ہمّت والی

(Mukhtar Ahmed, Islamabad)

کہتے ہیں پریشانیاں تو زندگی کا حصہ ہوتی ہیں اس لیے ان سے نمٹنے کے لیے کوششیں کرتے رہنا چاہیے- سلطان ایک صاف ستھرے اور پرسکون گاؤں میں رہتا تھا اور اپنے ماں باپ کے ساتھ ایک خوش حال اور خوش گوار زندگی گزار رہا تھا مگر اسے ایک بہت بڑی پریشانی لاحق ہوگئی تھی اور اسے اس کا کوئی حل نظر نہیں آتا تھا- اس کی پریشانی کا سبب اس کی نادیہ سے نسبت تھی جو اس کے باپ نے بچپن میں ہی طے کر دی تھی- اس وقت وہ تقریباً آٹھ برس کا تھا اور اس کے باپ کے دوست کی بیٹی جس سے اس کی نسبت طے کی گئی تھی چھ سال کی ہوگی- اس بات کو پندرہ سولہ سال کا عرصہ بیت چکا تھا-

سلطان کے باپ کا یہ دوست اب تو شہر میں رہتا تھا مگر سالوں پہلے وہ اسی گاؤں میں رہائش پذیر تھا اور اس کی حویلی ان لوگوں کے قریب ہی تھی- سلطان اور نادیہ کے باپ بچپن ہی سے ایک دوسرے کے گہرے دوست تھے اور ان سب کا ایک دوسرے کے گھروں میں آنا جانا تھا-

جب نادیہ کے باپ کے والدین کا انتقال ہوگیا تو اس نے گاؤں میں موجود اپنی زمینیں اور حویلی وغیرہ بیچ کر شہر کا رخ کر لیا- وہ اپنے بچوں کو اچھی تعلیم دلوانا چاہتا تھا- اس کا خیال تھا کہ شہر میں رہ کر اس کے دونوں بچے ٹھیک طرح سے تعلیم حاصل کرسکیں گے- اس کے شہر منتقل ہوجانے کے باوجود دونوں دوست ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے تھے اور سال چھ مہینے میں ایک دوسرے کے گھر جا کر مل بھی لیتے تھے-

ایک دفعہ بچوں کے اسکولوں میں چھٹیاں ہوئیں تو نادیہ کا باپ چند روز کے لیے اپنی بیوی، بیٹے اور بیٹی کے ساتھ گاؤں چلا آیا- اس کا قیام سلطان کے گھر ہی میں تھا- اس کے بیٹے کا نام فرید اور بیٹی کا نام نادیہ تھا-

نادیہ انتہائی خوب صورت اور بھولی بھالی بچی تھی- اس کا رکھ رکھاؤ، چھوٹے بڑوں کا ادب، اور ذہانت سے بھرپور معصوم باتوں نے سلطان کے باپ کو بہت متاثر کیا تھا- یہ لڑکی اسے اپنے بیٹے سلطان کے لیے بہت موزوں لگی- گاؤں کی کچھ ریت روایت ہوتی ہیں- یہاں کے اکثر لوگ دوستی کو پکا رنگ دینے کےلیے بچوں کے رشتے بچپن میں ہی طے کر لیتے ہیں، یہ سوچے سمجھے بغیر کہ بعد میں ان فیصلوں کے کیا اثرات ہوں گے-

ان ہی دنوں ایک روز جب سلطان کا باپ اور اس کا دوست حقے گڑگڑاتے ہوۓ باتوں میں مشغول تھے تو سلطان کے باپ نے اس کی بیٹی کا رشتہ سلطان کے لیے مانگ لیا- اس کا دوست لاکھ شہر میں رہنے لگا تھا مگر اس کے اندر وہ ہی گاؤں کا بااختیار اور دولت مند آدمی ابھی تک موجود تھا- یہ بااختیار آدمی کسی بھی معاملے میں بیوی بچوں سے مشوره لینے کو اپنی توہین اور بہت برا سمجھتا ہے اور فیصلے کر لینے کے بعد صرف گھر والوں کو اطلاع دے دیتا ہے- اس اطلاع کا یہ مطلب بھی ہوتا ہے کہ اب کسی قسم کی بحث کی گنجائش نہیں- اب بھی ایسا ہی ہوا تھا- دونوں دوستوں کے درمیان سلطان اور نادیہ کی شادی کی بات طے پاگئی اور دونوں نے اس کی اطلاع اپنی اپنی بیویوں کو دے دی- دونوں بیچاریاں کیا کرتیں- ایک دوسرے کو مبارک باد دے کر رہ گئیں-

دو ایک روز بعد اس خوشی میں ایک دعوت بھی رکھی گئی جس میں قریبی رشتے دار شریک تھے- سلطان نادیہ سے زیادہ سمجھدار تھا- اسے جب بتایا گیا کہ اس کی شادی نادیہ سے ہوگی تو وہ بہت خوش ہوا- نادیہ اتنی سمجھدار نہیں تھی، اس لیے وہ چمک دمک والے کپڑے پہن کر خوش تو ہوئی مگر زیادہ نہیں- بروکیڈ کی قمیض اور دوپٹہ جو اس موقع پر پہننے کے لیے خاص طور سے شہر سے منگوائے گئے تھے، اسے چبھ رہے تھے اور وہ بے آرامی محسوس کر رہی تھی- کچھ دنوں بعد نادیہ اور اس کے گھر والے واپس شہر چلے گئے-

اس وقت سلطان شائد چوتھی جماعت میں تھا- اس کے باپ کو اندازہ تھا کہ اس کی ہونے والی بہو شہر میں رہ کر خوب پڑھ لکھ جائے گی- اس لیے سلطان کو اس کا ہم پلہ بنانے کے لیے وہ اس کی تعلیم کے پیچھے لگ گیا- اس کی کوششوں کے باوجود سلطان میٹرک سے زیادہ نہ پڑھ سکا تھا- دوسرے کم فہم لوگوں کی طرح اس کے باپ نے بھی یہ سوچ کر خود کو تسلی دے لی کہ آگے نہیں پڑھا تو نہیں پڑھا، کونسا اسے کوئی نوکری کرنا ہے- اس کا خیال تھا کہ گھر بار تعلیم سے نہیں پیسے سے چلتے ہیں اور پیسہ ان کے پاس بہت تھا-

اگر نادیہ کے گھر والے گاؤں میں ہی رہا کرتے تو سلطان اور نادیہ کو ایک دوسرے سے ملنے کے مواقع ملتے رہتے اور دونوں میں انسیت قائم ہوجاتی- اپنی ہونے والی بیوی کو اس نے صرف بچپن میں ہی دیکھا تھا- وہ اس کی شکل تو بھول گیا تھا مگر یہ بات ذہن سے چپک کر رہ گئی تھی کہ اس کی شادی نادیہ سے ہوگی- یہ اس کے باپ کا فیصلہ تھا اور اس کے باپ کا فیصلہ پتھر پر لکیر ہوتا تھا-

سلطان کے گاؤں میں ایک نسرین نامی لڑکی رہتی تھی- وہ نہایت حسین و جمیل تھی- آٹھ دس سال کی عمر تک تو وہ گلی محلوں میں کھیلتی پھرتی تھی مگر اس کے بعد گھر والوں کی طرف سے اس پر پابندی لگ گئی- اب وہ کبھی کبھار دروازے پر نظر آجاتی تھی- کبھی باہر جانا ہوتا تو ایک بڑی سی چادر لپیٹ کر نکلتی تھی-

نسرین کا باپ گندم اور دوسری فصلوں کا آڑھتی تھا- وہ بوڑھا ہوا تو اس کے تینوں بیٹوں نے یہ کام سنبھال لیا- اس کام میں بہت پیسے ملتے تھے- اس لیے گھر میں خوب خوشحالی تھی- ان کی امارت کا مقابلہ گاؤں کے بہت سے چوہدری بھی نہیں کرسکتے تھے- شہر ہو یا گاؤں، ہر جگہ پیسے والوں کی عزت ہوتی ہے- ان کی بھی گاؤں میں بہت عزت تھی- ایک طرح سے ان لوگوں کی عزت ہونا ٹھیک بھی تھا- وہ لوگ نہایت دیانت داری اور ایمانداری سے اپنے کاروبار کو چلاتے تھے- غریب کسانوں کی مجبوری کا فائدہ اٹھا کر اور طرح طرح کی باتیں بنا کر ان سے سستے داموں اناج نہیں خریدتے تھے بلکہ اس بات کو مد نظر رکھتے تھے کہ ان کی سال بھر کی محنت کا ٹھیک ٹھاک منافع انھیں مل جائے- اس صاف ستھری سوچ کی وجہ سے انھیں بھی فائدہ ہوتا تھا اور غریب کسانوں کو بھی- الله کی دی ہوئی نعمتوں کا شکر ادا کرنے کا یہ بھی ایک طریقہ ہے کہ حق داروں کو ان کا حق ٹھیک ٹھیک طریقے سے ادا کیا جائے- اس سے برکت بھی ہوتی ہے-

ادھر سلطان کے باپ کے پاس بہت ساری زرعی زمین تھی- اس زمین سے جو اناج اگتا تھا وہ نسرین کے بھائیوں کو فروخت کردیا جاتا تھا- چونکہ اس کام میں سلطان ملوث ہوتا تھا اس لیے نسرین کے بھائیوں سے اس کی کافی دوستی ہوگئی تھی- بھائیوں سے دوستی ہوئی تو ان کا آپس میں ایک دوسرے کے گھر آنا جانا بھی شروع ہوگیا- اسی آنے جانے میں نسرین بھی سلطان کو کبھی کبھار نظر آجاتی تھی- اور یوں وہ سلطان کو اچھی لگنے لگی اور یہ اچھا لگنا شدید محبّت میں تبدیل ہوگیا-

وہ بھی ایک خوب صورت جوان تھا اور نسرین بھی اس کی محبّت کا دم بھرنے لگی تھی- دونوں کی دوستی کو عرصہ بیت گیا تھا- سلطان کو محسوس ہونے لگا تھا کہ اب وہ نسرین کے بغیر زندہ نہیں رہ سکے گا- ان دونوں کو قریب لانے میں موبائل کا بہت بڑا ہاتھ تھا- ایک دفعہ اس نے کسی طرح اپنا موبائل نمبر نسرین کو دے دیا تھا اور اس طرح دونوں کے درمیان رابطہ ہوگیا- وہ ایک دوسرے کو آتا جاتا دیکھ لیتے اور باتیں موبائل پر کرلیا کرتے تھے- گاؤں اور گھر کے مخصوص ماحول کی وجہ سے وہ نسرین سے ملاقات نہیں کرسکتا تھا- کبھی کبھی وہ یہ سوچ کر سخت پریشان ہوجاتا تھا کہ چاہئے کچھ بھی ہوجائے اس کا باپ اس کی شادی نادیہ سے ہی کرکے دم لے گا-

ایک روز سلطان کے باپ کے ذہن میں خیال آیا کہ اتنے بڑے گھر میں صرف تین لوگ ہیں- اس نے سوچا کہ اب وقت آگیا ہے کہ سلطان کی شادی کردی جائے- بہو کے آجانے سے گھر میں رونق بھی ہوجائے گی اور پھر پوتے پوتیوں کے ہونے کے بعد دونوں دادا دادی کا وقت بھی اچھا گزرا کرے گا- یہ سوچ کر اس نے دوست کے پاس شہر جانے کی تیاری شروع کردی تاکہ سلطان اور نادیہ کی شادی کی بات کو آگے چلائے-

ان تیاریوں کی خبر جب سلطان کو ملی تو وہ گھبرا گیا- دوستوں کے عہدوپیمان ایک طرف، مگر اسے تو نسرین اچھی لگتی تھی اور وہ اسے اپنی شریک حیات بنانا چاہتا تھا- نادیہ سے اسے کوئی جذباتی وابستگی نہیں تھی- اس کے علاوہ یہ بات بھی تھی کہ شہر میں رہ کر وہ نہ جانے کتنا لکھ پڑھ گئی ہوگی- وہ تو محض دس جماعت پاس تھا- ان تمام باتوں کی وجہ سے وہ باپ کے فیصلے پر راضی نہ تھا- مگر اس میں یہ ہمت بھی نہ تھی کہ کھل کر اپنے باپ سے کہہ سکتا کہ وہ نادیہ سے شادی نہیں کرسکتا-

نسرین کو وہ یہ بات پہلے ہی بتا چکا تھا کہ اس کے باپ نے اس کی شادی کی بات اپنے دوست کی بیٹی سے طے کرلی ہے- یہ بات سن کر وہ ذرا نہیں گھبرائی اور اس کو تسلی دیتے ہوۓ بولی- "تم کیوں پریشان ہوتے ہو- اپنے ابّا جان سے کہہ دو کہ تم وہاں نہیں یہاں شادی کرنا چاہتے ہو-"

سلطان نے افسردگی سے کہا- "مجھ میں اتنی ہمت نہیں کہ اس سلسلے میں اپنے باپ سے کچھ کہہ سکوں- یہ ہمت میری ماں میں بھی نہیں ہے- کہنے کو تو انہوں نے پوری زندگی میرے باپ کے ساتھ گزار دی ہے مگر میں نے کبھی انھیں اپنے باپ سے بحث کرتے نہیں دیکھا- وہ اس کی ہر بات پر سر جھکا دیتی ہیں- وہ بات چاہئے ٹھیک ہو یا غلط- میں نے ماں سے کہا تھا کہ میں نادیہ سے شادی نہیں کرنا چاہتا اس لیے وہ اس سلسلے میں ابّا جان سے بات کریں- مگر انہوں نے یہ کہہ کر صاف انکار کر دیا کہ وہ میرے باپ کے فیصلے سے اختلاف نہیں کرسکتیں-"

اس کی بات سن کر نسرین ہنس پڑی- "تو پھر تم اب کیا کرنا چاہتے ہو؟" اس نے پوچھا-

"اسی بات کا مشوره کرنے کے لیے تو میں نے یہ مسئلہ تمہارے سامنے رکھا ہے-" سلطان نے بے بسی سے کہا- "کوئی مشوره دینے سے پہلے بس اس بات کا دھیان رکھنا کہ میں اپنے باپ سے یہ نہیں کہہ سکتا کہ مجھے نادیہ سے شادی منظور نہیں- مجھ میں اتنی ہمت نہیں- تم اسے میری بزدلی کہہ سکتی ہو-"

نسرین کچھ دیر خاموش رہی- یوں معلوم دیتا تھا کہ جیسے وہ کچھ سوچ رہی ہے- تھوڑی دیر بعد اس کی آواز آئی وہ کہہ رہی تھی- "تو اس کا حل صرف یہ ہے کہ وہ لڑکی منع کردے- یہ کہہ دے کہ وہ تم سے شادی نہیں کرنا چاہتی- تم اس سے بات کرو-"

"جب میں مرد ہو کر یہ قدم نہیں اٹھا سکتا تو وہ تو پھر ایک عورت ہے- اس کا باپ بھی ایسا ہی ہے جیسا میرا- ان کی مرضی کے خلاف کوئی بات ہوجائے تو پورا گھر سر پر اٹھا لیتے ہیں-" سلطان نے مایوسی سے کہا-

"اس کی فکر تو تم کرو مت- عورتیں شہر کی ہوں یا گاؤں کی، کچھ معاملات میں مردوں سے زیادہ با ہمت ہوتی ہیں- پھر کوئی عورت یہ برداشت نہیں کرسکتی کہ اس کا شوہر شادی تو اس سے کرے مگر محبّت کسی اور سے- میری مانو- اسے صاف صاف بتا دو کہ تم کسی اور سے محبّت کرتے ہو- وہ تمہاری بات سن کر خود ہی شادی سے انکار کردے گی-"

سلطان اس پر کچھ کہنے ہی والا تھا کہ فون کی لائن کٹ گئی- شائد نسرین کے گھر کا کوئی فرد آگیا تھا- بہرحال اس کی بات سلطان کے دل کو لگی تھی- اگلے روز وہ اپنی گاڑی میں بیٹھ کر شہر گیا اور نادیہ کے گھر جا پہنچا- وہ کئی مرتبہ اپنے باپ کے ساتھ ان کے گھر آچکا تھا اس لیے اسے نادیہ کے گھر تک پہنچنے میں کوئی دشواری نہیں ہوئی-

نادیہ کے گھر میں سوائے ان کے ڈرائیور کے اور کوئی نہ تھا- ڈرائیور سلطان کو جانتا تھا- اس نے اسے عزت سے بٹھایا اور اس کے لیے چائے بنا کر لے آیا-

" سب لوگ کہاں ہیں؟ کوئی نظر نہیں آرہا-" اس نے ڈرائیور سے کہا-

"مالک اور مالکن تو فرید بیٹے سے ملنے ملائشیا گئے ہوۓ ہیں- ابھی پرسوں ہی گئے تھے- نادیہ بی بی لاہور میں رہتی ہیں- اپنی تعلیم مکمل کرکے انہوں نے وہاں کسی جگہ نوکری کر لی ہے- حالانکہ مالک ان کی نوکری سے ناخوش تھے مگر اس کے باوجود وہ چلی گئیں-"

یہ سن کر سلطان کو خوشی ہوئی- نادیہ واقعی ہمت والی لڑکی تھی- اپنے باپ کی مخالفت کے باوجود اس نے گھر سے دور ملازمت کرلی تھی- اب اسے یقین ہوچلا تھا کہ اس کی کہانی سن کر وہ خود ہی اس شادی سے انکار کردے گی- چائے پی کر اس نے ڈرائیور سے نادیہ کا ایڈریس معلوم کرنا چاہا-

"یہ تو مجھے نہیں پتہ کہ بی بی کہاں ملازمت کرتی ہیں اور کہاں رہتی ہیں- جب سے وہ لاہور گئی ہیں، صرف ایک دو مرتبہ ان کا یہاں آنا ہوا تھا- ایک روز کسی بات پر وہ اپنے باپ سے الجھ گئی تھیں- بات تو جانے کیا تھی مگر ان کے والد سخت غصے میں آگئے تھے- کافی گرما گرمی ہوئی تھی - اس روز کے بعد انہوں نے یہاں قدم نہیں رکھا- ہاں ان کا فون نمبر میرے پاس ہے- یہ اس زمانے سے میرے پاس ہے جب میں انھیں یونیورسٹی سے گاڑی میں لاتا اور لے جاتا تھا-" ڈرائیور نے کہا اور جیب سے اپنا موبائل نکالنے لگا-

اس سے نادیہ کا موبائل نمبر لے کر سلطان واپس گاؤں آگیا- نادیہ کا موبائل نمبر تو اسے مل ہی چکا تھا، وہ چاہتا تھا کہ اس سے جلد از جلد بات کرکے اس معاملے کا کوئی حل نکال لے-

گھر پہنچ کر اس نے کھانا کھایا اور سوچتا رہا کہ کس انداز میں اپنی بات نادیہ کے سامنے رکھے گا- اسے گھبراہٹ تو محسوس ہو رہی تھی مگر ہمت کرکے اس نے نادیہ کا نمبر ملا ہی دیا- کافی دیر تک بیل بجتی رہی پھر ایک محتاط نسوانی آواز آئ- "ہیلو"- نیا نمبر دیکھ کر شائد وہ کال اٹینڈ کرتے ہوۓ جھجھک رہی تھی-

"میں اجمل خان کا بیٹا سلطان ہوں- گاؤں سے بول رہا ہوں-"- اس نے جلدی سے کہا- "میں آپ کے گھر گیا تھا- وہاں سے پتہ چلا کہ آپ کی امی اور ابّا جان فرید کے پاس ملائشیا گئے ہوۓ ہیں- میں نے گل زمان سے آپ کا موبائل نمبر لے لیا تھا- مجھے آپ سے ایک ضروری بات کرنا تھی-"

نادیہ اسے پہچان گئی تھی- اس نے کہا- "آپ کے امی ابّا کیسے ہیں- گاؤں والوں کا کیا حال ہے- برسوں بیت گئے ہیں ہم لوگوں کا وہاں آنا ہی نہیں ہوا- شہر کی زندگی تو بہت ہی ہنگامہ خیز ہے- مجھے تو گاؤں بہت یاد آتا ہے-"

اس کی بات سن کر سلطان کا دل زور سے دھڑکا- نادیہ کو گاؤں کے یاد آنے کی یہ ہی وجہ ہوسکتی تھی کہ وہ ڈھکے چھپے الفاظ میں اپنی اور اس کی شادی کی طرف اشارہ کر رہی تھی-

اس کے کانوں میں پھر نادیہ کی آواز گونجی- "ابّا جان تو مجھ سے سخت ناراض ہیں- ایک طرح سے انہوں نے مجھے گھر ہی سے نکال دیا ہے-"

سلطان کو اس کی اور اس کے باپ کی کھٹ پٹ کے بارے میں تو ڈرائیور نے پہلے ہی بتا دیا تھا مگر پھر بھی اس نے اپنے لہجے میں حیرت پیدا کرتے ہوۓ پوچھا- "گھر سے نکال دیا؟ وہ کیوں؟"

اس کا سوال سن کر دوسری طرف چند لمحے تک خاموشی طاری رہی پھر نادیہ بولی- "میں نے اپنی قسمت کے بارے میں ان کا برسوں پہلے کا فیصلہ ماننے سے انکار کردیا تھا- میں سلیم سے شادی کرنا چاہتی تھی جو یونیورسٹی میں میرے ساتھ پڑھتا تھا- اس کے گھر والے کئی دفعہ میرا رشتہ لینے آئے مگر ابّا جان اس پر راضی نہیں تھے- وہ یہ ہی کہتے تھے کہ وہ اپنے دوست کو زبان دے چکے ہیں- جب وہ راضی نہیں ہوۓ تو بہت مجبور ہو کر میں نے سلیم سے شادی کرلی- افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ اپنی شادی میں میں کسی کو نہ بلا سکی- اپنے گھر والوں کو بھی نہیں- بھائی تو باہر تھا، وہ بھی نہیں آسکا مگر وہ میرے فیصلے سے خوش ہے-" نادیہ کے لہجے میں بے پناہ دکھ تھا-

اس کی بات سن کر سلطان کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا تھا- اس کی زبان گنگ ہو کر رہ گئی تھی-

نادیہ کو تو کچھ پتہ ہی نہیں تھا اس لیے اس نے سلطان کی خاموشی کا غلط مطلب لیا اور معذرت خواہانہ انداز میں بولی- "دیکھیے- شادی بیاہ گڈے گڑیا کا کھیل نہیں کہ ہمارے بڑے بغیر سوچے سمجھے دو نا سمجھ بچوں کی قسمت کا فیصلہ کردیں- امید ہے کہ آپ سمجھ گئے ہوں گے- چلیے اس بات کو چھوڑئیے- آپ کوئی ضروری بات مجھ سے کرنا چاہ رہے تھے- بتائیے- میں سن رہی ہوں-"


(ختم شد)

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mukhtar Ahmed

Read More Articles by Mukhtar Ahmed: 69 Articles with 61527 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
31 Oct, 2019 Views: 1135

Comments

آپ کی رائے