حرام سے بھی بدتر

(Imtiaz Ali Shakir, Lahore)

 عظیم روحانی پیشواسیدعرفان احمدشاہ المعروف نانگامست فرماتے ہیں’’مردارحرام سے بھی بدترہے جس کی نشانی اُس سے آتی تیزبدبوہے،دال،سبزی کاسالن باسی ہوکرخراب ہوجائے تواُس میں شدیدبدبوپیداہوجاتی ہے جسے کوئی نہیں کھاتاجبکہ بدبوکی شدت کی وجہ سے برائلرمرغی کے گوشت کی دکان یاپولٹری فارم کے قریب سے گزرنابھی مشکل ہوجاتاہے اورلوگ انجانے میں اس گوشت کوصحت بخش سمجھ کرکھاتے ہیں، برائلرمرغی کاگوشت صحت بخش نہیں بلکہ صحت کیلئے انتہائی نقصان دہ ہے،مسلمان کوحرام کھانامنع ہے جبکہ مردارحرام سے بھی بدترہے‘‘ماضی قریب میں غذائی قلت خاص طورپر پروٹین کی کمی کودورکرنے کی غرض سے برائلرمرغی متعارف کروائی گئی،شروع شروع میں برائلرمرغی امراکے دسترخوان یادعوتوں کی زینت بنی پھراس کی افزائش اس قدرتیزی سے ہونے لگی کہ گائے،بھینس یابکرے کے گوشت کے مقابلے میں برائلرمرغی کاگوشت کم قیمت پردستیاب ہونے لگا،برائلرمرغی بہت تیزی کے ساتھ مقبول عام ہوتے ہوتے ہرخاص وعام کی غذامیں شامل ہوگئی،جیسے جیسے برائلرمرغی کے گوشت کے استعمال میں اضافہ ہوتاگیاویسے ویسے انسانی صحت میں پیداہونے والی خرابیوں یعنی بیماریوں کوکنٹرول کرناادویات کی پہنچ سے دورہوتارہا،آج یہ عالم ہے کہ صحت کی معمولی سی خرابی دورکرنے کیلئے تیزسے تیزاثرادویات استعمال کرنی پڑتی ہیں پھربھی صحت کے مسائل حل ہونے کانام نہیں لیتے،ہم گوشت کوطاقت کاخزانہ سمجھ کرکھاتے ہیں جبکہ ناقص گوشت خاص طورپربرائلرمرغی کاگوشت کسی خطرناک دیمک کی مانندہماری صحت کوکھاجاتاہے،گزشتہ سال سپریم کورٹ آف پاکستان نے برائلرمرغی اوراس کودی جانے والی خوراک کے متعلق از خود نوٹس لیاتوایسامحسوس ہواجیسے اب کوئی تسلی بخش حل نکل آئے گاپرایسانہ ہوسکا چیف جسٹس نے اس کیس کے متعلق ریمارکس دیتے ہوئے خوشی کااظہارکیااورکہاکہ برائلرمرغی کاگوشت اور فیڈ مضر صحت نہیں کھانے کے قابل ہے، عدالت نے برائلرمرغی کے گوشت اور خوراک کی رپورٹ مثبت آنے پر از خود نوٹس نمٹا دیا،جن ذرائع سے رپورٹ تیارکی گئی وہ انتہائی حیران کن ہیں،سابق چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے از خود نوٹس کی سماعت کے دوران عدالتی حکم پر ڈاکٹر فیصل مسعود نے عدالت پیش ہوکرآگاہ کیا کہ برائلرمرغی کا گوشت مضر صحت نہیں ہے تاہم اس کے پنجوں میں جراثیم پائے جاتے ہیں،چیف جسٹس نے استفسار کرتے ہوئے کہا کہ ہم آپ کے شکرگزار ہیں، آپ نے ہر دکان، سٹور پر خود جا کر رپورٹ تیار کی ہے،عدالت نے ہر دکان، سٹور پر جا کرتیارکی گئی رپورٹ کوتسلی بخش قراردے کربرائلر مرغیوں کے ناقص گوشت اور فیڈ سے متعلق از خود نمٹا دیاجبکہ دنیابھرکے ماہرین صحت برائلرمرغی کے گوشت کے متعلق مختلف حقائق سامنے لارہے ہیں،ماہرین صحت کے مطابق برائلرمرغی کاگو شت متعدد بیماریوں کی جڑ ہے اور اس میں کئی قسم کے جراثیم پائے جاتے ہیں،ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مرغی میں سیلمونیلا نام کا ایک بیکٹیریاپایا جاتا ہے جو پورے جسم پر خطرناک حد تک سوزش اور جلن کا باعث بنتا ہے،ماہرین کہتے ہیں کہ ان مرغیوں کو جلد پالنے کیلئے خطرناک دھات آرسینیک استعمال کی جاتی ہے جو کہ انسانی صحت کیلئے نہایت نقصان دہ ہے،برائلر مرغیوں کی خوراک میں بھاری مقدار میں اینٹی بائیو ٹک اجزاء کا استعمال کیا جاتاہے جو کافی خطرناک ہوتا ہے،یہی وجہ ہے کہ برائلرمرغی کا گوشت استعمال کرنے والوں پر اینٹی بائیو ٹک ادویات بھی اثر نہیں کرتیں،برطانیہ کے غذائی ماہرین کا کہنا ہے کہ برائلرمرغی کا گوشت پکانے میں بے احتیاطی سے فائدے کی بجائے الٹا نقصان دہ بھی ثابت ہوسکتا ہے ،برائلرمرغی کے گوشت میں ایسے جراثیم موجود ہوتے ہیں جوپیٹ کے کئی امراض کا باعث بن سکتے ہیں،صرف برطانیہ میں ہی ہر سال برائلرمرغی کا گوشت کھانے سے تقریباً تین لاکھ افراد بیمار پڑجاتے ہیں اور ان میں سے 80 سے زیادہ افراد موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں،برطانیہ میں خوراک کے حفاظتی معیار کے نگران ادارے نے کہا ہے کہ ملک میں فروخت کی جانے والی 86 فی صدبرائلرمرغیوں کے گوشت میں campylobacter نامی جراثیم کی موجودگی کا پتا چلا ہے،یہ جراثیم پیٹ کے کئی امراض، مثلاً مڑوڑ،اسہال اورقے کاباعث بنتاہے،نیوزی لینڈ کے طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ مرغی کے گوشت کو پکانے سے قبل اسے جراثیم کش محلول سے دھونے سے بھی اس میں موجود جراثیموں کو ہلاک کیا جاسکتا ہے،مرغی کے گوشت کو جراثیموں سے پاک کرنے کا ایک اور طریقہ یہ ہے کہ اسے فریزرمیں رکھا جائے کیونکہ صفر درجہ حرارت پر یہ جراثیم ہلاک ہوجاتے ہیں،امریکہ میں گوشت ذبحہ خانے سے براہ راست مارکیٹ میں لانے کی اجازت نہیں ہے،اسے کم ازکم 24 گھنٹے تک سرد خانوں میں رکھنے کے بعد مارکیٹ میں لایا جاتا ہے،بھارتی پولٹری فارمز میں کی جانے والی ایک تحقیق کے بعد خوفناک حقائق سامنے آئے ، برائلر مرغیوں کے اندر ایسے خطرناک جراثیم پائے جاتے ہیں جن پر اینٹی بائیوٹک ادویات کا کوئی اثر نہیں ہوتا،تشویشناک انکشاف اُس وقت سامنے آیا ہے جب سائنسدان پہلے ہی ایسے جراثیموں کے خطرے سے خبردار کررہے ہیں جن پر ادویات اثر نہیں کرتیں اور یہ بڑے پیمانے پر جان لیوا بیماریوں کا سبب بن سکتے ہیں،جامعہ کراچی کے شعبہ انوائرمینٹل اسٹدیز کے ماہرین نے کراچی کے 34 علاقوں سے پانی اورپولٹری فیڈز کے 68 نمونے حاصل کرکے لیبارٹری ٹیسٹ کیے جن میں برآمد ہونے والے نتائج کے مطابق برائلرمرغی کودی جانے والی خوراک جسے فیڈ کہتے ہیں کے 100 فیصد نمونوں میں لیڈ، نکل اور کرومیم کی مقدار عالمی ادارہ صحت کی مقرر کردہ مقدار سے کہیں زیادہ نکلی،امریکی ورلڈ فارمنگ کی جانب سے عوامی آگاہی کیلئے موازنہ رپورٹ شائع کی گئی جس میں خصوصی طور پر مرغی کے گوشت کی پہچان اور اس میں موجود فرق کے حوالے سے آگاہ کیا گیا،نیشنل چکن کونسل کے مطابق چوزے کو 6 پاؤنڈ کی برائیلر مرغی بننے میں 47 دن کا عرصہ لگتا ہے تاہم بعض پولیٹری فارم مالکان زیادہ نفع کمانے کے چکر میں چوزوں کو ایسی ادویات دیتے ہیں کہ وہ وقت سے قبل بڑے ہوجاتے ہیں،کونسل کے مطابق سن 50 کی دہائی میں چوزے کو مرغی بننے میں 70 دن کا عرصہ لگتا اور اس کا وزن بھی زیادہ ہوتا تھا،رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تحقیق کے دوران 285 مرغیوں کے گوشت کی جانچ پڑتال ہوئی جن میں سے96 فیصد کا گوشت مضر صحت قرار پایا کیونکہ سینے کے حصوں میں سفید لائنیں واضح تھی،ماہرین کے مطابق جس مرغی کے گوشت میں واضح طور پر نظر آنے والی سفید لکریں جانور کے اندر موجود اعصابی بیماری کی عکاسی کرتی ہیں لہٰذا ایسے گوشت کو خریدنے سے باز رہا جائے،معروف آکسفورڈ یونیورسٹی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ مرغی کا گوشت کھانے سے خون کے سرطان کی ایک عجیب قسم میں مبتلا ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، اس کے ساتھ مردوں میں پروسٹیٹ کینسر بھی پیدا ہو سکتا ہے 2006ء سے 2014ء تک جاری رہنے والی اس طویل تحقیق میں بتایا گیا تھاکہ زیادہ چکن کھانے سے Hodgkin's Lymphoma کینسر کے خطرات بڑھ جاتے ہیں، رپورٹ کے مطابق تحقیق کے دوران 4 لاکھ 75 ہزار سے زائد افراد سے ڈیٹا حاصل کیا گیا، ان کی خوراک کا جائزہ لیا گیا اور اس کے ساتھ ان بیماریوں کے اعداد و شمار بھی جمع کیے گئے جن کا سامنا یہ افراد کر رہے تھے،تحقیق کے نتائج کے مطابق،چکن کھانے والے 23 ہزار افراد کو کینسر لاحق ہوا،جرنل آف ایپیڈی میولوجی اینڈ کمیونٹی ہیلتھ جریدے میں شائع ہونے والے مقالے میں لکھاتھا کہ پولٹری کا استعمال لازمی طور پر مہلک رسولی اور گومڑ کے ساتھ ہوجکنز ل مفوما کا سبب بنتے ہوئے دیکھا گیا ہے،سپریم کورٹ آف پاکستان کے ازخودنوٹس لینے کامقصدنجانے کیاتھاجواس قدرناقص رپورٹ کودلیل بناکرنمٹادیاگیا ورنہ دنیابھرکے ماہرین صحت اس مرغی کواس حد تک صحت بخش قراردینے سے گریزاں ہیں؟سچ تو یہ ہے کہ برائلرمرغی کاگوشت انسانی صحت کیلئے انتہائی نقصان دہ ہوسکتاہے
 

Disclaimer: All information is provided here only for general health education. Please consult your health physician regarding any treatment of health issues.
Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 271 Print Article Print
About the Author: Imtiaz Ali Shakir

Read More Articles by Imtiaz Ali Shakir: 576 Articles with 225929 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: