زلزلہ متاثرین کا پرسان حال

(Prof Masood Akhtar Hazarvi, )

پچھلے دنوں پاکستان میں قیام کے دوران میر پور، جاتلاں( آزاد کشمیر ) اور گرد و نواح میں زلزلہ زدہ علاقوں کو دیکھنے کا موقع ملا۔دنیا کی زندگی میں آزمائشیں آتی رہتی ہیں۔ لیکن قدرتی آفات اچانک آتی ہیں اور ہنگامی صورت حال پیدا کر دیتی ہیں ۔ ہنستی بستی آبادیوں کو اجاڑ کر رکھ دیتی ہیں۔ اسی طرح کی صورت حال حالیہ زلزلہ میں ان متاثرہ علاقوں میں بھی پیش آئی۔ لوگ اپنی معمول کی زندگی گزار رہے تھے۔ ان میں سے بہت سے وہ بھی ہیں جو غریبوں کی مدد کرنے والے خدا ترس تھے۔ چند ہی لمحوں کی زمینی آفت نے انہیں محتاج بنا دیا۔ہم نے جناب صاحبزادہ پیر سید محمد علی رضا شاہ بخاری ایم- ایل- اے و سجادہ نشین آستانہ عالیہ بساہاں شریف کی سیادت اور معززین علاقہ کی معیت میں Rehabilitationکے کام کا جائزہ لیا اور فی الفور ضرورتوں کے ادراک کی غرض سے جاتلاں،موہڑہ سانگ ککراں۔ سانگ ہل، کھڑی شریف، میر پور، (آزاد کشمیر)اور اس کے گردونواح کے دور دراز کے دیہاتی زلزلہ زدہ علاقوں کا دورہ کیا۔ تاکہ براہ راست متاثرین سے ملاقات، دلجوئی و حوصلہ افزائی کا موقع مل سکے۔ اس سفر کا آغاز کھڑی شریف پہنچنے کے بعد ہم نے میاں محمد بخش قادری رحمۃ اﷲ علیہ اور سید پیرا شاہ غازی رحمۃ اﷲ علیہ کے مزارات پر حاضری سے کیا۔میاں محمد بخش ؒ پنجابی زبان کے معروف شاعر تھے۔ انہیں رومی کشمیر کہا جاتا ہے۔پیدائش 1830ء بمطابق 1246ھ کھڑی کے ایک گاؤں چک ٹھاکرہ میر پور آزاد کشمیر میں پیدا ہوئے۔ میاں محمد بخشؒ کے والد گرامی کا نام میاں شمس الدین قادری تھا۔ ان کے آباؤاجدادچک بہرام ضلع گجرات سے ترک سکونت کر کے میر پور میں جا بسے۔ ان کا نسب 4 پشتوں کے بعد پیرا شاہ غازی دمڑی والی سرکار سے جا ملتا ہے۔ نسبا آپ فاروقی ہیں کیونکہ سلسلہ نسب فاروق اعظم رضی اﷲ عنہ پر ختم ہوتا ہے۔اب دربار شریف محکمہ اوقاف کے زیر انتظام ہے البتہ دربار کھڑی شریف کی مسند نشینی کافی مدت تک آپ کے خاندان کے زیر تصرف رہی۔آپ کا سلسلہ طریقت قادری قلندری اور حجروی ہے۔آپ نے زندگی بھر شادی نہیں کی بلکہ تجردانہ زندگی بسر کی۔ میاں محمد بخشؒ ایک ولی کامل اور صوفی بزرگ تھے۔ آپ نے اپنے کلام میں سچے موتی اور ہیرے پروئے ہیں۔ ایک ایک مصرعے میں دریا کو کوزے میں بند کر دیا ہے۔ ان کی شاعری زبان زد عام ہے۔سیف الملوک ان کی مشہور زمانہ منظوم کتاب ہے۔ جس کا اصل نام سفر العشق ہے اور معروف نام سیف الملوک و بدیع الجمال ہے۔آپ کی وفات 1904ء بمطابق 1324ھ اپنے آبائی وطن کھڑی شریف ضلع میر پورمیں ہوئی اور وہاں پر ہی مزار شریف بھی ہے۔ اس موقع پر کھڑی شریف دربار شریف کے خطیب علامہ مفتی زبیر احمدنقشبندی صاحب، دعوت اسلامی میر پور کے احباب اور انجنیئر عثمان ڈار صاحب نے عزت افزائی اور دوران سفر ساتھ رہ کر رستوں کی راہنمائی فرمائی۔ ہم نے تنگ اور دشوار رستوں سے گزر کر باقی کا سارا وقت زلزلہ زدہ علاقوں میں متاثرہ لوگوں میں گزارا۔ ہم نے دیکھا کہ مختلف رفاعی ادارے اپنی بساط کے مطابق بحالی کا کام سر انجام دے رہے ہیں۔ لیکن ابھی بھی دور دراز کے دیہاتوں میں لوگ سخت پریشان ہیں اور امداد کے منتظر ہیں۔ اکثر میڈیا بڑی شاہراہوں اور ان کے متصل علاقوں کو دکھاتا ہے جبکہ دور دراز کے دیہات کافی متاثر ہیں۔ کئی مدارس اور مساجد شہید ہو چکے ہیں۔ کچھ مکانات زمین بوس ہو گئے تو کچھ زمین میں ہی دھنس گئے۔ بعض مکانات کو جزوی طور پر نقصان ہوا ہے اور مرمت کرکے رہنے کے قابل بنائے جا سکتے ہیں۔ ابھی تک بہت سے لوگ بے گھر ہو کر خیموں میں زندگی گزار رہے ہیں۔متاثرین نے ہمیں بتایا کہ جوان بچوں اور بچیوں کے ساتھ ان خیموں میں رہنا بہت دشوار ہے کیوں کہ وہاں طہارت خانے کی سہولت بھی میسر نہیں۔ ابھی تو موسم قدرے بہتر ہے۔ لیکن عنقریب سردی کا موسم شروع ہوجائے گا۔ سردیوں میں اس طرح خیموں میں زندگی گزارنا حد درجہ دشوار ہے۔ وہاں فیلڈ میں کام کرنے والے احباب نے بتایا کہ دو کمروں کا مکمل مکان مع ایک کچن اور طہارت خانے کے سات سے دس لاکھ روپے میں تعمیرہو تا ہے اور جو مکانات جزوی طور پر متاثر ہوئے ہیں ، اوسطا ایک لاکھ روپے میں ایک گھر کو رہنے کے قابل بنایا جا سکتا ہے۔ ایک بات ذہن نشین رہے کہ یہ معاشرے کے باعزت اور خود دار لوگ ہیں۔ جو لوگ غریب ہیں اور گھر بنانے کی حیثیت نہیں رکھتے ۔ ان کی امداد انسانی ہمدردی اور ایمانی جذبہ کے ساتھ کی جائے نہ کہ( کسی بھی مصلحت کے پیش نظر) نمود و نمائش کیلئے۔ ان کی امداد لیتے ہوئے تصاویر یا وڈیوز کو ہر گز شیئر نہ کیا جائے۔ بلکہ کچھ فیمیلیز ایسی امداد لینے سے بھی انکار کر دیتے ہیں۔ جو لوگ ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں ان کے علاج معالجے کی ذمہ داری حکومت نے اپنے ذمے لی ہے۔ رفاعی ادارے بھی اس سلسلے میں تعاون کر رہے ہیں۔ جو غریب لوگ ہسپتالوں سے فارغ ہو کر گھروں میں آجاتے ہیں ان کے علاج اور خوراک کی مد میں دیکھ بھال کی بھی اشد ضرورت ہے۔کچھ لوگوں کے چھوٹے کاروبار تھے جن پر ان کے گھرانے کے گزر بسر کا انحصار تھا۔ زلزلہ کی وجہ سے دوکانیں مسمار ہو گئیں اور کاروبار بند ہو گئے۔ ان سفید پوش لوگوں سے تعاون کر کے ان کی پریشانی کو شیئر کیا جا سکتا ہے۔ کچھ گھرانے وہ بھی ہیں جن کا کمانے والا واحد کفیل اس زلزلے میں شہید ہو گیا۔ اس کے یتیم بچوں ،بیوہ یا بوڑھے ماں باپ بھی کسی سہارے کے منتظر ہیں۔ ایسی آفات کے مواقع پر حکومت یا ایک دوسرے پر تنقید میں وقت ضائع کرنے کی بجائے ہمیں اپنے ان مفلوک الحال بہن بھائیوں کیلئے فوری طور پر کچھ کر نے کی ضرورت ہے۔ ہماری گزارش ہو گی کہ خود وہاں جائیں۔ حالات کا جائزہ لے کر جو کچھ کرنے کے قابل ہیں ان کیلئے کریں۔ یو کے میں کچھ احباب سے سناتھا کہ وہاں لوگ امیر ہیں۔ انہیں تو امداد کی ضرورت ہی نہیں۔ لیکن خود آنکھوں دیکھا حال اس کے بالکل مختلف ہے۔ کچھ خاندان واقعی خود کفیل ہیں اور اس زلزلہ کے نقصانات کو برداشت کر سکتے ہیں۔ لیکن دیہاتوں اور شہروں میں بہت سے کم آمدنی والے یا غریب لوگ بھی متاثر ہوئے ہیں

جنہیں تا حال امداد کی اشد ضرورت ہے۔ وہاں سے رخصت ہوتے ہوئے صاحبزادہ پیر سیدعلی رضا شاہ صاحب نے شہداء کی بلندی درجات، بیماروں کی شفا یابی اور آئندہ ایسی آفات سے حفاظت کیلئے خصوصی دعاء فرمائی۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof Masood Akhtar Hazarvi

Read More Articles by Prof Masood Akhtar Hazarvi: 198 Articles with 128808 views »
Director of Al-Hira Educational and Cultural Centre Luton U.K., with many years’ experience as an Imam of Luton Central Mosque. Professor Hazarvi were.. View More
21 Oct, 2019 Views: 305

Comments

آپ کی رائے