عینک والا جن بند کیوں ہوا؟ بل بتوڑی اور زکوٹا کی موت سے قبل تکلیف دہ انکشافات

ایک دور تھا کہ شام ہوتے ہی گھر کے بچوں سے لے کر بڑوں تک سب کو رہتا تھا ڈرامہ ’’عینک والے جن‘‘ کا انتظار۔۔۔اے حمید کی تحریر نے نوے کی دہائی میں بچوں کو اپنے سحر میں گرفتار کر کے رکھا اور اس ڈرامہ سے کئی سبق آموز چیزیں سیکھنے کو ملیں۔۔۔لیکن پھر وہ ڈرامہ بند ہوا۔۔۔وہ بل بتوڑی جس کے منتر سننے اور بے وقوفیاں دیکھنے کو سب بے تاب رہتے تھے۔۔۔پردے سے غائب ہی ہوگئیں۔۔۔نصرت آراء اس ڈرامہ میں چڑیل کا میک اپ بھی خود کرتی تھیں اور اس ڈرامہ سے ملنے والا چیک محض پانچ سو ہوا کرتا تھا۔۔۔تکلیف یہ نہیں کہ وہ غائب ہو گئیں۔۔۔اصل درد جب محسوس ہوا جب ایک ٹی وی چینل نے انہیں پانچ برس پہلے بہت کسمپرسی کی حالت میں کسی دربار کے باہر بھیک مانگتے دیکھا۔۔۔وہ چڑیل جس کے خوف کو ڈرامہ میں دکھایا گیا۔۔۔درحقیقت بھوک اور بیماری کی حالت میں مفلسی کی خوفناک زندگی گزار رہی تھیں۔۔۔
 


یہی حال زکوٹا جن کا بھی تھا ۔۔۔منا لاہوری کا کردار اس ڈرامہ میں بچوں کا پسندیدہ تھا اور ان کا چیخ کر یہ بولنا کہ مجھے کام بتاؤ میں کیا کروں میں کس کو کھاؤں ۔۔۔دل میں ہلچل مچا دیتا تھا۔۔۔لیکن افسوس کے اپنے آخری ایام میں یہ اداکار فالج زدہ بے بس زندگی گزارنے پر مجبور تھے۔۔۔

عینک والا جن کو بند کروانے کے پیچھے چھپے راز کو ایک ٹی وی شو نے جب بے نقاب کرنا چاہا تو حقائق اور بھی کھل کر سامنے آئے۔۔۔اداکاروں کی آپسی جلن اور ایک دوسرے کا ساتھ نا دینا بھی ان میں سر فہرست تھی۔۔۔اس ڈرامہ کو بند کرنے کے بعد کبھی نا کھولنے کا شاید عہد کرلیا گیا تھا۔۔۔ڈرامہ میں ایک کردار ہامون جادوگر کا بھی تھا ۔۔۔جنہوں نے حکومت کی مدد سے اس ڈرامہ کو الحمرا آرٹس کونسل لاہور میں تھیٹر میں شامل کروایا اور روزانہ مفت بچے اور بڑے اس تھیٹر کو دیکھ سکتے تھے۔۔۔ستر ہزار روپے کی ایک رقم ماہانہ ہامون جادوگر کے پاس آتی اور وہ اسے کچھ اس طرح تقسیم کرتے جس میں باقی اداکاروں کے لئے محض بیس ہزار بچ پاتے۔۔۔نصرت آراء کا کہنا تھا کہ جب ڈرامہ بند ہوا تو ان کا داخلہ بھی اس ٹی وی اسٹیشن میں بند ہوگیا۔۔۔ہامون جادوگر سے وہ تھوڑی خفا تھیں۔۔۔کیونکہ انہوں نے تھیٹر ڈرامہ کے لئے انہیں صرف پانچ سو روپے ایک دن کے دینے چاہے۔۔۔یہ رقم ان کے لئے بہت ہی ناکافی تھی۔۔۔
 


2017 میں بل بتوڑی یعنی نصرت آراء فالج اور کئی طرح کی تکالیف کا شکار ہو کر اپنے دکھوں کی کتاب بند کرکے دنیا سے چلی گئیں اور اس کے کچھ عرصہ بعد زکوٹا جن بھی دنیا سے رخصت ہوگئے۔۔۔ایک طویل عرصہ ہمارے چہروں پر مسکراہٹ لانے والے اور ہمارے بچپن کی یہ یادیں ۔۔۔نا جانے کتنے مصائب کا شکار ہو ئیں ۔۔۔لیکن بچوں کے لئے اس کے بعد کوئی بھی طویل عرصہ تک چلنے والا معیاری شو پھر سامنے نہیں آیا۔۔۔آج بھی ٹیلی ویژن پر پروگرامز تو کئی ہیں۔۔۔چینلز کی بھرمار بھی ہے لیکن ایسا ڈرامہ کہیں نہیں۔۔۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 29834 Print Article Print

YOU MAY ALSO LIKE:

Reviews & Comments

جناب ذرا یہ تصدیق کر لیں کے اس ڈرامے کے رائٹر اے-حمید ہیں یا حفیظ طاہر؟؟
شکریہ
By: ملک عید مہمد, لاہور on Nov, 15 2019
Reply Reply
0 Like
اس ڈرامہ کے رائٹر اے حمید ہی تھے جبکہ حفیظ طاہر اس ڈرامہ کے ڈائریکٹر تھے-
By: Hamariweb Moderator, Karachi on Nov, 22 2019
0 Like
Bahut Pyara drama tha.. lekin aisa drama kabhi nahi ayega.. kiun k ab channels ki bharmaar hai lekin character kisi ka theek nahi.. negetive character har channel per dekhay ja ray hain.
By: Muhammad Refan, Karachi on Nov, 13 2019
Reply Reply
0 Like
Language:    
Ainak Wala Jin was a 1993 Pakistani children's television series produced and broadcast by PTV from Lahore. This drama was rebroadcast two times on television in Pakistan due to public demand. It was widely popular among children for its humour and fictional storyline.