کرے کوئی بھرے کوئی

(Mukhtar Ahmed, Islamabad)

بہت سالوں پہلےکا قصہ ہے اور بات ہے ان کھیلوں کی جو اس وقت کے بچے کھیلا کرتے تھے- اس زمانے کے بچوں کی طرح ان کے کھیل بھی سیدھے سادھے ہوتے تھے- پہل دوج، گٹے، پکڑم پکڑائی، کھو کھو، پٹھو گرم، چھپم چھپائی ، گلی ڈنڈااور ایسے ہی دوسرے کھیل کہ رات دن کھیلنے سے بھی دل نہ بھرے-

ان ہی کھیلوں میں ایک کھیل سگریٹ کی خالی ڈبیوں سے بھی کھیلا جاتا تھا- سائنس نے اس وقت اتنی ترقی نہیں کی تھی اس لیے مختلف النوع کے نشے بھی ایجاد نہیں ہوۓ تھے- لوگ حقوں، بیڑیوں اور سگریٹوں سے ہی کام چلاتے تھے- لوگ سگریٹ پی کر خالی ڈبیاں گلی محلوں اور بازاروں میں پھینک دیتے تھے-

ایک مخصوص طبقے کے بچے جن کا تعلق مڈل اور لوئر مڈل گھرانوں سے ہوتا تھا، گلی محلوں اور بازاروں میں پڑی ان خالی ڈبیوں کو اٹھا کر گھر لے آتے - وہ انہیں ایک طویل قطار میں آگے پیچھے کھڑا کر کے آخری والی ڈبیہ کو انگلی کے اشارے سے گرا دیتے تھے اور یوں تمام ڈبیاں کھٹ کھٹ کر کے گرتی چلی جاتی تھیں- ان کے لہراتے ہوۓ گرنے کا منظر بہت خوش کن ہوتا تھا اور اس وقت کے وہ بچے اس کھیل سے اتنا ہی لطف اندوز ہوتے تھے جتنا کہ آج کل کے بچے موبائل پر ویڈیو گیم کھیل کر لطف اندوزہوتے ہیں-

بات ہو رہی تھی سگریٹ کے خالی پیکٹوں سے کھیلنے کی- آخری قطار میں موجود ڈبیہ کی طرح کا فرد کسی ایک آدھ گھر میں بھی مل جاتا ہے- یہ خود تو گرتا ہے مگر اس کے ساتھ ہی دوسروں کو بھی گرنا پڑتا ہے- ایسے آدمی کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جو ذمے داریوں اور پابندیوں سے گھبراتے ہیں- ان کی خود غرضی انہیں اپنے تک ہی محدود رکھتی ہے- لالچ ان کی طبیعت کا لازمی جز ہوتا ہے- ان کو ماں ، باپ، بھائی بہنوں اور خاندان کی عزت سے کوئی غرض نہیں ہوتی اور یہ صرف اپنے مزے اور اپنے آرام سے مطلب رکھتے ہیں- ان کی خاص پہچان یہ ہوتی ہے کہ ہر دم شکوے شکایت کرتے رہتے ہیں- شکوے شکایتوں کی وجہ سے ان کی بدمزاجی اور بد سلوکی اپنے عروج پر ہوتی ہے- ان کی خواہش ہوتی ہے کہ انہیں کچھ بھی نہ کرنا پڑے اور زندگی کی تمام آسائشیں انہیں مل جائیں- یہ لوگ اس بات کو فراموش کردیتے ہیں کہ کچھ پانے کے لیے کچھ کھونا پڑتا ہے- ان میں سے کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں کہ اپنی ان عادتوں کی وجہ سے مختلف جرائم کی طرف نکل جاتے ہیں-

زندگی میں دوسری چیزوں کی طرح پیسے کی بھی اہمیت ہے اور اچھے لوگ اسے اپنی ایمانداری، محنت اور لیاقت سے کماتے ہیں اور اپنے خاندان والوں کے ساتھ ایک پرسکون اور عزت کی زندگی گزارتے ہیں- اس حلال کمائی سے گھر چلتے ہیں، زندگی کی ضروریات پوری ہوتی رہتی ہیں اور ان کی زندگی میں نہ کوئی شرمندگی ہوتی ہے اور نہ ڈر خوف-

اچھی زندگی گزارنے کے فطری اصول صدیوں سے رائج ہیں- جو لوگ ان پر عمل پیرا ہوتے ہیں وہ سکون سے زندگی گزارتے ہیں- جو لوگ فطری زندگی گزارنے کے طریقوں سے شعوری یا لا شعوری طور پر انحراف کرتے ہیں یہ اس بات کی غماز ہوتی ہے کہ ان کا برا وقت شروع ہوگیا ہے-

آصف کا بھی برا وقت شروع ہوگیا تھا- اس کا تعلق ایک غریب گھرانے سے تھا- اس کی ایک بڑی بہن اور ایک چھوٹا بھائی تھا- اس کے ماں باپ نے زندگی میں بڑی تکلیفیں اٹھائی تھیں مگر وہ اس امید پر جی رہے تھے کہ کبھی نہ کبھی تو اچھا وقت بھی آئے گا- اس کے باپ نے اپنی پوری کوشش اس بات پر صرف کردی تھی کہ وہ پڑھ لکھ کر کسی جگہ نوکر ہوجائے-

مالی دشواریوں کے باوجود اس کے باپ نے اسے دسویں جماعت تک پہنچا دیا تھا- اسے امید تھی کہ آصف میٹرک کرلے تو اسے اس کی مل میں نوکری مل جائے گی- اس کے لیے اس نے اپنے انچارج سے بھی بات کر لی تھی- انچارج نے اس سے وعدہ بھی کرلیا تھا کہ میٹرک کرتے ہی وہ اپنے بیٹے کو یہاں لے آئے، وہ سیٹھ سے بات کر کے اسے آفس کے کسی کام میں لگوا دے گا-

مگر پڑھائی لکھائی میں آصف کا دل ہی نہیں لگتا تھا، اس وجہ سے اب اسے میٹرک میں دوسرا سال تھا- اس کی ناکامی سے اس کا باپ دل برداشتہ ہوگیا تھا- وہ تو خوش ہو رہا تھا کہ ادھر بیٹے نے میٹرک کیا ادھر اس کا انچارج اسے نوکری پر رکھ لے گا، مگر وہ تو ناکام ہوگیا تھا- اس ناکامی پر باپ نے غصہ کیا تو جواب میں آصف نے باپ سے نفرت شروع کردی اور اس سے بات چیت بھی بند کردی-

اسے ماں باپ کی امیدوں سے کوئی سروکار نہیں تھا وہ اپنی دنیا میں ہی مگن تھا- اس کا دل دنیا کی ہر چیز میں لگتا تھا، نہیں لگتا تھا تو پڑھائی میں نہیں لگتا تھا- اسے نہ ماں کا خیال تھا اور نہ ہی باپ کا- اسے تو اس بات کی بھی فکر نہیں تھی کہ بڑی بہن کا جو رشتہ طے ہوگیا ہے تو اس کی شادی کے انتظامات کے پیسے کہاں سے آئیں گے-

اسے اپنے دوستوں کے ساتھ رہنا بہت پسند تھا جو عادتوں میں ہو بہو اسی جیسے تھے- ان میں بھی اپنے گھر والوں سے محبّت اور احساس ذمہ داری بالکل نہ تھا- انھیں اس بات کی قطعی کوئی فکر نہ تھی کہ ان کے ماں باپ کتنی مشکلوں سے انھیں پال رہے ہیں- بجائے کوئی تدبیر کرنے کے وہ سب کے سب قسمت سے شاکی تھے جس نے انھیں غریب گھرانوں میں پیدا کردیا تھا- وہ کسی فلسفی کا یہ قول بھول گئے تھے کہ غریب پیدا ہونا کوئی جرم نہیں مگر غریب مرجانا ایک جرم ہے- غربت لگا تار جائز محنت اور ایمانداری سے ختم ہوتی ہے، قسمت کو کوسنے سے نہیں-

اپنے روز مرہ اخراجات کے لیےاسے جیب خرچ کے نام پر ایک نہایت قلیل رقم گھر سے ملا کرتی تھی- دس پندرہ روپے – یہ دس پندرہ روپے بھی بہت سی باتیں سننے کے بعد ملتے تھے- اس کے دونوں دوست رحمت اور وہاب بھی اسی صورت حال سے دو چار تھے- وہ اچھے گھرانوں کے لڑکوں کو دیکھتے تھے- ان کا رہن سہن اور موٹر سائیکلوں پر گھومنا پھرنا ان کے لیے قابل رشک تھا- انھیں دیکھ دیکھ کر وہ کڑھا کرتے-

ایک روز جب رحمت نے اچانک اس کی اور وہاب کی نہاری اور کباب کی دعوت کی تو دونوں حیران رہ گئے کہ اس دعوت کے لیے اس کے پاس پیسے کہاں سے آئے؟ کھانے کے دوران انہوں نے اس بارے میں استسفار کیا- رحمت بہت خوش تھا مگر اس نے اس بات کا کوئی جواب نہیں دیا- اس سوال کو نظر انداز کرنے کے لیے وہ بیرے کو اشارے سے بلانے لگا تھا-

کھانا کھا کر وہ لوگ باہر نکلے- رحمت کسی سوچ میں گم تھا- ایسا معلوم دیتا تھا کہ وہ کسی فیصلے پر پہنچنے کی کوشش کر رہا ہے مگر پہنچ نہیں پا ررہا- وہاب اس کی یہ کشمکش بھانپ گیا تھا- اس نے کسی قدر بگڑے ہوۓ لہجے میں کہا- "میرا تو خیال ہے تمہاری کسی آنٹی وانٹی سے راہ و رسم ہوگئی ہے- اسی نے تمہیں نوٹوں کی گڈی پکڑا دی ہوگی- ہمیں تم اس لیے نہیں بتا رہے کہ ہم بھی بیچ میں نہ کود جائیں- لعنت ہے ایسی خود غرضی پر-"

تھوڑی دیر کے بعد رحمت نے بتا ہی دیا کہ وہ آئیس نامی نشہ اسکول اور کالجوں میں پڑھنے والے لڑکوں میں سپلائی کرنے لگا ہے- اس کی جان پہچان کے کسی شخص نے اسے کہا تھا کہ نشے کی تھیلیاں روزانہ چند کالج کے اسٹوڈنٹس کو سپلائی کرنا ہوں گی- اپنی بات کے دوران اس نے کہا- "اس کام میں بہت پیسہ ہے- میں نے آج چھ سو روپے کمائے ہیں-"

چھ سو روپوں کا سن کر آصف اور وہاب سناٹے میں آگئے- "ہمیں بھی یہ کام دلوا دو-" وہاب نے خوشامد بھرے انداز میں کہا-

"میں نے بھی اس بارے میں سوچا تھا- دوست وہ ہی ہے جو دوستوں کے کام آئے- مگر ذرا صبر کرو- حکومت کے بہت سارے ادارے ہیں جو منشیات بیچنے والوں کے پیچھے لگے ہیں- تھوڑا سا انتظار کرلو- میں چاہ رہا ہوں کہ تھوڑی اور معلومات جمع کرلوں- پھر ہم اپنا مال لا کر خود ہی فروخت کیا کریں گے- تم دونوں اس کام میں میرے پارٹنر ہوگے- یہ نشہ آج کل اسکول اور کالجوں میں پڑھنے والی لڑکیوں اور لڑکوں میں بہت مقبول ہو رہا ہے- ان میں زیادہ تر دولت مندوں کے بچے شامل ہیں- ان دولت مندوں کو اس بات کا علم ہوگیا ہے- انہوں نے اوپر شکایتیں کر کر کے قانون نافذ کرنے والے بہت سے ادارے منشیات فروشوں کے پیچھے لگا دیے ہیں اس لیے اس کام کو کرنے میں بہت احتیاط کی ضرورت ہے-" یہ کہہ کر اس نے پچاس پچاس روپے دونوں کو تھما دیے- "جب تک ہم اپنا کام شروع نہیں کردیتے خرچہ پانی مجھ سے لیتے رہو-" اس نے کہا-

ان جیسے بے شمار بے ضمیر لوگ اس معاشرے میں مل جاتے ہیں- اپنے فائدے کے لیے یہ جرم کی راہ پر چل پڑتے ہیں- یہ نہیں سوچتے کہ اس کا انجام کیا ہوگا- ہر مجرم کبھی نہ کبھی قانون کی گرفت میں آ کر اپنے انجام کو ضرور پہنچتا ہے- ان شیطان نما انسانوں کو اس بات کا بھی احساس نہیں ہوتا کہ ان کی وجہ سے کتنے معصوم بچے تباہ ہوجاتے ہیں اور نشے کی لت میں مبتلا ہو کر کسی کام کے قابل نہیں رہتے- اس لت میں مبتلا بچوں کے گھروں سے خوشی اور سکون چھین جاتا ہے- وہ ماں جو ان کی خوشیاں دیکھنے کے لیے زندگی بھر انتظار کرتی ہے، اس کا دل ٹوٹ جاتا ہے- اگر کسی گھر میں نشہ کرنے والا ہو تو وہ گھر دور دور تک بدنام ہوجاتا ہے- ملنے جلنے والے تو میل جول رکھنے سے کتراتے ہی ہیں مگر خاندان کے دوسرے افراد رشتے داریاں تک ختم کردیتے ہیں-

لوگوں کو مختلف قسم کے جان لیوا نشوں پر لگا کر دولت کمانے والے یہ نہیں سوچتے کہ وہ کام جس سے خلق خدا کو ذرا سا بھی فائدہ پہنچے تو ایسا کام کرنے والے کو قیامت تک اجر و ثواب ملتا رہے گا- اسی طرح ان کے منشیات فروشی کے اس عمل سے اگر کوئی شخص تباہ ہوتا ہے تو اس گناہ کا وبال بھی قیامت تک ان کے سروں پر رہے گا-

دوسرے جرائم پیشہ افراد کی طرح یہ تینوں بھی اس سہل آمدنی کے متعلق سوچ کر خوش تھے- وہ بغیر کسی محنت اور مشقت کے زندگی کے تمام عیش اٹھانا چاہتے تھے اور اس آسان کام میں انھیں اس کی امید ہو چلی تھی-

برے کام کا برا انجام- برے انجام تک پہنچنے میں کبھی دیر ہوجاتی ہے اور کبھی اس کا سامنا جلد بھی کرنا پڑ جاتا ہے- آصف اور وہاب کو ٹریننگ دینے کے لیے ایک روز رحمت انھیں بھی سپلائی پر لے گیا- یہ شہر کا ایک مہنگا کالج تھا، اس میں کروڑ پتی ماں باپ کے نور نظر تعلیم حاصل کرتے تھے- اسی کالج کے چند نا عاقبت اندیش لڑکوں نے ایڈونچر کے نام پر آئیس جیسے موذی نشے کو شروع کیا تھا اور اب اس کے عادی ہوگئے تھے- انھیں جیب خرچ کے نام پر گھر والوں سے روزانہ ایک معقول رقم ملتی تھی- وہ اس رقم کو اس نشے پر خرچ کردیتے تھے-

یہ تینوں اپنا تھیلا لے کر کالج کے پیچھے گھنی جھاڑیوں کے درمیان ایک درخت کے نیچے کھڑے ہوگئے- رحمت نے موبائل پر کسی کا نمبر ملا کر اطلاع دی کہ مال آگیا ہے- فون بند کر کے وہ چوکنی نظروں سے ارد گرد کا جائزہ لینے لگا- یہ پہلی واردات تھی اس لیے آصف اور وہاب کے چہروں پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں- ان کی گھبراہٹ دیکھ کر رحمت مسکرانے لگا اور انھیں تسلی دینے کے لیے کچھ کہنے ہی والا تھا کہ سامنے سے دو لڑکے آتے نظر آئے- دونوں لمبے قد کے ، دبلے پتلے اور گورے چٹے تھے اور شکل و صورت سے نہایت بھولے بھالے اور معصوم لگ رہے تھے-

"ارے بھئی- کل تم کہاں غائب ہوگئے تھے- بڑا انتظار کروایا-" ان میں سے ایک لڑکے نے آصف اور وہاب پر ایک اچٹتی سی نگاہ ڈال کر کہا-

"بہت سختی ہو گئی ہے- مال ہی نہیں آرہا- آج بڑی مشکل سے انتظام کیا ہے- سختی کی وجہ سے اب پیکٹ بھی پانچ سو روپے کا ہوگیا ہے- احتیاط سے استعمال کرو ایسا نہ ہو کہ چند دنوں کے لیے یہ ملے ہی نہ-"

"خدا غارت کرے ان لوگوں کو- جن چیزوں پر پابندی لگانا چاہیے ان پر تو لگاتے نہیں، ساری سختی یہیں دکھا رہے ہیں-" ایک لڑکے نے پیسے نکال کر اسے دیے- "مجھے تو چار پیکٹ دے دو- تم نے بہت بری خبر سنائی ہے- میں تو بہت دیکھ دیکھ کر استعمال کروں گا-"

دوسرے لڑکے نے تین پیکٹ خریدے- ابھی یہ سودا تکمیل کے مراحل تک نہ پہنچا تھا کہ جھاڑیوں میں ہلچل سی مچی اور سادے کپڑوں میں ملبوس کسی ایجنسی کے چند آدمیوں نے انھیں گھیرے میں لے لیا- ان کے ہاتھوں میں پستول دبے ہوۓ تھے- ہر جرائم پیشہ فرد کی طرح یہ تینوں بھی بزدل تھے- ان کے چہرے فق ہوگئے اور پستولیں دیکھ کر انہوں نے ہاتھ کھڑے کردیے-

وہ دونوں لڑکے وہاں سے بھاگ گئے- سادے لباس میں ملبوس دو آدمی ان کے پیچھے بھاگنے ہی والے تھے کہ ان کے افسر نے انھیں روک لیا اور کہا- "یہ دونوں اسی کالج میں پڑھتے ہیں- انہیں اور ان جیسے دوسرے لڑکوں کا ریکارڈ ہمارے پاس ہے- انہیں ہم بعد میں دیکھ لیں گے-"

ان تینوں کے ہتھکڑیاں لگا دی گئیں- ان کے ساتھ میڈیا والوں کی گاڑی بھی آئی تھی- انہوں نے تینوں کی گرفتاری کی ویڈیو بھی بنا لی تھی- آدھا گھنٹہ بھی نہیں گزرا تھا کہ یہ ساری کاروائی بریکنگ نیوز کے طور پر مختلف چینلوں سے نشر ہوگئی-

آصف کے پکڑے جانے کی خبر گھر پہنچی تو وہاں صف ماتم بچھ گئی- اس کی جوان بہن چیخ چیخ کر رونے لگی- چھوٹا بھائی سہم گیا- ماں آصف سے بہت زیادہ محبّت کرتی تھی اور اسے بڑھاپے کا سہارا سمجھتی تھی- یہ خبر اسے ملی تو اسے دل کا دورہ پڑ گیا- آصف کا باپ تو گھر پر تھا نہیں، کام پر گیا ہوا تھا اس لیے محلے میں سے کسی نے ترس کھا کر ایمبولنس کے لیے فون کردیا اور اسے ہسپتال پہنچایا- شام تک یہ بات دور دور تک پھیل گئی تھی کہ ایک لڑکا منشیات فروشی کے کیس میں پکڑا گیا تو اس کی ماں کو دل کا دورہ پڑ گیا-

یہ بات آصف کے باپ کی مل تک بھی پہنچ گئی تھی- باپ پر تو جیسے بجلی گرپڑی- مارے شرمندگی کے اس سے بات تک نہیں ہو رہی تھی- پھر بیوی کی طبیعت خرابی نے مزید ہوش اڑا دیے- سب لوگ افسوس کر رہے تھے مگر ایک دوسرے سے یہ بھی کہہ رہے تھے کہ اگر ماں باپ کی غفلت نہ ہوتی اور تربیت اچھی دیتے تو ان کا لڑکا کبھی بھی نہیں بگڑتا-

آصف کا باپ چھٹی لینے کے لیے انچارج کے پاس گیا تاکہ اس سے اجازت لے کر بیوی کے پاس ہسپتال جائے- اسے دیکھ کر انچارج نے کہا- "ٹھیک ہے تم جاؤ- اور سنو- اپنے اسی لڑکے کے لیے تم نوکری کے لیے کہتے تھے- وہ یہاں آجاتا تو جانے کیا گل کھلاتا-" اس کی یہ بات سن کر آصف کا باپ شرم سے زمین میں گڑ گیا-

اگلے چند روز میں ایک اور بری بات ہوگئی- آصف کی بہن کے سسرال سے پیغام آگیا تھا- انہوں نے اس شادی سے انکار کردیا تھا- ان کا کہنا تھا کہ وہ شریف لوگ ہیں، ایسے خاندان میں شادی نہیں کرسکتے جن کا لڑکا منشیات فروش ہو-

آصف کی اس حرکت کی وجہ سے ملنے جلنے والے ان سے کترانے لگے تھے- سگے رشتے داروں نے بھی ان سے تعلقات ختم کردئیے تھے- اس کا چھوٹا بھائی اسکول جاتا تو دوسرے لڑکے اس پر طنز کرتے اور اس واقعہ کا حوالہ دے کر اسے چڑاتے تھے-

کم و بیش ایسے ہی حالات سے رحمت اور وہاب کے گھر والوں کو بھی گزرنا پڑا تھا-

اگر آصف دوسرے اچھے لڑکوں کی طرح اپنی تعلیم مکمل کرلیتا تو اسے باپ کی مل میں نوکری مل جاتی- اس کی نوکری لگ جانے سے گھر میں زیادہ پیسے آتے اور اس کی وہ ماں جس نے زندگی بھر تکلیفیں اٹھائی تھیں، اطمینان کا سانس لیتی اور خوش ہوجاتی- اس کی بہن کی شادی نہ ٹوٹتی بلکہ اس کے انتظامات بھی بہتر طریقے سے ہوجاتے - اس کا چھوٹا بھائی بھی بے فکری سے اپنی تعلیم جاری رکھ سکتا تھا- مگر اس نے ایک ایسے راستے کا انتخاب کیا تھا جس پر چل کر آج تک کسی کو کامیابی نہیں ملی تھی- اس سارے معاملے میں اس کے گھر والوں کا کوئی قصور نہیں تھا مگر وہ بے چارے کرے کوئی بھرے کوئی والی کہاوت کی مثال بن گئے تھے- آصف کی خود غرضی، غیر ذمہ داری اور لالچ نے انھیں کہیں منہ دکھانے کے لائق نہیں چھوڑا تھا-

ایسا ہی سب کچھ ان لوگوں کے ساتھ بھی ہوتا ہے جن کے گھر کا کوئی فرد جرائم کی راہ پر چل نکلے- جرائم کی راہ اختیار کرنے والے ایسے لوگ اگر ذرا سی بھی عقل سے کام لیں اور کسی بھی غیر قانونی کام سے خود کو دور رکھیں تو ان کے ماں باپ اور بھائی بہنوں کو ایسے ذلت بھرے عذاب سے نہ گزرنا پڑے-

(ختم شد)

 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 692 Print Article Print
About the Author: Mukhtar Ahmed

Read More Articles by Mukhtar Ahmed: 57 Articles with 31010 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: