ریاض معاہدہ۔ یمن میں امن و سلامتی کے ایک نئے دور کا آغاز

(Dr Muhammad Abdul Rasheed Junaid, India)

یمن میں حوثیوں کی جانب سے عبدربہ منصور ہادی کی آئینی حکومت کے خلاف بغاوت او رپھر عبد ربہ منصور ہادی کی جانب سے سعودی عرب سے انکے اقتدار کو بچانے کیلئے کی جانے والی درخواست کے بعد یمن میں دو طرفہ کارروائیوں میں یعنی سعودی عرب کے اتحادی ممالک اور حوثی باغی جنہیں ایران کا تعاون حاصل تھا کہ درمیان جاری جنگ نے یمنی عوام کی زندگیوں کو بدسے بدتر بنادیا تھا۔ ہزاروں افراد ان دوطرفہ کارروائیوں کی زد میں آکر ہلاک اور زخمی ہوچکے ۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق ریاض میں ہونے والے معاہدہ کے نتیجہ میں یمن کے حالات بہتر ہوسکتے ہیں۔ یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہیکہ حوثی باغیوں کی بغاوت کو کچلنے کیلئے سعودی عرب کی معیشت کو شدید نقصان برداشت کرنا پڑا۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق یمن کے حوثی باغیوں کو ایران کا تعاون حاصل تھا جس کی وجہ سے وہ سعودی عرب کے شہروں پر بھی میزائل حملے کئے اور سعودی عرب کی تیل تنصیبات بشمول آرامکو کمپنی کے تیل کے کنوؤں کو نقصان پہنچایا۔ اسی طرح سعودی عرب اپنے اتحادی ممالک کی فوج کے ذریعہ یمن کے کئی علاقوں پر حوثی بغاوت کے خلاف کارروائیاں کیں جس میں کئی شہری بھی ہلاک ہوئے۔ان تمام کاررائیوں کے نتیجہ میں یمن کے عوام جو پہلے ہی غربت زدہ ہیں انہیں زندگی گزارنے کے لئے مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ کھانے پینے اور ادویات کی شدیدت قلت نے یمن کے حالات کو ابتر کردیا تھا۔ اب جبکہ ریاض میں یمنی حکومت اور جنوبی عبوری کونسل کے درمیان معاہدہ ہوا ہے جس کے نتیجہ میں بہتری کی امید کی جارہی ہے ۔ اس سلسلہ میں سعودی عرب کے ولیعہد شہزادہ محمد بن سلمان نے یمنی حکومت اور جنوبی عبوری کونسل کے درمیان ہونے والے ریاض معاہدے کو یمنی عوام کی فتح اور جنگ زدہ ملک کے امن و سلامتی اور استحکام کے لیے نقطہ آغاز قرار دے دیا۔عرب ٹیلی ویژن کے مطابق ریاض میں معاہدے سے قبل خطاب کرتے ہوئے سعودی ولیعہد نے کہا کہ خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی ہدایت اور ان کی سرپرستی میں یمنی بھائیوں کے مابین پائے جانے والے تنازعہ کو دور کرنے کے لیے تمام تر کوششیں بروئے کار لائی گئی ہیں۔ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان ، یمنی صدر عبد ربہ منصور ہادی اور ابوظہبی ولیعہد شہزادہ محمد بن زید کی موجودگی میں یمن کی آئینی حکومت اور جنوبی عبوری کونسل کے مابین ریاض معاہدے پر دستخط کی تقریب عمل میں آئی۔شہزادہ محمد بن سلمان نے امید ظاہر کی کہ یہ معاہدہ یمن کے استحکام کیلئے ایک نیا آغازگا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ معاہدہ سیاسی حل اور ملک میں جنگ کے خاتمے کی طرف ایک قدم ہے۔سعودی ولیعہد نے کہا کہ سعودی عرب نے یمن کی آئینی حکومت کے مطالبے پرعبوری کونسل کے ساتھ مصالحت کی کوششیں کیں،انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے یمن اور خطے کی سلامتی کیلئے بہت کچھ حاصل کیا ہے اور ہم یمنی عوام کی امنگوں پر عمل پیرا رہینگے۔شہزادہ محمد بن سلمان نے ریاض معاہدے کی کامیابی میں متحدہ عرب امارات کے کردار کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب اور اتحادی ممالک کے فوجیوں نے یمن کے لیے بہت بڑی قربانیاں دی ہیں۔ یمنی حکومت اور حوثی باغیوں کے درمیان امن معاہدہ کے تحت باغیوں کو حکومت میں برابر کی نمائندگی دی جائے گی ، ا س معاہدہ کی توثیق سعودی عرب نے کی ہے ۔ ریاض میں ہونے والے معاہدہ کے باوجود حوثی باغی ابھی اپنی ظالمانہ کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ذرائع ابلاغ کے مطابق7؍ نومبر کوحوثیوں نے ملک کے مغربی حصہ میں واقع شہر المحہ میں ڈرون حملہ کیا جس میں چھ افراد ہلاک اور چھ زخمی بتائے گئے۔بتایا جاتاہے کہ حوثیوں نے یہ ڈرون حملہ ایک فوجی گودام پر کیا ہے جس کے نتیجے میں گودام سے متصل ایک لکڑی سے بنی جھونپڑی میں مقیم6 عام شہری ہلاک اور6 زخمی ہو گئے۔ اس حملے میں علاوہ ازیں قریب واقع ڈاکٹر زود آوٹ بارڈرز کے اسپتال کو بھی نقصان پہنچا لیکن یہاں متعین طبی عملہ محفوظ رہا ۔اس حملہ کے باوجود توقع ہے کہ اس اقدام سے یمن میں گذشتہ چار سال سے جاری خانہ جنگی اور سیاسی بغاوت کا خاتمہ ہوجائے گا۔ اب دیکھنا ہیکہ یمن کے عوام کو خوشحال زندگی فراہم کرنے کے لئے اقوام متحدہ اور دیگر عالمی طاقیتں اور مسلم ممالک کس طرح کا تعاون کرتے ہیں ۔

ترکی اور قطر کے درمیان دوطرفہ تعلقات مزید مستحکم
ترکی اور قطر نے اپنے دو طرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے لئے جامع حکمت عملی پر مبنی شراکت داری میں ڈھالنے کے عزم کا اظہار کیا۔ذرائع ابلاغ کے مطابق دوحہ میں ترکی اور قطر کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعلقات کو فروغ دینے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔بعد ازاں قطری وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمان آل ثانی نے ایک ٹویٹ میں ترکی کے ساتھ تزویراتی شراکت داری کے عزم کا اظہار کیا ۔اسلامی تعاون کونسل (او آئی سی) کے زیر اہتمام صومالیہ کے بارے میں دوحہ میں منعقدہ ایک کانفرنس میں شرکت کے لئے ترک وزیر خارجہ مولود چاؤش اوغلو کی قیادت میں ایک وفدنے شرکت کی۔ اس موقع پر ترک وزیر خارجہ نے شام میں کرد ملیشیا کے خلاف فوجی کارروائی کی حمایت پر امیر قطر شیخ حمد بن جاسم آل ثانی کا شکریہ ادا کیا۔انہوں نے دوحہ میں امیرِ قطر سے ملاقات کے بعد ایک بیان میں ان کی حمایت کو سراہا اور ٹویٹر پرلکھا کہ ہم قطر کی جانب سے ترکی کے (شام میں)آپریشن امن بہار کی حمایت پر شکرگزار ہیں۔ یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ ترکی قطر کا ایک ایسے وقت تعاون جاری رکھے ہوئے ہے جب سعودی عرب ، عرب امارات، بحرین ، مصر وغیرہ کی جانب سے قطر کو یکہ و تنہا کرتے ہوئے اس سے سفارتی تعلقات منقطع کرلئے ہیں ۔ ترکی کی جانب سے قطر کی فوجی امداد اور دیگر شعبوں میں دو طرفہ تعلقات کا نتیجہ ہیکہ قطر اپنے ترقیاتی منصوبوں کو روبہ عمل لارہا ہے اوراپنے ترقیاتی منصوبوں کے ذریعہ قطر عالمی سطح پر مضبوط و مستحکم دکھائی دے رہا ہے۔

عراق میں حکومت مخالف مظاہرے
عراقی عوام گذشتہ کئی برسوں سے امن و سلامتی کی آس لگائے ہوئے ہیں۔ ملک میں کسی نہ کسی بہانے قتل و غارت گیری کوئی نئی بات نہیں ہے۔ کبھی اندرونی تو کبھی بیرونی طریقے سے عراق کے لاکھوں معصوم عوام اپنی زندگیوں کی سلامتی کیلئے دعائیں کرتے ہونگے۔ عراق ،ایران جنگ کے بعد سے آج تک عراق میں تباہی و بربادی ہوتی رہی۔ لاکھوں لوگ ہلاک و زخمی ہوئے اور کروڑوں کی املاک ملیامیٹ ہوگئی۔ اور آج بھی عراق میں سکون میسر نہیں۔ گذشتہ ماہ اکٹوبر سے حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا اور اس میں ہر روز اضافہ ہی ہوتا جارہا ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق جنوبی عراق میں حکومت مخالف مظاہروں کے دوران مزید تین افراد ہلاک ہو گئے ۔ یہ ہلاکتیں اس وقت ہوئیں جب پولیس ملک کی اہم ترین بندرگاہ کو دوبارہ کھولنے کی کوشش کر رہی تھی۔ یہ بندرگاہ ہنگامہ آرائی کی وجہ سے گزشتہ تین روز سے بند تھی۔اسی 7؍ نومبر کوجنوبی صوبے ذی قار میں ناصریہ آئل ریفائنری کے داخلی راستہ پر رکاوٹیں کھڑی کردی ۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق اس ریفائنری کی بندش سے صوبے ذی قار میں تیل کی قلت پیدا ہو گئی ہے۔ کئی ہفتوں سے ملک میں کرپشن، بیروزگاری اور اشیائے صرف کی قیمتوں میں غیرمعمولی اضافے کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ بتایاجاتا ہے کہ ناصریہ آئل ریفائنری میں روزانہ تیس ہزار بیرل خام تیل صاف کیا جاتا ہے۔ اکٹوبر سے جاری مظاہروں میں اب تک ڈھائی سو سے زائد شہری مارے جا چکے ہیں۔

کیا عمران خان سے استعفیٰ کا مطالبہ واجبی ہے۔؟
عمران خان کے خلاف مولانا فضل الرحمن سربراہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کا کراچی سے اسلام آبادتک کا آزادی مارچ ابھی جاری ہے ۔ انہوں نے اسلام آباد سیکٹر ایچ 9گراؤنڈ پر پہنچنے کے بعد دھرنے میں شریک احتجاجیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان دو دن میں استعفیٰ دے دیں ۔ ان کی جانب سے دی گئی مہلت اتوار کے روز ختم ہوچکی ہے۔ 6؍ نومبر کو مولانا فضل الرحمن نے ایک اور فیصلہ کرتے ہوئے کہاکہ 12؍ ربیع الاول کی مناسبت سے آزادی مارچ کو ’’سیرت النبی کانفرنس‘‘ میں تبدیل کردیں گے۔ اس موقع پر انہوں نے عدلیہ کے ججوں کے خلاف ریفرنس واپس لینے کا بھی مطالبہ کیاتھا۔ حکومت مخالف تحریک کے تناظر میں بننے والی اپوزیشن جماعتوں کی رہبر کمیٹی اور حکومتی کمیٹی کے درمیان بات چیت جاری ہے ۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق رہبر کمیٹی کے کنوینر اکرم درانی کا ایک پریس کانفرنس کے دوران کہنا ہیکہ ’’ہم ایک ہی استعفیٰ‘‘ چاہتے ہیں اور اسی سے تمام مسائل حل ہونگے۔ ادھر وزیر اعظم عمران خان اپنی روزمرہ مصروفیات میں منہمک دکھائی دیتے ہیں ۔ روزنامہ پاکستان کے مطابق 7؍ نومبر کوعمران خان نے ابو طہبی کے ولیعہد شیخ محمد بن زید النہیان سے ٹیلی فون پر بات چیت کی اور دونوں قائدین کے درمیان باہمی تعلقات پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔ بتایا جاتا ہیکہ دونوں رہنماؤں نے علاقائی اور اہم عالمی امور پر بھی بات چیت کی۔ اسی طرح وزیر اعظم کی صدارت میں تحریک انصاف کا اجلاس منعقد ہوا جس میں ممکنہ جاسوسی سے بچنے کے لئے حیران کن قدم اٹھاتے ہوئے خواتین سمیت کسی کو بھی اپنے بیگ اور موبائل اندر لے جانے کی اجازت نہ دی گئی۔ اس طرح اجلاس میں شریک تمام رہنماؤں کے موبائل فونس باہر ہی رکھوائے گئے۔

ادھر سابق میں تین مرتبہ پاکستان کے وزیر اعظم رہنے والے میاں نواز شریف شدید علیل ہیں وہ احتساب عدالت کے فیصلہ کے تحت جیل میں قید تھے اس دوران وہ شدید بیمار ہوگئے ۔ گذشتہ 16روز لاہور کے سروسز ہاسپتل میں شریک رہنے کے بعد انہیں انکے گھر جاتی امراء منتقل کیا گیا تھا جہاں شریف میڈیکل کمپلکس کی جانب سے میڈیکل یونٹ لگایا گیا تھا ۔ لاہور ہائیکورٹ نے نوازشریف کی چودھری شوگر ملز کیس میں ضمانت منظور کرلی تھی جبکہ العزیزیہ ریفرنس کیس میں بھی انہیں اسلام آباد ہائیکورٹ نے طبی بنیادوں پر 8ہفتے کی ضمانت پر رہا کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔ اب انکی مزید تشویشناک حالت کو دیکھتے ہوئے میڈیکل بورڈ نے انہیں بیرون ملک علاج کیلئے لے جانے کی سفارش کی ہے ۔ نواز شریف کے افراد خاندان انہیں بیرون ملک لے جانے کے لئے انہیں رضا مند کرلئے ہیں کیونکہ علاج کے باوجود انکے پلیٹ لیٹس میں کمی ہی رہ رہی ہے اور پلیٹ لیٹس کا کم رہنا اندرونی بیماری کا باعث ہوسکتا ہے ۔ پلیٹ لیٹس میں کمی کی اب تک تشخیص پاکستان میں نہیں ہوئی جس کی وجہ سے انہیں میڈیکل بورڈ نے بیرون ملک علاج کے لئے لے جانے کی سفارت کی ہے۔ نواز شریف کی بیٹی مریم نواز پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر ہیں جو چودھری شوگرملز کیس میں لاہور ہائیکورٹ 4؍ نومبر کو رہائی کے آرڈرز جاری کئے تھے لیکن انکی ضمانت پر رہائی 6؍ نومبر کوعمل میں آئی۔ رہائی کے بعد وہ سرویسز ہاسپتل سے اپنے والد کے ساتھ جاتی امراء آگئیں۔اب دیکھنا ہیکہ میاں نواز شریف جو مسلم لیگ (ن) کے تاحیات قائد ہیں انہیں بیرون ملک لے جایا جاتا ہے یا نہیں ۔ ایک ایسے وقت جبکہ پاکستان کی معیشت بُری طرح متاثر ہے اس دوران مولانا فضل الرحمن اور اپوزیشن کی جانب سے عمران خان سے استعفیٰ طلب کیا جارہا ہے جبکہ وزیر اعظم عمران خان نے کسی بھی صورت استعفیٰ سے انکار کردیا ہے ۔ مولانا فضل الرحمن نے قومی اداروں پر بھی نشانہ لگایا ہے جس کے جواب میں افواج پاکستان کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ فوج بطور ادارہ کسی سیاسی سرگرمی میں ملوث نہیں ہے۔ ملکی دفاع اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ الزام تراشیوں کا جواب دیں۔ انکا کہنا تھا کہ ہماری مدد جمہوری طور پر منتخب حکومت کے ساتھ ہے ، کسی ایک پارٹی کے لئے نہیں ہے۔ حکومت کو آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر سپورٹ کررہے ہیں ۔ اس طرح فی الحال وزیراعظم کے استعفیٰ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ اب دیکھنا ہے کہ مولانا فضل الرحمن مزید کس قسم کا فیصلہ کرتے ہیں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dr Muhammad Abdul Rasheed Junaid

Read More Articles by Dr Muhammad Abdul Rasheed Junaid: 255 Articles with 96269 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
18 Nov, 2019 Views: 245

Comments

آپ کی رائے