ملکی وسائل اور اشرافیہ

(سید شازل شاہ گیلانی, Peshawar)
اصل بات یہ ہے کہ ہماری عدلیہ کی نیت ہی خراب ہے۔جس طرح یہ لوگ اشرافیہ کو تحفظ دیتے ہیں اور غریبوں کو دھتکارتے ہیں، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ انہیں وسائل کی بجائے غیرت کی ضرورت ہے تاکہ یہ اپنی ترجیحات درست کرسکیں!!!

ہم بغیر وسائل کے کام کررہے ہیں، وسائل فراہم کئے جائیں تو مزید بہتر کام کریں گے - چیف جسٹس

یاد رہے، چیف جسٹس کو سرکار کی طرف سے بی ایم ڈبلیو 7 سیریز گاڑی ملتی ہے جس کی قیمت کروڑوں میں ہے۔

اس کے علاوہ سپریم کورٹ کے ہر جج کے پاس مرسیڈیز گاڑی موجود ہے۔

اسلام آباد اور لاہور ہائی کورٹ کے جج صاحبان کو بھی کم از کم تین سے ساڑھے تین ہزار سی سی انجن والی سرکاری گاڑیاں ملتی ہیں۔

جج صاحبان کو لگژری بنگلے، نوکر چاکر، ڈرائیور، خانساماں، سب کچھ سرکاری خزانے سے ملتا ہے۔
جج صاحبان جب چاہے، جسے چاہے توہین عدالت کا نوٹس بھجوا کر اپنی عدالت میں معافی مانگنے پر مجبور کردیتے ہیں ۔ ۔ ۔

اس کے بعد بھی اگر آپ یہ کہیں کہ آپ بغیر وسائل کے کام کررہے ہیں اور آپ کو مزید وسائل درکار ہیں تو پھر آپ کو چلہ کشی کرکے براہ راست اللہ سے یہ وسائل مانگنے ہوں گے کیونکہ پاکستان کی عوام نے تو اپنے خون کا آخری قطرہ تک نچوڑ کر آپ کو دے دیا ہے۔

چلتے چلتے آپ کو یہ بتاتا چلوں کہ امریکہ کی سپریم کورٹ میں صرف 9 جج ہوتے ہیں جو کہ 33 کروڑ آبادی والے ملک کے عدالتی نظام کو چلارہے ہیں اور بلاشبہ ہم سے ہزار گنا اچھا چلارہے ہیں۔

برطانیہ میں سپریم کورٹ کے ججوں کی تعداد بارہ ہے اور وہاں کے عدالتی نظام کی تعریف اس سے اچھی کیا ہوسکتی ہے کہ پاکستان کا ہر حکمران وہاں جائیدادیں اور کاروبار کرتا ہے اور کبھی شکایت نہیں کی۔

پاکستان میں سپریم کورٹ کے ججوں کی تعداد 16 ہے، یعنی امریکی سپریم کورٹ سے تقریباً اسی فیصد زائد ، جبکہ ہمارے ملک کی آبادی امریکہ سےچالیس فیصد کم ہے، اس کے باوجود ہماری عدلیہ کا رنڈی رونا ختم نہیں ہوتا کہ ان کے پاس وسائل نہیں ۔ ۔ ۔

اصل بات یہ ہے کہ ہماری عدلیہ کی نیت ہی خراب ہے۔جس طرح یہ لوگ اشرافیہ کو تحفظ دیتے ہیں اور غریبوں کو دھتکارتے ہیں، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ انہیں وسائل کی بجائے غیرت کی ضرورت ہے تاکہ یہ اپنی ترجیحات درست کرسکیں!!!
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: سید شازل شاہ گیلانی

Read More Articles by سید شازل شاہ گیلانی: 5 Articles with 4730 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
20 Nov, 2019 Views: 253

Comments

آپ کی رائے