سابق وزیرِ اعظم نواز شریف علاج کے لیے لندن روانہ، ساتھ کون کون گیا؟

پاکستان کے سابق وزیرِ اعظم نواز شریف علاج کے لیے لندن روانہ ہوگئے ہیں۔ اُن کے ہمراہ شہباز شریف اور ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان بھی ہیں۔

نواز شریف لاہور کے علامہ اقبال انٹر نیشنل ایئر پورٹ کے حج ٹرمینل سے لندن کے لیے روانہ ہوئے۔ ان کے ساتھ سفر کرنے والے دیگر افراد میں عابد اللہ جان اور محمد عرفان بھی شامل ہیں۔
 


منگل کی صبح قطر ایئر ویز کی ایئر ایمبولینس لاہور ایئر پورٹ پہنچی جس کے ذریعے نواز شریف لندن روانہ ہوئے۔ اُنہیں رخصت کرنے کے لیے مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما راجا ظفر الحق، خواجہ آصف، احسن اقبال، سردار ایاز صادق، رانا تنویر، مریم اورنگزیب، عظمیٰ بخاری، پرویز رشید اور دیگر بھی ایئر پورٹ پر موجود تھے۔

لاہور ہائی کورٹ نے نواز شریف کو علاج کے لیے چار ہفتوں کے لیے بیرونِ ملک جانے کی اجازت دی ہے۔

عدالتی حکم کی روشنی میں وزارت داخلہ نے پیر کو سابق وزیر اعظم کو ملک سے باہر جانے کی اجازت دی تاہم ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے نہیں نکالا گیا۔

وزارتِ داخلہ کا کہنا تھا کہ نواز شریف ایئر پورٹ پر عدالتی حکم نامے کی کاپی دکھا کر بیرونِ ملک جاسکتے ہیں۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب کے مطابق لندن روانگی سے قبل ڈاکٹروں نے نواز شریف کا تفصیلی معائنہ بھی کیا ہے۔

محمد نواز شریف کو سفر کے دوران خطرات سے بچانے کے لیے سٹیرائڈ کی ہائی ڈوز اور ادویات دی گئی ہیں ڈاکٹرز نے وہ تمام طبی احتیاط پیش نظر رکھی ہے جن کے ذریعے محمد نواز شریف کا لندن تک محفوظ سفر یقینی ہو سکے-

مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے قوم اور کارکنان سے اپیل کی ہے کہ وہ نواز شریف کی جلد صحت یابی کے لیے دعائیں کریں کہ وہ صحت مند ہو کر واپس لوٹیں۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے پاکستان کی دل سے خدمت اور عوام سے محبت کی ہے، آج اُنہیں آپ کی دعاؤں کی ضرورت ہے۔
 


یاد رہے کہ العزیزیہ اسٹیل ملز کیس میں سات سال قید کی سزا کاٹنے والے سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کی سزا اسلام آباد ہائی کورٹ نے طبی بنیادوں پر آٹھ ہفتوں کے لیے معطل کی تھی۔

لندن روانگی سے قبل نواز شریف کے بیرونِ ملک علاج کی غرض سے جانے کے لیے حکومت نے سات ارب روپے کے ضمانتی بانڈز جمع کرانے کی شرط رکھی تھی جس کے خلاف مسلم لیگ (ن) نے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔ جہاں عدالت نے حکومتی شرط مسترد کرتے ہوئے اُنہیں چار ہفتوں کے لیے بیرونِ ملک جانے کی اجازت دی ہے۔


Partner Content: VOA
Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 1610 Print Article Print

YOU MAY ALSO LIKE:

Reviews & Comments

Language: