ابھیجیت بنرجی : ایک نوبل انعام یافتہ غدارِ وطن

(Dr. Salim Khan, India)

جمن چٹرجی نے للن بجرنگی سے پوچھا کیوں بھائی لگتا ہے ہمارے ابھیجیت کو نوبل انعام ملنے سے آپ لوگوں کو کوئی خاص خوشی نہیں ہوئی ۔
للن بولا کیوں نہیں ؟ پردھان سیوک کا مبارکباد والا پیغام تم نے نہیں دیکھا ۔
دیکھا تو ہے لیکن مزہ نہیں آیا ۔ میں تو سمجھتا تھا کہ وہ اس انعام کو اپنی امریکی یاترا یا ٹرمپ کی سفارش سے جوڑین گے لیکن وہاں تو ’پہلی بار‘ بھی نہیں تھا۔
درمیان میں کلن ترنگی بول پڑا ’پہلی بار ‘ کیسے کہتے ؟ اس سے قبل امرتیہ سین کو یہ انعام مل چکا ہے۔
للن بولا کس منحوس کا نام لے لیا تم نے کلن ۔ وہ جو ہماری دیش بھکت حکومت پر تنقید کرنے کا کوئی موقع نہیں گنواتا ۔
جمن بولا اچھا اب سمجھ میں آیا کہ تمہارے پردھان سیوک نے صرف ’ غربت ہٹانے‘ میں ابھیجیت کی خدمات کا اعتراف کرنے پر اکتفاء کیوں کیا؟
یار تم بار بار تمہارے پردھان سیوک کیوں کہتے ہو؟ کیا اب بھی تم مودی جی کو ملک کا پردھان منتری نہیں مانتے؟
پردھان منتری تو وہ سب کے ہیں لیکن چونکہ سیوا صرف سنگھیوں کی کرتے ہیں اس لیے پردھان سیوک تو صرف تمہارے ہی ہوے۔
کلن ترنگی بیچ میں بولامودی جی سیوا تو ملک کے مٹھی بھر سرمایہ داروں کی کرتے ہیں ۔ ان زعفرانیوں کے حصے میں بھی جذباتی استحصال کے سوا آتا کیا ہے
للن نے کہا یار تم لوگ نہا دھو کر مودی جی کے پیچھے پڑجاتے ہو بات ابھیجیت بنرجی سے شروع ہوئی اور لگے پردھان سیوک کو کوسنے ۔
جمن نے پوچھا غلطی کس کی ہے میں نے تمہاری خوشی پر سوال کیا تو تم نے مودی جی کے بیان کا حوالہ دے دیا گویا ’مودی خوش تو دنیا خوشَ ‘۔
للن چڑ کر بولا اب اس دیش دروہی ابھیجیت کی بہت زیادہ حمایت نہ کرو۔ مجھے سب معلوم ہے۔
جمن نے کلن سے پوچھا ۔ اسے کیا معلوم ہے؟ جو اس قدر خار کھائے ہوے ہے؟
کلن بولا یار بیچارے بنرجی نے ۲۰۱۹؁ انتخاب سے قبل کانگریس کو نیایہ یوجنا بناکر دی تھی تاکہ انتخاب میں کامیابی ہو تو غریبی کا خاتمہ کیا جاسکے ۔
جمن بولا ارے یہ تو اس نے بہت غلط کام کردیا ۔ اس کو وہ منصوبہ مودی جی کے حوالے کرنا چاہیے تھا ۔
کلن بولا بھائی جس سے امید ہو اسی کے حوالے کیا جائے۔ بی جے پی کو معاشی مسائل میں دلچسپی نہیں ہے اس لیے کشمیر جیسے مسائل اچھالے جاتے ہیں ۔
للن بولا یہ تو تم کانگریسیوں کی تہمت بازی ہے۔ ہمارے پردھان سیوک ایک غریب پریوار سے آئے ہیں ۔
جی ہاں مگر اب وہ غربت کو بھلا چکے ہیں ۔مودی سے مایوس ہوکر ان کے اپنے درآمد کردہ پانی گڑھی اور ارجت پٹیل جیسے معاشی مشیر فرار ہوچکے ہیں ۔
کلن بولا بات یہ ہے کہ ابھیجیت اپنی پتلون کے نیچے خاکی نیکر نہیں پہنتا ؟ اور سنگھیوں میں نوبل انعام پانے کی صلاحیت نہیں ہے ۔ اس لیے ناراضگی ہے۔
جمن نے پوچھا وہ تو ٹھیک ہے لیکن کیا ایک ہندوستانی کا اتنا بڑا اعزاز حاصل کرنا کوئی خوشی کی بات نہیں ہے؟
للن بول پڑا۔ وہ ہندوستانی کب ہے؟ اس نے امریکی عورت سے شادی کرکے امریکی شہریت لے لی ہے ۔
جمن نے کہا مجھے پتہ ہے لیکن آخر ’دل ہے ہندوستانی‘ ۔ اس کی رگ رگ میں بھارت ماتا کا خون دوڑ رہا ہے۔
للن بولا بات یہ نہیں ہے ۔ ابھیجیت اندر سے کانگریسی ہے ۔اس کی رگوں میں جے این یو کاخون ہے ۔ اس لیے وہ کبھی بھی ملک کا وفادار نہیں ہوسکتا۔
جمن نے کلن سے سوال کیا کیوں بھائی ایسی بات ہے کیا؟ سارے کانگریسی اور جے این یو والے دیش دروہی ہیں؟
کلن نے کہا نہیں ایسی بات نہیں مگر ان لوگوں کو کسی کے ہندوستانی یا امریکی ہونے سے کیا فرق پڑتا ہے؟
للن بولا فرق کیوں نہیں پڑتا ۔ اس ملک کے اصلی وفادار تو ہم ہی ہیں ۔
کلن ہنس کر بولا تم لوگ تو اپنے مطلب کے لیے ’اب کی بار ٹرمپ سرکار‘ کا نعرہ لگا بھی لگادیتے ہیں حالانکہ ٹرمپ انتظامیہ نے تارکین وطن کے لیے سخت ترین قوانین بناکر ہندوستانیوں کا جینا دوبھر کردیا ۔
جمن چٹرجی نے نے کہا وہ تو ٹھیک ہے لیکن میں ابھیجیت بنرجی کے بارے میں پوچھ رہا تھا ۔ آخر اس کا قصور کیا ہے ؟
کلن ترنگی بولا اس بیچارے کا سب سے بڑا قصور یہ ہے کہ وہ نوٹ بندی کو قومی معاشی کی تباہی کی بنیادی وجہ مانتا ہے اور ببانگ دہل اعلان کرتا ہے قومی معیشت کا برا حال ہے۔ یہ لوگ چونکہ تنقید برداشت کرنے کے قائل نہیں ہیں اس لیے اس سے ناراض ہیں لیکن نہ تو اس پر یو اے پی اے لگا سکتے ہیں اور نہ اس کو دہشت گرد ٹھہرا سکتے ہیں کیونکہ اب وہ ہندوستانی نہیں بلکہ امریکی شہری ہے۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 186 Print Article Print
About the Author: Salim

Read More Articles by Salim: 809 Articles with 253510 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: