سجناں وی مر جانا

(Imtiaz Ali Shakir, Lahore)

 میاں نوازشریف کے دوبیٹے اورسمدھی اسحاق ڈار،میاں شہبازشریف کاایک بیٹاورایک داماد ملک سے باہرہیں،یہاں تک کہ میاں نوازشریف کے دونوں بیٹے اپنی والدہ کی تدفین کے موقع پربھی پاکستان نہیں آئے،میاں نوازشریف اپنے دوراقتدارمیں ہی تاحیات عدالتی نااہل قرارپائے اورسزایافتہ مجرم کی حیثیت سے قیدکاٹ رہے ہیں پھربھی اُن کی سیاست متاثرنہیں ہوئی پرمیاں نوازشریف کی واپسی کیلئے ضمانت دینے سے تہمت لگ جانی تھی،ایک طرف میاں نوازشریف کی صحت انتہائی تشویشناک بتائی جارہی ہے تودوسری جانب سیاست بچائی جارہی ہے،حکومت میاں صاحب کوفوری بیرون ملک بھی بھیجناچاہتی ہے اورکسی کونہ چھوڑنے کے بیانیے کوبھی قائم رکھناچاہی ہے،میاں شہبازشریف اپنے بھائی کی زندگی بچائیں سیاست توچلتی رہے گی،پہلے یہاں کونسے حاجی سیاست کررہے ہیں،لوگ توبات بے بات الزامات لگانے کے عادی ہیں اورپھرسیاستدان کی زندگی توپبلک پراپرٹی ہوتی ہے لوگ نہ صرف سچے،جھوٹے الزامات عائدکرتے ہیں،تہمت لگاتے ہیں،بہتان باندھتے ہیں بلکہ گالیاں اوربدعائیں بھی دیتے ہیں،سیاستدان جوزبان دوسروں کیلئے تنہائی میں بھی استعمال نہیں کرسکتے وہ لہجے اورزبان پبلک سیاستدانوں کیلئے سرعام استعمال کرتی ہے،بیچارے عوام اورکربھی کیاسکتے ہیں سوائے حکمرانوں کوبرابھلاکہنے کے،میاں محمدبخش صاحب نے کیاخوب فرمایاہے کہ
دشمن مرے تے خوشی نہ کریے سجناں وی مر جانا
ڈیگر تے دن ہویا محمد تے اوڑک نو ڈب جانا
بادشاہاں تائیں بھیک منگاوے تے تخت بھاوے کائی
کج پرواہ نی گھر اس دے تا دم بے پروائی
تے جیون جیون جھوٹا ناواں موت کھلی سر اُتے
لکھ کروڑ تیرے تھیں سوہنے خاک اندر چل ستے
تے بس اساں دا وس نی چلدا کی اس ساڈا کھونا
لسے دا کی زور محمد تے نس جانا یا رونا
مان نہ کریو روپ گھنے دا تے وارث کون حسن دا
سدا نا رہسن شاخاں ہریاں تے سدا ناں پھل چمن دا

دنیاکی اتنی ہی حقیقت ہے کہ آج کے بادشاہ کل کے مجرم ہوسکتے ہیں اورآج کے مجرم کل بادشاہ بن سکتے ہیں،اس حقیقت میں کوئی شک نہیں کہ میاں نوازشریف تین مرتبہ وزیراعظم پاکستان منتخب ہوچکے ہیں اس لیے وہ خصوصی ریلیف اوربہترین علاج معالجہ کی سہولیات کے مستحق ہیں پرتین مرتبہ وزیراعظم منتخب ہونے والے عظیم سیاستدان سے یہ سوال بھی بنتاہے کہ جناب نے اپنے ادوارحکمرانی میں ایسے اسپتال کیوں نہیں بنائے جہاں آج ان کاعلاج ممکن ہوتا؟میاں نوازشریف توبیرون ملک علاج کروانے کی حیثیت رکھتے ہیں لہٰذاوہ ضروربیرون ملک علاج کروائیں پر22کروڑعوام یہ سوچنے پرمجبورہیں کہ وہ اپناعلاج کہاں کروائیں؟

بقول تین مرتبہ وزیراعظم رہنے والے میاں نوازشریف،بقول پانچ مرتبہ وزیراعلیٰ پنجاب بننے والے میاں شہبازشریف اوربقول دیگروزیروں،سفیروں کی فوج پاکستان میں علاج معالجہ کی مناسب سہولیات دستیاب نہیں توپھرکسی غریب کاعلاج پاکستان میں کیسے ممکن ہے؟جونظام تین مرتبہ کے وزیراعظم کے ساتھ ناانصافی کرسکتاہے وہ نظام کسی غریب پاکستانی کوانصاف کیسے فراہم کرے گا؟طویل حکمرانی کرنے والے اپنے ہی بنائے نظام کی ناانصافیوں کارونارورہے ہیں توپھرمحکوم کہاں جائیں؟ایک سزایافتہ مجرم جوجیل میں سزاکاٹنے کے ساتھ دیگرمقدمات میں زیرتفتیش ہے اسے عدالت انسانی ہمدردی اورطبی بنیادوں پر علاج کیلئے بغیربے گناہی ثابت ہوئے ضمانت پررہاکرتی ہے تو وہ سزایافتہ قیدی اپنے ہی علاج کیلئے شرائط کیسے عائدکرسکتاہے؟سابق وزیراعظم میاں نوازشریف کے اہل خانہ کوجیل سے رہائی اورعلاج کیلئے بیرون ملک جانے کیلئے ہرقسم کی ضمانت خوش دلی کے ساتھ دے دینی چاہیے تھی اورجولوگ قسمیں اٹھارہے ہیں کہ میاں نواز شریف علاج کے بعد وطن ضرورآئیں گے وہ یقین کے باوجودضمانت دینے کی مخالفت کیوں کررہے ہیں؟آج بہت سارے لوگ شورمچارہے ہیں کہ میاں نوازشریف کوبیرون ملک جانے کی اجازت دے دینی چاہیے وہ اُس وقت کہاں ہوتے ہیں جب کسی ماں کامعصوم بیٹاکتاکاٹنے کی ویکسین نہ ملنے پراپنی ماں کی گودمیں تڑپ تڑپ،سسک سسک کرجان دے دیتاہے؟کیاوہ انسان نہیں؟اُس وقت کہاں ہوتے ہیں انسانیت کے ٹھیکیدارجب کسی غریب پاکستانی کواپنی بیٹی کی نعش اسپتال سے گھرمنتقل کرنے کیلئے ایمبولنس میسرنہیں آتی؟اُس وقت کہاں ہوتی ان کی انسانیت جب خون رستے زخموں کے علاج کیلئے ڈاکٹرچھ ماہ بعداسپتال آنے کاٹائم دے دیتے ہیں؟نہیں ہماری میاں نوازشریف یااُن کے خاندان کے ساتھ کوئی ذاتی رنجش نہیں،کسی کوبرالگتاہے توسوبار،کروڑبارلگے پرجوقانون کسی قانون شکن، سزایافتہ مجرم کوقانون کے پابند،محب وطن شہریوں سے زیادہ حقوق دیتاہے وہ قانون انسانی معاشرے میں نافذالعمل ہونے کے لائق نہیں،22کروڑپاکستانیوں میں کتنے لوگ ایسے ہیں جن کے گھرمیں آئی سی یوکی سہولیات دستیاب ہوسکتی ہیں؟جومریض ملک بھرکے قابل ترین ڈاکٹرزکی زیرنگرانی علاج کروانے کی بجائے اپنے گھرمیں آئی سی یوبنواسکتاہے وہی تندرستی کی حالت میں تین مرتبہ ملک کاوزیراعظم رہنے کے بعدبھی ملک میں ایساکوئی ایک بھی اسپتال کیوں نہ بنواپایاجس میں آج اُس کاعلاج ہوپاتا؟سوال توبہت کڑوے اورسخت ہیں پرکسی کی صحت پرتنقیدکرنامناسب نہیں،میاں صاحب کے چاہنے والوں سے معذرت کے ساتھ کہناچاہتاہوں کہ میاں نوازشریف جلدواپسی کے ارادے سے بیرون ملک نہیں جارہے،میاں نوازشریف کی صحت کے بارے میں جس قدرتشویشناک خبریں آرہی ہیں ان سے لگتانہیں کہ ڈاکٹرآئندہ انہیں سیاسی سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت دیں گے اورجب سیاست ہی نہیں کرنی توپھرجلدواپس آنے کی ضرورت بھی نہیں ہوگی،میاں نوازشریف بیرون ملک طویل قیام کریں گے،میاں شہبازشریف بھی اپنے بھائی کی دیکھ بھال کیلئے چارچھ ماہ لندن میں قیام کرسکتے ہیں اورہاں حالات سازگارہونے کی صورت میں میاں نوازشریف کی واپسی کے امکانات موجودرہیں گے،ہم نے دیکھاکہ میاں نوازشریف کی اہلیہ لندن میں دوران علاج وفات پاگئی تھیں،اُن کے بیرون ملک جانے میں کسی قسم کی رکاوٹ آئی نہ تاخیرہوئی تھی،وہ اپنی مرضی کے مطابق لندن روانہ ہوئی پھربھی صحت یات نہ ہوپائیں،یہ تنقید نہیں حقیقت ہے علاج دنیاکے سب سے بہترین ملک میں قابل ترین ڈاکٹرزکریں تب بھی مکمل صحت یابی کی کوئی ضمانت نہیں دے سکتا،ہماراایمان ہے کہ بیماری سے شفاء اﷲ تعالیٰ دیتاہے اوراسی نے موت کادن بھی مقررکررکھاہے جوٹل نہیں سکتی،کل عدلیہ کویہ جلدی تھی کہ میاں نوازشریف کوسزادی جائے اورآج عدلیہ چھٹی والے دن بھی عدالت لگاکرانہیں ریلیف دے رہی ہے جس سے عدلیہ کی آزادی کے رازافشاں ہورہے ہیں،کیامیاں نوازشریف کی بے گناہی ثابت ہوگئی جون لیگ والے خوشیاں منارہے ہیں،صحت کی خرابی کے باعث عدالت نے انسانی بنیادوں پرعلاج کروانے کیلئے ضمانت منظورکی اوربیرون ملک جانے کی اجازت دے دی ہے تواس میں خوشی کی کون سی بات ہے؟آپ کے قائدکی صحت تشویشناک ہے لہٰذاعدلیہ اوراُن کاشکریہ اداکریں اوراﷲ تعالیٰ سے دعاکریں کہ میاں نوازشریف جلدصحت یاب ہوکروطن واپس آئیں اورمقدمات کاسامناکریں،بے شماراختلافات کے باجود رائج الوقت نظام میں میاں نوازشریف اورمیاں شہبازشریف جیسے سیاستدانوں کی اہمیت سے انکارممکن نہیں اس لئے ہم دُعاگوہیں کہ اﷲ تعالیٰ انہیں صحت وتندرستی عطافرمائے اوروزیراعظم عمران خان کے بیانیے کی مغفرت فرمائے

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Imtiaz Ali Shakir

Read More Articles by Imtiaz Ali Shakir: 630 Articles with 309084 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
19 Nov, 2019 Views: 1043

Comments

آپ کی رائے