ہلالی کنگن: افسانے / ڈاکٹر تنویر انور خان

(Prof. Dr Rais Ahmed Samdani, Karachi)

کوئی تین ماہ قبل ڈاکٹر تنویر انور خان صاحبہ نے اپنے چھ افسانوں اور ناولٹ کے مجموعے خصوصی ایلچی کے توسط سے بھیجے۔ پہلے سوچا کہ تمام پر ایک ہی مضمون لکھ دوں کہ یہ بھی روایت ہے لکھاریوں کی، پھر خیال آیا کہ نہیں ڈاکٹر صاحبہ کی اس عنایت کے احترام میں مجھے ان کی ہر ایک کتاب پر الگ الگ اظہار خیال کرنا چاہیے۔ چنانچہ اپنے اس فیصلے کے نتیجے میں ان کے افسانوں کے مجموعے ’شگون کے پھول‘ پر تفصیلی اظہار خیال کیا جو 13جولائی2019ء کومیری فیس بک وال، دیگر ویب سائٹس پر وائرل ہوا۔ اس کے علاوہ سہ ماہی ادبی جریدہ ”سلسلہ“کے نمبر44،جون 2019ء میں بھی شائع ہوا۔ جو مجموعے ڈاکٹر صاحبہ نے ارسال کیے تھے ان میں ’زنجیریں‘، ’پرچھائیں‘،’عکس‘، ’پانی کا بلبلہ‘، ’وہ کاغذ کی کشتی وہ بارش کا پانی‘، ’میت رے‘ اور’شگون کے پھول‘شامل تھے۔شگون کے پھول پر تفصیلی مطالعہ کرچکا جس کی تفصیل اوپر بیا ن کی۔ دیگر پر لکھنے کے لیے پر تول رہا تھا کہ ڈاکٹر صا حبہ نے چند دن قبل یہ نوید سنائی کہ میرا ساتواں افسانوں کا مجموعہ ”ہلالی کنگن“ آگیا ہے، جلد آپ کو ارسال کروں گی اور وہ مجھے بذریعہ ڈاک موصول ہوگیا۔ اب ان کے اس مجموعہ پر لکھنا ضروری سمجھا۔ ڈاکٹر صاحبہ کی افسانہ نگاری اور ان کی شخصیت کے بارے میں ان کے مجموعے”شگون کے پھول“ پر اپنے تبصرے میں لکھ چکا ہوں۔ اس لیے یہاں ان کے ہلالی کنگن کا تجزیاتی مطالعہ ان کے مختصر تعارف کے ساتھ پیش کرنے پر اکتفا کروں گا۔

ڈاکٹر تنویر انور خان کی قلم و قرطاس سے وابستگی نصف صدی سے زیادہ عرصہ پر محیط ہے۔ گویاوہ مجھ سے دس سال پہلے سے لکھ رہی ہیں۔ ان کے رشحاتِ قلم سے بے شمار کہانیاں، ناولٹ اور افسانے معروف و معیاری ادبی رسائل و جرائد، ڈائجسٹوں اور اخبارات کی سج دھج میں اضافہ کرتے رہے ہیں۔ وہ میڈ یکل کے شعبے سے وابستہ ہیں، ایم بی بی ایس، الٹر سونولوجسٹ ہیں۔ مریضوں کی خدمت کے ساتھ ساتھ ان کا قلم کہانیاں، افسانے اور ناولٹ تخلیق کرتا رہا۔ ان کی پہلی کہانی ماہنامہ ”پھول“ لاہور میں 1958ء میں شائع ہوئی تھی، انہوں نے ڈاکٹری نسخے 1974 ء کے بعد لکھنا شروع کیے جب کہ کہانی نویسی کا آغاز 16 سال قبل ہی ہوچکا تھا۔ان کے مجموعے کتابی صورت میں 2016ء سے منظر عام پر آنا شروع ہوئے۔میڈیکل جیسے خدمت خلق سے بھر پور پیشے سے وابستگی،گھریلو ذمہ داریاں، بچوں کی پرورش، انہیں بھی اعلیٰ تعلیم کے منصب پر پہنچانے کے ساتھ ساتھ قلم و طاس سے جڑے رہنا اور کہانی کاری و افسانہ نگاری کے جوہر دکھانا کوئی معمولی بات نہیں، یہ عمل ڈاکٹر صاحبہ کی علم و ادب سے گہری وابستگی کا مظہر ہے۔رسائل، ڈائجسٹوں اور اخبارات میں چھپنا اپنی جگہ اہم ہے لیکن کتاب تخلیق کار کو ادبی سطح پر متعارف کراتی ہے اور ایسا ہی ہوا کہ ڈاکٹر تنویر کے افسانوں اور کہانیوں کو ان کے مجموعوں نے ادبی سطح پر متعارف کرایا،ان کا شمار موجود عہدکے معتبر افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے۔ مَیں ڈاکٹر تنویر سے ان کے افسانوں کے مجموعوں سے ہی متعارف ہوا،اس سے پہلے میری ان سے واقفیت یا تعارف نہیں تھا، ان کا ہر افسانہ اپنے اندر انفرادیت، دلچسپی، بے ساختگی اورایک سبق لیے ہوئے ہے، ان کے کردار زیادہ تر ان کے اپنے پیشے اور اردگرد کے ماحول سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کی کہانیاں اور کردار، ماحول، حالات اور واقعات کاحسین اظہارہے، کڑی سے کڑی، کہانی سے کہانی، واقعہ سے دوسرا واقعہ ملتا چلا جاتا ہے۔ان کا اسلوب سادہ، جملوں میں بے ساختگی، اپنی فکر، خیال اور مثبت پیغام کا مربوط اظہار کرتی ہیں،وہ اپنی بات احسن انداز سے قاری تک پہنچانے میں کامیاب نظر آتی ہیں،یہی کہانی کار یا افسانہ نگار کی خوبی ہوتی ہے۔

ہلالی کنگن میں مصنفہ کے نو افسانے شامل ہیں ان میں ہلالی کنگن، اُساس عید، جال، سبق، دَرد کی آواز، پڑوسی، مگر کیسے، افزا اور گروِی شامل ہیں۔ ہلالی کنگن کا پہلا افسانہ ہی ”ہلالی کنگن“ ہے۔ یہ نعمان اور ندا کی کہانی ہے۔ ندا عید کی رات شاپنگ کر کے ایک دکان سے باہر نکل رہی ہوتی ہے، نعمان اسی دکان میں داخل ہوتے ہوئے، ند کے ہاتھ میں موجود پیکٹ تھے وہ گرپڑے، نادانستہ طور پر دونوں ٹکڑا جاتے ہیں، ند ا نعمان پر برس پڑتی ہے اور جو کچھ منہ میں آتا ہے کہہ ڈالتی ہے۔جواب میں نعمان کہتا ہے!
’محترمہ!نہ میں آپ کا شوہر ہوں نہ ہی شوفر۔ نفرت ہے مجھے آپ جیسی لڑکیوں سے جو یوں تنہا گھر سے نکل آتی ہے، بہت دیر سے میں آپ کی نازیبا باتیں سن رہا ہوں، میں بھی یہ سب سننے کا عادی نہیں ہوں۔ اور ہاں شرم آنی چاہیے آپ کو کہ آپ یوں تن تنہا اکیلی، رات کے بارہ بجے شاپنگ کے لیے نکل کھڑی ہوئی“۔

ندا بھی تنک مزاج تھی، جواب میں نعمان کو خوب سنائیں۔ پھر دونوں اپنی اپنی راہ لی۔ کہانی آگے بڑھتی ہے، ندا کا بھائی عامر ایک دن اپنی امی سے ندا کی شادی اپنے ایک دوست سے کردینے کی بات کرتا ہے، لڑکی نے لڑکے کو نہیں دیکھا، اور لڑکے نے لڑکی کونہیں دیکھا، دونوں کے گھر والے شادی طے کردیتے ہیں۔ لیکن کسی کو اس بات کا خیال ہی نہیں آتا کہ کم از کم لڑکا اور لڑکی ایک دوسرے کو ایک بار دیکھ ہی لیں۔ شادی کی تیاریاں، ندا مشکل سے تیار ہوتی ہے، کہانی نیا موڑ لیتی ہے، سہاگ رات نعمان کمرے میں داخل ہوتا ہے اور کہتا ہے۔

”ندا!ہم لوگ آج ایک نئی زندگی کا آغاز کررہے ہیں۔ میں نے آپ کو یہ ہلالی کنگن اور ہیرے کی انگوٹھی سلامی میں دی ہے، جب کہ ابھی تک آپ نے سلام نہیں کیا۔ اسے آپ سنبھال کر رکھیے گا بلکہ ان کو اپنے ہاتھوں اور انگلیوں سے کبھی جدا نہ کیجئے گا۔ اگر میں نے کسی روز بھی یہ دیکھا لیا کہ آپ کے ہاتھوں میں یہ ہلالی کنگن اور انگوٹھی نہیں تو میں سمجھوں گا کہ آپ کو مجھ سے پیار نہیں ہے۔آپ ان کی حفاظت کریں گی نا؟ مجھے محبت کا احساس چاہیے“۔

ندا خاموش آنکھیں بند کیے ہوئے تھی۔ نعمان نے بڑھ کر اس کا گھونگھٹ اٹھایا تو شرم سے ندانے اپنی آنکھیں بند کر لی، وہ منتظر تھی اپنے حسن کے لیے کوئی خوبصورت سا جملہ سننے کی مگر۔۔۔۔۔۔
”دوسرے ہی لمحے گھونگھٹ اُلٹ کر نعمان چیخ پڑا“

نہیں۔۔۔۔ تم میری بیوی نہیں ہوسکتیں۔ تم جیسی بیباک لڑکی سے میری شادی کیسے ہوگئی؟ یہ دھوکا ہے، میرے ساتھ فریب کیا گیا ہے“۔

ندا اور نعما ن وہی تھے جو عید کی رات ایک دوسرے کے خلاف اپنے غصے اور سخت جملوں کا استعمال کر چکے تھے۔ ندا نے بہت یقین دلایا لیکن نعمان نے ایک نہ سنی اور ندا کے نذدیک تک نہ گیا۔

ندا واپس والدین کے پاس آئی گئی تو سب گھر والے پریشان ہوئے، ندا ذہنی طور پر بے انتہا اپ سیٹ ہوئی یہاں تک کہ اسے اسپتال میں داخل کردیا گیا ڈاکٹر وں کے مطابق اُس کا نروس بریک ڈاؤن ہوگیا۔ وہ بہکی بہکی باتیں کیا کرتی۔ نعمان کی والدہ کو جب تفصیل معلوم ہوئی تو انہوں نے اپنے بیٹے نعمان سے کہا ”ہوں۔ تو بیوی کو موت کے منہ میں دھکیل کر تمہاری برتری کا احساس پورا ہوگیا۔ کیا وہ عورت تمہاری کسوٹی پر پوری اتری“، یعنی نعمان کی دوسری بیوی۔ نعمان نے دوسری شادی کر لی تھی۔
ندا سپتال میں داخل تھی نعمان ندا کے کمرے میں داخل ہوکر اُسے مخاطب کرتا ہے ندا اسے پہچاننے سے انکار کردیتی ہے، وہ نعمان کو کمرہ سے باہر نکلوادیتی ہے،نعمان ڈاکٹر کی خوشامد کر کے پھر ندا کے کمرہ میں داخل ہوتا، اس وقت دونوں تنہا کمرہ میں ہوتے ہیں۔ کمرے میں ندا ہلالی کنگن اور ہیرے کی انگوٹھی اتارے بیٹھی تھی۔ نعمان کو دیکھتے ہی اس نے وہ چیزیں اس کی طرف پھینک دیں اور آنکھیں نکال کر بولی:
”تم، تم کون ہو؟ پھر میرے کمرے میں آگئے“۔
”میں تمہارا شوہر ہو اور تمہیں گھر لے جانے کے لیے آیا ہوں“۔
”گھر۔۔۔ کیسا گھر؟ ارے کوئی ہے۔ دیکھو، دیکھو یہ آدمی بہکارہا ہے“ وہ ہذیانی کیفیت میں چیختی ہے۔یہاں تک کہ نعمان نے اسے طلاق دیدی۔ ندا کو گھر جانے کی اجازت مل گی، وہ گھر چلی گئی اور بالکل ٹھیک ہوگئی، اس کی بھابی نے جب اس سے پوچھا کہ تم نے ڈ ھونگ رچایا تھا۔
تو ندا نے کہا۔
”نہیں۔ میں نے ڈھونگ نہیں رچایا تھا۔ نعمان کو حقیقت کا آئینہ دکھانے کا اور کوئی راستہ نہیں تھا“۔
اس کے بعد ندا کی شادی نویدسے ہوجاتی ہے، نوید ندا سے بے پناہ پیار کرتا ہے، اس کی عزت اور تکریم میں کوئی کثر نہیں چھوڑتا، ندا اور نوید ہنسی خوشی زندگی گزارتے ہیں ایک بیٹا بھی ہوجاتا ہے۔ نعمان پھر ندا سے عید کی رات ملتا ہے لیکن اب سب کچھ بدل چکا ہوتا ہے۔ نعمان کے پاس پچھتانے کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ اس افسانے سے یہ کامیاب سبق دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ غلط فہمی انسان کو برباد کردیتی ہے۔

افسانہ ”اُداس عید“ ڈاکٹر ثمن اور ڈاکٹر سہیل کی کہانی ہے، لیکن یہ شادی کامیاب نہ ہوئی، ڈاکٹر ثمن نے سہیل سے ڈائیورس لے لی، حالانکہ اس کا ایک بیٹا بھی ہوتا ہے۔ اب ڈاکٹر ثمن کی ملاقات پروفیسر صباحت سے ہوجاتی ہے، جو چائلڈ اسپیشلسٹ تھے، اکیلے رہا کرتے تھے، گاؤں میں ان کی بیوی بچے بھی تھے لیکن انہوں نے ثمن کو یہ بتایا کہ ابھی تک ان کی شادی نہیں ہوئی،پروفیسر صاحب نے ڈاکٹر ثمن کو پروپوز بھی کردیا تھا۔ ڈاکٹر ثمن پریشان تھی، پہلے شوہر سے نہیں بنی اب دوسرے شخص نے چھوٹ بولا کہ وہ غیر شادی شدہ ہے حالانکہ اس کی بیوی اور دو بچے بھی تھے۔ ڈاکٹر ثمن جس اسپتال میں جاب کرتی تھی ایک رپورٹ اس کے پاس آئی، وہاں موجود اکٹر نے بتا یا کہ ”ایک ڈاکٹر داخل ہواہے، اس کی رپورٹ ڈاکٹر ثمن نے دیکھی تو اس سے ملاقات کا تجسس ہوا۔ اس لیے کہ اس کے بارے میں معلوم ہوا کہ ایف آر سی ایس کر لی، بیوی کو ڈائیورس دے دی، دوسری شادی ایک انگریز سے کر لی تھی۔ ان کو تو شراب کی لت نے مارا، سارے پھیپھڑے اور جگر شراب نے گلا دیے، آخری اسٹیج ہے کینسر کی“۔ ڈاکٹر ثمن اس ڈاکٹر مریض کو دیکھنے اس کے کمرہ میں جاتی ہیں جب اس کی نظر مریض پر پڑی تو لگا کہ وہ کوئی سوکھا ہوا ہڈیوں کا ڈھانچہ ہے،
”ہیلو سہیل کیسے ہو؟“
”تم ثمن“
”ہاں میں“
”کیسی ہو تم؟ میرا ببلو کیسا ہے؟“
”اچھا ہے ملو گے اس سے“

سہیل بولا۔ میں نے تمہیں تنگ کیا تھا نا، اللہ تعالیٰ نے مجھے کیس موذی مرض میں مبتلاکر د یا۔ میں تمہارا گنہگار تھا اور ہوں، ثمن میں نے دولت کی حرص میں تمہیں دھوکا دیا۔ دکھ دیا“۔

وہ اگلے روز اس کے بیٹے کو لے کر اسپتال جاتی ہے، جب وہ اسپتال پہنچتی ہے ڈاکٹر سہیل کے بیٹے کو لے کر تو ڈاکٹر سہیل اپنی زندگی کی آخری سانسیں لے رہے تھے۔ اس نے حسرت بھری نظروں سے اپنے بیٹے کو دیکھا۔ وہ نقاہت سے بولا ”ببلو۔ میں نے تمہاری ماں کو بڑے دکھ دیے تمہاری ما ں بہت اچھی ہے، تم اپنی ماں کا خیال رکھنا بیٹا، اسے کبھی تنگ نہ کرنا ۔ اور پھر سہیل اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔ افسانہ میں لالچ کا کیا انجام ہوتا ہے۔ اس کو دکھایا گیاہے۔

افسانہ ”سبق“ اپنی جگہ سبق آموذ ہے۔ ڈاکٹر شیبا ایک مینٹل اسپتال میں کام کرتی ہے، ایک مریضہ ندا جو خوبصورت اورحسین لڑکی وارڈ میں داخل ہوتی ہے۔ ڈاکٹر شیبا ندا کی ماں سے ملاقات کرتی ہے جو گیارہ بچوں کی ماں تھی۔ چار بیٹیاں اور سات بیٹے۔ یہ افسانہ ایک ایسے گھر کی کھانی ہے جس میں کثیر اولات ہوتی ہے، مالی طور پر مستحکم بھی نہیں ہوتے، شادیاں غلط لوگوں میں ہوجاتی ہیں۔ ڈاکٹر شیبا اس خاندان کی کہانی قلم بند کرتی ہے جو رسالے میں شائع ہوتی ہے۔

ڈاکٹر تنویر کے افسانے موجودہ حالات، واقعات، کیفیات، رنج و غم، دکھ سکھ، شدت پسندی، دہشت گردی، جنونیت، مظالم اور مظلوموں کے گرد گھومتے نظر آتے ہیں ان کے ایک افسانے ”پڑوسی، مگر کیسے“ میں آجکل کے حالات ور کیفیت کی تصویر کشی عمدہ طریقے سے کی گئی ہے۔دیکھئے چند سطریں۔
”ارے کیا کروگے اتنا پڑھ کر۔ ہمارے گھر دیکھو ساری بہو یں صرف آٹھویں نویں پاس ہیں، بیٹیاں بھی اتنا ہی پڑھی ہیں۔ ہم جاہل جٹ۔۔۔مگر اللہ تعالیٰ نے روپے پیسے سے ایسا نوازا ہے کہ بیٹا برکت ہی برکت ہے۔ بزنس کرو بزنس“۔افسانہ ’جال‘ بھی ایک دلچسپ کہانی ہے جس میں دوبہنیں اپنی ڈاکٹر بھائی کی شادی اخبار میں دیے گئے ایک ضرورت رشتہ کے مطابق ایک پاگل لیکن دولت مند لڑکی سے کرادیتیں ہیں۔ سہاگ کا سین کچھ اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ دلہن اپنے بیڈ پر قیمتی کپڑے، روپوں اور زیورات کا ڈھیر لگا کر خود الگ کرسی پر گھوگھٹ کاڑھے سورہی ہوتی ہے۔ ڈاکٹر شیراز کمرہ میں داخل ہوتے ہیں اب لڑکی کیا کہتے ہیں افسانہ نگار کے الفاظ:
”ڈاکٹر شیراز صاحب۔ آپ نے مجھ سے شادی ان روپوں اور زیورات کے لیے کی ہے، وہ حاضرِ خدمت، ورنہ ایک پاگل لڑکی کو آپ کیوں اپناتے۔ ہم دو مسافر الگ الگ راہوں کے ہیں، مجھے آپ کی ذات سے کوئی دلچسپی نہیں اس لیے آپ کو بھی مجھ سے دلچسپی نہیں ہونا چاہیے۔ آپ کی دلچسپی کی چیزیں آپ کو میں نے دے دی ہیں۔ فقط ایلیا“۔

افسانہ ”درد کی آواز“ مصنوعی ٹانگوں لیکن سریلی آواز، اچھاگانے والی خوبصورت لڑکی اور ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ رازی ہے جس میں رازی تانیا شیراز کی آواز کے عشق میں مبتلا ہوجاتا ہے اور اس کی جستجو میں وہ ریڈیو اسٹیشن کا رخ کر کے کسی طرح تانیا کے گھر تک پہنچ جاتا ہے۔ بات آگے بڑھتی ہے، رازی کے گھر والے تانیا کے گھر رشتہ لے کر جاتے ہیں، وہاں تانیا رازی کی بہن کو الگ لے جاکر کہتی ہے ”آپی! میں کسی قیمت پر بھی رازی سے شادی نہیں کرسکتی۔ رازی سے یا کسی بھی دوسرے انسان سے۔ اس لیے کہ میں معذور ہوں“۔
کیا۔۔۔؟
”ہاں آپی!رازی نے اپنی بے خودی میں میرے پاؤں کے لنگ کو محسوس نہ کیا۔ آپی دوسری بات یہ ہے کہ میں کنوراری نہیں شادی شدہ عورت ہوں۔ میرا ایک بچہ بھی ہے اور یہ دیکھئے میں دونوں پیروں سے معذور ہوں۔ میری مصنوعی ٹانگیں ہیں جن کے سہارے میں چل پھر لیتی ہوں۔ آپی۔ ایسی حالت میں رازی کا مجھ سے شادی کرنا کتنا عجب ہے۔ انہوں نے مجھے موقع ہی نہ دیا کہ سب کچھ بتاسکتی“۔ تانیا کے والدین اور شوہر ایک ائر کریش میں فوت ہوگئے تھے۔ رازی سب کچھ جاننے کے باوجود تانیا سے شادی کرنے کی زد پر اڑا ہوا تھا۔ لیکن تانیا رازی کو قائل کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہے آخر میں یہ بھی بتاتی ہے کہ میرا نام تانیا نہیں شمع مراد ہے۔

ڈاکٹر تنویر انور خان کے دیگر افسانے بھی سبق آموز ہیں، معاشرہ سے جنم لینے والے واقعات، کردار بھی وہی ہیں جنہیں ہم صبح و شام اپنے ارد گرد دیکھتے ہیں۔کتاب کے فلیپ پر موجود مختلف علمی و ادبی شخصیات کی رائے طبع ہے۔ پروفیسر ڈاکٹرپیرزادہ قاسم ڈاکٹر تنویر انور خان کے افسانوں کے باری میں کہتے ہیں کہ ان میں بے ساختہ پَن ہے، ڈاکٹر عالیہ امام کا خیال ہے کہ ادیب معاشرے کا نقاد ہوتا ہے وہ رہنمائی کرتا ہے اور ان کے ہاں یہ رہنمائی موجود ہے،پروفیسر ڈاکٹر تنظیم الفردوس نے لکھا کہ مصنفہ صحتِ زبان کا بڑا خیال رکھتی ہیں اور نئے لکھنے والوں کے لیے زبان کا یہ معیار یقینا قابل تقلید ہے، آغا نور محمد پٹھان نے لکھا کہ ڈاکٹر تنویر انور خان نے انسانوں کے دُکھوں کو دیکھا اور ان کی کیفیات اور رویوں کا مشاہدہ کیا ہے اور ارد گرد کے ماحول کا جائزہ لے کر اپنے احساسات کو کاغذ پر منتقل کیا ہے۔،جہانگیر سیدلکھتے ہیں کہ ’وہ دوروں کا درکھ خود پر طاری کر کے جب بیان کرتی ہیں وہ وہ دکھ قاری کو اپنا دکھ محسوس ہوتا ہے اور ڈاکٹر صاحبہ کے شوہر نامدار قبلہ ڈاکٹر محمد انور خان نے اپنی افسانہ نگار بیگم کو ملک کی صفِ اول کی افسانہ نگار خواتین میں شامل کرتے ہوئے کہا کہ یہ ان کی نصف صدی کی قلمی جدوجہد کا شاخسانہ
ہے۔(25 اکتوبر 2019ء)
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 166 Print Article Print
About the Author: Prof. Dr Rais Ahmed Samdani

Read More Articles by Prof. Dr Rais Ahmed Samdani: 651 Articles with 472448 views »
Ph D from Hamdard University on Hakim Muhammad Said . First PhD on Hakim Muhammad Said. topic of thesis was “Role of Hakim Mohammad Said Shaheed in t.. View More

Reviews & Comments

Language: