افسانہ شرمندگی کا

(Rana Tabassum Pasha(Daur), Dallas, USA)

اُس نے سن رکھا تھا اور کہیں کہیں خود بھی دیکھ رکھا تھا کہ جس عورت کا شوہر سب سے زیادہ کماتا ہے اور گھر کا خرچ چلاتا ہے وہ سسرال میں راج کرتی ہے ۔ کماؤ پوت کی منکوحہ ہونے کے ناطے اسے بہت سی رعایتیں حاصل ہوتی ہیں ۔ سو ایک ایسے ہی کماؤ شخص کے ساتھ بیاہ کر جب وہ سسرال آئی تو سب سے پہلا جھٹکا تو اسے تب ہی لگ گیا جب شادی کے ٹھیک دسویں روز اس کی کھیر پکائی کی رسم رکھ دی گئی کیونکہ بیرون ملک سے آئے ہوئے اس کے شوہر کی چھٹی تقریباً اختتام پذیر ہی تھی اور روانگی کی تاریخ سر پر آن پہنچی تھی ۔ وہ سخت حیران تھی اور مغموم و مضطرب بھی کیونکہ اسے تو یہی معلوم تھا کہ شادی کے بعد شوہر ایک ماہ اور وطن میں رکے گا مگر وہ تو دو ہفتے سے بھی پہلے اسے داغ مفارقت دینے لگا تھا ۔

اسی طرح اس نے یہ بھی سن رکھا تھا کہ شادی صرف دو ، لڑکا اور لڑکی ہی کی نہیں بلکہ دو خاندانوں کے درمیان ہوتی ہے مگر اسے لگتا تھا کہ صرف خود اُسی کی شادی اپنے شوہر کے پورے خاندان کے ساتھ ہوئی ہے وہ جس کے نکاح میں آئی ہے ایک اسی کے سوا اس کا پورا خاندان اس کا خاوند ہے ۔ وہ جانتی نہ تھی کہ ہم پلہ گھرانوں میں رشتے موجود ہونے اور ان کی جانب سے اشاروں کنایوں کے باوجود اپنے سے کم حیثیت گھرانے سے لڑکی وہی لوگ بیاہ کر لاتے ہیں جنہیں بیٹے کے لئے بیوی نہیں خود اپنے لئے ایک ملازمہ درکار ہوتی ہے وہ بھی مفت کی اور بیٹا بھی اپنے قابو میں ۔ سو وہ بھی اپنی کھال کی جوتیاں بنا کر اپنی پوری سسرال کو پہنانے میں جُت گئی کیونکہ شوہر نے اسے بہت جلد اپنے پاس بلا لینے کا وعدہ کیا تھا ۔

سال بھر ایسے ہی بول بچنوں اور دم دلاسوں میں گذر گیا پھر اس نے کہا کہ میں خود آ رہا ہوں اور آتے آتے دو سال اور لگا دیئے کیونکہ شادی کے موقع پر اور نئے مکان کی تعمیر کی مد میں چڑھا ہؤا بہت سارا قرض بھی اتارنا تھا ۔ مگر امتحان ابھی ختم نہیں ہؤا تھا ابھی اور بہت سی قربانیاں ان کے ذمے تھیں ۔ سو دونوں ہی کی زندگی کے بہت سارے قیمتی اور سنہرے سال وہ قرض اتارنے میں صرف ہو گئے جو ان پر واجب ہی نہیں تھے ۔ وہ ایک دوسرے کے ہمسفر نہیں ندی کے دو کنارے تھے کہ ساتھ ساتھ چل رہے ہیں پھر بھی تنہا ہیں ایکدوسرے سے دور اور جدا ہیں ۔ وہ دونوں جانتے ہی نہیں تھے کہ جو انسان اپنی قدر خود نہیں کرتا تو پھر کسی کے بھی نزدیک اس کی صرف ایکبار ملنے والی زندگی کی کوئی قیمت بھی نہیں ہوتی (رعنا تبسم پاشا)

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rana Tabassum Pasha(Daur)

Read More Articles by Rana Tabassum Pasha(Daur): 168 Articles with 1016337 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
29 Oct, 2019 Views: 2580

Comments

آپ کی رائے