریم خواہش نہیں رکھتی تھی اس لئے اُس نے دشمنوں کے علاقے میں گھس کر حملے کا سوچا ،ابھی اس نے ایک ہی مزید جہاز تباہ کیا تھا مگر دشمنوں کے جہازوں نے جب گھیر ے میں لے کر اُترنے پر مجبور کیا تو اُس نے اپنے جہاز کو دشمن جہاز سے ٹکرا دیا تھا ، اپنے جنون سے وہ شہادت کے رقبے پر فائز تو ہو چکی تھی مگر اُس نے وطن کے دفاع کو نا قابل تسخیر ثابت کر دیا تھا۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Zulfiqar Ali Bukhari

Read More Articles by Zulfiqar Ali Bukhari: 322 Articles with 271672 views »
I'm an original, creative Thinker, Teacher, Writer, Motivator and Human Rights Activist.

I’m only a student of knowledge, NOT a scholar. And I do N
.. View More
09 Oct, 2019 Views: 720

Comments

آپ کی رائے