سندھ میں سک گزیدگی

(Muhammad Shoaib, )

عالمی ادارہ صحت کی جانب سے ہر سال دنیا بھر میں 28ستمبر کو ’’انسدادِ سگ گزیدگی‘‘ کا عالمی دن منایا جاتا ہے ۔ اقوامِ متحدہ کے تحت جتنے بھی عالمی دن منائے جاتے ہیں ان کا کوئی نہ کوئی تھیم یا نعرہ ہوتا ہے ۔ جس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ ہر سطح پر اس دن سے متعلق عوام میں آگاہی فراہم کرنا ہے۔ اس سال کا تھیم تھاRabies: Vaccinate to eliminateیعنی ’’سگ گزیدگی :خاتمے کے مدافعت‘‘ ہے اس سال یہ عالمی دن ایسے وقت میں آیا ہے جب سندھ میں کتے کے کاٹنے کے واقعات کی خبریں اخبارات میں آئی ہیں اس کو ہم حسن اتفاق کہے سکتے ہیں۔ حال ہی میں سوشل میڈیا پر سندھ کے شہر لاڑکانہ کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی۔ جس میں کتے کے کاٹنے سے ایک بچہ اپنی ماں کی گود میں ہلاک ہوگیا تھا۔جس پر صوبائی حکومت کا موقف تھا کہ بچہ ویکسین نہ ہونے کی وجہ سے نہیں بلکہ تاخیر سے علاج کرنا تھا۔ اسی طرح سوشل میڈیا پر ایک منٹ 22سکینڈ کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی جو غالباً انڈیا کی تھی جس میں ایک آٹھ سالہ بچہ بستر پر پڑا نظرآتا ہے جو کتے کے کاٹنے کی کیفیت بیان کررہی تھی ۔ بچہ کتے کی طرح زبان باہر نکال رہا ہے اور ہونٹوں پر پھیرتا ہے اور کتے جیسی آواز بھی نکالتا ہے۔جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کتے کے کاٹنے کے بعد انسان کی کیا کیفیت ہوتی ہے۔ ویسے تو کتا بہت وفا دار جانور ہوتا ہے۔جو آپ کی حفاظت بھی کرتا اور وفادار بھی ہوتا ہے۔راقم الحروف کا یہ ذاتی مشاہدہ ہے کہ میں نے صرف دو دفعہ کتے کو کھانا کھلایا تھا اس کے بعد وہ ہر روز گھر سے بس اسٹاپ تک میرے ساتھ چلتا تھا اور پھر واپس آتا تھا واضح رہے کہ گھر سے بس اسٹاپ ایک کلو میٹر تھا لیکن چونکہ بعض اسلامی روایات کے مطابق کتاپالنا صحیح نہیں ہے لہذا پھر میں نے اس سے جان چھڑالی لیکن تجربہ یہ ہوا کہ کتا بہت وفادار جانور ہے۔جو ہم نے کتابوں میں بھی پڑھا ہے اور فلموں میں بھی دیکھا ہے۔ آپ کو بھی یقینا اسے تجربات ہوئے ہونگے۔ سویڈن میں ایک تحقیق کے مطابق کتے پالنے والے افراد کو دل کی بیماریوں کے خطرات کم ہوجاتے ہیں۔اور بعض کے مطابق کتے رکھنے والوں اور بطور خاص شکاری نسل کے کتے رکھنے والوں کو دل کی بیماریوں کا خطرہ کم ہوتا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ کتا رکھنے سے جسمانی سرگرمیوں میں اضافہ ہوجاتاہے یہی وجہ ہے کہ یورپ اور امریکہ میں کتے پالنے کا رواج بہت ہے ۔ پھر جو لوگ تنہا رہتے ہیں ان کے لیے کتے بطور محافظ کا کردار بھی ادا کرتے ہیں۔

طبی ماہرین کے مطابق ریبیز کا وائرس دراصل چند مخصوص جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہو کردماغ اور اعصابی نظام کو متاثر کرتا ہے۔ تاہم اس کے پھیلاؤ کا سب سے بڑا سبب پاگل ، آوارہ کتے کا کاٹنا ہے۔ اس وائرس کی خاص بات یہ ہے کہ یہ بندوق کی گولی سے مماثلت رکھتا ہے۔یہ کتے کے علاوہ بلی، لومڑی اور گیڈر کے لعاب میں بھی پایا جاتا ہے۔لہذا مذکورہ جانور خاص طور پر کتا اگر اپنے دانت کسی انسان کی جلد میں گاڑدے تو شگاف یا زخم کے ذریعے ریبیز کے وائرس اس کے جسم میں منتقل ہوجاتے ہیں اور یہ ضروری نہیں کہ کتے کے کاٹے کا زخم گہرا ہو بعض کیسیز میں معمولی خراش سے بھی وائرس انسان میں منتقل ہوجاتا ہے۔طبی ماہرین کے مطابق ریبیز کے وائرس کی خاص علامات ہیں کہ جب وائرس زخم کے ذریعے جسم میں داخل ہوتا ہے تو وہ دماغ میں سرایت کر جاتا یاور یہی وہ مقام ہے جہاں وائرس تیزی سے نشونما پاتا ہے۔جس کے بعد ظاہر ہونے والی علامات میں سردرد ، ہلکا بخار، کثرت سے رال کا بہنا، چکر آنا، ڈیپریشن ، بے چینی ، چڑچڑاپن ، غذا نگلنے میں دشواری، پاگل پن کا دورہ اور خاص طور پر پانی سے خوف شامل ہیں۔طبی ماہرین اس مرض کو دودرجوں میں تقسیم کرتے ہیں۔ کم شدت والے درجے میں خاموش یا گم صم ہو جانا، لاغر پن، بے تعلقی، کم زوری اور فالج جیسی علامات شامل ہیں، جب کہ زیادہ شدت والے درجے میں مریض کے طرز عمل میں بھی تبدیلی واقع ہوتی ہے ۔ مثلاً پرتشدد ہوجانا، بدکلامی، بدزبانی، جنونی کیفیت یا ڈیپریشن میں مبتلا رہنا ہے۔ نیز پانی دیکھ کر دہشت کا شکار ہوجانے سمیت پاگل پن کے دورے بھی پڑتے ہیں۔طبی ماہرین کے مطابق پہلے کتے کے کاٹے کے مریض کو 14 ٹیکوں کا کورس مکمل کروایا جاتا تھا لیکن اب نئی ویکسین متعاررف کروائی گئی ہیں جس کے انجکیشن کی چند خوراکیں ہی کافی ہوتی ہیں۔ریبیز سے بچاؤ کی ویکسین کتے کے کاٹنے کے فوری بعد لگائی جاتی ہیں تاکہ پاگل پن کے دورے اور دیگر پیچیدگیوں سے محفوظ رہا جاسکے۔

کئی ممالک میں ریبیز کے خاتمے کے لیے کتوں کی بھی ویکسی نیشن کی جاتی ہے تاکہ انسانی جانیں محفوظ رہ سکیں ۔ اس ضمن میں حکومت سندھ ٹھوس پالیسی ترتیب دے رہی ہے اور ساتھ ہی چھوٹے بڑے شہروں میں ریبیز کنٹرول سینٹرز بھی کھولے جائینگے۔ جہاں چوبیس گھنٹے ویکسین دستیاب ہو بلکہ طبی عملہ بھی موجود ہوگا۔عام طور پر ریبیز کی ویکسی نیشن سرکاری یا پھر نجی اسپتالوں میں ہی کی جاتی ہے۔ لیکن ویکسین کی طلب زیادہ ہونے کی وجہ سے سرکاری اسپتالوں خاص طور پر دیہی علاقوں کے اسپتالوں میں ویکسین ختم ہوجاتی ہے ۔جب کہ نجی اسپتالوں سے علاج عام آدمی کے بس کی بات نہیں اس حوالے سے محکمہ صحت کی جانب خاص طور پر ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ افراد جنہوں نے گھروں میں شوقیہ طور پر یا پھر حفاظت کے لیے کتے پالے ہیں تو ان کی خاص طور پر ویکسی نیشن بھی کروائیں۔ اسی طرح چڑیا گھر وں میں کام کرنے والوں میں بھی ریبیز کا خطرہ رہتا ہے تو حفاظتی اقدامات کے طور پر ان تمام افراد کی ویکسینیشن لازمی اور مفت کروائی جائے۔ علاوہ ازیں والدین پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو ان میدانوں ، گلی ، محلوں میں جانے سے روکیں جہاں کتے کے کاٹنے کا خطرہ ہو۔اس سلسلے میں مختلف ادارے کتا مار مہم شروع کرتے ہیں جو کافی کامیاب رہتی ہیں جس میں گولیوں سے کتوں کو ماراجاتا ہے یا پھر زہر دے کر، گولیوں سے کتوں کو مانے کا ایک فائدہ یہ ہوتا ہے کہ کتوں کا گوشت چڑیا گھر کے گوشت کھانے والے جانوروں کا کھلا دیا جاتا ہے۔ جس سے حکومتی اداروں کی کچھ بچت بھی ہوتی ہے اور آوارہ کتے بھی مر جاتے ہیں۔کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ کتوں کو مارنے کے بجائے ان کی نس بندی کی جائے کراچی کے انڈس اسپتال میں اس منصوبے پر کام ہورہا ہے۔

ماہرین کے خیال میں آوارہ کتوں کے کاٹنے کے واقعات کئی ترقی پذیر ملکوں میں تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ لیکن ایسے بہت سے ممالک بھی ہیں جنہوں نے ایسے واقعات کا بہتر حکمت عملی سے خاتمہ کیا ہے۔ سری لنکا اور فلپائن کی مثالیں سب کے سامنے ہیں جہاں آوارہ کتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو کم کیا گیا ہے ۔صحت کی عالمی تنظیم کی ریبیز سے متعلق کمیٹی میں شامل ماہر ین کا کہنا ہے کہ کتے کے کاٹنے کے بعد لگنے والی دوا کی قلت صرف سندھ میں ہی نہیں بلکہ ملک بھر میں یہ عدم دستیاب ہونے سے بحرانی کیفیت درپیش ہے۔ان کے مطابق ان واقعات سے نمٹنے کے لیے کتوں کی ویکسی نیشن کرانا ضروری ہے۔ لیکن یہ ایک مہنگا اور مشکل کام ہے جس کے لیے کثیر سرمائے ، وقت اور تربیت کی ضرورت ہے۔ لیکن پھر بھی مختلف اداروں کے ا شتراک سے سندھ کے سب سے بڑے شہر کراچی میں آوارہ کتوں سے نمٹنے کے پروگرام جاری ہے جس میں سے اب تک بیس ہزار سے زائد کتوں کی ویکسی نیشن کی جاچکی ہے جس کے بعد وہ خطرناک نہیں رہتے۔ماہرین کا اندازہ ہے کہ ملک بھر میں آوارہ کتوں کی تعداد 25لاکھ کے قریب ہے اور ہر سال تقریباً 10لاکھ کتے کے کاٹنے کے واقعات رونما ہوتے ہیں جن کے لیے کثیر تعداد میں اینٹی ریبیز ویکسین کی ضرورت ہوتی ہے۔

محکمہ صحت سندھ کے اعدادو شمار کے مطابق رواں برس کے پہلے پانچ ماہ میں 69ہزار کیس رپورٹ ہوئے جن میں سب سے زیادہ واقعات لاڑکانہ اور سب سے کم کراچی ڈویژن میں رپورٹ ہوئے ہیں۔ جن کا علاج محکمہ صحت بھرپور انداز میں کررہا ہے۔ اس حوالے سے حکومت سندھ نے ایک شکایتی سیل بھی قائم کیا ہے جو پورے سندھ سے شکایتیں وصول کرے گا۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 224 Print Article Print
About the Author: Muhammad Shoaib

Read More Articles by Muhammad Shoaib: 5 Articles with 1973 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: