دو دل ایک جان، ترکی اور پاکستان !

(Muhammad Akram Awan, )

29اکتوبر1923کوگرینڈنیشنل اسمبلی نے ترکی کوجمہوریہ ترکی قراردیا تھا۔اس لئے ہرسال 29اکتوبرپوری ترک قوم کی طرف سے زبردست تیاری کے ساتھ "ترک ری پبلک ڈے" کے طورپر منایا جاتاہے۔یہ دن صرف ترک عوام کے لئے ہی نہیں بلکہ پاکستانی قوم کے لئے بھی خصوصی اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ ترکی اورپاکستان یک جان دوقالب ہیں اوراس پرجتنا فخرکیا جائے کم ہے۔پاکستان اورترکی کے عوام کا تعلق محض ثقافتی اورتہذیبی رشتوں تک محدودنہیں بلکہ دونوں ممالک ایک دوسرے کی قومی شخصیات اورسیاسی قائدین کے لئے بھی یکساں عزت واحترام کارشتہ رکھتے ہیں۔بانی پاکستان قائداعظم محمدعلی جناح نے اتاترک مصطفی کمال پاشاکوترقی کا معمار قراردیا تھا۔اسی طرح ترک قیادت بھی پاکستان کو بہت اہمیت دیتی ہے۔ترک صدرجناب رجب طیب اردوان نے ہمیشہ دونوں ممالک کے درمیان مضبوط تاریخی رشتہ کی اہمیت پرزوردیا۔بے شک ترک صدرجناب رجب طیب اردوان نے دوطرفہ تعلقات نبھانے میں ایک تاریخ رقم کی ہے۔ہرپاکستانی کو ترکی اورپاکستان کی اس عظیم دوستی پرفخرہے۔

ہماری ثقافت وتہذیب میں قربت اورتعاون کوئی نئی بات نہیں بلکہ یہ سلسلہ توصدیوں پرمحیط ہے۔ترکی اورپاکستان تاریخی دوستانہ رشتوں میں جڑے ہوئے ہیں۔انگریزوں نے جب ہندوستان پرقبضہ کیا تومسلمان ایک زوال پذیرقوم کی حیثیت سے رہ رہے تھے۔مقامی ہندو،سکھ،جاٹ مسلمانوں سے گن گن کربدلہ لے رہے تھے۔مرہٹے مضبوط ہوچکے تھے،ہندوجاٹوں نے دہلی اوراس کے گردونواح میں ظلم وجبراورقتل گری کا بازارگرم کررکھا تھا۔پنجاب میں سکھ دندناتے اورمسلمانوں کاقتل عام کرتے پھرتے تھے۔پورے ہندوستان میں مسلمانوں کا کوئی ولی وارث نہیں تھا۔ان حالات میں برصغیرکے مسلمانوں کے لئے قدرتی طورپرواحداُمیدعظیم سلطنت عثمانیہ ہی تھی،پھرجب سلطنت عثمانیہ کازوال شروع ہوا توبرصغیر کے مسلمانوں نے اس مشکل وقت میں ترکوں کا بھرپورساتھ دیا اوراس مشکل کی گھڑی میں ترک بھائیوں کا بھرپورساتھ دیا۔برصغیرکے مسلمانوں نے سلطنت ِعثمانیہ کے لئے باقاعدہ تحریک خلافت کا آغازکیا ، یہاں کی مسلمان بہنوں ،بیٹیوں نے خلافت عثمانیہ کے دفاع کے لئے اپنے زیورپیش کئے اور عملی طورپرجہادمیں حصہ لینے کے لئے لوگوں نے جوق درجوق ترکی پہنچنا شروع کردیا ۔

یہی وجہ ہے کہ ترکی کے عوام اس خطہ کے مسلمانوں کی ترکی کے ساتھ گہری دلی وابستگی کو عزت واحترام سے دیکھتے ہیں اور شروع دن سے ترک عوام کو پاکستان سے حددرجہ انس وعقیدت ہے۔ترکوں کوصرف پاکستان سے ہی محبت نہیں بلکہ یہ لوگ ہرپاکستانی کوعزت واحترام سے دیکھتے ہیں۔اس خلوص،پیار،محبت کے سمندراور گہری انسیت واحترام کو دیکھ کردونوں ممالک کے عوام کے درمیان قلبی اوربڑے گہرے رشتہ کا احساس ہوتاہے۔ترکوں کی پاکستان سے محبت کا اندازہ اسی بات سے لگایاجاسکتاہے کہ ترکی کے عوام پاکستان کے ساتھ والہانہ محبت کا اظہاراس محاورہ سے کرتے ہیں"پاکستان کانام آتے ہی بہتاپانی تک رک جاتاہے"ترکی زبان کا یہ محاورہ کسی سے گہری محبت کے اظہارکے لئے استعمال کیا جاتاہے۔

جمہوری ترکی کے عوام اپنے عظیم قائدوراہنماصدررجب طیب اردوان سے والہانہ محبت کرتے ہیں۔جن کی بصیرت افروزقیادت میں جمہوری ترکی اقوام عالم کے لئے مثالی ملک بن چکاہے۔ترکی نے چنددہایؤں میں دُنیا کی ترقی یافتہ قوم بننے میں نمایاں کامیابی حاصل ہے اورخطہ کا خوشحال ترین ملک بن کردُنیا کے سامنے آیا ہے۔قومیں اپنے راہنماء کی بدولت ہی دنیامیں بلند مقام اورمنزل حاصل کرنے میں کامیاب ہوتی ہیں۔ترک عوام کی خوش بختی کہ انہیں عظیم راہنماو قائدرجب طیب اردوان کی قیادت نصیب ہوئی۔
عظیم قائدوراہنمارجب طیب اردوان نے اپنے آپ کوصرف ترکی کی ترقی واستحکام تک محدودنہیں رکھابلکہ یہ دُنیا بھر کے مسلمانوں کا درد اپنے سینے میں رکھتے ہیں، چاہے فلسطین وکشمیرکے مسلمانوں پرڈھائے جانے والے ظلم وستم کی بات ہو یا روہنگیا کے مسلمانوں پرظلم وجبرکا معاملہ ہو،انہوں نے ہمیشہ ہمدردی کا اظہار اوردُنیا بھر کے مظلوم مسلمانوں کی مدد کے لئے عملی اقدامات کئے۔اسلام اورمسلمانوں کے ساتھ اس مضبوط تعلق کی بنا پرکہاجاسکتا ہے کہ صدرایردوان شرق وغرب میں مسلمانوں کے متفقہ رہنما ہیں اوردُنیا بھر کے مسلمانوں کی اُمیدیں اورتوقعات ان سے وابستہ ہیں۔

پاکستان اورترکی خطے میں امن واستحکام کے فروغ کے لئے یکساں سوچ رکھتے ہیں،اس لئے پاکستان اورترکی کے دوست اور دُشمن بھی مشترک ہیں۔پاکستان اورترکی دونوں ممالک کے درمیان مضبوط ومستحکم مثالی،معاشی،تجارتی تعلقات ہیں۔ترکی نے ہمیشہ پاکستان کے عوام کے ساتھ بے لوث محبت کا اظہارکیااورہر مشکل گھڑی میں پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا اوربغیرکسی غرض کے مدد اورتعاون صرف انسانی ہمدردی کی بنیادپر کیا۔2015کے سیلاب نے پاکستان بھرخاص کرپنجاب میں تباہی پھیلادی تھی۔ہمیشہ کی طرح ترک حکومت نے اس نازک موقع پربھی پاکستان کی دل کھول کرمددکی۔سیلاب سے بے گھرہونے والے غریب وبے سہارا افرادکے لئے1270گھروں پرمشتمل ہرقسم کی جدید سہولتوں سے آراستہ کالونی تعمیرکی،جس میں زندگی کی تمام سہولیات جن میں سکول ،مساجد،بچوں کے لئے تفریحی پارک، مع ادویات اورہرقسم کے علاج کے لئے ہسپتال تعمیرکیا گیا۔

توانائی،قدرتی وسائل کی تلاش اورپاکستان کی افرادی قوت کی تربیت کے لئے ٹیکنیکل تعلیم کے وسیع پیمانے پرپروجیکٹ شروع کرنے میں معاونت کی۔دہشت گردوں کومکروہ کاررائیوں سے روکنے اور دہشت گردی کے ناسورکے خاتمہ کے لئے ترک پولیس کی معاونت سے ڈولفن فورس کا قیام عمل میں لایاگیا۔اس کے علاوہ ترکی نے ہمیشہ ہربین الاقوامی فورم پرپاکستان کا ہرایشوپرکھل کرساتھ دیا۔ ترکی کشمیرکی موجودہ تازہ ترین صورت حال کے موقع پر ہمارا سب سے مضبوط اتحادی بن کرسامنے آیا ہے
ہرمشکل وقت میں ترکی نے پاکستان کاجس طرح ساتھ دیا، جس بے لوث جذبہ اورخلوص کے ساتھ دوستی نبھائی اس کاالفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔پاکستانی قوم کودونوں ملکوں کے درمیان دیرینہ دوستی ،سماجی تعلقات اور قدیم برادرانہ تعلق پر فخرہے۔پاکستانی قوم اپنے محسن و دوست کی تہہ دل سے قدرکرتی ہے۔ ان شاء اﷲ ترکی اورپاکستان کی دوستی ہمیشہ اسی طرح قائم رہے گی۔پوری پاکستانی قوم جمہوری ترکی کواس خصوصی دن کی مناسبت سے دل کی گہرائیوں سے مبارکبادپیش کرتی ہے اورعظیم جمہوری ترکی کی ترقی ،کامیابی اوراستحکام کے لئے دعا گو ہے ۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: MUHAMMAD AKRAM AWAN

Read More Articles by MUHAMMAD AKRAM AWAN: 99 Articles with 44867 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
28 Oct, 2019 Views: 309

Comments

آپ کی رائے