عوام کے حقیقی مسائل ۔۔۔۔سیاستدان، فوجی اور سول بیوروکریسی

(Syed Anis Bukhari, )

اس نے کہا کہ موجودہ وقت میں ہماری قوم کے پانچ ایسے مسائل ہیں جو ہماری زندگی اور موت کا سوال ہیں اور جس روز ہم نے ان مسائل کو بھلا دیا تو یہ اپنے مقدس مقاصد سے پیچھے ہٹنے کے مترادف ہوگااور پھر زندگی میں ہماری قوم کے پاس اس دنیا میں رہ جانے کا بھلا کیا مقصد ہوگا۔ میں نے کہا کہ وہ کونسے چار مسائل ہیں تو وہ بڑے پر عزم لہجے میں بولا کہ ، مسلۂ کشمیر جوہماری شہہ رگ ہے ، دوسرا اسلام کو صیہونی طاقتوں سے خطرہ ، اسرائل عالم اسلام کے دل میں خنجر کی نوک ہے ، تیسرا پرویز مشرف کو آئین توڑنے پر اسے سزائے موت دی جائے، اور آجکل سب سے بڑا اور گھمبیر مسئلہ جس نے پوری قوم کا دن کا چین اور رات کی نیندیں اڑا رکھی ہیں وہ جیو نیوز چینل کی آئی ایس آئی اور افواج پاکستان کے کیخلاف مکروہ ہرزہ سرائی ہے اور جیوٹی وی انڈیا کا گماشتہ ہے اور یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس نے افواج پاکستان کو پوری دنیا میں بدنام کرکے رکھ دیا ہے اور یہ ایک ایسا گھمبیر مسئلہ ہے جسکا باالواسطہ تعلق پوری قوم سے ہے اگر اس بحران کا کوئی حل نہ نکالا گیا اور جیو ٹی وی کو بند نہ کیا گیا تو افواج پاکستان کیلئے ایک بہت بڑا چیلنج بن جائیگا ۔ وہ کافی جذباتی انداز میں بول رہا تھا۔ میں نے سرد مہری سے جواب دیتے ہوئے کہا کہ میں جس طبقے سے تعلق رکھتا ہوں ان تمام مسائل کا جو تم نے بیان کئے ہیں دور دور سے بھی واسطہ نہیں ہے۔ یہ تو سیاستدانوں ، فوجی بیوروکریسی اور سول بیورو کریسی کے ہتھکنڈے ہیں اور یہ لوگ اب ہمارے سادہ اور معصوم عوام کے جذبات کو ابھار کر انہیں مختلف قسم کے نعرے دے کر اپنے مقاصد کیلئے استعمال کرتے ہیں کیونکہ اس وطن سے ،قوم سے اور اپنے مذہب سے اگر کوئی والہانہ عقییدت اور محبت رکھتا ہے تو وہ صرف اور صرف یہ غریب عوام ہیں ورنہ تو جو لوگ انہیں اپنے مقا صد کیلئے استعمال کرتے ہیں وہ تو اس ملک کی دولت کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ کر بیرون ملک لیجا کر چین کی بنسی بجا رہے ہیں انہیں نہ تو اپنے وطن سے محبت ہے نہ ان غریب عوام سے کوئی دلچسپی ہے اور نہ ہی یہ لوگ مذہب سے محبت اور والہانہ لگاؤ رکھتے ہیں انکا دین ایمان تو دولت ہے اگر انہیں وطن اور قوم سے محبت ہو اور مسلمان ہونے کے ناطے مذہب سے لگاؤ ہو تو جو کچھ یہ کر رہے ہیں وہ اس ملک کی عوام سے ڈھکا چھپا تو نہیں ہے ۔ وطن کی تمام دولت اکٹھی کرکے بیرونی ممالک کے بینکوں میں رکھی ہوئی ہے تو پاکستان سے ان لوگوں کی محبت تو دور دور تک نہیں دکھائی دیتی۔ ہم کشمیر کی بات کرتے ہوئے یہ کیوں نہیں سوچتے کہ ہم نے اپنے وطن کا ایک حصہ جسے ہم مشرقی پاکستان کہتے تھے وہ کیوں گنوا دیا کیا اس خطے میں رہنے والے لوگ مسلمان نہیں تھے؟ اور ہم کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی بات کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ ہماری شہہ رگ ہے جبکہ کشمیری یہ بات ماننے کیلئے ہر گز تیار نہیں وہ تو کہتے ہیں کہ اگر ہمیں آزادی ملی تو ہم اپنی مرضی سے رہینگے اور وہ تو پاکستان کے ساتھ الحاق کرنے کو تیار ہی نہیں ہیں۔ رہی اسلام کی بات کہ اسلام کوصسیہونی طاقتوں سے خطرہ لاحق ہے تو جو کچھ ہمارے قبائلی علاقوں میں اسلام کے نام پر ہو رہا ہے کیا اسلام اسی چیز کا نام ہے کیا اسی اسلام کو خطرہ ہے کہ مسلمان اپنے ہی مسلمان بھائی کو بسوں اور و یگنوں میں سے اتار کر ذبح کردیں ، انکے سروں سے فٹبال بنا کر کھیلیں اور قہقہے لگا لگا کر اﷲ اکبر کے نعرے بلند کرتے ہوئے نظر آئیں کونسا اسلام اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ تم کسی کافر کے سر کو بھی فٹبال بنا کر کھیلو کجا تم مسلمانوں کے سروں سے کھیلتے ہوئے دکھائی دیتے ہو۔ اپنی ہی مسلمان عورتوں کو دہشت کا نشانہ بنا تے پھریں اور انہیں موت کے گھاٹ اتارتے پھریں ، انکی چٹیوں کو کاٹ کر انے سروں کو گنجا کر دینا کہاں کا اسلام ہے، ہماری تعلیمی اداروں کو بم نصب کرکے انہیں تباہ کرنا، مساجد اور مقبروں پر خود کش حملے کرکے ذائرین کو جان سے ماردینا اور مقبروں کو تباہ کر دینا کہاں کا اسلام ہے۔
ا سٹیٹ میں ایک اور ا سٹیٹ بنا کر حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیں کہ وہ ان سے مذاکرات کریں اور اپنے دہشت گردوں کو ہماری حکومت سے چھڑوا کر پوری دنیا میں یہ باور کرواتے پھریں کہ پاکستان کی حکومت ان چنددہشت گردوں کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں۔ خود کش حملوں اور دھماکوں کے ذریعے بے گناہ معصوم بچوں اور شہریوں کو اپنے ہی بنائے ہوئے اسلام کے اصولوں کے تحت انکا خون بہاتے پھریں یہ کونسا اسلام ہے جو خطرے میں ہے اور بھائی اسلام کبھی بھی خطرے میں نہیں رہا اسکی حفاظت تو اﷲ تعالیٰ کرنے والا ہے۔ جب ہم خواہ مخواہ اسلام کو خطرے میں ڈال رہے ہوتے ہیں تو ہم اسلام کی نفی کر رہے ہوتے ہیں ۔ اسرائیل سے ہماری کوئی دشمنی نہیں ہے لکیر کو پیٹنا چھوڑ دیں اور حالات کے مطابق اپنے رویوں میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے پرانی عینک کے عدسے اب کافی مدھم پڑ چکے ہیں انہیں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے ۔ صرف اور صرف عالم اسلام کو اکٹھا ہونے کی ضرورت ہے اگر ہم تمام دنیا کے رہنے والے مسلمان آپس میں ایک ہیں تو پھر مسلمان ممالک آپس میں ہی کیوں دست و گریبان ہیں ، جہاں پر سعودی عرب کے مفادات ہوتے ہیں وہ اسرائیل کے ساتھ ساز باز کرکے ایران میں مخاصمت کے بیج بو رہا ہوتا ہے، شام میں اندرونی خلفشار پر اپنے مفادات حاصل کرنے کیلئے تفرقہ بازی کو ہوا دیتے ہوئے وہاں پر باغیوں کی مدد کرنے کو پاکستان سے ہتھیار لیتا ہے، پاکستان کی صرف ڈیڑھ کروڑ ڈالر کی مدد اسلئے کرتا ہے کہ وہ شام کے باغیوں کو اسلحہ فراہم کرے اور پاکستان سے دہشت گردوں کی کھیپ تیار ہو کر شام کے باغیوں کی مدد کرے اور وہاں پر دہشت گرد کارروائیوں کو ہواد ے۔ تو معلوم ہوا کہ ہم نے خواہ مخواہ اسرائیل کو اپنے ذہنوں پر سوار کیا ہوا ہے حالانکہ اسلام کے سب سے بڑے دشمن تو ہم خود ہی ہیں۔ ہمیں ایک ہونے کی ضرورت ہے۔ جب تک ہم ایک اچھے مسلمان نہیں بنیں گے ہمارے دلوں میں صیہونی طاقتوں کے خطرات اسلام کے بارے میں منڈلاتے رہینگے اور اسرائیل واقعی ہی ایسے کمزور ایمان مسلمانوں کے دل میں ایک خنجر کی نوک کیطرح محسوس ہوتا رہیگا۔

اب رہا ہمارا سب سے بڑا موجودہ جیو ٹی وی کا مسئلہ تو مجھے یہ بتاؤ کہ کیا یہ غریب عوام کا مسئلہ ہے کہ جی او ٹی وی پر پابندی لگائی جائے یہ تو سیاستدانوں کا مسئلہ ہے جنہوں نے غریب عوام کو انکے اصل مسائل سے ہٹا کر جی او ٹی وی کی طرف انکی توجہ لگا دی ہے تاکہ وہ اپنے اصل مسائل کے بارے میں سوچ ہی نہ سکیں۔ بھلا کیا جیو ٹی وی کو بند کرکے کیا ملک کو بجلی کے اس بحران سے نکال لیا جائیگا جس نے عوام کو اندھیروں کی جانب دھکیل دیا ہے۔ کیا گھی ،آٹا، چینی،دودھ اور چاول ، ادویات جنکے لئے عوام ترس رہے ہیں اور بھوکوں مر رہے ہیں ہر روز مائیں اپنے بچوں کو سینے سے لگا کر بھوک اور ننگ سے تنگ آ کر خود کشیاں کرنے پر مجبور ہیں۔ کیا سیاستدانوں کی پروپیگنڈے سے یہ چیزیں عوام کی پہنچ میں آجائینگی ۔ کیا پیٹرول ، گیس اور بجلی کی آسمان سے باتیں کرتی ہوئی قیمتوں پر کنٹرول کر لیا جائیگا؟ کیا ان تمام مسائل کی طرف جب سے حکومت بنی ہے کسی نے توجہ دی ہے ؟ رہی پرویز مشرف کی بات تو اسنے ایسا کونسا انہونا کام کیا ہے جو پہلے کسی نے نہیں کیا۔ آئین کا راگ الاپنے والے ہر روز آئین کی دھجیاں اڑاتے ہیں ۔ جمہوریت کا راگ الاپ کر اس کی آڑ میں غریب عوام کا خون چوس رہے ہیں ۔ ہمارا مسئلہ تو پھر وہیں کا وہیں کھڑا ہے کیا مشرف کیخلاف مقدمہ درج کروانے والوں نے اپنے گریبانوں میں جھانک کر دیکھا ہے کہ وہ آئین کے ساتھ کیسا کھلواڑ کرتے چلے آ رہے ہیں کونسا آئین ہے جو کہتا ہے کہ لوگوں سے انکی بنیادی سہولیتں چھین لو ، غریب کو دو وقت کی روٹی سے بھی محروم کردو، ان سے صحت اور تعلیم چھین لو، آئین نے کب کس کو اجازت دی ہے کہ وہ عدالتوں پر حملے کرتا پھرے۔ یہ تو سیاستدانوں کا چوہے اور بلی کا وہ کھیل ہے جو سیاسی جماعتیں اپنے مقاصد کیلئے کھیل رہی ہیں اور آپ ہیں کہ انکے غم میں پتلے ہوئے جا رہے ہیں ۔ کوئی اپنے آپکو عوام کی عدالت میں پاک صاف کرنے کیلئے ان عدالتوں سے اپنے حق میں فیصلہ لینا چاہتا ہے اور سرخ رو ہونا چاہتا ہے اور کوئی اس خوف سے یا پھر اپنے ساتھ ہونے والی ماضی کی ذیادتیوں کی تلملاہٹ کو یاد کرکے اپنا ذاتی بدلہ لینا چاہتا ہے۔ بھلا اس تمام کھیل میں تمہارے اور میرے جیسے غریب آدمی کا کیا کردار ہے اور رہی انصاف کی بات تو جو بر سر اقتدار آتا ہے اسے انصاف فوری مل جاتا ہے اور برسوں پر محیط وہ مقدمات جنکی تفتیش پر اندرون ملک اور بیرون ملک اربوں روپے خرچ کئے جاتے ہیں وہ آن واحد میں ختم کر دئیے جاتے ہیں۔ اب بتاؤ کہ کیا یہ مسائل ایک خاص طبقے کے پیدا کردہ ہیں یا پھر واقعی یہ ایک عام آدمی کے مسائل ہیں ۔ میں نے کہا کہ میرا مسئلہ تو مہنگائی ہے، میرا مسئلہ تو تعلیم ہے، میرا مسئلہ تو بیماری اور ادویات ہے، میرا مسئلہ تو اپنی عزت اور ناموس کی حفاظت ہے ۔ یہ ہیں وہ مسائل جن کی طرف سے ہماری توجہ ہٹانے کیلئے ہمیں اپنے مسائل کے بارے میں ان چند غریب دشمن عناصر نے الجھا کر رکھ دیا ہے کہ اگر ہم ا پنے حقیقی اور اصل مسائل کی طرف سوچنا شروع کردینگے جو واقعی ہمارے اصل مسائل ہیں جن کی وجہ سے غریب عوام بھوکوں مر رہے ہیں بجلی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ اور بے روزگاری سے تنگ آ کر خود کشیاں کر رہے ہیں تو یہ انکے لئے خطرناک ہوگا اور پھر یہ عام عوام جب انکے بچے بھوک سے بلک بلک کر مرنا شروع ہونگے تو انکے عشرت کدوں کے درودیوار ہلا کر رکھ دینگے اور پھر فرانس کے وہ مناظر یہاں بھی دہرائے جائینگے جب ان لوگوں نے فرانس کے شہنشاہ ، اسکی بیوی اور بچوں کو انتہائی سفاکی سے موت کے گھاٹ اتار کر رہتی دنیا تک ان جیسے ظالم اور جابر لوگوں کیلئے ایک نا قابل فراموش داستان تاریخ کے صفحات پر رقم کر دی تھی جو رہتی دنیا تک قائم رہیگی۔ وہ خاموشی سے میری تمام باتیں سنتا رہا اور کچھ نہ بولا۔
تحریر : سید انیس احمد بخاری
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Syed Anis Bukhari

Read More Articles by Syed Anis Bukhari: 93 Articles with 64932 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
09 Oct, 2019 Views: 155

Comments

آپ کی رائے