سرائیکی وسیب کی قائداعظم سے دہائی

(Ali Jan, Lahore)

کیا اسی لیے پاکستان بنایاتھا؟

نیشنل یا انٹر نیشنل سطح کی صورتحال پر تو بہت سارے کالم نگار لکھتے ہیں ۔ مگر چھوٹے چھوٹے عوامی مسائل پر بہت کم لکھاری قلم کو جنبش دیتے ہیں ۔ کوئی لکھاری وزیر اعظم ،شاہد خاقان عباسی، نواز شریف، زرداری، بلاول، عمران خان جیسے لیڈران پر لکھتے رہتے ہیں ان کو کبھی توفیق نہیں ہوئی کہ کبھی فیقا ہوٹل والے کے حالات زندگی پر ہی کچھ عرض کرد یں کبھی یہ نہیں سوچتے کہ بخشو ، ڈیوایا وغیرہ کی گزربسر پر بھی کچھ تحریر کر دیں ۔ افسوس اس بات کا ہے کہ ہمارے لکھاری بھی پورے ملک کے چھوٹے چھوٹے مسائل کو تب ہی لکھتے ہیں جب تک کہ کوئی معاملہ ہیڈ لائنز تک نہ پہنچ جائے۔ ہمارا مقصد پیسہ کمانا ہوتا ہے ہم کبھی کسی کی اصلاح کیلئے نہیں لکھتے جب ہم کسی کی اصلاح کیلئے نہیں لکھتے تو اصلاح کیسے ہوگی۔ ہم باتیں بڑی بڑی کرتے ہیں مگر ان میں ہوتا کچھ بھی نہیں کھوکھلی باتیں سب۔ میں نے اپنے تھوڑے سے علم کے ذریعے پورے ملک کے چھوٹے چھوٹے مسائل کو اس تحریر میں لکھنے کی کوشش کی ہے حق سچ نام اﷲ کا۔ اور وہ بہتر جانتا ہے کہ میں نے کس حد تک حق ادا کیا ہے۔
مسلم لیگ ن کی حکومت ختم ہو چکی ہے۔ بہت سارے لوگوں نے شکرانے کے نوافل ادا کیے کسی نے مٹھائی تقسیم کی تو کوئی پریشان ہو گیا تو کسی کو فکر لا حق ہو گئی کہ اب ڈکیت دوبارہ کراچی سے وسیب میں آ جائیں گے اور وارداتیں شروع ہو جائیں گی اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ایسا ہی ہورہا ہے مگر ان ڈکیتوں کو ختم کرنے کا یہ مستقل طریقہ نہیں جو گورنمنٹ اختیار کرتی ہے ۔ اگر گورنمنٹ ان افراد کیلئے بہتر روزگار کے مواقع پیدا کرتی ۔ اسلحہ پر پابندی عائد کرے کہیں سے بھی ایک گولی نہ منگوائی جا سکے تو امن ممکن ہے ۔ کسی ڈکیت کو ماردینے سے معاملہ کچھ عرصہ کیلئے تو دب سکتا ہے مگر ہمیشہ کیلئے نہیں کیونکہ اس ڈکیت کے بعد اس کا بچہ ڈکیت بنا ہوا ہوگا لہذا ہمیں مستقل اقدامات کرنے ہونگے جس سے لوگوں کو روزگار ملے۔ انکی تربیت کرنی ہوگی ۔ ان کو پڑھا لکھا کر شعور دینا ہوگا اور نوکریاں دینی ہونگی ۔ ایسے کام انسان تب ہی کرتا ہے جب وہ نکما ہو ، فارغ ہو اور کچھ کام نہ کرتا ہو۔ ان ڈکیتوں سے کبھی پوچھیں تو ان کا جواب یہی ہوگا کہ انہیں اس کام کے علاوہ کوئی دوسرا کام آتا ہی نہیں ۔ وجہ صرف یہی ہے کہ ان کے پاس تعلیم، شعور، آگاہی، روزگار کے مواقع، نوکریاں اور دیگر سہولیات میسر نہیں اور یہ سب دینا حکومت کی ذمہ داری ہوتا ہے ۔

قانون کی صورتحال تو ہم سب کے سامنے ہے کہ پولیس جس کو دل کرتا ہے اٹھا کر لے جاتی ہے کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا اور انہوں نے اپنے پرائیوٹ ٹارچر سیل قائم کیے ہوئے ہیں جہاں مک مکا بھی ہوتا ہے ۔ ایک چھوٹا سا ملازم کروڑوں روپے کی جائیداد کا مالک بن جاتا ہے اور کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا۔ انتظامیہ کے آفیسران ایک ریڑھی بان کو اتنا ٹیکس / جرمانہ کر دیتے ہیں کہ اس بیچارے کی ریڑھی ہی فروخت ہو جاتی ہے ۔ مگر اس آفیسر میں اتنی جراٗت نہیں ہوتی کہ وہ کسی بڑے مگر مچھ دکاندار کو جرمانہ کر سکے پٹواری کسی غریب کو لوٹتا ہے سو روپے کی جگہ 1000 روپے یا شاید اس سے بھی زیادہ لے لیتا ہے ۔ ان سب زیادتیوں کے پیچھے اصل وجہ کیا ہے کیونکہ افیسران میں دل کی جگہ پتھر ہیں ان کے دل سے خوف خدا ختم ہو چکا ہے ان کو کسی کا ڈر نہیں ہوتا دنیا میں بھی اپنے سے بڑے افسر سے ڈر نہیں ہوتا کیونکہ اس سے بڑا افسر بھی تو اتنا بڑا کرپٹ ہے اور وہ اس نکے افسر سے بھتہ لیتا ہے ۔یہ آفیسران ایسا کیوں کرتے ہیں کیونکہ یہ باہر کے لوگ ہوتے ہیں اور انہیں پتہ ہوتا ہے کہ جتنا ہو سکتا ہے مال بنا لو۔ پھر کبھی موقع ملے یا نہ ملے۔ اگر گورنمنٹ انتظامیہ پر نظر رکھے انکی سخت مانیٹرنگ کرے تو انکی اتنی جراٗت نہ ہو دوسرا گورنمنٹ چھوٹی چھوٹی نوکریاں مقامی لوگوں کو دے تو بھی یہ مسائل کم ہوسکتے ہیں مگر ایسا نہیں ہوپاتا باہر کے آفیسر کو پتہ ہوتا ہے کہ یہاں میرا کوئی جاننے والا نہیں تو کوئی سفارشی بھی نہیں ہوگااور جائز کام کے بھی پیسے بٹور لیتے ہیں ۔ جب یہاں کے مقامی لوگوں کو نوکریاں نہیں ملیں گی تو اس طرح کے مسائل پیدا ہونگے اوریہاں ترقی بھی کم ہی ہوگی۔ اگر آفیسران مقامی لگائے جائیں تو ان کو احساس ہوتا ہے کہ ہم نے یہاں رہنا ہے اسی علاقے میں رہنا ہے تو وہ کسی اور کیلئے کچھ کریں یا نہ کریں اپنے لیے تو سہولیات کا بندوبست کرنا پڑتا ہے جیسے ایک آفیسر اپنے گھر تک تو سڑک بنواتا ہے جس سے دوسرے لوگ بھی فائدہ اٹھاتے ہیں ۔

حکومت نے آج تک تحصیلوں اور قصبہ جات کی سطح پر چھوٹے چھوٹے بزنس سنٹرز قائم کیے ہیں جس سے لوگوں کو روزگار میسر ہو۔ کتنی خواتین کو روزگار کیلئے سلائی کڑھائی یا دیگر کام کرنے کیلئے سنٹرز بنا کر دئیے ہیں مگر ایک کام گورنمنٹ بہت ہی اچھے طریقے سے کرتی ہے اور وہ یہ ہے کہ لوگوں کو بھکاری بنانا گورنمنٹ کو اچھے طریقے سے آتا ہے تاکہ لوگ بھیک لیتے رہیں اور ہم آسانی سے کرپشن کر کے اچھا مال کھاتے رہیں۔ جیسے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی بھیک، جیسے صحت کارڈ کی بھیک اور جیسے اسپیشل پرسنز کیلئے جاری شدہ بھیک شامل ہیں ہمارے سیدھے سادے لوگوں کو یہ تک معلوم نہیں کہ یہ بھیک اس بھیک سے زیادہ خطرناک ہے زیادہ مہنگی ہے جو ایک بھکاری لوگوں سے مانگتا ہے ۔ چلو وہ تو پھر بھی اپنی مرضی سے یا مجبوری سے بھیک مانگتے ہیں اور یہاں تو گورنمنٹ باقاعدہ سے بھکاریوں کی کی کھیپ تیار کر رہی ہے اور لوگ بڑے شوق سے یہ بھیک لے رہے ہیں اور گورنمنٹ کے گن گا رہے ہیں ۔ آنکھ تب کھلے گی جب سب کچھ لٹ چکا ہوگا۔

تعلیم کی صورتحال یہ ہے کہ ہم سے بعد میں بننے والا ملک بنگلہ دیش ہم سے آگے نکل چکا ہے اور ہم ابھی تک پلاننگ کر رہے ہیں اور بچوں کو کبھی گھی کی لالچ دیتے ہیں تو کبھی مفت کتابوں کی تو کبھی مفت تعلیم کی مگر ہماری تعلیم کی صورتحال یہ ہے بمشکل 8 فیصد اضافہ ہوسکا پچھلے دس سالوں میں جو کہ بہت ہی کم ہے اور باعث شرم ہے آج بنگلہ دیش میں تعلیم پاکستان سے کہیں زیادہ ہے اور ہم ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کر سکتے ہیں ہمارے 60 فیصد بچے پڑھے ہوئے ہیں یا 52 فیصد یا پھر 48 فیصد کوئی ادارہ کچھ فگرز دیتا ہے تو کوئی کچھ ۔ جہاں جس ادارے میں دیکھیں افراتفری مچی ہوئی ہے کہیں بھی کوئی نظام نظر نہیں آتا ۔ کبھی تو سوچتا ہوں کہ کیا بنے گا ۔ پاکستان کی حالت دیکھ کر ہمارے پیارے قائد اعظم کی روح بھی تڑپتی ہوگی اور کہتی ہوگی ہائے رے پاکستان یہاں کوئی تو کچھ نہیں کرتا۔ کیا اسی لیے پاکستان بنایا تھا۔بہرحال دعا یہی ہے کہ اﷲ پاک پاکستان پر اپنا خاص کرم فرمائے۔ اور ہم سب کا حامی و ناصر ہو ۔ پاکستان زندہ باد

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ali Jan

Read More Articles by Ali Jan: 243 Articles with 73793 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
18 Nov, 2019 Views: 220

Comments

آپ کی رائے